پہلا اور مکمل سانس ۔۔۔ علی زریون

ali-zeryun-poetry-pehla-mukamal-saans

پہلا اور مکمل سانس

 

(علی زریون)

 

پہلا سانس لیا تھا میں نے

اپنے ہونے کا احساس دلاتا

پہلا سانس لیا تھا میں نے

اس دن میں نے

جیون کا ہر خواب اپنے لہجے میں

شامل کر کے

تم سے پہلی بار کہا تھا

تھک سا گیا ہوں ۔

بے چہرہ خوابوں کے دشت میں چلتے چلتے۔،

امیدوں کے جنگل سے ’’خواہش‘‘ کی لکڑی کاٹ کاٹ کر

دل کی حالت،

بوڑھے لکڑ ہارے جیسی ہو گیی ہے۔

تم سے کہا تھا

بے چہرہ خوابوں کے دشت میں چلنے والا

مجھ ایسا خاموش مسافر

بس اک خواب کے خط و خال میں زندہ رہنا چاہتا ہے

امیدوں کے جنگل سے خواہش کی لکڑی کاٹنے والا لکڑ ہارا

دل بیچارہ

اس بیکار کی مزدوری سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔

بولو

کیا تم میری زرد آنکھوں کو

اپنے سبز وصال سمیت مہیا ہو سکتی ہو؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟

کیا تم میرے بے چہرہ خوابوں کو

اپنے خد و خال سمیت مہیا ہو سکتی ہو؟ ؟ ؟

اور جواباً تم نے

ہلکا سا اقرار کیا تھا

اس دن

پہلا سانس لیا تھا میں نے

اپنے ہونے کا احساس دلاتا

پہلا اور مکمّل سانس لیا تھا میں نے ۔

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: