آخری بارش ۔۔۔ ابرار احمد

WEEKLY PENSLIPS MAGAZINE ISSUE # 100

 

آخری بارش

( ابرار احمد )

ایک محبت کے باطن میں

کتنے جذبے ہمک رہے ہیں

ایک چمکتے مکھ میں

کتنے چاند ستارے دمک رہے ہیں

جاگنے کی ساعت کے اندر

کتنی صدیاں سوئ ہوئی ہیں

دلوں میں اور دروازوں میں

کہیں ابھی موجود ہیں شاید

رستہ تکتی

جھکی ہوئی بیلیں اور بارش

جہاں سے کوئی مہک پرانی

میری مٹی اڑا رہی ہے

تیرے کپڑے پکڑ رہی ہے

جتنے اشک تھے لہو کے اندر

اتنے پھول کھلا آیا ہوں

جن ہونٹوں پر چہکا ، ان پر

چپ کی مہر لگا آیا ہوں

جتنے خواب بھرے تھے میری نیندوں میں

اتنی تعبیروں کے پیچھے بھاگ چکا

ایک نوع کے آنسو ، آنکھ سے گر جاتے ہیں

اور طرح کے بھر جاتے ہیں

رستوں کے اندر رستے ہیں

سفر کے اندر سفر چھپے ہیں

بادلوں کے اندر بادل ہیں

چھینٹوں کے اندر چھینٹے ہیں

بارش تو گرتی ہی رہے گی

دنیا تو بستی ہی رہے گی

جو بھی چلتا ہے بارش میں

جو بھی گھومتا ہے بستی میں

کھو جاتا ہے

کھو جاۓ گا

عمر کی بھی سرحد ہوتی ہے

رقص کی بھی اک حد ہوتی ہے

چلیے… اب میں بھی تیار ہوں

تھم جانے کو

کسی مہکتی مٹی میں

گھل مل جانے کو ….!

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: