Lipstick under my Burkha | Film Review

لپسٹک انڈر مائی برقعہ

(Lipstick under my Burkha)

تبصرہ :: راشد جاوید احمد

21 جولائی 2017 کو ریلیز ہونے والی اس فلم کی کوئی ایک سال پہلے سے دھوم مچی تھی۔ بھارتی سنسر بورڈ نے اسے سکرین کرنے کی اجازت دینے میں کافی مدت صرف کی۔ حالانکہ بھارت سے باہر کئی ممالک میں  یہ فلم دکھائی جا چکی ہے

برقعہ کسی نہ کسی صورت میں کئی معاشروں میں خواتین کے لئے مستعمل ہے لیکن اس فلم میں اسے صرف چہرہ ڈھانپنے یا نقاب کرنے کے معنوں میں استعمال نہیں کیا کیا گیا بلکہ برقعے میں چھپی ، عورت کی خواہشات، خواب اور احساسات کی بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ برقعہ ، اگرچہ زیادہ تر مسلم خواتین استعمال کرتی ہیں تاہم فلم میں برقعے کے استعارے میں  عورت پر جبر  کی بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

فلم کی کہانی، بھوپال کی ایک گنجان آبادی میں رہنے والی چار ہمسایئوں اوشا پارمر(رتنا پاٹھک شا)، ریحانہ عابدی(پلابتا باٹھکور)، شیریں اسلم(کونکون سین شرما) اور لیلا(آہانا کومرہ) کے گرد گھومتی ہے۔ چاروں خواتین زیریں درمیانی طبقے سے تعلق رکھتی ہیں۔

 ریحانہ کالج سٹوڈنٹ ہے اور اپنے درزی ماں باپ کی دوکان پر بھی کام کرتی ہے لیکن انکی خواہش کے بر عکس برقعے کے جبر کے خلاف ہے۔

شیریں اسلم، کسی کمپنی کی مصنوعات  بڑی کامیابی سے سیلز پرسن کے طور پرگھر گھر پھر کر بیچتی ہے ۔ تھکی ہاری گھر پہنچتی ہے تو شوہر کی جبری جنسی جذباتیت  کا شکار ہوتی ہے۔

لیلا، ایک غریب بیوہ کی بیٹی ہے، بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہےلیکن کوئی اور کام کرنا چاہتی ہے اور اپنے منگیتر سے چھپ کر ایک مسلمان لڑکے سے بھی تعلقات رکھتی ہے۔

اوشا کی دنیا رومانی ناول ہیں جن میں وہ ہر وقت کھوئی رہتی ہے۔ اپنے کزنوں اور بھانجوں بھتیجوں کے ساتھ ایک بڑے موروثی گھر میں رہتی ہے۔

اصل زندگی میں ان چار آرٹسٹ خواتین میں دو ہندو ہیں اور دو مسلم اوراسکے علاوہ ایک عیسائی مذہب خاتون بھی ہے۔ غالبا یہ اس لئے ہے کہ اس فلم کی مصنف کریتا شریواستونے بھارت میں بسنے والی دو اکثریتی قوموں کی خواتین کو شامل کر کے کسی بھی قسم کے بنیاد پرستوں کی تنقید سے بچنا چاہا ہے۔

عورت کو درپیش، شوہر کے انتخاب کا جبر، کام کاج کے انتخاب کا جبر، جنسی میل اور بچہ پیدا کرنے کے وقت کے تعین کا جبراس فلم کی تھیم ہیں اور مصنفہ نے ایسے سنجیدہ معاملوں کو بڑے نرم بلکہ مزاحیہ انداز میں چھیڑا ہے۔ فلم کی یہ چاروں خواتین خواہ انکی عمریں اوائل جوانی سے ادھیڑ عمر تک کی ہیں، اپنی موجودہ زندگی سے مطمئن نہیں۔ مایوس ہیں اور بہتر زندگی کی خواہش رکھتی ہیں اور مزے کی بات یہ کہ خود کو اس زندگی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کی حامل بھی سمجھتی ہیں۔ 2016 میں آنیوالی لینا یادیو کی فلم ” پارچڈ” کے بر عکس اس میں کچھ زیادہ انگیخت نہیں ہے۔

اس فلم کی آمد سے پہلے فلم بینوں کے حلقے میں اسکا بہت شور تھا۔ 21 جولائی کو ریلیز ہونے والی اس فلم کو میں نےجیسے تیسے دیکھنے کا بندو بست کر ہی لیا لیکن یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ فلم مجھے کیا بتا رہی ہے۔ آپ بھی ملاحظہ کیجئے:

مسلم لڑکی اپنے برقعے کے نیچے چیزیں چرا کر چھپا سکتی ہے

کسی باریش مسلمان مرد کے لئے اسکی بیٹی کا جینز پہننا شرمناک ہو سکتا ہے

ایک مسلم مرد اپنی بیوی کو صرف بچہ پیدا کرنے کی ایک مشین سمجھتا ہے، جنسی عمل کے دوران مانع حمل تدابیر اختیار کرنا اسکی مردانگی کو ٹھیس پہنچانا ہے اوروہ خود غیر عورتوں سے تعلقات بھی رکھتا ہے

پدر سری نظام کا پروردہ لڑکا شادی سے پہلے جنسی عمل کو ٹھکرا دیتا ہے اسلئے وہ اچھا ہے

ایک اور نوجوان لڑکا زیادہ عمر کی عورت کی جنسی فینٹسی کا شکار ہوتا ہے

اسکے علاوہ کچھ درس ہیں اخلاقیات کے وہ بھی ملاحظہ کیجئے۔گٹار بجانے، تمباکو نوش کرنے والے، انگریزی موسیقی کے دلدادہ نوجوان ازحد نکمے اور نالائق ہوتے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں حصہ نہیں لینا چاھئے کیونکہ پولیس کے گرفتار کر لینے کی صورت میں والدین کو پریشانی اور بدنامی ہوتی ہے۔

ایک کردار کی بات سنئے ” جب عورتوں کے جسمانی اعضا کو لے کر بات ہو رہی تھی تب کیسے میرےآگے پیچھے مرد ہنس رہے تھے اور کیسے اسی سینما حال میں بیٹھی لڑکیاں ایک 55 سالہ عورت کی خود لذتی کا مذاق اڑا رہی تھیں۔”

فلم کے آخر تک مجھے انتظار رہا کہ شاید ابھی یہ عورتیں اٹھیں گی اور مردوں کو دو چار تھپڑ جڑ دیں گی بند کمرے میں تمباکو نوشی آخر کون سی آزادی ء نسواں ہے۔بند کمروں میں تو ہمارے گاوں کی عورتیں بھی جنس پر باتیں کر لیتی ہیں۔ یہ فلم تو شاید تنگ حال ، لوئر مڈل کلاس کا مضحکہ اڑانے کے لئے بنائی گئی ہے کیونکہ اسمیں برقعے کے استعارے میں  چھپے عورت پر جبر سے آزادی کی تو کوئی بات نہیں نظر آئی۔

حیرت ہے کہ اس فلم نے دنیا بھر کے کئی اداروں سے ایوارڈ کیسے حاصل کر لئے۔ یہ سوچنے اور کھوجنے کی بات ہے۔

 

 

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: