تجھے ہم ولی سمجھتے ۔۔۔۔ احمد بشیر

Ahmad Bashir was a writer, journalist, intellectual and film director from Pakistan.

Akbar, The great Mughal is his famous book and Neela Parbat is his best movie.

.

شہاب نامہ کی حقیقت

تجھے ہم ولی سمجھتے

( احمد بشیر )

شہاب نامہ مجھے پسند نہیں آیا اگرچہ رپورٹ پٹواری مفصل ہے

میں کتاب کی گرفت کی بات نہیں کرتا یہی اس کی خرابی ہے شروع کرے تو چھوڑ نہیں سکتا میں شہاب کی بات کرتا ہوں اس نے کتاب نہیں لکھی بیان صفائی مرتب کیا مگر ملزم مجھے باعزت بری ہوتا نظر نہیں آتا

انتقال سے کچھ دن پہلے وہ میرے گھر آیا تھا

“صحت  ٹھیک ہے بوجھ دل پر ہے اسی لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں آپ سے کچھ کہنا ہے”

شہاب بالعموم ذاتی احساسات کا ذکر نہیں کرتا تھا۔ مجھے اس کی شکست کی جھنکار سن کر کسی قدر خدمت ہوئی

مگر آپ کا کیا قصور کس بات کی ندامت آپ کو جینے نہیں دیتی ؟

میں نے اسے تسلی دینے اور اس کا احساس گناہ مٹانے کی کوشش کی مگر شرمندگی کے جس جذبے میں وہ جکڑا ہوا تھا اس میں میری آوازاس تک نہ پہنچ سکی وہ میرے بے تاثیر لفظوں سے محظوظ ہو کر منمنایا۔ قوم ذلت کی جس انتہا کو پہنچ چکی ہے اس کی کچھ ذمہ داری ذاتی طور پر مجھ پر بھی آتی ہے۔ میں نے ایوب خاں کی خدمت اپنی سرکاری ڈیوٹی سے بہت آگے بڑھ کر انجام دی۔ میں نے اسے اس کی پسند کے مشورے دیے اور بعض فیصلوں میں شریک رہا جن کی بدولت ڈکٹیٹرشپ جڑ پکڑ گئی اور قوم کا ہر فرد ذلیل و خوار ہوا ۔اخلاق تبدیل ہوگئے اقدار بگڑ گئیں۔ معاشرہ نفسا نفسی کا شکار ہوگیا۔ اور آگے بھی ذلت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ اس رذالت میں میرا جو حصہ ہے میں اسکی وجہ سے سخت ندامت میں مبتلا ہوں۔ مگر اب کچھ ہو نہیں سکتا

میں نے کہا آپ کو اگر ندامت کا احساس ہے تو قوم کے سامنے کھل کر اعتراف گناہ کریں اور معافی مانگیں۔ اس وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ” شہاب نامہ” کا دیباچہ بھی لکھ چکا ہے

وہ روہانسا ہوکر بولا اعتراف گناہ اور اقبال جرم میں، میں نے پوری پستک لکھ ڈالی،اور اس کا نام شہاب نامہ بھی اسی لیے رکھا۔ یہ میرا ہی کچاچٹھا ہے مگر کتاب لکھ کر بھی مجھے سکون قلب میسر نہیں۔ خجالت کا بوجھ میری روح کو کچل رہا ہے۔ اچھا اب اجازت۔

وہ فورا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ مجھے کوئی پیغام دینے آیا تھا ؟ وہ تو اپنا بوجھ ہلکا کرنے آیا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ شہاب نامہ اسے بھی پسند نہیں آئی تھی اس کا وہ حصہ جس میں اس نے ایوب خان کی دبی دبی تعریف کی اور پھر اپنی بعض ناقابل قبول وضاحت سے صفحے کالے کیے

مگر اسکے پھسپھسے بیان سے جس کی تصویر ابھرتی ہے، وہ صبح کو صف نعال ہےتو شام کو خسروء شام۔ فقیر اور آئی سی ایس کا دوآتشہ حلق سے اترتا تو چھالے پڑجاتے ہیں۔

شہاب نامہ ایک سچی کتاب ہے مگر شہاب نے اس میں سارا سچ نہیں بول دیا جیسے روسو نے بولا تھا۔

شہاب ایسا جری شخص میاں افتخار الدین کے پاکستان ٹائمز اور امروز وغیرہ پر قبضہ اپنے عمل کے بارے میں ایسی پھسپھسی بات کرے،جیسی کہ اس نے کی،تو اس پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے اور جو لوگ کسی طور پر اسے معاف کرنے پر تیار نہیں وہ سچے ہیں۔

شہاب لکھتا ہے پاکستان ٹائمز کا اگلا شمارہ پریس میں جانے کے لئے تیار ہوا تو  ایڈیٹوریل کسی نے نہ لکھا تھا۔ جنرل شیخ اور برگیڈیئر ایف آر خان ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے کہ آج کا ایڈیٹوریل لکھ دو۔ مجھے اس میں کلام تھ۔ا۔ صحافت کا عملی تجربہ نہیں ہے نہ اداریہ سپرد قلم کرنے کا ۔اس کے علاوہ مجھے تو ابھی تک یہ علم بھی نہ تھا کہ اس اخبار کو حکومت کے قبضے میں لینے کے لئے کیا کیا محرکات تھے اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ وہ کیا الزامات تھے جن کی پاداش میں سرکار نے اتنا شدید اور غیر معمولی قدم اٹھایا ہے۔ اس لاعلمی کی وجہ سے میں کوئی پر معنی اور معقول اداریہ لکھنے سے قاصر تھا لیکن برگیڈئیر ایف آر خان بھی انتہائی ضدی اور اڑیل ذات شریف ہے وہ اپنے اصرار پر اڑے رہے اور آخر مجبور ہوکر جنرل شیخ کے بتائے ہوئے خطوط پر وہیں کھڑے کھڑے بے دلی سے ایک مختصر سا اداریہ گھسیٹ دیا جو نیو لیف کے عنوان سے پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا۔

یہ تحریر کسی صورت بھی میرے لئے باعث سے فخر و مباہات نہیں۔ بلکہ دراصل یہ نا معقولیت اور کج فہمی کے اس پھندے کی عکاسی کرتی ہے جو ایک سرکاری ملازم کو بسا اوقات اپنی مجبوریوں کے دباؤ میں آکر خواہی نہ خواہی اپنے گلے میں ڈالنا پڑتا ہے۔

شہاب یہاں  جتنا بودا اور فضول آدمی نظر آتا ہے، اسکی کہیں مثال نہ ملے گی۔ بھلے آدمی اگر تم مان لیتے کہ پروگریسو پیپرز کے تم دل سے خلاف بھی تھے، کیونکہ وہ سوشلزم کا دم بھرتے تھے اور بین الاقوامی امور میں کیمونسٹ ممالک خاص طور پر سوویت یونین کی حمایت کرتے تھے، جو ذاتی طور پر تمہیں ناگوار گزرتی تھی۔ جیسا کہ پرانے نوآبادیاتی مغربی نظام کے حاجی کہتے چلے آئے ہیں کمیونزم  کا خدا اور مذہب کی دشمنی کے سوا اور کوئی کام نہیں اور تم بھی یہی سمجھتے تھے۔

سوشلزم جب سرمایہ داری پر حملہ کرتا ہےتو دراصل وہ الحاد پھیلتا ہے۔ اور تم نے جو کچھ جنرل شیخ کے بتائے ہوئے خطوط پر اداریہ لکھ کردیا اس میں تمہاری اپنی آگاہی بھی شامل تھی۔ اگر یہ سب کچھ مان جاتے  تو تمہاراکچھ بھی نہ بگڑتا۔ جب تم آخری مرتبہ میرے گھر آئے تو محض ملنے کے لئے نہیں آئے تھے۔تمہارے ضمیر کا فرنگی کوڑے مارتا ہوا تمہیں پکڑ کر لایا تھا۔ گو،تم نے اقبال جرم بھی کھلے دل سے نہ کیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ دم آخر تمہارے دل میں کون کون سے کانٹے چبھے رہ گئے۔ مگر ایک کانٹا یقیننا پروگریسو پیپرز لیمیٹڈ کا بھی تھا۔

میں اس قابل نہیں کہ کسی کے لیے دعا کر سکوں مگرمیں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی تمہاری روح کو سکون عطا کرے کیونکہ تم بنیادی طور پر ایک انکسار پسند تنہا اور نیک شخص تھے۔ اور تم نے بے شمار لوگوں کو جن میں بعض نااہل اور بے ایمان بھی تھے، کسی ذاتی لالچ کے بغیر فائدہ پہنچایا۔ یہ ایسا کوئی جرم نہیں جو کسی سی ایس بی نے نہ کیا ہو اور تم اپنے تمام تر عجزوانکسار کے باوجود سی ایس پی بھی تھے۔ تم جب اس کیچڑ میں پوری طرح لتھڑ گئے تو اسے پسند بھی کرنے لگے۔ کیونکہ، جیسا کہ تم نے شہاب نامہ میں لکھا ہے” حسب ضرورت ” دنیا کو بھی ہاتھ میں رکھنا چاہیے۔ اگرچہ متعین نہیں کیا حسب ضرورت کی حد کہاں تک ہے۔

شہاب دنیاداری کے بھید خوب جانتا تھا اور جب ضروری سمجھتا تو جھوٹ بھی بول لیتا تھا۔

مجھے اس کے شروع کے روزوشب کا علم نہیں میں نے اسے قریب سے دیکھا تو وہ سرکاری نوکری کا تت نکال کر مزے میں بیٹھا تھا۔ وہ مجھے کہتا کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، فقط فائل بھرنی چاہیے۔

شہاب کے مشہور پنج یاروں یا پیاروں میں ابن انشاء ،ممتازمفتی، جمیل الدین عالی، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ شامل ہیں۔ انجمن ستائش باہمی کی مشہور ترکیب انہی شخصیات اور ان کی کارروائیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے وضع کی گئی تھی اوراس انجمن کا ماٹو تھا  “تو میرا سہارا ہے، میں تیرا سہارا ہوں” یہی شہاب کے لوقا، یوحنا، پطرس اور متی ہیں اور جو حدیث وہ بیان کریں گے وہی انجیل ہوگی۔

شہاب کو اس بات کی بھی پرواہ نہیں تھی کہ کون حکومت کو کتنا لوٹ رہا ہے۔  اس کے خیال میں حکومت خود لٹیری تھی۔ جس نے ریاست بھی لوٹ کر گھر میں ڈال لی تھی۔ اس لئے اگر اس کا کوئی دوست لوٹ لیتا ، بشرطیکہ حسب حیثیت  لوٹتا تو وہ برا نہیں مانتا تھا اور جو نہیں لوٹتا تھا اسکے نہیں کہتا تھا کہ دیکھو بچارا کتنا ایمان دار آدمی ہے

پیر اور مرید کا رابطہ  ( شہاب نامہ میں ) انگریزی زبان میں خطوں کے ذریعہ ہوتا تھا۔جو کبھی کتابوں کی الماری میں سے نکل آتےکبھی چھت میں سے ٹپک پڑتے  تھے مگر شہاب کو ان میں سے کسی کے محفوظ کرنے کی اجازت نہ ملی۔ اس داستان سرائی پر کیا کہیے۔  ہےکوئی ماننے والی بات ؟

اسلام آباد کے جس قبرستان می وہ دفن ھوا اس کے دو سیکٹر ہیں۔ ایک سیکٹر میں عوام الناس یعنی ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے سے کم کے لوگ دفن ہوتے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق اس پر سیکشن افسر اتنے ناراض ہیں کہ وہ تو مرنا ہی نہیں چاہتے کہ کلر کوں اور چپڑاسیوں کا اسٹیٹس قبول کرنا پڑے گا۔ دوسرا سیکٹر ڈپٹی سیکٹری سے اوپر کے افسروں کا ہے جس کا نام بھی وی آئی پی سیکشن ہے۔ ظالموں نے شہاب کو اس سیکٹر میں دفن کردیا حالاں کہ اس میں وی آئی پی والی کوئی بات نہ تھی۔

وہ وی آئی بی سیکٹر میں دفن ہوا ہے، جہاں  اس کا مزار بھی نہیں بن سکا کیونکہ وہاں قبروں کے پلاٹ بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ اس کے آس پاس جو لوگ دفن ہیں سب کے سب وی آئی پی ہیں۔اور بعض کے کتبوں پر تو یہ بھی لکھا ہے کہ مرنے والے نے نیویارک یا ٹوکیو میں موت قبول کی۔اس اسٹیٹس کے لوگ مر کر بھی یہ کیسے گوارا کر سکتے ہیں کہ ایک وی آئی پی جو  پاکستان ہی میں مرا ہو ان کے پہلو میں پڑا صاحب مرقد وعلم کہلائے، اس کا عرس منایا جائے اس پر چڑھاوے چڑھیں اور حال کھیلے جائیں۔ قبرستان کے  وی آئی پی سیکٹر میں، جس میں شہاب دفن ہوا، دل بھی تنگ ہیں اور زمین بھی۔

احمد بشیر کی کتاب” ملے تھے راستے میں” سے اقتباس “

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: