کہے فقیر، سنے فقیر ۔۔۔ علی زیرک

کہے فقیر سنے فقیر

( علی زیرک )

“یار شاہ حسین! آج کل کے عاشق بغلوں میں ہاتھ دبا کر باغیچوں میں کیوں گھومتے رہتے ہیں ؟کیا انہیں یقین ہے کہ جب یہ اپنے ہاتھ بغلوں سے نکالیں گے تو وہ سورج کی طرح چمک اٹھیں گے؟”
شاہ حسین کا ماتھا ٹھنکا اور اس نے پوری قوت سے بلھے شاہ کے کندھوں کو جھٹکا دیا اور کہا :
“دیکھو میرے پیارے بلھے! اگرتم رنگوں میں تمیز کرنا بھول چکے ہو تو یہ سہولت تمہاری خود ساختہ ہے جو تم سورج کو ماتھے کی بجائے بغلوں کی بھینٹ چڑھا رہے ہو۔ ٹھنڈے سانس لیا کرو اور پازیب کی جھنکار بجھنے سے پہلے دیا جلا لیا کرو ورنہ رات کا اندھیرا تمہارے سر کی چاندی پگھلا کر پی جائے گا اور پھر تمہارے پاس بھٹکنے اور دیوانگی کا نعرہ لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔”
“ارے مرے دوست !میں واقعی سچ کہہ رہا ہوں تم نے شاید موسی کو طور پر خدا سے کلام کرتے ہوئے نہیں دیکھا ورنہ تمہاری آنکھیں بھی رنگوں میں تمیزکی صلاحیت کھوبیٹھتیں۔” بلھے کا لہجہ اس بار پراعتماد تھا جیسے وہ واقعی اپنی آنکھوں کے سرمے کی تاثیر محسوس کرچکاتھا۔
“کیاریوں میں کھلنے والے پھول کی خوشبو اور درخت کے تنے کا سینہ پھاڑ کر نکلنے والی گوند میں کچھ زیادہ فرق نہیں تم بس ان دونوں کا درست استعمال کیا کرو باقی سائیں کے ہاتھ ہے کہ وہ گوند کو خوشبو کردے اور خوشبو کو گوند میں بدل دے۔”
بلھے شاہ بے نیازی کی لے پر جھوم رہا تھا جب غلام فرید نے خانقاہ کے چبوترے پر دانہ چگتے لقے کبوتروں کو گھور کر دیکھا اورچیل کووں کی تعریف کرنا شروع کردی ۔ 
“کچھ دن پہلے میاں محمد بخش کہہ رہا تھا کہ عشق زمین پر اپنی طبعی عمر پوری کرچکا ہے لہذا اب کسی کو عاشق کہنا شرک سے بھی بڑا گناہ تصور کیا جائے گا ۔۔۔اور جھیل پر اترنے والی ہر ایک پری کو اس کے وزن کے برابر بھاری پتھر سے باندھ کر پہاڑ کی دوسری جانب گہرے،تیزابی دریا میں پھینک دیا جائے گا ۔”غلام فرید نے محمد بخش کی غیر موجودگی میں اس کی موجودگی کی خبر دیتے ہوئے انکشاف کیا۔
“چل محمد بخشا! تیرا قصہ بھی تمام “
بلھے شاہ نے بے نیازی سے کہا
بلھے کی آنکھوں میں جلال ہی جلال تھا اور شاہ حسین نے پہلی بار محمد بخش کی باتوں کو اہمیت دیتے ہوئے کہا:
“غلام فرید!زمین پر اصل مسئلہ عاشق نہیں بلکہ عاشق ہونے کے دعوے کی گرہ کھولنا ہے ۔اب دیکھو اتنی خانقاہوں سے اٹھنے والی ہو اللہ ہو کی صداوءں میں سے ایک بھی خدا تک نہیں پہنچ رہی ۔”
“لیکن وارث کی شاید تم تک خبر نہیں پہنچی شاہ حسین! ۔۔۔وہ بھاگ پری کی تلاش میں ملکہ ہنس کی طرف نکلا تھا لیکن راستے میں بیلے کے ہرے کچور حسن پر فریفتہ ہوگیااوراب اسے ہرا ہی ہرا دکھائی دیتا ہے۔”
بلھے نے اپنے دوست وارث شاہ کا حوالہ دیا تو شاہ حسین نے بگڑ کر کہا:
“ہرا تو غلام فرید کو بھی دکھائی دیتا ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ فقر اپنی آنکھوں پر تکیہ کر لے ۔”
جب وہ مشترکہ خانقاہ کی عقبی دیوار کی عین سیدھ میں مغرب کی طرف رینگتی ہوئی ٹیڑھی پگڈنڈیوں کی طرف سو سو بل کھاتی ہوئی لامبی گھاس کو جڑ سے اُکھاڑنے میں جُت گئےتب محمد بخش جو وہاں موجود نہ ہو کر بھی موجود تھا ،وارث شاہ کا بے صبری سے انتظار کر رہا تھا۔
شاہ حسین کے چٹختے ہاتھوں اور اُبلتی ہوئی آنکھوں کو ہوا کے گداز لمس نے بے کل کردیا جب بلھے نے آگے بڑھ کر اپنے گیروے لبادے کو جھاڑنا شروع کردیا اور اسی دوران غلام فرید نےاپنی مٹھیوں کو بھینچ کر ہو کی ضرب لگائی ۔
یہ باہو دکھائی نہیں دیتا آج کل؟
شاہ حسین کے لڑکھڑاتے سوال پر غلام فرید نے نفی اثبات میں سر ہلا دیا اور سوال نیستی کی ترازو کے کانٹے پر جھولنے لگا۔
باہو کو چنبیلی کی خوشبو نے دیوانہ کررکھا ہے فقیرو!
بلھے شاہ نے بلند آواز میں مناروں کی طرف گھورتے ہوئے آخری جواب دیا۔
آسمان پر نقرئی لکیریں ابھرتے ہی محمد بخش، بھربھری مٹی کے ٹیلے پر اکڑوں بیٹھ کرڈوبتے سورج کو قابو کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
بلھے نے محمد بخش کی کرنجی ساکت آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لمبی ہیک لگائی۔۔۔۔۔۔۔
لے او یار حوالے رب دے ۔۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ اب تینوں فقیر اپنی مشترکہ خانقاہ کے مرکزی چبوترے پر لمبی تان کر سو رہے ہیں۔۔۔ لیکن محمد بخش اکیلا بھربھری مٹی کے ٹیلے پر اکڑوں بیٹھا ڈوبتے سورج کو قابو کر رہا ہے ۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.