شیخ ایاز … ہنس مُکھ

ہنس مکھ

شیخ ایاز

اس کی سادگی میں چالاکی تھی، چالاکی میں سادگی۔ کبھی بچے کی طرح دوڑتی ناچتی آیا کرتی تھی اورمیرے پیچھے سے آ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی۔ کبھی میرے بال بکھیر کر کہتی۔ ’’دیکھو تو کیسے لگ رہے ہو؟‘‘ اور پھر شیشہ اٹھا کر ہاتھ میں دے دیتی۔ کبھی میں پنسل تراشتا تو وہ اسے توڑ دیتی اور اسے اٹھانے کی کوشش کرتا تو ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو جاتی۔ کبھی دوپٹے کی پگڑی باندھ کر آ جاتی اور میرے ہاتھ سے کتاب چھین کر کہتی۔

’’کہو اب کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ کبھی پن اٹھا کر میری گردن میں چبھو دیتی، کبھی شربت میں نمک ملا کر لے آتی، کبھی بِھڑ پکڑ لاتی اور مجھے دکھا کر ڈرانے کی کوشش کرتی۔ ایک دن بچھو ہتھیلی پر لے آئی۔ نہ جانے کیسے اس کا ڈنک نکالا تھا!‘‘ دیکھو میں نے اس پر جادو کیا ہے، اس نے کہا۔ میں نے شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تم تو انسان پر بھی جادو کر سکتی ہو۔‘‘

اس کے چہرے پر شرم کی سرخی دوڑ گئی اور بچھو میری گود میں اچھال دیا۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا اور اسے چُٹیا سے پکڑ کر بولا۔ ’’کہو پھر ایسے کرو گی؟‘‘ ’’نہ بابا میری توبہ، میری امی کی بھی توبہ!‘‘ اس نے چُٹیا چھڑاتے ہوئے کہا۔ ایک دن دوپہر کو آتے ہوئے مجھے دیر ہو گئی تو وہ کھانا لے کر آئی۔ میں نے بہت کہا کہ خود ہی کھاؤں گا لیکن وہ نہ مانی زبردستی نوالے بنا بنا کر منہ میں ٹھونسنے لگی۔ ’’سب عورتیں بے وقوف ہوا کرتی ہیں۔‘‘ میں نے غصے سے کہا۔ ’’اس لیے تو تم بھی پاس نہیں ہو رہی ہو۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس نے ہڈی نوالے میں چھپا کر منہ میں ڈال دی۔ ہڈی چپا کر میرا منہ خراب ہو گیا تو وہ بھاگ گئی۔ میں نے غصے سے کہا۔ ’’بس پھر کبھی یہاں نہیںآئوں گا۔‘‘ ’’ارے دیکھتی ہوں، کتنے دن نہیں آئو گے، کتنے دن اس شوروغل میں پڑھ سکتے ہو۔‘‘ اس نے ناک بھوںچڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’گھر میں ایک لفظ بھی پڑھ سکے تو کہنا۔‘‘ میں نے سوچا کہ کہہ تو سچ رہی ہے۔

ہمارا گھر چھوٹا تھا اور بچے بھی زیادہ تھے، اس لیے میں ان کے گھر آ کر پڑھتا تھا۔ اس کے گھر میں صرف دو افراد تھے، خالہ اور وہ لیکن اس نے میرا ناک میں دم کر دیا تھا۔ ہر روز نت نئی شرارتیں سوچا کرتی تھی۔ جب میٹرک میں فیل ہو گئی تو پڑھنے کا خیال ہی ذہن سے نکال دیا اور اب میرے پیچھے پڑ گئی تھی۔ ایک دن میرے ہاتھ میں کیمرا دیکھ کر ضد کرنے لگی کہ میری تصویر کھینچیں۔ بڑی تگ و دو کے بعد جب میں نے تصویر کھینچی تو اس نے دوپٹے میں منہ چھپا لیا۔

ایک مرتبہ میں ابھی کتاب لے کر ہی آیا تھا۔ کمرے میں دو چارلڑکیاں بیٹھی تھیں۔ میں جوں ہی کمرے میں داخل ہوا سب ہنسنے لگیں اور وہ اتنا ہنسی کہ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی۔ میں نے جھینپ کر اسے کہا۔ ’’خیر تو ہے؟‘‘ ’’تم پر تو نہیں ہنس رہے تھے۔‘‘ اس نے ہنسی روک کر کہا۔ ’’تم خود بتائو تمھاری شکل ایسی ہے کیا؟ تمھاری شکل دیکھ کر تو مجھے رونا آتا ہے۔ ہنسی کیسے آئے گی۔‘‘ ’’اب بکواس چھوڑو!‘‘ میں نے ڈانٹ کر کہا۔ ’’ایسے ہی آدمی دیکھ کر تمہارا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔‘‘

’’دماغ تو تمھارا پڑھ پڑھ کر خراب ہو گیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر ہنسنے لگی۔ ’’بتائوں کہ کیوں ہنس رہے تھے! میں نے زہرہ کو بتایا کہ تم نے بی اے میں فلسفہ لیا ہے۔ اس پر اس نے ایک فلسفی کی بات سنائی کہ کیسے اس نے دیوار پر اپلے لگے دیکھ کر کہا کہ یہ گوبر گائے نے اس دیوار پر کیسے کیا؟اس پر مجھے بہت ہنسی آئی۔‘‘ ایک بارمیں اسے جمہوریت کے اصول سمجھا رہا تھا۔ ’’لیکن اللہ تو ہمیں جمہوریت نہیں سکھاتا۔‘‘ اس نے کہا ۔ ’’اللہ تو اکثریت کو دوزخ میں ڈالتا ہے اور بہت کم لوگوں کو جن میں ملّا اور مست پاگل آ جاتے ہیں وہ بہشت میں بھیج دیتا ہے۔ ‘‘وہ تقریر کرنے لگی۔ ’’ لیکن یہ بہشت و دوزخ کا معاملہ بھی عجیب ہے۔

میں تو سوچ سوچ کر الجھ جاتی ہوں۔ میٹرک میں ہمیں استاد نے بتایا تھا کہ انسانی روح میں خدا کا جزو ہے اگر ایسا ہے تو پھر تو دوزخ میں بھی تو صرف روح جاتی ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ دوزخ میں اللہ خود جاتا ہے۔‘‘ وہ مذہب پر ہنسنے لگی۔ میں سوچنے لگا کہ اس کو ایسے شرارت بھرے خیالات کیسے آتے ہیں! اللہ کو بھی نہیں بخشتی۔ اس کی ہنسی میں زندگی تھی اور زندہ دلی تھی۔ ہنستے ہوئے اس کے رخساروں میں جیسے سفید اور سرخ گلاب گھل مل جاتے تھے اس کے نازک لب شبنم آلود ہو جاتے تھے۔ میں نے اُسے مسکراتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ ہنستی رہتی تھی اور اس کی ہنسی میں دنیا بھر کا سنگیت سما جاتا تھا۔

اس کے قہقہے میں معصومیت اور شرارت ہوتی تھی۔ ہاتھ ہاتھ میں ملا کر ناچتے ہوئے گم ہو جاتی تھی۔ تنہا ہوتی تو گاتی رہتی تھی، جب آدمی دیکھتی تو ہنس پڑتی جیسے ساری دنیا کی خوشی اس کی روح میں سمائی ہوئی تھی۔ وہ اتنا ہنستی تھی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے تھے اور یہ پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ وہ ہنس رہی ہے یارو رہی ہے۔ اس کی زندگی میں مسکراہٹ اور آنسو ملے جلے تھے، وہ ہر ایک کو پریشان کرتی تھی لیکن کوئی بھی اس سے خائف نہ تھا۔ میں تو اس سے اس لیے نفرت کرتا تھا کہ مجھے اس سے محبت تھی اور محبت اس لیے کرتا تھا کہ مجھے اس سے نفرت تھی۔ میٹھی میٹھی نفرت۔

کڑوی کڑوی محبت۔ دور ہوکر دور رہنا نہیں چاہتا تھا اور نزدیک ہو کر تنگ ہو جاتا تھا۔ میری اور بھی خالہ زاد، چچا زاد بہنیں تھیں لیکن اور کوئی بھی ایسی عجیب و غریب نہ تھی۔ کسی کی مجال نہ تھی کہ مجھ سے شرارت کر سکے۔ سب کتابی کیڑا سمجھ کر میری عزت بھی کرتی تھیں اور نفرت بھی۔ لیکن نہ جانے کیوں وہ مجھے چھیڑتی رہتی تھی، میں کتاب کے کسی صفحے پر نشان ڈال کر جاتا تو وہ نشان نکال کر کسی اور صفحے پر رکھ دیتی، میں فائونٹین پین میں سیاہی بھرتا تو وہ سیاہی نکال کر اس میں پانی بھر دیتی۔

مطلب یہ ہے کہ عجیب شامت تھی۔ میں نے کئی بار سوچا کہ پھر اس کے گھر نہیں جائوں گا۔ دو ڈھائی گھنٹے بعد ہی وہ کوئی بہانہ کر کے کسی کو بھیج کر بلا لیتی۔ مثال کے طور پر کہلوا کر بھیج دیتی کہ امی کے سر میں درد ہے، دوا دینے کو بلایا ہے اور میں دوائی لے کرپہنچتا تو پیغام دینے والا غائب ہو چکا ہوتا، مجبوراً مجھے ہی دوا لے کر اس کے گھر جانا پڑتا۔ جب میں گھر میں داخل ہوتا تو وہ ہنس کر کہتی۔ ’’دیکھو کس طرح چالاکی سے بلوایا۔ اب پتا لگا۔‘‘

اور پھر رسی کودنے لگتی۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ مجھے صرف شرارت کرنے کے لیے بلواتی۔ مجھے یاد ہے کہ کڑاکے دار گرمی میں پڑھتے ہوئے مجھے نیند آ گئی اور پسینے کی وجہ سے کروٹیں بدل رہا تھا کہ ٹھنڈے ٹھنڈے جھونکے پر آنکھ کھل گئی۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ پنکھا جھل رہی ہے۔ مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر میری پیٹھ پر وہی پنکھادے مارا اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی کہ ’’نیند میں کیوں بڑبڑا رہے تھے، ہماری نیند خراب ہو رہی تھی۔‘‘

جب اکٹھے کھانا کھانے بیٹھتے تھے تو کہتی تھی، دیکھنا میں تمھیں بھوکا ماروں گی اور پھر قہقہہ مار کر ہنستی تھی لیکن میں نے دیکھا تھا کہ وہ بہت کم کھاتی تھی اور اچھی اچھی چیزیں میرے لیے رکھ دیتی تھی۔ ایک دن مجھے سخت بخار ہو گیا۔ میں نے اپنی بہن سے کہا ذرا سر دبا دو۔ اس نے ڈانٹ کر کہا۔ ’’دو گھنٹے سے مسلسل خالہ زاد بہن آپ کا سرد بار ہی تھی اور اب بھی سر دبانے کو کہہ رہے ہیں۔‘‘

مجھے معلوم بھی نہ تھا کہ غشی کے عالم میں وہ میرا سر دبا رہی تھی۔ اس طرح کئی بار میں نے محسوس کیا کہ اس نے مجھ سے ہمدردی کی تھی۔ میں نے بی۔ اے کا امتحان پاس کیا تو اسکے گھر گیا۔ اس نے کہا۔ ’’مٹھائی کھلائیں۔‘‘ اور پھر زور دار قہقہہ لگا کر بولی۔ ’’چلو کنگال، تم کیا کھلاؤ گے۔‘‘ کہہ کر ہنسنے لگی۔ میری شادی ہو گئی۔ وہ آئی اور بولی۔ ’’مٹھائی کھلاؤ‘‘ اور پھر ’’چلو کنگال، تم کیا کھلائو گے۔‘‘ کہہ کر ہنسنے لگی۔

میرے ہاں بیٹا پیدا ہوا تو وہ آئی اور پھر وہی۔ ’’مٹھائی کھلاؤ!‘‘ کہہ کر بولی۔ ’’چلو کنگال، تم کیا کھلاؤ گے۔‘‘ اور پھر زور دار قہقہہ ۔ اس میں ابھی تک وہی معصوم شرارت تھی۔ اب بھی زندہ دلی تھی۔ اب بھی ہنستے ہوئے اس کے آنسو نکل آتے تھے۔ کل وہ میرے بیٹے کو گود میں کھلا رہی تھی۔ میرے بیٹے سے اسے بہت محبت تھی۔ بچہ گھٹنے چلنا سیکھ گیا تھا۔ کل وہ بچے کو اچھال رہی تھی۔ میں دفتر سے واپس آیا تھا۔ بچے نے مجھے دیکھ کر کہا۔ ’’باآباآ۔‘‘ میں نے اسے اٹھانے کے لیے بازو بڑھائے لیکن بچہ سر ہلا کر اس کے سینے میں چھپنے لگا اور بولا۔ ’’ام۔ ماں‘‘

میں نے مذاق سے کہا۔ ’’ارے تمھاری امی تو روٹی پکا رہی ہیں۔ یہ تو تمھاری پھوپھی ہیں!‘‘ لیکن بچے نے میری بات نہ مانی اور اس کے سینے سے منہ نکال کراس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولا۔ ’’اماں۔‘‘ اچانک میں نے دیکھا کہ اس کا چہرہ فق ہو گیا اور آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کیوں خیر تو ہے؟ اس نے بچے کے گال چومے اور اس کی قمیص میں منہ چھا کر سسکیاں بھرنے لگی۔ میں دیکھتا رہ گیا۔

Be the first to comment

Share your Thoughts: