سبھی تو مصروف ہیں ۔۔۔ ابڑو خدا بخش

Khuda Bux Abro  is working as an Illustrator in daily Dawn, Karachi. . His works reflect an earnest passion for social issues, and he portrays these issues effectively.  Abro has dabbled in every form of the visual arts. An activist to the core, his poems carry social themes and issues ranging from human rights to dictatorial regimes.

 

سبھی تو مصروف ہیں

(خدا بخش ابڑو)

 

سب ہی تو مصروف ہیں

سب ہی تو مصروف ہیں
اپنے آپ میں مصروف
کچھ کر بھی رہے ہیں کہ نہیں
لیکن مصروف تو ہیں
کسی کی آنکھیں
کمپیوٹر کی اسکرین پہ گڑی ہیں
تو کوئی موبائل فون میں کھویا ہوا ہے
جو جہاں بھی موجود ہے
وہاں موجود ہی نہیں
گھر، دفتر، کار، لفٹ ہو یا سڑک
دن ہو کہ رات
سورج ڈھل رہا ہو یا نکل رہا ہو
وقت کی قید سے تو پہلے ہی نکل چکے
مجازی دنیا کے باسیوں کے لیے
چھونے کے لیے بھی ٹچ اسکرین ہے
سننے کے لیے بیپ کی آواز
اور چکھنے اور سونگھنے کا بھی
کوئی نعم البدل آہی جائے گا
ویسے بھی مجازی دنیا کے باسیوں کا
خوشبو اور بدبو سے کیا لینا دینا
ذائقے بھی مجازی ہوجائینگے
پیسے تو مجازی ہو ہی چکے
اب احساس بھی مجازی ہونے لگے ہیں
خوشی غم غصے یا رونے ہنسنے کی کیا ضرورت ہے
بنے بنائے اسٹیکر ایک دوسرے کو بھیج کر
اظہار ہو ہی جاتا ہے
اور ویسے بھی اتنی مصروفیت میں
کس کو رونے دھونے کی فرصت ہے۔
تعزیت کرنی ہو یا مبارک دینی ہو
ایک ہی لمحے میں دونوں کام کیے جاسکتے ہیں
انقلاب، تبدیلی، دعائیں اور بخشش
سب مجازی دنیا میں ممکن ہے
اپنی آنکھوں سے دیکھنے، سننے، چھونے 
اور محسوس کرنے کی اب فرصت کہاں

Be the first to comment

Share your Thoughts: