Day: February 16, 2019

نیلی نوٹ بک ۔۔۔ انور سجاد

February 16, 2019

نیلی نوٹ بُک ( عمانویل کزا کیویچ )  مترجم: ( ڈاکٹر انور سجاد ) عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں کا پہلا مجموعہ ” ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف کروایا۔ بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی […]

Read More

نئی دنیا کی تلاش ۔۔۔ انوار احمد

February 16, 2019

نئی دنیا کی تلاش ( انوار احمد ) بچپن ہی سے اسے شوق تھا کہ وہ بھی کولمبس کی طرح ایک نئی دنیا کا سراغ لگائے۔ اسی لیے جب جغرافیے کی ٹیچر نے  اسے گلوب، نقشوں اور سلایئڈوں کے ذریعے دنیا دکھانے کے بعد پوچھا، ” کوئی سوال ؟ ” تو وہ اپنی نشست سے […]

Read More

بے عنوان ۔۔۔ خلیل احمد

February 16, 2019

بے عنوان ( خلیل احمد ) ہن گڈی لین دا کوئی فائدہ نہیں اوہ چونک وچ کھلوتا سوچ رہیا سی۔ پرلے پاسے دا اشارہ بند سی تاہیوں ایس پاسے سڑک خالی پئی سی۔ اشارہ کھلیا تاں پہلوں موٹر سیکلاں دا ہڑ اوہدے سامنے رُڑن لگا جیویں ریس لگی ہووے، فیر گڈیاں ای گڈیاں۔ ہن تے […]

Read More

سُرخ گلابوں کے موسم میں ۔۔۔ راشد جاوید احمد

February 16, 2019

سرخ گلابوں کے موسم میں ( راشد جاوید احمد ) وہ گذشتہ کئی روز سے سینے میں شدید تکلیف اور جکڑن کی بنا پر اسپتال کے بستر پر پڑی ہے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ مجھے چند روز کی چھٹی مل جائے اور میں اس کی دیکھ بھال کر سکوں لیکن ایسا ہو نہ […]

Read More

مُرغ بسمل کی مانند شب تلملائی ۔۔۔ فیض احمد فیض

February 16, 2019

نظم ( فیض احمد فیض ) ​ مرغِ بسمل کی مانند شب تلملائی​ افق تا افق​ صبح کی پہلی کرن جگمگائی​ تو تاریک آنکھوں سے بوسیدہ پردے ہٹائے گئے​ دل جلائے گئے​ طبق در طبق​ آسمانوں کے در​ یوں کھلے ہفت افلاک آئینہ سا ہو گئے​ شرق تا غرب سب قید خانوں کے در​ آج […]

Read More

غزل ۔۔۔ شہناز پروین سحر

February 16, 2019

سرخ گلابوں کے موسم میں ( شہناز پروین سحر ) میرے سپنوں میں بوئے تھے تم نے جو شرمیلے پھول آج وہ چہرے پر کھل آئے بن سرسوں کے پیلے پھول سرخ گلابوں کے موسم میں میری آنکھیں گم سم ہیں میرے بالوں میں سجتے ہیں تنہائی کے پیلے پھول تم نے سب کو چھوڑ […]

Read More

ایک لمحہ کافی ہے ۔۔۔ حسین عابد

February 16, 2019

ایک لمحہ کافی ہے ( حسین عابد ) کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی ہنسی پر ٹھٹھکتے محبوب آنکھوں میں جھانکتے پکی خوشبو اور معصوم آوازوں کے شور میں بدن سے دن کی مشقت دھوتے یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی ندی کے ساتھ چلتے جس کے کناروں کی گھاس پانی میں ڈوب رہی […]

Read More

سانہوں مُڑ جھولی وچ پا مائے ۔۔۔ نجم الحسنین حیدر

February 16, 2019

سانہوں مُڑ جھولی وچ پا مائے ( نجم الحسنین حیدر ) اساں جندڑی پیتی، ہار گئے سانہوں ساک یزیدی مار گئے ساڈے موسم زہری ہو گئے نی ساڈے پنڈے، بستی ناگاں دی ساڈی روح سڑکاں وچکار پھسی سانہوں سُرت رہی نہ راگاں دی تاھیوں ٹنگدی پھرے ہوا مائے سانہوں مُڑ جھولی وچ پا مائے اساں […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: