اپنے حصے کا یوسف ۔۔۔ سعدیہ بلوچ

اپنے حصے کا یوسف

(سعدیہ بلوچ)

خزاں

کنویں کی تہہ میں اگ آئی ہے

بہاروں کو عکس دیکھنے میں دقت ہو رہی ہے

ہر بار ڈول میں کنویں کی اداسی بھر آتی ہے

قافلہ

کنویں کی تہہ میں اگی

خزاں کی فصلیں بھر کے لے گیا تو ؟

کنواں

اپنے حصے کے یوسف کو پکارتا ہے اور

یوسف

اپنے حصے کی زلیخا کے آگے آگے دوڑ رہا ہے

زلیخا

جس کے ہاتھ کرتوں کے دامن ہی لگتے ہیں

اس سے صرف خزاں ہی خریدی جا سکتی ہے

Advertisment

1 Comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.