Day: March 9, 2019

One Hundred Years of Solitude … Garcia Marquez

March 9, 2019

GABRIEL GARCIA MARQUEZ was born in Aracataca, Colombia in 1928, but he lived most of his life in Mexico and Europe. He attended the University of Bogota and later worked as staff reporter and film critic for the Colombian newspaper El Espectador. In addition to ONE HUNDRED YEARS OF SOLITUDE, he has also written two […]

Read More

سوچ پہ بیٹھی مکھی ۔۔۔ مظہر ا لاسلام

March 9, 2019

سوچ پہ بیٹھی مکھی ( مظہر ا لاسلام ) کچھ دن پہلے ایک مکھی الماری میں بند ہو گئی تھی۔ یہ الماری کچھ زیادہ بڑی بھی نہیں تھی لیکن اس کے دوحصے ہین، ایک میں کپڑے لٹکے رہتے ہیں اور دوسرے حصے میں چھوٹے چھؤتے تین خانے ہیں جن میں سے ایک خانے میں دوایئاں […]

Read More

درد بھچال دا انھا عذاب ۔۔۔ غلام دستگیر ربانی

March 9, 2019

درد بھچال دا انھا عذاب ( غلام دستگیر ربانی ) چٹی سویر دی چادر تھلے لُکی عیباں بھری کالکھ وچ سبھے راز تے ساریاں رمزاں گواچ گیئاں نیں تے دن دے گورے ہتھ اوہدے گھر دا بوہا کھڑکاندے نیں۔ نویں پھٹ سہن لئی ۔۔۔۔۔۔ نویں دکھ لین لئی ۔۔۔۔۔ گھر توں باہر دی دنیا وچ […]

Read More

نصیحت ۔۔۔ چترا منگل

March 9, 2019

نصیحت ( چترا منگل ) ایک بچے کی گڑگڑاہٹ نے خاموشی  توڑ دی، “”صبح  سے بھوکا ہے میم صاب۔ ایک دس پیسہ پیٹ کے واسطے……  بال بچہ سکھی رہے گا……”” رسالے سے نظریں ہٹا کر اس بچے کو دیکھا۔ خاصا تندرست بچہ لگا وہ مجھے۔ عادتاً نصیحت ٹکا دی، “”جاؤ، جاکر کہیں کام۔۔دھام کرو۔ اتنے […]

Read More

ہوا بے خبر ہے ۔۔۔ اصغر ندیم سیـد

March 9, 2019

ہوا بے خبر ہے (آصغر ندیم سیـد ) ہوا بے خبر ہے یہاں جو ہوا ہے یہ اپنے تسلسل میں چلتی ہے دل میں اترتی ہے اور بے خبر ہے کتابوں کے صفحے الٹی ہے خالی مکانوں سے نفرت بھری نیتوں سے گزرتی ہے افسردہ بچوں کی خواہش سے، سرما کے بادل سے بے مہر […]

Read More

کچی نیند میں ۔۔۔ شہناز پروین سحر

March 9, 2019

کچی نیند میں ( شہناز پروین سحر ) اک مورت سانسیں لیتی ہے  وہ جیتی ہے اور جاگتی ہے جب لمس کیا ، معلوم ہوا اپنا ہی چہرہ مہرہ ہے ، اپنی ہی بانہیں ، اور یہ اپنے خالی ہاتھ پھر یکدم اک احساس ہوا سب کچھ مٹی ہی ہو نا ہے جو آج ہے […]

Read More

نظم ۔۔۔ عذرا عباس

March 9, 2019

نظم ( عذرا عباس ) ہر دن میں تمہارے اور اپنے درمیان ایک اینٹ رکھ دیتی ہوں اینٹ کے اوپر دوسری اینٹ میرے پاس بجری اور سیمنٹ نہیں ارادہ بھی نہیں بس اینٹیں ہیں میں اینٹیں تلے اوپر رکھتی جاتی ہوں تم مجھ سے ذرا دور ایک کرسی پر بیٹھے ہو صبح کی دھوپ سے […]

Read More

غزل ۔۔۔ پرویز ہاشمی

March 9, 2019

غزل (پرویز ہاشمی ) اپنے ہنر کمال بس انج ای ضائع ہو گئے عمر دے کنے سال بس انج ای ضائع ہو گئے ویلے دے سُر تال بس انج ای ضائع ہو گئے تیرے ہجر وصال بس انج ای ضائع ہو گئے سِکھیا ناں کوئی سبق ای پچھلیاں بھلاں توں دل تے آئے زوال بس […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: