سلطنت ( حلال خور ) ۔۔۔محمود احمد قاضی

 Penslips Weekly Magazine Issue # 100

سلطنت

محمود احمد قاضی ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ، دربان، غلام، مسخرہ، ایلچی، مؤرخ، بہروپیا، مکینک، بازی گر وغیرہ۔


ادارہ پینسلپس کی کوشش ہے کہ، اپنے قاری کے لئے ہر شمارے میں ایک کہانی شامل کی جائے۔

حلال خور

بستی کی جنوبی ڈھلان پر واقع سنگلاخ زمینوں کی گود میں بہنے والے گندے نالے کے دایئں بازو  پر بھنگیوں کی یہ خصوصی جھگیاں تھیں. یہاں بستی کا گند سمیٹنے والے سارےبھنگی رہائش پذیر تھے. ہر روزصبح  سویرے وہ اٹھتے اپنے اپنے ٹوکروں اور جھاڑوں سمیت بستی کا رخ کرتے جہاں  اشراف بستے تھے اور جن کے کوٹھے اتارنا ان کی ذمہ داری تھی. اشراف اپنی زبان میں انہیں حلال خور کہتے تھے. انہیں حلال خوروں میں ایک وہ بھی تھا جو اپنی جھگی میں با لکل اکیلا رہتا تھا. ماں باپ مر چکے تھے اور ابھی اس نے شادی بھی نہیں کی تھی اس لئےاس نےاپنی جھگی بال بچوں  والوں سے ذرا ہٹ کر بنارکھی تھی. جھگی کیا تھی بس یہ اس کی ایک اد اس دنیا تھی اسکی. ہر دھجی، برتن، پھٹی پرانی گدڑی اور چٹائی تک سے اداسی ٹپکتی تھی ۔  جب دو سرے سارے بھنگی رات کو ایک جگہ جمع ہو کر اپنے دن کی رودادیں اور ماضی کے گیت سناتے تھے تووہ اپنی جھگی سے باہر رکھے ایک چٹپٹے مگر بڑے سے پتھر پر بیٹھا کچھ سوچتا رہتا. ہاں کبھی کبھی ایسا ضرور ہوتا تھا کہ رات کے دوسرے پہر وہ ان سوئی ہوئی جھگیوں سے ذرا پرے بیٹھا اپنے ایک خود ساختہ ساز کو اپنے ہونٹوں کے قریب کر کے اپنے سانسوں کی گرمی مہیا کرتا تو اس کی سانسیں ایک سرمیں ڈھلنے لگتیں.  وہ اکثر ایسی اداس دھن چھیڑتا کے سننے والے کا بدن سن ہونے لگتا.. اس کا باقی سارا وقت جو وہ جھگیوں میں گزارتا تھا خاموش گزرتا تھا لوگوں کی باتوں کے جواب میں وہ زیادہ تر صرف ہاں، اچھا، نہیں جیسے الفاظ ادا کر کے گزارہ کر لیتا یا پھر اسکے سر کا اشارہ ہی اس کی زبان بن جاتا. حالانکہ جوانی کا چڑھتا دریا اس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا تھا مگر وہ اوپر سے نہایت شانت دکھتا تھا.

اوروں کی طرح اس کا بھی یہ معمول تھا یہ وہ صبح سویرے اپنا ٹو کرار جھاڑو اٹھاتا اسے بغل میں دباتا اور اپنے حصے یا اپنے محلے کے کوٹھے اتارنا چل پڑتا ۔جھگیاں چونکہ بستی سے کافی دور تھیں اس لیے اسے کافی فاصلہ سنگلاخ زمین پر چلتے  ہوئے طے کرنا پڑتا پھر کہیں جا کے اس کے ننگے پاؤں کے تلوے بستی کی نرم بھربھری مٹی سے چھوتے۔  اسے اس بستی کی مٹی کی یہ نرماہٹ بہت پسند تھی. وہ اس پر چلتے ہوئے راحت سی محسوس کرتا بلکہ اپنے آپ کو ایک نشے کی حالت میں پاتا. روڑوں کنکروں. اور جھاڑ جھنکار سے پاک یہ مٹی اسے جہاں پسند تھی وہیں اسے اس بستی کی شوریلی زندگی با لکل نہیں بھاتی تھی۔ صبح سویرے ہی ایک کان پھاڑ دینے والا شور بستی کے پہلے بڑے چوک ہی سے اسکے ساتھ ہو لیتا جہاں پر شاہی مسجد کے مینار اور قلعے کےبرج اپنی اونچائی کے مقابلے میں اسے بونا بنانے پر تلے ہوئے تھے. اپنی آنکھوں میں رات کی نیند کا باسی خمار لیے ڈولتا ہوا جب وہ ذرا آگے کوسرکتا تو سب سے پہلے وہ ماشکیوں کو اپنی مشکیں اٹھائے گلیوں محلوں میں پانی کا چھڑکاؤ کرتے پاتا مٹی کی سوندھی خوشبو ہر طرف پھیلتی اس کے وجود کوالانگھ جاتی تو وہ اپنے نتھنے  پھیلاکراس معطر فضا کو سونگھتا۔  اس کے ادھر پہنچنے تک  بازار آدھے سے بھی کم کھلے ہوتے تھے. اس وقت دودھ دہی بیچنے والے اور گرم گرم کلچوں کو اپنے دھکم پیل کرتے تقسیم کرتے گاہکوں میں تقسیم کرتے نانبائی بہت مصروف نظر آتے. وہ ایک کلچہ خریدتا اور اپنے مخصوص پیالے میں جو اس سب سے پہلے کھلنے والے چائے خانے میں پڑا رہتا تھا ایک طرف بیٹھ کر ناشتہ کرتا اور پھر کام کا آغاز کرتا. سورج کی تمازت بڑھنے کے ساتھ ہی بستی اپنی اونگھ ختم کرکے انگڑائی لے کر بیدار ہوتی اور بستی کا نیا دن اپنے ایک اور تھکا دینے والے دن کا آغاز کر دیتا تھا. جب وہ بستی کے شور میں شرابور اپنی ازلی خاموشی کے ستو شرفا کی بگھیاں  ہٹو بچو کا شور مچاتی گزرتیں. ان بگھیوں  کی پچھلی نرم سیٹوں میں گھسے بیٹھے بانکے اپنے بانکپن  کو بچانے کی خاطر مسلسل اپنی ناک پر رومال رکھے رہتے تھے جبکہ ان کے جسموں سے اٹھنے والی کئی قسم کی تیز خوشبویئں اسے مسلسل چھینکنے پر مجبور کرتیں اور کبھی کبھی تو اسے متلی کا احساس بھی ہوتا بانکوں کی ان بگھیوں کے ساتھ ساتھ شریف بیبیوں کیڈولیاں بھی گزرتیں. یہ ڈولیاں ایک لمبے بانس کے درمیان رکھی ڈولتی تھیں اور انہیں دو کہار آگے پیچھے سے اپنے کندھوں پر رکھے ” راستہ دو، راستہ دو ” کی پکار کے ساتھ.  گزرےجاتے تھے. وہ ڈ ولیوں پر پڑے دبیز پردوں کے پیچھے بیٹھے وجود تلاشتا  مگر سوائے ان کی مستوراتی مخصوص مہک کے اسے کچھ ہاتھ نہ آتا۔ وہ ہچکولے کھاتی ڈولی کے اندر اندھیرے میں سکڑے سمٹے ہر وجود کی آنچ اپنے چہرے پر محسوس کرتا. وہ اپنی سوچ پر ہر بار چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا کہ کہیں اس کی یہ چوری پکڑی تو نہیں گئی تھی لیکن اتنے ہجوم میں کسے ہوش تھا کہ وہ اس کی سوچ کے سرے کو پکڑنے کی کوشش کرتا بہر حال پھر بھی اس کے احساس ندامت کے پسینے کے قطرے اس کے ماتھے پر نمودار ہوتے رہتے اور وہ انہیں اپنی قمیض کے دامن سے پوچھتا اپنے کام کے اصل علاقےمیں پہنچتا تو اپنے منہ اور ناک پر کپڑا لپیٹ لیتا کے اب گھر کی بیبیون سے اس کا پردہ مطلوب تھا. وہ ہر گھر کے دروازے پر رک کر آواز لگاتا ، ” بیبیو ! پردہ کر لو، حلال خور آتا ہے “

.

جب اندر آنے کا حکم ملتا تو وہ اپنے آپ کو سمیٹتا گھر کی طرف بڑھتاجو صرف اسی کا منتظر ہوتا تھا. وہ گھر کے جس راستے سے گزرتا وہ ایک خاص قسم کے سناٹے سے لبریز ہوتا تھاوہاں کوئی زندہ وجود دکھائی نہ دیتا تھا ایسے لگتا جیسے یہ گھر بالکل خالی ہو حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اس کے جاتے ہی اس کی گزرگاہ کے دونوں طرف تانے گئے پردے گر جاتے اور بیبیوں کے سر کی چادریں بھی سرک کر ان کے کاندھوں پر آ ٹکتیں۔ بچے بولنے لگتے تھے گھر میں  موجود کوئی بوڑھا خواہ مخواہ کھنکھارنے لگتا اور پھر ویسی ہی چہل پہل گھر میں عود کر آتی. وہ کوٹھے اتارتا گھر سمیٹتا آخر کاردن کے پچھلے پہر وہاں سے نکلتا اور پھر اس گندے نالے کی راہ لیتا جہاں اسے اپنے  ٹوکرے میں سمٹا ہوا سارا گند اس میں انڈیلنا ہوتا تھا۔.

اس کی شب روزمیں ایک ایسی یکسانیت اور اکتاہٹ تھی کہ وہ کبھی کبھی اپنے اندر کی خاموشی کو ایک بے وجہ اور بے مطلب قسم کی گھبراہٹ کی ہلکی سی گونج سےتڑخا دیتا تا کہ وہ اپنے آپ کو اس خلا میں  محسوس نہ کرے جس کا عادی بننا اسکے لئے کبھی بھی سہل نہیں رہا تھا. اس کی رگوں پٹھوں میں ہر وقت چیونٹیاں سی رینگتی رہتی تھیں۔ نظر نہ آنے والی چیونٹیوں کے رینگنے کے احساس سے ہی وہ اپنے آپ کو  زندہ آدمی تصور کرنے لگتا تھا.ویسے اپنی زندگی کے اس ٹھہراو سے وہ اپنے آپ کو کبھی جوڑ نہیں سکا تھا. اسے کسی انجانی خوشی دکھ یا ہلچل کا انتظار تھا جو اس کے وجود کو ہلا کر رکھ دینے پر قادر ہو اور وہ اسے میسر نہ تھی لیکن اسے امید تھی کہ کبھی نہ کبھی کچھ تو ہوگا جو اس کے اندر بھونچال پیدا کر دے گا وہ ایسے ہی بھونچال کا متمنی اپنے معمولات میں لگا تھا کہ نا محسوس طریقے سے اور نہایت چپکے سے اسکھنکھوڑے بغیر  ایک تبدیلی کا عمل اس میں پنپنے لگا. اس کی گنتی میں اچانک ایک نیا گھر آ گیا جس میں اور گھروں سے زیادہ اور معمول سے ہٹ کر ایک دبیزخاموشی.

  • کا راج تھا۔وہاں اس کی اطلاع کے مطابق ایک اکیلی تنہا پاکباز بیبی رہائش پذیر تھیں. وہاں پہنچ کر جب وہ آواز لگاتا ، “بیبیو پردہ کرلو حلال خور آتا ہے “، تو جواب میں اسے ایک مہین سی آواز آتی، ” آجاؤ”
  • اس گھر میں اس کے گزرنے کے لیے بنائی گئی گزرگاہ اور گھروں سے زیادہ سنسان تھی وہ یہاں سے گزرتا رہا پھر چند دنوں کے بعد اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے دھیرے سے سانس لی ہو اس سانس کی گرمی اور نمی اسکی گردن پر پھیلتی تھی.. پھر پردے کے پیچھے کپڑوں کے سرسرانے کی آواز بھی آنے لگی پھر ہلکی مصنوعی کھانسی اور ہلکی گنگناہٹ اس کے کانوں کی راہ پانے لگی.. اور یوں اس کے منہ اور ناک پر لپٹا کپڑا بھی سرکنے لگا تھا اور یوں اس کی ناک ایک اجنبی بدن کی بو سے آشنا ہوئی وہ اندر سے ڈرتا تھا مگر ایک طرح کا اشتیاق بھی اس کے اندرجڑ پکڑتا تھا. پھر سانسوں کی آواز کپڑوں کی سنسناہٹ اور گنگناہٹ نے زندگی کی گرماہٹ کو جنم دینا شروع کیا. پھر گفتگو ہونے لگی
  • ” رکو ۔۔۔ تمہارے لئے میں نے چاول کی کھیر رکھی ہے “
  • ایک رکابی اس کی طرف بڑھتی اس کا جھجھکتا ہوا ہاتھ رکابی کی طرف بڑھتا اور اسے لرزے کا تاپ چڑھتا ہوا محسوس ہوتا۔ پھر ڈر کچھ کم ہونے لگا اس کی آس بندھی اور اس کے منہ اور ناک سے لپٹا کپڑا بالکل ہٹ گیا۔ دوسری طرف بھی چہرے کا چاند چمکنے لگا تو اس کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیں۔.
  • ایک دن اس نے پوچھا.
  • آپ کو مجھ سے ،اس گند سے، بدبو سے کراہت محسوس نہیں ہوتی ؟”
  • ” نہیں۔۔۔”
  • “کیوں بی بی ایسا کیوں ہے۔۔۔”
  • ” وہ اس لیے کہ یہ میرا ہی گند ہوتا ہے اور اپنے گند سے کراہت کیسی۔”
  • ” لیکن میری بو۔۔۔۔۔۔ میرے بدن کی بو، بلکہ بدبو ۔۔۔”
  • ” اس طرح کی بھو میرا بدن بھی خارج کرتا ہوگا۔ کیا تم کراہت محسوس کرتے ہو ؟ “
  • “نہیں جی۔۔۔ میں تو۔۔۔۔ یہ بو تو اب ہر لمحے ہر گھڑی میرے ساتھ رہتی ہے۔”.
  • ” یہ تو اچھا ہے. کیا تمہیں ہماری آپس کی ان بووں کا تبادلہ اچھا نہیں لگتا ؟”
  • “اچھا لگتا ہے جی…. بلکہ بہت ہی اچھا۔ “
  • ادھر سےبہت تاسف کے ساتھ کہا گیا.” لیکن کیا تم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہم دونوں کے جسموں کی بوویں بہت اداس ہیں۔ “
  • ” جی ایسا تو ہے “
  • “کیا میری اور تمہاری اداسی کو، اس بو کو کوئی سمجھ سکے گا؟”
  • ” شاید نہیں جی”
  • بس یہی تو اڑچن ہے.. یہ بندے بشر ایسی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور یوں بات سے بتنگڑ جنم لیتا ہے۔ کیا تم چاہو گے کہ بات کا بتنگڑ بنے ؟”
  • ” نہیں جی بالکل نہیں ایسا تو ہونا ہی نہیں چاہیے”
  • . “تو پھر تم میرے ہاتھ کی پکی ہوئی کھیر کھاتے رہو میری بو کو اپنے اندر بساتے رہو اور ادھر میں بھی شاید بدلے میں اتنا ہی کر پاؤں گی ۔ہمارے مقدر میں بس یہی لکھا ہے کہ ہم تھوڑی دیر کےلیے اپنی اداسی کم کر لیں اور تھوڑا سا اپنی مرضی سے جی لیں۔”
  • ” لیکن “
  • بس اس سے زیادہ کا کبھی تم سوچنا بھی نہیں سوچو گے تو نقصان میں رہو گے ” کیوں جی ؟”
  • . “کیونکہ تم گندے ہو. گند کی پوٹ ہو حالانکہ یہ گند تمہارا نہیں. ہم سب کا ہوتا ہے تم تو صرف ہمارا ہم لوگوں کا گند سمیٹتے ہو اور اسی لئے حلال خور کہلاتے ہو۔ “
  • “جی ۔۔۔جی ۔۔۔جی۔۔۔ جی ” وہ گنگ ہونے لگا
  • اس مکالمے کی اختتامی فضا اسے پھر سے اداس کر جاتی اور وہ اپنی بانہہ کا سرہانہ بنائے راتوں کو اپنی جھگی میں لیٹا ہونٹوں سے اپنا خود ساختہ ساز لگائے پھونکیں  مارتا رہتا اور یوں اس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا تند و تیز دریا اترنے لگتا جیسے تیز بخار اترتا ہو۔
  • تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد کی واردات

علاقے کا بھنگی کچھ دنوں سے آ نہیں رہا تھا. اور محلے میں تعفن پھیل رہا تھا. لوگوں کا اپنا گند انکے لئے تکلیف دے ہوا جاتا تھا لوگ اپنے منہ پر کپڑا رکھے گزرتے اور گھروں میں بچے بیبیاں بوڑھے سب اس ناگوار بدبو سے نالاںبولائے پھرتے تھے۔ قے کرتے تھے۔ پھر اس بدبو پر ایک اور بدبو غالب آنے لگی.یہ انسانی جسم کے گلنے سڑنے کی بدبو تھی اور ناقابل برداشت تھی۔ داروغہ صفائی کو اطلاع ہوئی تو وہ اپنے عملے اور محلے کے کچھ لوگوں کے ساتھ جب اس گھر کے اندر  داخل ہوا تو اسے وہاں گم شدہ بنگی کا گلتا سڑتا جسم ملا۔. اس کی دونوں آنکھوں اور نتھنوں میں سے سرخ چیونٹیاں اپنا رستہ بنائے آ جا رہی تھیں۔ لوگ حیران تھے کہ یہ بھنگی اس مکان میں کیسے چلا آیا تھا کیونکہ ان کے بقول یہ مکان تو عرصہ ء دراز سے خالی پڑا تھا۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: