غزل ۔۔۔ کبیر اطہر

 غزل

(کبیر اطہر)

جہاں سانسیں نہیں چلتیں وہاں کیا چل رہا ہے
بہشت۔ خاک میں’ اے رفتگاں !! کیا چل رہا ہے

پرانے دُکھ ۔۔۔۔ نئے کپڑے پہَن کر آ گئے ہیں
یہ اپنے شہر میں آزُردہ گاں !! کیا چل رہا ہے

یہ جن کے اشک میری جان کو آئے ہوئے ہیں
میں ان سے پوچھ بیٹھا تھا میاں کیا چل رہا ہے

ہمارا بھوک نے منہ بھر دیا ہے گالیوں سے
تمہارے بدنصیبوں کے یہاں کیا چل رہا ہے

ہیں اشکوں کے نشانے پر مسلسل دکھ ہمارے
یہ چالیں ہم سے اندوہ۔جہاں کیا چل رہا ہے

ندامت سے میں اپنا منہ چھپاتا پھر رہا ہوں
یہ میرے دوستوں کے درمیاں کیا چل رہا ہے

یہاں ہر روز ہونٹوں کے گنے جاتے ہیں ٹانکے
تمہارے شہر میں شعلہ۔بیاں کیا چل رہا ہے

چلا کر گولیاں مجھ پر پرندوں کو بتاو
جہاں پنجرے نہیں بنتے وہاں کیا چل رہا ہے

میں اُن کو چار دیواری سے باہَر پھینک دیتا
خبر ہوتی اگر کمروں کے ہاں ۔۔۔ کیا چل رہا ہے

تو پھر قابو کیا ہے ہجر کس جادو سے تم نے
اداسی گر نہیں افسُـــردہ گاں !! کیا چل رہا ہے

ہمارے رہبروں کو جان کے لالے پڑے ہیں
تمہارے رہبروں میں گمرہاں کیا چل رہا ہے

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.