بھٹکتی رہے گی ہوا مدتوں ۔۔۔ عباس اطہر

Syed Abbass Ather was well known columnist and used to write his columns under title of ‘Kankrian’ in leading newspaper of the country.
The veteran journalist in 1970 through his headline in a newspaper “Idhar hum udhar tum” got popularity and was also awarded pride of performance for his services for journalism

بھٹکتی رہے گی ہوا مدتوں

( عباس اطہر )

ہواوں میں سورج کی حلت گھلے

صبح سے شام تک آگ برسے

سڑک کے کناروں پہ بھوکی نگاہوں کے انبار

جب دس بجیں

ساری بستی اجڑ جائے

چاروں طرف سیٹیاں بج اٹھیں

میلے کپڑے مصیبت بنیں

صبح گھر سے نکلتے ہی چمکیلے بوٹوں پہ مٹی کی تہہ جم گئی

اور میں نے بھی سوچا:

وہ سچا تھا

وہ جس نے خواہش کے پردے ہٹا کر نہ دیکھا

کہ ماں اتنی بوڑھی ہے

شاید میری چاپ پھر سن نہ پائے

مجھے رات کے وقت پیڑوں کے نیچے

وہ کب تک ستائے گا

میں ریت ہوں

نقش بنتے بگڑتے رہیں گے

ہوا تیز ہے

نیلگوں پانیوں کے پرے

وہ اکیلا نہیں

ان گنت ہیں

ہزاروں گئے

ساتھ اس شہر کے جانے والوں کے دامن پکڑنے کی رسمیں گیئں

جانے والوں کا غم آنے والوں کی خواہش میں گم ہو گیا

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.