گونگے بہرے دیوتا ۔۔۔ صفیہ حیات

گونگے بہرے دیوتا

(صفیہ حیات)

گونگے بہرے دیوتا
خبیث کمینے
لڑکیوں کے بدن نوچتے رہے
رات بھر 
انکے اعضائے مخصوصہ پہ کتا پن سوار رہا
درخت تھر تھر کانپا
برمی لڑکی کی اوڑھنی کھینچی گئی
وحشت زدہ آنکھیں خدا کو ڈھونڈنے لگیں

وہ طواف کے چکر گنتا رہا۔
احرام باندھے 
گناھوں سے روح پاک کرتے ھوئے
کسی کو بھی کان پڑی آواز سنائی نہ دی

لرزتے نسوانی وجود کو 
بارہ کتوں نے نوچا
فالج زدہ زمین کانپ نہ سکی۔
لال آندھی دیوتاؤں کے حکم کی منتظر رہی
برمی بوڑھی عصمت دری کی 
دلدوز چیخیں اکٹھی کرتی رہی
آنسو بہاتی اوڑھنیوں نے
دور دور تک
جسمانی اعضاء کو بکھرے دیکھا

ننھا بچہ 
ھوس زدگی کی شکار 
ماں کا کٹا پستان پیتا رہا
خدا ستائش سمیٹتا رہا
فرشتے رجسٹروں میں 
جانوروں کی قربانی کا اندراج کرتے رھے
اور 
فریادیں نیلی چھتری سے پلٹ آئیں
درخت نے آواز اٹھائی
“سارے دیوتا بہرے ھوچکے ہیں”
لڑکیوں نے چیخ چیخ کر کہا 
” انسان ناپید ھو چکے ہیں” 
سنا ھے۔۔۔۔
بچھے کچھے انسانوں نے اب جنگل میں پناہ لی ھے۔
لڑکیاں خوش ہیں۔
کیونکہ وہاں ریپ نہیں ھوتا۔

 

3 Comments

  1. اک بہت ہی عمدہ کلام
    مینے اسکا پنجابی گورمکھی اور شاہمکھی میں ترجمہ کرکے اس نظم کو Facebook پر پیش کیا تھا

Share your Thoughts: