نیلی نوٹ بک۔۔۔ کزاکیو ایچ/انور سجاد

نیلی نوٹ بک

عمانویل کزا کیو ایچ / ڈاکٹر انور سجاد

پہلی قسط

مدہم چاندنی زرد رو شمالی آسمان میں پھیل رہی تھی۔

اور جھیل کی سطح پر تیرتی دو کشتیاں

لینن اگلی کشتی کے اگلے حصے میں بیٹھا تھا۔ اسکی آنکھیں دور ساحل کی دودھیا دھندلاہٹ میں گڑی تھیں۔ وہ سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اگر جھیل کے پار وہاں سبزہ زاروں میں خاموش اور سکون ہوا اور اس نے خود کو دشمن کی نظروں سے محفوظ سمجھا تو وہ اپنی نیلی نوٹ بک منگوا بھیجے گا اور اپنے ایک نہایت اہم پمفلٹ کو مکمل کر لے گا جو ایک عرصے سے اس کے ذہن میں تھا۔

اس نے ایک بار پھر دودھیا فاصلے کو بڑے غور سے دیکھا اور سوچا ۔۔۔۔ کوئی فائدہ نہیں۔ بہتر ہے آنکھیں موند لو۔ ۔۔۔ پہلے کبھی اس نے یوں نہیں سوچا تھا۔ اب وہ آنکھیں موند کے کشتی کے کنڈوں میں گھومتے چپئووں کی صرف آوازیں سن سکتا تھا۔ اسے اب احساس ہوا تھا کہ وہ کشتی میں سوار ہے اور اس کے سر پر پھیلے آسمان کی لا محدود وسعتوں میں، دھند میں لپٹا چاند  دھیرے دھیرے بایئں جانب رینگ رہا ہے۔

ایک عرصے کے بعد اسے گہرا سکون محسوس ہوا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ بھاگتا رہا ہے۔ دوڑتا رہا ہے۔ مہینوں، کہیں بھی رکے بغیر، مکان، گلیاں، بازار، شہر قریب سے گزرتے رہے۔ لوگ ، ان گنت لوگ، ان گنت لفظوں کے شوریہدہ ریلے، مختلف آوازوں سے بہتے ہوئے اورابلتی چبھتی سرگوشیاں۔ روسی لفظ، غیر زبانوں کے لفظ، سادہ لفظ، سایئنسی لفظ، ظالم لفظ، کومل لفظ، لفظ کہ جو انتہائی قیمتی تھے، لفظ کہ جو قابل نفرت تھے۔ لفظوں کا دباو اس کے چاروں اور اس کو کھلبلاتے ہوئے لفظ، جو اس کی یوں مدارات کرتے تھے جیسے ہوایئں دوڑ لگانے والے کھلاڑی کی کرتی ہیں۔ اب وہ بھاگتا بھاگتا یکدم رک گیا تھا اور اس لمحے اس نے اپنے آپ کو زرد رو آسمان تلے، گہرے پانیوں پر دھیرے دھیرے چلتی کشتی میں پایا تھا۔ لفظوں کے وا ورولے اور اڑتے ہوئے چہرے یکدم ساکت ہو گئے تھے اور ذہن پر پڑتے، کٹھن مسائل کے ہتھوڑے، یک لخت فضا میں جامد ہو گئے تھے۔ اب کشتی کے کنڈے، چپووں کی گردش سےہولے ہولے چر چرا رہے تھے۔ کشتی کے ساتھ لپٹتا پانی خمار میں غر غرا رہا تھا۔

ساحل قریب آ رہا تھا۔ اگر کہیں کشتی پر گولیوں کی بوچھاڑ ہو جاتی تو یہ غیر متوقع نہ ہوتی کہ لینن کا اتہ پتہ جاننے والوں کی زبان سے ایک لفظ یا رازداری کے اصولوں میں ذرا سی بے قاعدگی بھی ساحل پر ایک ایک درخت کے پیچھے ایک ایک کازک یا فوجی کیڈٹ کو لا چھپاتی۔ لینن کی آنکھوں میں اس کازک کا چہرہ گھوم گیا جو اسے پچھلے اتوار کو توریدا محل کے نزدیک نظر ایا تھا۔ یہ ایک گونگا۔ اندھا چہرہ تھا۔ اس کی پتلون پر کھنچی دھاریوں کی طرح سرخ ۔۔۔۔ ہو سکتا ہے وہی کزک اس وقت ساحل پر کسی ،  کے پیچھے چھپا ہو۔ لینن نے سوچا ۔۔۔۔۔۔ چدی چدی آنکھیں، چہرے پر نہ ہونے کے برابر، جو اپنے نشانے کے سوا اور کچھ بھی دیکھنے سے قاصر ہیں۔

لینن کو کوئی خوف محسوس نہ ہوا۔ اس نے سوچا کہ در اصل ایسا نوف کی زندگی اسے پیاری نہیں۔ ایسانوف جو پینتالیس برس پہلے سمبر سک میں پیدا ہوا تھا جس نے ڈھیروں کتابیں پڑھ ڈالی تھیں اور جس نے پہاڑوں کے پہاڑ کاغذ لکھ ڈالے تھے۔ اب تھک گیا تھا۔درد سر اور بے خوابی نے اسے آن گھیرا تھا۔ وہ اچانک ، بلا تکلیف ، موت سے خوف زدہ نہیں تھا کہ وہ بچپن ہی سے جانتا تھا ، بخوبی جانتا تھا کہ وہ غیر فانی ذرہ ہے۔ لیکن لینن کی زندگی کو بہر صورت بچانا ہو گا۔ وہ روس کی سب سے عظیم انقلابی جماعت کا راہ نما ہے۔

انقلاب کو بہر صورت اس کی زندگی کی ضرورت تھی۔ جبکہ دشمن ہر صورت اس کی موت چاہتے تھے۔ قدرتی طور پر اتنے برسوں میں اس نے انقلاب کی تیاری کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سختیوں سے نمٹنے کے لئے تیار کر لیا تھا۔ اس نے یورپ کے شہروں کی کئی گلیوں، کئی پہاڑی راستوں کو پیدل طے کیا تھا۔ وہ کئی کئی گھنٹے یورپ کے دریاوں، جھیلوں میں تیرا تھا۔ میل ہا میل سایئکل سواری اور سکی انگ، انقلاب کی خاطر کہ خود کو جسمانی طور پر اتنا مضبوط بنا لے کہ جب انقلابی کاروائی کا وقت آئے تو جسم اذیتوں کے سامنے جھک نہ پائے۔ پہلے کبھی اس نے اپنی ذات، اپنے وجود کی اہمیت پر توجہ نہیں دی تھی۔ پر اب سے صرف تین ماہ پہلے جب وہ دس برس کی ہجرت کے بعد پیڑوگراڈ واپس آیا تھا، تب اسے مکمل طور پر احساس ہوا تھا کہ متقاضی حالات میں اس کا کردار کیا تھا۔

اس نے مسکارتے ہوئے فن لینڈ سے اپنے واپسی کے سفر کو یاد کیا، کچھ ایسی بے یقینی سے جیسے زمانہ قبل تاریخ کے کسی واقعے کو یاد کر رہا ہو۔ وہ ایک سنسنی خیز جرات مند سفر تھا۔ ریل گاڑی میں بیٹھے وہ اور اس کی بیوی فکر مند ہو گئے تھے کہ وہ ان حالات میں رات کے وقت جب گاڑی پیٹرو گراڈ پہنچے گی تو وہ شیروکایا سٹریت میں آنا آیلیچنینا کے گھر کیسے جائں گے۔ انہیں ایسٹر کی رات میں سٹیشن سے سواری مل جائے گی ؟ جب اسے سٹیشن پر لوگوں کا سیلاب نظر آیا اور اس نے ملاحوں کے دستوں کو اسے گارڈ آف آنر پیش کرنے کی خاطر قطار در قطار دیکھا  اور سٹیشن کے شاہی دروازے پر کھڑی بکتر بند گاڑیوں اور فوجی سرچ لائٹوں سے منور چوک میں لہراتے سرخ پھریروں  اور ” لینن خوش آمدید ” والے کتبوں کو دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ جلا وطنی میں انقلاب کے بارے میں اس کے اندازے غلط تھے۔ اس کی غیر حاضری میں تو بہت کچھ ہو گیا تھا۔ ان دنوں میں تو اسے  یوں لگتا تھا کہ محض معمول کی کاروائی ہے جس کے اثرات بیرونی ملکوں پر با لکل صفر ہیں۔ تھکا دینے والی بے ثمر کاروائی جس کی حیثیت شنہشاہی جِن کے جسم پر مچھر کے کاٹنے سے زیادہ نہیں۔ وہ خاموش، معمول کی کاروائی اب پیٹروگراڈ کے کارکن شوگورین کے وجود میں کتنی روشن تھی۔ شوگورین بیس پر سٹیشن کے ہجوم میں اس کی نظر پڑ گئی تھی اور جس نے پیرس کے نزدیک لاں ژامیوکے پارٹی سکول میں تربیت حاصل کی تھی۔

بکتر بند گاڑی پر چڑھ کر لینن نے چاروں اور دیکھا۔ اسے ٹوپیوں کا سمندر پھیلا نظر آیا۔ اسے اپنے غیر ملکی سیاہ بولر ہیٹ پر خفت محسوس ہوئی کہ انقلابیوں میں گھرے ، بکتر بند گاڑی پر کھڑے اس شخص کی ٹوپی اور ان کی ٹوپیوں میں کوئی مطابقت نہ تھی۔ اس نے اپنا بولر ہیٹ اتارا، ہمیشہ کے لئے اور اپنی پیٹھ کی اوٹ میں کر لیا۔ بعد میں اس نے یہ ہیٹ بکتر بند گاڑی کے ڈرایئور کی ساتھ والی جگہ پر رکھ دیا۔ یہ ڈرایئور بکتر بند دستے کا سپاہی تھا۔

جب اس کی بکتر بند گاڑی ہزار ہا لوگوں میں گھری پیٹرو گراڈ کی سڑکوں سے گزر رہی تھی تو لینن کو یاد آیا کہ وہ ریل گاڑی میں ، اسٹیشن سے سواری لینے کے سلسلے میں کتنا پریشان تھا۔ پھر اس خیال کے آتے ہی وہ یکدم اداس ہو گیا کہ اب وہ شاید کبھی یوں ریل گاڑیوں ، عام سواریوں میں سفر نہیں کر سکے گا۔ اب شاید اس کی زندگی اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یا تو اسے انقلابی روس کی قیادت کرنا ہو گی یا مر جانا ہو گا۔

ایسے میں اسے اوڈیسی کی عمیق رزمیت بھی یاد آئی کہ اپنی نصف زندگی اپنی جنم بھومی ایتھاکا کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے بعد اوڈیسس جب اپنے شہر کے ساحل پر پہنچتا ہے تو اپنی جنم بھومی کو پہچان نہیں پاتا اور اس نے، لینن نے اپنے ایتھاکا کو فورا پہچان لیا تھا لیکن اسے فورا ہی یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ اس کا اوڈیسس بھی ہے۔

انہی دنوں اسے شدت سے احساس ہوا تھا کہ وہ انقلاب کا ایک گیر معمولی بنض شناس ہے۔ انقلاب کا جوار بھاٹا، اس کا بہاو، اس کی زیریں لہرین ۔ پہلے کبھی اس کی نظریں اتنی گہرائی میں نہیں اتری تھیں۔ پہلے کبھی اس نے ان اندرونی جھرنوں کو شناخت نہیں کیا تھا جو لوگوں کے اکٹھ اور تنظیموں کا منمبع تھے۔ پہلے وہ کبھی اتنی آسانی سے زیادہ اور کم اہم معاملات میں تخصیص نہیں کر سکتا تھا۔

اس دوران میں اس نے اپنے پارٹی ساتھیوں کا بغور مشاہدہ کیا۔ان کے تجربے ، انقلابی گرمجوشی، تقریری، تنظیمی اور ادبی صلاحیتوں کی منصفانہ جانچ کرتے ہوئے وہ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ وہ خود اگر ان میں موجود نہ بھی ہو تو بھی ساتھیوں مین سے بہت سے ایسے ہیں جو اس کی جگہ لے سکتے ہیں۔روسی انقلاب کا دارو مدار ایک ہی شخص پر نہیں تھا۔ لیکن بہر حال اس انقلاب نے اس کے اپنے وجود میں ایک ایسے شخص کو لا کھڑا کیا تھا جو اسے شفاش ترین شکل اور مسلسل لہجہ دے سکتا تھا۔

لینن آنکھیں موندے کشتی میں ساکت بیٹھا تھا۔ اپنے آپ کو سکون کے حوالے کر دینے کے باوجود وہ جانتا تھا کہ ای سکون ایک خواب ہے۔ کسی بھی لمحے دن بھر کے مسائل اس کے سامنے عفریت کی طرح سر اٹھا لیں گے اور اسی لمحے اس کی نبض شناسی کے حوالے سے اس کے حالیہ تجربات اور آگاہیاں اس کے دل تک پہنچیں گی۔

اسے بے حد گہری تشویش تھی ۔ اپنی بیوی، نادہژواکونستاتینوو اور اپنی بہنوں کی خوشحالی کے لئے اور اپنے پارٹی ساتھیوں کے لئے بھی ، جن کے ذرا سنکوچ ہونے کے باوجود اسے اتنا ہی لگاو تھا۔ ادھر پارٹی کے مرد، عورتیں جن میں سے کئی زندگی سے بھر پور تھے ، کئی صوفی منش تھے، کئی شعلہ وجود اور کئی کم گو لیکن سب کی ایک ہی لگن ، ایک ہی مقصد کے لئے متحد، اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کے لئے تیار۔ ان کارکنوں، سپاہیوں، ملاحون کی زندگیوں، ان کے خوابوں کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری اس کے کاندھوں پر تھی، جن کے چہرے اس کی آنکھوں میں لشک لشک جاتے تھے۔ اس نے بڑی نرمی سے پلٹتے ہوئے، مشکل تصورات اور پیچیدہ سیاسی مسائل کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی کہ یہاں سے ان سب خیالات سے دور رہنا تھا کہ اس اب زیادہ سے زیادہ آرام کی ضرورت تھی۔ جب وہ ان خیالات سے پیچھا نہ چھڑا سکا تو اس نے آنکھیں کھول دیں کہ وہ ان سے بھی اسی طرح نپٹ لے جیسے تیراک لہروں کو اپنے سینے پر لیتا ہے۔ ( جاری )

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.