کولاج ۔۔۔ احمد داود

کولاج

( احمد داود )

سورج کی راہ میں گلیشئر آ گیا تھا۔

دھوپ دھندلائی سی فضا میں رستہ بناتی ، زمین تک آتے آتے تھک گئی ہے۔

ہجوم خالی ہاتھ ، بھری آنکھیں لئے واپس ہوئے۔

تماشہ ختم ہونے کو تھا۔

چھتوں ، بازاروں، چوراہے کے ہجوم  ۔۔۔۔۔۔ لوگ جا رہے تھے۔

فلیش گنوں کی چکا چوند کے بعد ایجنسیز کے ٹیلی پرنٹر کھڑک رہے ہیں۔

خبر بنے گی ــــــــــــــ اخبار بکے گا

” لیکن ہمارے لئے نہیں کہ ہمارے سامنے ہی تو وہ درخت پر چڑھا تھا۔ “

” میں تمہارے لیے لکڑیاں کاٹنے جا رہا ہوں۔ “

” اچھا ـــــــــــ !! “

” نیچے کھڑے رہنا۔   یار بڑی ٹھنڈ ہے”

” اندھیرا بھی ہے “

سورج کی راہ میں گلیشئر آ گیا ہے

درانتی دانتوں میں دبائے، تنے سے بھڑتا، اوپر شاخوں کے پاس چلا گیا۔ سڑک پر چلتے لوگوں نے اسے دیکھا اور چلتے رہے۔

نیون سائن جلتے بجھتے رہے۔ ہوٹلوں اور دفاتر کے اندر بجلی کے میٹر سرخ ہوتے رہے کہ گیارہ ہزار وولٹیج اس علاقے کے لیے وقف تھے۔

” گیارہ ہزار وولٹیج ؟ “

” ہاں تم نے دیکھا نہیں، کیسے اسکا بدن چمک رہا تھا۔ “

” مرکری بلب کی طرح “

دانتوں سے درانتی نکال کر اس نے ٹہنی پر رندہ آزمایا۔ ہم اپنے ٹھٹھرے بدن لیے اوپر تکتے رہے۔

درخت کے اوپر یہاں چیل کا گھونسلہ تھا۔ انڈہ پڑا تھا

پچھلے سال سورج سوا نیزے پر آ گیا تھا۔

” اف۔ اللہ۔ اتنی گرمی۔ چیل انڈہ چھوڑ گئی ہے “

” ہمارے ہاں ہر موسم شدید ہوتا ہے۔ “

” یار ـــــــــــــ کتنی سردی ہے “

” صبر کرو، ابھی وہ لکڑیاں پھینکے گا اور آگ۔۔۔”

” آگ” ۔۔۔۔۔۔ ہم سب کے منہ سے نکلا

” آگ جنت ہے “

اس نے مسکرا کے ہمیں دیکھا اور ایک ٹہنی پر کہنی ٹکائی۔ دایئں طرف چند سوکھی  شاخین کہ پتے گئے سال سوا نیزے کی نذر ہو گئے تھے۔ گیارہ ہزار وولٹیج کی طرف جھکی ہوئی تھیں۔

” یخ موسم اور بجھے چہرے۔ سورج کی راہ میں گلیشئر والی خبر ہی ٹھیک لگتی ہے۔ “

” اوپر دیکھو ۔ وہ شاخیں کاٹ رہا ہے۔ “

” شاخیں یا برف “

” ایک ہی بات ہے۔ اصل چیز تو کرنوں کی راہ بنانا ہے۔ “

” ہم اپنی آگ میں کسی کو شریک نہیں کریں گے “

” با لکل   بالکل “

” لوگ بھی تو ہمیں اپنی راحت میں شریک نہیں کرتے “

لوگ چاروں طرف سے گزرتے رہے اور کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ، ہاتھوں سے منہ کو سیک دیتے، بغلوں میں پنجے دبائے،حرارت کی جستجو کرتے لوگ ــــــــ اوپر سے گرتی۔ کٹی شاخوں سے گزرتے رہے

ہم نے ٹہنیاں اکٹھی کیں۔۔۔۔۔۔ چقماق سے شعلہ پیدا کیا۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر گیارہ ہزار وولٹیج کی تاروں کے پاس اسنے گزرتی ایک ٹہنی کو اپنی طرف کیا ــــــــــــ سارے علاقے کی بجلی چلی گئی۔ سارے لوگ ہماری طرح کے ہو گئے۔

ہم نے ہنگامی نمبر ملائے

ادھر سے جواب نہ ملا

لال رنگ کی گاڑیاں گھنٹیاں بجاتیں کہیں اور ہی جا رہی تھیں۔

ہم نے واویلا کیا، لوگوں نے کرتب جانا

تماشہ دیکھنے، چھتوں، بازاروں، چوراہوں پہ لوگ جمع ہوئے۔

پریس، فوٹو گرافرز، کیمرے، سودی، نیوز ایجنسیز۔ سوال جوابات

” جی ہاں وہ ہم میں سے تھا۔”

؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

ہوٹلوں کی میزیں خالی ہو گیئں۔ دفاتر کے میٹر ٹھنڈے پڑ گئے۔

اس کے بدن میں گیارہ ہزار وولٹیج روشن ہو گئے۔

” اسے اتار دو۔ کیا کہہ رہا ہے یار ؟

اسنے سردی میں بجلی فیل کرادی۔

ہم نے خطرے کے مارے نمبر ملائے

” یہ اوپر کیسے پہنچ گیا ؟؟ “

” دیکھو تو کیسے لٹک رہا ہے ؟؟”

وہ ہمارے سامنے اوپر گیا تھا۔ تن تنہا۔ اور ہم نے اسے اتارا تھا۔

” کیا مقام پایا ہے”

” آدمی کا اصل مقام تو قبر ہے۔ دعائے خیر کرو۔”

” یار اسے ٹھنڈ لگ رہی ہوگی”

” کہاں ؟ ‘

” زمین کے اندر  ـــــــ”

” اس کا ذکرنہ کرو۔ بس ہاتھ تاپو ـــــــــــ”

اس کی کاٹی ہوئی لکڑیوں کی آگ کے گرد بیٹھے ہم ہاتھ تاپتے ہیں۔ “

سورج کی راہ میں اٹکا گلیشئئر سرک رہا ہے۔

” ہم ہاتھ تاپتے تاپتے اوپر بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جہاں اس کا بدن مرکری بلب کی طرح ہےَ۔”

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.