علی عباس جلالپوری ۔۔۔۔ راشد جاوید احمد

استاد محترم، علی عباس جلالپوری

(مرتب: راشد جاوید احمد)

علی عباس جلالپوری  گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں فلسفے کے استاد تھے اور ہمارے ٹیوٹوریل گروپ کے انچارج بھی۔ فارغ وقت میں ہم طالبعلموں کا ایک جمگھٹا سا رہتا ان کے کمرے میں اور بعض اوقات تو کالج بند ہونے کے تادیر بعد بھی ہم ان سے کسب فیض کرتے رہتے۔ استاد محترم ننے پوری زندگی مطالعہ وتدریس وتحقیق وتصنیف میں گزاری۔ وسیع مطالعے اور تحقیق کے نتیجے میں یہ حقیقت ان پر آشکار ہوئی کہ مشرقی اقوام بالعموم او رمسلم اقوام بالخصوص، اس لئے پس ماندہ اور دست نگر ہیں کہ وہ ابھی تک زرعی معاشرے کے فرسودہ معتقدات اور اوہام میں جکڑی ہوئی ہیں۔ مغربی معاشرے توکب کے تحریک احیائے علوم سے گزر کر آج فلسفہ، سائنس اور علوم ہائے انسانی کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہورہے ہیں۔ جبکہ ہم قرون وسطیٰ کی ضمنیات میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ علمی سطح پر تحریک خردافروزی شروع کی جائے۔ اور یہ عملِ تحقیق وتصنیف تقریباً پچیس تیس سال جاری رہا۔ زندگی کے آخری چودہ سال دائیں حصے پر فالج کے حملے کی نذر ہوگئے۔

انہوں نے فکری جمود کے ماخذات کی نشاندہی کی اور اپنی تیرہ مطبوعہ کتب میں ان ماخذات اور ان کے تاریخی عواقب کو بے نقاب کیا اور ثابت کیا کہ وہ مغالطوں پر مبنی اور از کار رفتہ ہیں۔ مثلاً پیداواری عمل اساسِ اوّل ہے۔ پیداواری اور خاندانی رشتوں کے تانے بانے سے سماج صورت پذیر ہوتا ہے۔ زرعی معاشرے میں زرخیزی کے متعلق فصلوں کی بیجائی کٹائی سے منسلک تہوار، رسمیں، تقریبات، ماورائی وجود کا تصور جو موسموں کو موافق بنائے، مٹی میں زرخیزی پیدا کرے، آفاتِ فطرت سے بچائے، قربانی، جادو ٹونے ٹوٹکے۔۔۔ لیکن صنعتی سماج کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ دیہی کی بجائے شہری سماج، کھیت کی بجائے کارخانہ، فطرت پر انحصار کی بجائے پیداوار پر کنٹرول، سماجی تنظیم میں پیچیدگی۔ ماس پیداوار اور ماس کھپت، نت نئی ایجادات اور نت نئی منڈیاں او رمنڈیوں کے حصول کے لئے تگ ودو۔۔۔ لہٰذا زرعی دور کے معتقدات، صنعتی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہتے۔ ’’روح عصر‘‘ اسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔

ماضی سے ورثے میں ملے ہوئے اعتقادات ہمارے مزاج عقلی میں اس طرح نفوذ کرجاتے ہیں کہ ہم درپیش حقیقتوں کو جیسی کہ وہ ہیں، دیکھ نہیں سکتے، سمجھ نہیں پاتے۔ مثبت ومنفی تعصبات ہماری فکری صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں تو خیالات گدلا جاتے ہیں۔ ہم مغالطوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جو نسل در نسل جاری رہتے ہیں۔ موضوعی سچ بن جاتے ہیں، یوں معاشرہ فکری اسقاط کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس پر جمود طاری ہوجاتا ہے۔ علی عباس جلال پوری نے اس جمود کو توڑنے کے لئے ان مغالطوں کا تاریخی اور فکری پس منظر دیتے ہوئے منطقی استدلال سے انہیں باطل قرار دیا ہے۔

ان میں سے چند یہ ہیں۔ یہ’’کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔‘‘ یہ’’کہ انسانی فطرت ناقابل تغیر ہے۔‘‘ یہ’’کہ وجدان کو عقل پر برتری حاصل ہے۔‘‘ یہ’’کہ دولت مسرت کا باعث ہوتی ہے۔‘‘ یہ ’’کہ تصوف مذہب کا جزو ہے۔‘‘ یہ’’کہ عورت مرد سے کمتر ہے۔‘‘ یہ’’کہ انسان فطرتاً خود غرض ہے۔‘‘ یہ’’کہ ریاست او رمذہب لازم وملزوم ہیں۔‘‘ یہ’’کہ اخلاقی قدریں ازلی وابدی ہیں‘‘ وغیرہ عام فکری مغالطے کے موضوعات ہیں۔

فلسفہ سوال اٹھاتا ہے۔ سوال تحکمیت کی نفی کرتا ہے۔ اس لئے آپ نے ضروری سمجھا کہ ان سوالوں کو دوبارہ اٹھایا جائے جو ذہن انسانی کو قدیم زمانے سے تنگ کرتے رہے ہیں۔ مثلاً کائنات کیا ہے؟ کیا اس کی کوئی غائت ہے؟ کیا اس میں کوئی ذی شعور اخلاقی قوت موجود ہے؟ زمان ومکان کیا ہیں؟ انسان کا اس کائنات میں کیا مقام ہے؟ کیا ذہن مادے کی پیداوار ہے یا مادہ ذہن کی؟ انسان مجبور ہے یا مختار؟ روح کیا ہے؟ ضمیر کیا ہے؟ حسن کیا ہے؟ سچائی کیا ہے؟ خیر کیا ہے؟

مختلف فلسفیوں نے ان سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ قدماء نے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ معروضی دنیا کو جاننے کے لئے مشاہدے او راستدلال کا استعمال کیا۔ لیکن بعد میں مابعد الطبیعاتی امثال پسندی حاوی ہوگئی۔ تجربیت، ارادیت و ارتقائیت کے مراحل سے گزر کر فلسفہ اب پھر جدلیاتی مادیت کے نظامِ فکر وعمل کے ذریعے حقائق کو سمجھنے اور تبدیل کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ موجودیت اسی کی ایک فرع ہے۔’’روایات فلسفہ‘‘ عام فہم اردو میں اس لئے لکھی گئی۔

’’شاید چند ایک روزن اور دریچے کھل جائیں گے اور چند ایک تازہ ہوا کے جھونکے(ذہن) کی بند کوٹھڑیوں میں بارپاسکیں گے۔ نئے نئے خیالات آدمی کے دل ودماغ میں ہلچل پیدا کرتے ہیں۔ نئے نئے خیالات کا نفوذ شدید ذہنی کرب کا باعث بھی ہوتا ہے۔ لیکن دیانت اور جرأت سے کام لے کر ایسے نئے خیالات کو قبول کرلیا جائے جن کی صداقت آشکار ہوچکی ہے تو یہ کرب مسرت میں بدل جاتا ہے۔ اور اس سے بڑی مسرت کا کم ازکم راقم کو کوئی تجربہ نہیں ہے۔‘‘

فِلو نامی یہودی نے سب سے پہلے یہودیوں کے مذہبی عقائد کو یونانی فلسفہ کے قالب میں ڈھالا اور مذہبی عقائد کے لئے عقلی جواز فراہم کئے۔ بعدازاں عیسائی او رمسلمان مفکرین نے بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے جواز تراشنے شروع کردیے۔ دنیائے اسلام میں یونانی کتابوں کے ترجموں سے ہیجان پیدا ہوا تو معتزلہ نے عقلی دلائل سے مذہب اسلام کا دفاع کیا۔ او رعلم کلام کے اصول مرتب کئے۔ مسلمانوں میں رازی اور غزالی مشہور متکلم ہوگزرے ہیں۔

فلسفہ پہلے سے قبول کئے ہوئے کسی عقیدے کے حق میں عقلی جواز فراہم کرنے کا نام نہیں ہے۔ فلسفہ تو سوال اٹھاتا ہے اور عقلی استدلال اور تحقیق سے جو علم حاصل ہو(چاہے وہ آدمی کے اپنے اعتقادات کی نفی کرے) کا بلاجھجک اظہار کرتا ہے۔ علامہ اقبال اس لئے فلسفی نہیں ہیں کہ وہ اپنے اعتقادات کے حق میں عقلی جواز تراشتے ہیں اور فلسفیانہ سوالات کو عقلی استدلال سے منطقی نتائج پر نہیں پہنچاتے بلکہ خرد دشمنی اور رومانوی عشق نوازی میں غلطاں ہیں۔ ان کے اکثر افکار بھی معاصر مغربی مفکرین شوپنہائر، نشٹے، فشٹے او ربرگساں وغیرہ کے افکار کا ایک ملغوبہ ہیں جسسکوانہوں نے مشرقی جامہ پہنادیا ہے۔ پاکستانی سماج میں اقبال پر تنقید تو شجر ممنوعہ کو ہاتھ لگانے سے کم نہیں۔ علی عباس جلال پوری اقبال کی شاعرانہ عظمت کے قائل تھے۔ اور اس پر لکھنا بھی چاہتے تھے لیکن بیماری کی وجہ سے یہ منصوبہ پورا نہ ہوسکا۔(اقبال کا علم کلام)۔

فلسفیوں او رمفکروں میں خدا کے تصور کی دو روایتیں چلی آرہی ہیں۔ ایک وحدت الوجود اور دوسری وحدت الشہود۔ وحدت الوجود کا اساسی تصور یہ ہے کہ کائنات میں ایک ہی اصل اصول کارفرما ہے۔ کثرت جو ہمیں دکھائی دیتی ہے ہماری اپنی نظر کا فریب ہے۔ وحدت الوجودی کہتے ہیں کہ خدا کائنات سے الگ نہیں ہے۔ وہ کائنات میں جاری وساری ہے۔ وحدت الشہودیوں کے خیال میں خداکائنات سے ماوراء اور الگ تھلگ ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ سامی مذاہب بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں۔

سب سے پہلے وحدت الوجود کا نظریہ قدیم یونان میں پارمنیائڈیس نے پیش کیا۔ بعدازاں زینواور فلاطینوس نواشراقی نے بھی اس کا احیاء کیا۔ ہندوؤں میں شنکراچاریہ نے ویدانت کی صورت میں اسے یوں پیش کیا کہ صرف برہمن ہی کائنات ہے۔ وہی حقیقی ہے۔ اس کے سوا سب کچھ مائع ہے۔ مسلمانوں میں ابن عربی، رومی، عطار اور جامی وغیرہ مشہور وجودی صوفی ہوگزرے ہیں۔

مادری زبان پنجابی میں لکھی گئی کتاب’’وحدت الوجود تے پنجابی شاعری‘‘ میں علی عباس جلال پوری نے خطۂ پنجاب کے تاریخی، نسلیاتی وثقافتی پس منظر کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے کہ کس طرح دراوڑی سماج ایک ترقی یافتہ سماج حملہ آور آریاؤں کے تسلط میں آیا اورکیسے یہاں یونانی سریت و اشراق، ہندی ویدانت وبھگتی تحریک او رمسلمانوں کے تصوف وعرفان کی آمیزش سے وحدت الوجودی صوفی شاعری تخلیق ہوئی جو صلح کل وسعت مشرب او رامن وآشتی کی اقدار کی آئینہ دار ہے او رجس کی بدولت یہاں بابا فرید، شاہ حسین، وارث شاہ اور خواجہ فرید جیسے عظیم شعراء کا وجود ممکن ہوا۔

بیسویں صدی1917ء کے انقلاب روس کے گرد گھومتی ہے۔ پہلی بار بڑے پیمانے پر ایک فلسفہ فکروعمل نے دنیا کی کایا کلپ کردی۔ مارکسی نظام فکر وعمل نے دیکھتے ہی دیکھتے انقلاب کے ذریعے پسماندہ زرعی معاشروں میں محیرالعقول ترقی، عدل ومساوات کا دور شروع کیا۔ تاریخ نے ایک نیا موڑ کاٹا۔ عوام جو طبقاتی معاشروں میں غیر اہم او ربے مایہ تھے اب اہم او رتاریخ ساز سمجھے جاتے ہیں۔(تاریخ کا نیا موڑ)۔

طبقاتی استحصالی نظاموں میں جنس جیسے فطری جذبے کو کس طرح اوہام او رممانعات میں لپیٹ دیا گیا ہے۔ اسے استحصال وبے راہ روی کا ذریعہ بنادیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے فکری عوامل کو سائنسی طریقہ سے سمجھا جائے اور اس کی معاشرتی اہمیت کے پیش نظر اسے صنفِ لطیف سے ناانصافی اور اسے مقید کرنے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ استحصالی نظامِ زر میں خرید وفروخت اور تذلیل رواج پاتی ہے۔ ان رجحانات کی بیخ کنی ضروری ہے۔(جنسیاتی مطالعے)۔

آج کی رسمیں او رریتیں کس طرح کے سماجوں سے ماخوذ ہیں ان میں آج بھی پرانے اوہام ومعتقدات جھلکتے ہیں۔ بھلے ان سے لوگ شعوری طور پر آگے نکل آئے ہوں۔ ہم آج کے رسوم ورواجوں میں عقلی جواز کے بغیر عادتاً غلطاں ہوتے ہیں کہ انسانی تاریخ ایک تسلسل ہے، رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم کیا او رکیوں کررہے ہیں۔(رسومِ اقوام)۔

بعض الفاظ واصطلاحات غلط العام ہیں۔ یا لوگ ان کے پس منظر سے ناواقف ہیں۔ یہ ناواقفیت یا کم فہمی ذہنی آلائش وفکری جمود کا باعث بنتی ہے۔ اس لئے ان الفاظ واصطلاحات کے علمی وتحقیقی تاریخی معنی دئیے گئے ہیں تاکہ بنددرکھُل جائیں۔(خردنامہ جلال پوری)۔

’’خردنامہ‘‘ کے پیش لفظ میں خرد افروزی کے ترکیبی عناصر کو خود بیان کرتے ہیں۔(1) عقلیت پسندی ترویج۔ (2)سائنس او رفلسفے کو مذہبی تحکم سے نجات دلانے کی کوشش۔ (3)انقلابیت وعقلیت پسندی یا سائنسی علوم کی روشنی میں معاشرے کو از سرِ نو مرتب کرنے کی کوشش۔(4) مذہبی منافرت اور جنون کا انسداد۔(5) انسان دوستی۔

مشتِ ازخروارے کے مصداق ان کی کچھ تصانیف کا سطحی ساتعارف یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ اپنے طے کئے ہوئے خرد افروزی کے راستے پر استقامت او رلگن سے چلتے رہے۔ انہوں نے عقیدہ پرستی کے مقابلے میں عقلیت و تحکم کے مقابلے میں استدلال، فوریت کے مقابلے میں تاریخیت، 

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: