اک سندر سپنا ۔۔۔ہرمن ہیسے

اک سُندر سپنا
(ہرمن ہیسے)

اردو قالب؛ قیصر نذیر خاور

مارٹن ہبرلینڈ ، جو ہائی سکول کا ایک طالب علم تھا ، سترہ سال کی عمر میں نمونیہ کے کارن فوت ہوا تو ہر کسی نے اس کے بارے میں اوراس کی بے وقت موت پر بات کی ۔ انہوں نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ وہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور صلاحیتوں کو بروئے کار نہ لا سکا اورزندگی میں کامیابی کا مزہ نہ چکھ سکا ۔
 یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھے بھی اس خوبصورت ، ذہین جوان کے مرنے کا افسوس ہوا تھا اور میں نے سوچا تھا کہ دنیا میں ایسی کتنی ذہاہتیں موجود ہو گیں جنہیں قدرت بے ترتیبی سے اٹھا کر پرے مار دیتی ہے! اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم اس بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔ جہاں تک ذہانت و صلاحیت کا تعلق ہے یہ اس بہتات سے موجود ہے کہ جلد ہی ہمارے فنکاروں کو اپنا سامع خود ہی بننا پڑے گا کیونکہ عام لوگوں پر مشتمل سامع ختم ہو چکے ہوں گے ۔
 نتیجہ یہ ہے کہ میں اس جوان کی موت پر اس طرح افسردہ نہیں کہ اس سے دنیا کی بہترین اور خوبصورت اشیاء ، جو اس کے نصیب میں ہو سکتی تھیں ، زبردستی چھین کر اسے نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ جو کوئی بھی اچھی صحت کے ساتھ خوشی خوشی سترہ برس کا ہو جاتا ہے جس کے ماں باپ کا سایہ اس کے سر پر قائم ہے ، بہت سے معانوں میں اپنے پیچھے اپنی زندگی کی ایک خوشگوار یاد چھوڑ جاتا ہے۔ اگر اس کی زندگی جلد ختم ہو گئی اور وہ ’ بیتھوون ( Beethoven ) کی سمفنی‘ نہ بن سکا کیونکہ اس نے رنج کا زیادہ کشٹ نہ اٹھایا تھا اور زندگی میں از خود سامنے آنے والے ادوار میں سے نہیں گزرا تھا ، تو کیا ہوا ۔ ۔ ۔ اسے پھر بھی ایک چھوٹی ہیڈن (Haydn) کی دُھن کہا جا سکتا ہے اور ۔ ۔ اور ایسا بھی ہے کہ اکثر لوگوں کے بارے میں یہ سب نہیں کہا جا سکتا ۔
 مجھے مارٹن ہبرلینڈ کے حالات کا پتہ ہے ۔ اس نوجوان نے اپنی زندگی میں خوبصورت ترین اشیاء کا تجربہ کیا تھا ، وہ سب جو اس کے اختیار میں تھیں ۔ اس نے غیر مرئی و آفاقی موسیقی کے سُر اور تال اپنے اندر جذب کر لئے تھے کہ اس کا مر جانا ہی بہتر تھا ورنہ اس کی بعد کی زندگی بُری ہی گزرنی تھی ۔ یہ حقیقت کہ اس طالب علم نے اپنی خوشی صرف خواب میں دیکھی تھی لہذاٰ اسے قائم رکھنا چاہئیے ، کیونکہ بہت سے لوگ اپنی زندگیوں کی بجائے اپنے خوابوں پر ہی زیادہ انحصار کرتے ہیں ۔ مارٹن کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ تھا ۔ اس نے اپنے بیمار ہونے کے دوسرے روز ، جب اس کا بخار تیز ہوا اور یہ اس کے مرنے سے تین دن پہلے کی بات ہے کہ اس نے یہ خواب دیکھا:
اس کے باپ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا اور کہا ؛
” مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تم یہاں کچھ زیادہ نہیں سیکھ سکتے ۔ تمہیں ایک بڑا اور اچھا آدمی بننا ہے اور ایک مخصوص خوشی کا ادراک کرنا ہے جس کا حصول اس گھونسلہ نما گھر میں ممکن نہیں ہے ۔ اس بات پر توجہ کرو کہ پہلے تمہیں علم کے پربت پر چڑھنا ہو گا ، کوئی مناسب ’ کسب ‘ اختیارکرنا ہوگا اور محبت تلاشنا ہو گی ۔ پھر ہی تم خوش رہ سکو گے ۔ “
جب اس کا باپ یہ سب کہہ رہا تھا تو لگتا تھا کہ اس کی داڑھی لمبی اور اس کی آنکھیں  زیادہ بڑی ہو گئی ہیں ۔ ایک لمحے کے لئے ایسا لگا جیسے وہ ایک عاقل بادشاہ ہو ۔ پھر اس نے اپنے بیٹے کے ماتھے کو چوما اور ۔ ۔ ۔ اور اسے جانے کے لئے کہا ۔ مارٹن ایسے نیچے اترا جیسے کسی محل کی کشادہ سیڑھیوں پر قدم دھر رہا ہو ۔ جیسے ہی وہ شہر کو چھوڑنے کے لئے گلی پار کر رہا تھا کہ اس کا سامنا اپنی ماں سے ہوا جس نے اسے پکارا ؛ 
” مارٹن ! تم مجھے خدا حافظ کہے بِنا ہی رخصت ہو رہے ہو ؟ “
 اس نے ماں کو حیرانی سے دیکھا اور اس بات پر شرمسار ہوا کہ وہ تو سمجھتا تھا کہ ماں مدتوں پہلے فوت ہو گئی تھی لیکن وہ اس کے سامنے تنومند اور زندہ موجود تھی ، اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور جوان ، جیسی کہ اسے یاد تھی ۔ حقیقت تو یہ تھی کہ وہ بالکل لڑکی لگ رہی تھی چنانچہ جب اس نے مارٹن کو چوما تو اس کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس نے جوابی بوسے سے اجتناب برتا ۔ ماں نے مارٹن کی آنکھوں میں ولیوں کی طرح جھانکا ، اس کی روشنائی بھری نگاہ اسے اندر تک روشن کرگئی اور جب وہ گھبراہٹ اور تذبذب کے عالم میں اس سے الگ ہوا تو ماں نے سر ہلا کراُسے الوداعی دی ۔
شہر سے نکل کر وادی اور راھ  درختوں والی سڑک کی جگہ بندرگاہ دیکھ کر اسے حیرانی نہ ہوئی جس پر ایک بڑا قدیم طرز کا بحری جہاز کھڑا تھا جس کے بھورے بادبان سنہرے آسمان کو چھو رہے تھے بالکل ویسے ہی جیسے مصور کلاڈ لورین کی اس پینٹنگ میں نظر آتے تھے جو اسے بہت پسند تھی ۔ جلد ہی وہ علم کے پہاڑ کی طرف پانیوں پررواں دواں تھا ۔
 پھر بحری جہاز اور سنہرا آسمان منظر سے غائب ہو گئے ۔ اب نوجوان طالب علم مارٹن ہبرلینڈ نے خود کو ایک دیہاتی علاقے کی سڑک پر پایا جو اس کے گھر سے بہت دور تھی ۔ وہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچا جو اسی طرح سرخی مائل تھا اور دہک رہا تھا جس طرح آفتاب غروب کے وقت دوری پر دہکتا نظر آتا ہے ۔ اس کے چلتے رہنے کے باوجود پہاڑ بھی دوری پر رہا ۔ خوش قسمتی سے پروفیسر سیڈلر اس کے ساتھ تھا جس نے اس سے پدرانہ شفقت سے کہا؛
” یہاں لفاظی کام نہیں آتی صرف ’ مطلق فاصلی ‘ (ablativus absolutuss) برتی جاتی ہے ۔ یہی وہ طریقہ ہے کہ آپ یک دم وسط (media in res) میں پہنچ جاتے ہیں ۔ “
 مارٹن نے اس نصحیت پر فوری عمل کیا اوراسے ایک ایسا ‘ مطلق فاصلی ‘ یاد آیا جوخاصی حد تک اس کے سارے ماضی کا احاطہ کرتا تھا ۔ اس میں دنیا کا ذکر تھا ، ماضی کی ہر بات کو اس خوبصورتی سے سمیٹا گیا تھا کہ حال اور مستقبل کی روشن و مکمل تصویر وضع ہو گئی تھی ۔ جیسے ہی یہ ‘ مطلق فاصلی ‘ اس کے منہ سے نکلی اس نے خود کو پہاڑ پر کھڑا پایا ۔ پروفیسر سیڈلربھی اس کی بغل میں کھڑا تھا جس نے اپنے مانوس انداز میں پھر سے باتیں کرنا شروع کر دیں ۔ مارٹن نے بھی انسیت سے جواب دینا شروع کر دیا اور اس پر ایسے تیقن کا اظہار کیا جیسے وہ سچ میں اس کا باپ ہو۔ اور ۔ ۔ ۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا؛ جوں جوں پروفیسر باتیں کرتا گیا توں توں وہ اس کے باپ کی جگہ لیتا گیا ۔ جلد ہی ہبرلینڈ کے دل میں والد کی محبت اور علم کے حصول کی لگن ساتھ بہنے لگیں اور آپس میں مدغم ہوکر اس میں سما گئیں ۔ یہ ادغام نہ صرف مضبوط بلکہ زیادہ حسین بھی تھا اور جب وہ تحیر اور اندیشوں میں گھرا بیٹھا سوچ رہا تھا تو اسے اپنے باپ کی سرگوشی سنائی دی؛
” لو اب اپنے ادر گرد دیکھو ! “
 اس نے نظریں گھما کر چاروں اوّر دیکھا ، وہ ہر طرف سے گہری شفافیت میں گھرا ہوا تھا اور دنیا کی ہر شے اپنے بہترین نظم میں موجود تھی اور ایسے عیاں تھی جیسے سورج ہوتا ہے ۔ اسے یہ بات مکمل طور پر سمجھ آ گئی کہ اس کی ماں کیوں مری تھی اور ابھی تک زندہ کیوں تھی ۔ اسے اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ بھی پتہ چلا کہ ریتی رواجوں اور زبانوں کے اعتبار سے لوگ دیکھنے میں مختلف کیوں نظر آتے ہیں جبکہ وہ ایک ہی ’ ذات ‘ سے وجود میں آئے تھے اورآپس میں بھائی بھائی تھے ۔ اسے اس بات کا بھی گیان ہوا کہ چاہت ، رنج و الم اور نفرت و حسد کیوں ضروری تھے کیونکہ خدا چاہتا تھا دنیا کا نظم اور خوبصورتی کھل کر عیاں ہو اور لوگ کھل کراس پر بات کریں ۔ پھر جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ سچ میں علم کے پربت سے ہو آیا ہے اور عاقل ہو چکا ہے تو اس نے سوچا کہ اب’ کسب ‘ کا وقت آ گیا ہے ۔ وہ پچھلے دو سالوں سے کئی پیشوں کے بارے میں سوچ چکا تھا لیکن یہ فیصلہ نہ کر پایا تھا کہ کسے اپنائے لیکن اب اسے یہ جانکاری ہو چکی تھی کہ ’ معماری‘ ہی اس کے لئے موزوں ترین ہے ۔ وہ اس بات پر خوش تھا کہ اس نے ’ کسب‘ کے لئے صحیح راستہ پا لیا ہے جس کے بارے میں اب اسے کوئی شبہ نہیں ہے ۔
 اب سفید اور سرمئی پتھر کے ڈھیر اس کے سامنے تھے ۔ وہاں لمبے شہتیر اور مشینیں بھی تھیں اور بہت سے لوگ بھی جو نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے ۔ اس نے ہاتھ کے اشاروں سے انہیں ہدایات دیں ، سمجھایا اور احکام جاری کئے ۔ منصوبہ بندی اس کے ہاتھ میں تھی اور اس نے تو صرف اشارے ہی دینے تھے ۔ لوگوں نے ادھر ادھر دوڑنا شروع کر دیا ۔ وہ سب خوش تھے کہ وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر رہے ہیں ۔ وہ پتھر اٹھا رہے تھے ، چھکڑے دھکیل رہے تھے ، ستون کھڑے کر رہے تھے اور لکڑی کے بالے تراش رہے تھے ۔ معمار کی اِچھا اب ان کی آنکھوں اور ہاتھوں میں تھی ۔ جلد ہی عمارت تیار ہو گئی ؛ یہ ایک محل تھا جو سادگی کا مظہر تو تھا لیکن اپنی کھاڑی نما کھڑکیوں ، دالانوں ، دیواروں کے تکونی حصوںاور پیش کمرے کی بدولت من موہ لینے کی حد تک خوبصورت تھا ۔ ہبرلینڈ اس بات سے مکمل طور پر آشنا تھا کہ دنیا سے رنج و الم ، ضرورت ، عدم اطمینانی اور نفسا نفسی ختم کرنے کے لئے ایسی ہی کچھ اور چیزوں کو اُسارنا ہو گا ۔
 عمارت مکمل ہوئی تو مارٹن پر نیند غلبہ پانے لگی اوراس کا دھیان سب چیزوں سے ہٹ گیا ۔ اسے اپنے گرداگرد سے سُروں سے آراستہ مستی بھری آوازیں آ رہی تھیں ۔ اس نے عمارت کی تعمیرکے بعد کی خوبصورت تھکاوٹ کے تحت گہرے اور نادر اطمینان کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے تھے ۔ اب تک کے تجربات نے اس کے شعورکی پہلی بار واضع طور تشکیل کی تھی ۔ اس کی ماں ایک بار پھر اس کے سامنے کھڑی تھی ۔ اس نے اس کا ہاتھ تھاما تو اسے احساس ہوا کہ وہ اسے اپنے ساتھ اس سرزمین پر لے جانا چاہتی ہے جو محبت کے جذبے سے لدی پھدی ہے ۔ وہ اس سفر کے دوران اپنے ہر ’ کئے ‘ کو بھلا کر خاموشی سے اِک آس لئے ، اس کے ساتھ ہو لیا ۔ پیچھے علم کے پربت اور اس کے تعمیر کردہ محل سے روشنی کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں اور اس کا شعور بھی شفافیت سے دمک رہا تھا ۔
 جب وہ پہاڑ سے اترے تو نیچے رات کا منظر تھا ۔ اس کی ماں نے نیلا لباس پہن رکھا تھا چلتے چلتے وہ غائب ہوئی اور اس کا لباس دور وادی کی نیلگوں دھند میں بدل گیا ۔ یہ جان کر کہ اس کی ماں اس کے ساتھ تھی بھی یا نہیں اس پر اداسی چھا گئی ۔ وہ ایک مرغزار میں بیٹھ گیا اور رونے لگا ۔ اسے کسی طرح کا درد یا رنج نہ تھا بلکہ اس کا رونا بھی وہی خود سپردگی لئے ہوئے تھا جس کا مظاہرہ وہ محل اُسارنے اور بعد میں تھکاوٹ کے دوران کر چکا تھا ۔ آنسوﺅں نے اسے احساس دلایا کہ رونا بھی ایک مسرت انگیز فعل ہے اور جب اس نے اس پر مزید غور کیا تو وہ یہ جان چکا تھا کہ اصل میں محبت کیا ہے لیکن وہ اس کو تخیل میں نہیں لا سکا اوریہ محسوس کیا کہ محبت شاید موت کی طرح ہے ۔ یہ تکمیل ہے ، ایک ایسی شام ، ایسا انت جس کے بعد کچھ اور نہیں ہونا ہوتا ۔
 وہ یہ سب سوچ رہا تھا کہ سب کچھ ایک بار پھر بدل گیا ۔ دور نیلگوں وادی سے آتی خوبصورت من موہنی موسیقی اس کے کانوں میں رس گھولنے لگی ۔ گاﺅں کے مئیر کی بیٹی چلتے ہوئے مرغزار میں داخل ہوئی اور اسے احساس ہوا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے ۔ وہ تھی تو ویسی ہی جیسے پہلے تھی لیکن اس وقت اس نے یونانی دیویوں جیسا سادہ لیکن عمدہ لباس پہن رکھا تھا ۔ مرغزار میں اس کے داخل ہوتے ہی رات شام پر کچھ ایسے حاوی ہوئی کہ سوائے چمکدار ستاروں بھرے آسمان کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ 
لڑکی مارٹن کے سامنے ساکت کھڑی تھی ۔ وہ مسکرائی اور بولی؛
” تو تم یہاں ہو؟ “ ، اس نے دوستانہ لہجے میں اس طرح کہا جیسے وہ اسی کی منتظر تھی ۔
 ” ہاں “ ، اس نے جواب دیا ، ” میری ماں نے مجھے یہاں کی راہ دکھائی ہے ۔ میں اپنے کام ختم کر چکا ہوں ، وہ بڑا گھر بھی بنا چکا ہوں جس کو بنانا میری ذمہ داری تھی ۔ تم اس میں ضرور رہنا ۔ “
 وہ تمکنت سے مسکرائی ۔ اس کی مسکراہٹ میں مادرانہ شفقت جھلک رہی تھی البتہ وہ کچھ اداس تھی ایسے جیسے بالغ لوگ ہوتے ہیں ۔
” مجھے اب کیا کرنا چاہئیے ؟ “ ، مارٹن نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔  وہ اس کی طرف جھکی ، قریب ہو کراس کی آنکھوں میں اس طرح گھورا کہ وہ خوفزدہ ہو گیا ۔ اسے بس اس کی بڑی بڑی پر سکون آنکھیں اور اوپر سنہری چمک میں ٹمٹاتے تارے نظر آ رہے تھے ۔ اس کا دل شدت سے دھڑکا ۔
 خوبصورت لڑکی نے اپنے ہونٹ مارٹن کے ہونٹوں کی طرف بڑھائے ۔ اسی لمحے اس کی روح اندر تک پگھل گئی اور اس کی ہر تمنا شانت ہو گئی ۔ نیلگوں اندھیرے میں ستارے پھر سے جھلملانے لگے ۔ مارٹن کو لگا جیسے اس نے محبت اور موت کا ذائقہ بیک وقت چکھ لیا ہے ؛ عمدہ ترین مٹھاس کا تجربہ جو انسان کو میسرآ سکتا ہے ۔ اسے دنیا اپنے گرد گھومتی محسوس ہوئی اور اس کے ہالے رُکے بِنا بار بار بنتے رہے ۔ اس کے ہونٹ لڑکی کے ہونٹوں سے چپکے رہے ، کسی اور شے کی خواہش کئے بغیر اسے لگا جیسے وہ ، لڑکی اور سب کچھ کائنات کے گیت کا ایسا حصہ بن گئے ہیں جو بار بار گایا جاتا ہے ۔ اسے غشی محسوس ہوئی ۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور پہلے سے طے شدہ دائمی ترنگ بھرے راستے کی طرف بڑھ گیا ۔ 
اب انت تھا جس میں علم ، عمل اور نہ ہی کوئی اور زمینی شے اس کی منتظر تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ
بیتھوون= Ludwig van Beethoven ، ایک جرمن موسیقار اور پیانو بجانے والا جو دسمبر  1770 ء میں پیدا ہوا اور مارچ 1827ء میں فوت ہوا ۔ وہ مغربی موسیقی کے کلاسیکی و رومانوی دور کا ایک اہم دھن ساز ہے ۔
ہیڈن = Franz Joseph Haydn مغربی کلاسیکی موسیقی کاایک آسٹرین موسیقارجو مارچ 1732 ء میں پیدا ہوا اورمئی 1809ء میں فوت ہوا ۔ اسے بابائے چیمبر موسیقی و سمفنی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ بھی ایک عمدہ پیانو بجانے والا تھا ۔
راھ درخت = Ash Trees
کلاڈ لورین = Claude Lorrain مصوری کے باروق ( Baroque ) دور کا فرانسیسی مصور جس کا زمانہ حیات 1600 ء تا 1682ء ہے ۔ اس نے زندگی کا زیادہ حصہ اٹلی میں گزارا ۔ ساحلی لینڈ سکیپ اس کی مرغوب صنف تھی ۔ اس کی جس پینٹنگ کا حوالہ اس کہانی میں ہے وہ غالباً Seaport at sunset ہے جو اس نے 1639 ء میں بنائی تھی ۔
’ مطلق فاصلی ‘ = جرمن الفاظ ’ ablativus absolutuss‘ کا متبادل ہیں ، مطلب انتہائی اختصار سے بات کرنا جس کی انگریزی میں مثال کچھ یوں ہے ؛ oppidis captis جس کا مطلب ہے ؛ ’ جب آبادیاں مفتوح ہو گئیں تو باسیوں نے امن کی درخواست کی ۔ 
‘ میڈیا اِن ریس ‘ media in ress بھی جرمن گرائمر کی اصطلاح ہے کا استعمال مطلق فاصلی سے مشروط ہے کہ اختصار سے کی گئی بات آپ کو اصل مفہوم / مقصد تک لے جاتی ہے ۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.