نیلی نوٹ بک ۔۔۔ انور سجاد ( دوسری قسط ) ۔

The Blue Notebook by the well-known Soviet author Emmanuil Kazakevich (1913-1962) has become one of the most popular books about Lenin, It has been translated into Urdu by Dr. Anwar Sajjad,

نیلی نوٹ بک

عمانویل کزا کیو ایچ / ڈاکٹر انور سجاد

دوسری قسط

جب لینن نے آنکھیں کھولیں تو جھاڑیاں اسے با لکل قریب نظر ایئں۔ چھوٹے چھوٹے درختوں کی دیوار سی کنارے تک آن پہنچی تھی اور لہریں کنارے سے پلٹ کر کشتی سے ٹکرا رہی تھیں۔دوسرے لمحے کشتی کنارے تک پہنچ گئی۔

یمیلیانوف نے چپو رکھ کر بیٹھے ہی بیٹھے لمحہ بھر کے لئے غور سے سننے کی کوشش کی، کنارے پر کوئی آہٹ، سر سراہٹ۔ پھر وہ اٹھا۔ کشتی سے کنارے پر اترا اور کشتی کو کنارے کھینچ لیا۔ کولیا کشتی سے کود کر کنارے پر آگیا۔ دوسری کشتی بھی آ کر اس کشتی کے ساتھ لگ گئی۔ کشتیوں کے مسافروں میں ہلکی سی کھلبلا ہٹ اور مختصر سی سرگوشیاں ہویئں۔ قریب ہی ایک بگلا با لکل انسانی آواز میں چیخا۔

لینن نے جھک کر اپنے پیروں میں پرے کاغذوں سے بھرے اتاشی کیس کو اٹھایا اور بغل میں دبا کر کنارے پر اتر آیا۔ یمیلیانوف نے، کنارے، کشتیوں اور لوگوں پر یوں اچٹتی سی نگاہ ڈالی جیسے وہ یہاں کا مالک ہو۔ اس نے لینن سے کہا، ” آیئے چلیں۔۔۔”

وہ آگے آگے چل پڑا۔ اس کے پیچھے لینن۔ زینو ویئف اور یمیلیا نوف کے چار بیٹے۔۔۔۔۔ کولیا، ساشا، کوندراتی اور سرجی ایک قطار میں لینن کے پیچھے ہو لئے۔ شروع میں زمین نرم تھی جس پر قدم پڑنے سے کچھ چوسنے کی آوازیں نکلتی تھین۔ جونہی وہ آگے بڑھتے گئے زمین سخت ہوتی گئی۔ فضا میں دلدل اور سبزہ زاروں کی گھاس کی خوشبو معلق تھی۔

یملیا نوف راستے سے اچھی طرح واقف تھا۔ لینن کو یہاں لانے سے پہلے اس نے اس علاقے کو اچھی طرح سے کھنگال لیا تھا۔ ایک مرتبہ تو وہ رات میں بھی یہاں آ کر سب دیکھ گیا تھا۔ سو وہ بڑے تیقن کے ساتھ ذرا سٹک کر چل رہا تھا اور خوش تھا کہ اس نے ہر شئے کی معمولی سے معمولی جزیات پر بھی غور کر لیا ہے، تب وہ لینن کو وہاں لے کر آیا ہے۔ اسے امید تھی کہ لینن اس بات کو ضرور محسوس کرے گا ۔ اس کا دایاں کندھا سامان رسد سے بھری بوری کی وجہ سے جھک سا گیا تھا۔ اگرچہ اسے یقین تھا کہ راستے میں کسی سے مڈ بھیڑ نہیں ہوگی  پھر بھی جب لینن نے اسے کسی بھی قسم کے ہتھیار ساتھ رکھنے سے منع کیا تھا تو اسے سخت مایوسی ہوئی تھی۔ اس کے پاس تین رائفلیں تھین جنھیں اس نے تیل دے کر کئی درجن گولیوں کے ساتھ بڑی محفوظ جگہ پر چھپا رکھا تھا۔ اس نے لینن کو قائل کرنا چاہا تھا لیکن لینن نے اس کی سنی ان سنی کر دی تھی۔ اس نے ہنس کے ہوا میں ہاتھ لہرا کر کہا تھا،

” رائفلوں کو استعمال کرنے کا وقت بھی ضرور آئے گا، تب تک ان کی حفاظت کرو۔ تم نے بتایا نا کہ تم نے انہیں خوب تیل دے رکھا ہے ، بہت اچھا کیا۔ جب ضرورت پڑے گی تو میں تین نہیں تین لاکھ رائفلوں سے کم پر نہیں مانوں گا۔ تین ہمیں بچا نہیں سکیں گی بلکہ گڑ بڑ کی صورت میں ہم مذاق بن جایئں گے۔ آج، میں اور تم سیاستدان ہیں سپاہی نہیں۔۔۔”

یمیلیا نوف پارٹی کا پرانا محارب تھا۔ 1905 میں اور اس کے بعد اس کے ہاتھوں سے کئی رائفلیں گزری تھیں۔ اس کا ایمان تھا کہ ہتھیار رکھنے سے بڑی سہولت رہتی ہے۔ جیب میں ریوالور، کندھے پر رائفل ڈال کے وہ اور زیادہ پر اعتماد ہو جاتا تھا۔یملیا نوف نے بڑ بڑا کر لینن کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔  

لینن نے جھوپڑی کی برساتی میں اس کے کنبے کے ساتھ کئی دن گزارے تھے۔ آلوووں کا شوربا، باجرے کا دلیا اور مچھلی اس کی غذا تھی۔ وہ یمیلیا نوف کی بیوی ناد ہژدا اور اس کے بچوں کے ساتھ کھل کر باتیں کرتا۔ بعض دفعہ کپڑوں کی دھلائی میں ناد ہژدا کا ہاتھ بٹاتا۔ وہ اس کنبے کی زندگی میں ہر طرح سے شریک تھا۔ یمیلیا نوف کو اب بھی یقین نہی آتا کہ وہ شخص جو اس کے پیچھے آ رہا ہے، لینن  ہے۔ سارے روس کی زبان پر ایک لفظ تھا، لینن۔ ایک وقت تھا کہ اس نام سے صرف ایک محدود حلقہ واقف تھا۔ بالشویک پارٹی کے ممبر انتہائی ترقی پسند محنت کش لیکن اب کوئی بھی مضافاتی ریل گاڑی ایسی نہ تھی جس میں سفر کے دوران لینن کا نام سننے میں نہ آتا ہو۔ پیڑو گراڈ میں اس کی آمد پر ایک نئی آواز سنائی دی۔ حیران کن طور پر قوی اور بلند آواز جو مضطرب ، بے قرار روسس کے بے ہنگم شوریدہ سروں سے ابھری، جس نے دیکھتے دیکھتے دوسری تمام آوازوں کو دبو دیا جیسے چیختی سیٹیوں، بے سُر چلاتے ماوئتھ آرگنوں اور جھنجھناتے ہالا لیکاوں میں چیلنج کی نفیری پھونک دی گئی ہو۔ یہ نہیں کہ محنت کشوں ، کارکنوں، خاص طور پر بالشویکوں کو اپریل سے پہلے اپنے طبقاتی مفادات کا پتہ نہیں تھا۔ وہ تو اس غیر مانوس سی نجات پر ابل ابل رہے تھے۔ ان کا اکژر وقت وفود سے ملنے ، اجلاس کرنے ، جاسوسوں کو پکڑنے اور ان گنت انتخابات میں گزرتا تھا۔ یمیلیانوف اسلحے خانے یں ملازم تھا۔ وہاں کے مزدور کارکنوں نے اسلحہ خانے پر قبضہ کر کے میجر جنرل جائبر اور اسکے نائب میجر جنرل ومیتریونسکی کو معطل کر دیا تھا۔ توپ خانے کی مرکزی نظامت کو مجبورا کارکنوں کے اس فیصلے پر تصدیق کی مہر ثبت کرنا پڑی تھی ۔ کارکن بے حد خوش اور مطمئن تھے اور فخر سے سر اونچا کر کے چلتے تھے۔ 21 مارچ کو کارکنوں نے جلسہ عام میں پیڑو گراڈ کے بالشویکوں کے نمایندے کی تقریر کے بعد ایک قرار داد پیش کی کہ پرانی حکومت کے تمام نقوش مٹانے اور عوام کی فتح کو استحکام  اور وسعت دینے کے لیے عبوری حکومت کے تمام اقادامات کے واسطے تمام محنت کش اور کارکنوں کی حمایت حاصل کی جائے۔ پندرہ دن کے بعد اس قسم کی کسی بھی قرار داد کو پیش کرنا نا ممکن ہوتا۔

لینن کی واپسی سے پہلے یمیلیا نوف اور دوسرے بالشویکوں کے بھی کم و بیش یہی خیالات تھے جو لینن کے تھے لیکن یہ صرف گفتگو کی حد تک تھے۔ ان خیالات کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں تھی۔ پختہ علم کا فقدان تھا اور یقین کامل کی کمی تھی۔ لیکن اس روز جب چیلنج کی نفیری بجی تھی ہر کوئی دوسرے کو مبارکباد دینا چاہتا تھا۔ ایک دوسرے پر اعتماد کی خواہش رکھتا تھا، خاص طور پر وہ لوگ جن کے سینوں پر سرخ فیتے تھے۔

چاند بادل کے ٹکرے کی اوٹ میں پھسل گیا۔ یمیلیا نوف کے کانوں مین اپنے پیچھے آتے لینن کے سبک قدموں کی آواز آ رہی تھی۔ یہ سوچ کر اس کا دل خوشی سے اچھل رہا تھا کہ وہ لینن کو تمام دشمنوں کی نظر سے اوجھل جھاڑیوں کے دبیز پردے کے پیچھے چھپا رہا ہے۔ کیرنسکی، پولو ئسیف، ریبوت ، لایئڈ جارج، کارکنوں کی بارہ کوروں، روسی پولیس اور ایتانتے کی تمام خفیہ پولیس کی نظر سے اوجھل ، خوشی کی دھن پر یوں ہی چلتے چلتے اسے حیرت ہوئی کہ چیلنج کی نفیری پھونکنے والا چند ہی قدم اس کے پیچھے، سرجی، الیلیو ئف کا اڑتے رنگ کا بھورا کوٹ  اوڑھے ، سر پر ڈھیلی سی ٹوپی پہنے اور بغل میں اتاشی کیس دبائے چلا آ رہا ہے۔

درختوں میں گھری ساف جگہ نظر ائی تو یمیلیا نوف نے کہا، ” ہم پہنچ گئے”

لینن نے رک کر چاروں اور دیکھا۔ سامنے سوکھی گھاس کے ڈھیر کے ساتھ لکڑی سے بنی ایک چھوٹی سی جھونپڑی تھی۔ اس نے اپنا اتاشی کیس زمین پر رکھا اور چند قدم بڑھ کر جھونپڑی کی تاریکی میں غائب ہو گیا۔ چند لمحون کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتا اس انداز سے واپس آیا جیسے ابھی گھاس کاٹنے کا کام شروع کر دے گا۔ میں نے پوچھا، ” تمہاے پاس گھاس کاٹنے کے لئے ہنسیا اور پانچا ہیں ؟ “

” جی۔ ” یمیلینوف نے کہا، ” صبح مل جایئں گے “

” ہمارے پاس سب کچھ ہونا چاہیئے، کہ ہم با لکل پیشہ ور گھسیارے نظر آیئن ۔”

” جی۔ با لکل۔ آگ جلاوں ؟ “

” اس میں کوئی خطرہ تو نہیں ہوگا ؟ “

” جی نہیں۔ دور دور تک کوئی ذی روح نہیں ہے “

چند لمحے سوچ کر لینن نے کہا، ” پھر بھی ۔۔۔ آج رات ضرورت نہیں۔ آج ہم آگ کے بغیر سویئں گے۔ کل ہم اس علاقے کا جائزہ لیں گے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق منظم کریں گے۔ “

بڑے لڑکے، شاسا، کونراتی اور سرجی آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لینے چلے گئے۔ سب سے چھوٹا لڑکا تیرہ سالہ کولیا وہیں رک گیا۔ وہ بڑے بوڑھوں میں رہنا پسند کرتا تھا۔ زینیو ویئف وہیں گھاس پر بیٹھ کر اپنے جوتے اتارنے لگا۔ اس نے اپنے بایئں پیر کے گرد غلط طریقے سے پٹیاں لپیٹی تھیں جس کے باعث چھالے پڑ گئے تھے۔

لینن نے جھونپڑی کے دروازے پر جا کر اندر جھانکا ، پھر اندر چلا گیا۔

” واہ ۔۔۔ ” وہ اندر سے چلایا، ” بہترین گھر ہے۔ نرم گرم اور خوشبو دار۔” اس نے سوکھی گھاس پر لیٹ کر خود کو پھیلا دیا اور دل ہی دل میں مسکرایا۔ پھر بولا، ” اس گھاس میں وائر لیس کو بخوبی چھپایا جا سکتا ہے۔ اس وائرلیس سے پیٹرو گراڈ سے رابطہ ہوگا۔ مجھے تم پر مکمل اعتماد ہے۔ نکولائی الیکساندرووچ۔ اور ہاں اخبار مجھے وقت پر ملنے چاہیئں۔ “

” یقیننا ملیں گے” یمیلیا نوف نے تاریکی میں برتنوں کو جھنجھناتے ہوئے کہا، ” لو جی۔ یہ کام تو ہوا ختم۔ چلو بھئی لڑکو۔ ” اور وہ جھونپڑی سے باہر نکل آئے۔” راستہ یاد رکھنا تاکہ یہاں کسی وقت بھی آ سکو۔ میں تمہیں کشتیوں تک لئے چلتا ہوں اور ہاں ، ساشا، کل تمہاری باری ہے اخبار لانے کی ۔”

لینن نے جھونپڑی سے کہا، ” جھیل کے کنارے پر جا کر بلند آواز میں باتیں کرنا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں سے آواز کتنی صاف سنائی دیتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ کولیا اندر آو۔ “

کولیا رینگتا ہوا جھونپڑی کے اندر چلا گیا اور لینن کے پاس چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔ یمیلیا نوف اپنے بڑے لڑکوں کے ساتھ چلا گیا۔ ان کے گھاس پر پڑے قدموں کی سرسراہٹ جلد ہی معدوم ہو گئی۔ لینن نے کولیا کے کندھوں کے گرد بازو حمائل کر کے کہا، ” سنو۔۔۔”

پندرہ منٹ گزر گئے پر کوئی آواز نہ آئی، بولنے کی نہ کشتی کے چپووں کی۔ لینن نے اطمینان سے سر ہلایا اور زینیوویف سے پوچھا، ” اب سو جایئں گریگوری ؟ “

” تمہارا مطلب ہے کہ تم سو سکتے ہو، ؟ ولادی میئر آیئچ “

” ہاں ”  لینن نے جواب دیا پر وہ جانتا تھا کہ نیند اس سے کوسوں دور ہے۔

” میں تو نہیں سو سکتا “

” اوہو ۔۔۔ اچھا۔ ہم وہ دو جانور ہیں جن کا پیچھا شکاری کر رہے ہیں۔ ہمیں اب جلد سو جانا چاہیے لیکن کان جاگتے رہیں۔۔۔ اور تمہارے پیر کو کیا ہوا ؟ ‘

زینیویئف نے بڑی سادگی سے اپنی بلند آواز میں کہا، ” کچھ نہیں۔ یہ پٹیاں میں نے بڑی بے احتیاطی سے باندھی تھیں پیر کے گرد۔ اب چھالے پڑ گئے ہیں۔ “

” اپنی بدبختیوں کو بھی فلسفیانہ انداز میں لینا چاہیے۔ ڈھلتے چاند کی رات فلسفے کو تاب دیتی ہے۔ اس بر گزیدہ چاند نیں وہ سب کچھ دیکھا ہے جو کہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نے شاید ایسے دانشوروں کو پہلی مرتبہ نہیں دیکھا۔پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں اور جنہیں پتہ نہیں کہ پیروں پر پٹیاں کو کیسے لپیٹا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔ “

” تمہیں تو ہمیشہ مذاق سوجھتا ہے “

انہیں قدموں کی چاپ سنائی دی۔

” میں ہوں ” یمیلیا نوف نے باہر تاریکی میں سے کہا

لینن اور کولیا جھونپڑی سے باہر آگئے اور دروازے کے قریب گھاس پر بیٹھ گئے۔ یمیلیا نوف  بھی پاس بیٹھ گیا ۔ لینن نے پوچھا، ” تم نے کنارے پر باتیں کی تھیں ؟ “

” جی “

” بلند آواز سے ؟ “

” جی “

” کیا کہا تھا تم نے ؟ “

یمیلیا نوف نے ہنس کر کہا، ” میں نے کہا تھا، فنستانی ( فن لینڈ کے باسی ) سو گئے ہوں گے۔ کل صبح اٹھیں گے اور کام میں جُت جایئں گے۔۔ برے لوگ نہیں۔ اچھے گھاس کاٹنے والے ہیں۔ اور ساشا نے جواب دیا تھا ۔۔۔ بے چارے ہماری زبان بھی نہیں سمجھتے۔۔۔ بس ایسی ہی باتیں۔ “

” بہت خوب۔ بس۔ رازداری اول ۔۔۔ تو کنارے سے آواز یہاں نہیں پہنچتی۔ یہ اچھا ہے “

زینیویئف کمبل لے کر جھونپڑی کے اندر چلا گیا اور بستروں کا بند و بست کرنے لگا۔

” کل صبح ہم اگ جلایئں گے ابا ؟، ” کولیا نے پوچھا

” ہاں ‘

” تو آگ میں جلاوں گا۔ ہیں ؟ “

” اچھا اب سو جاو۔ شاباش۔ بہت دیر ہو گئی ہے “

” میں تھوڑی دیر اور نہیں بیٹھ سکتا ؟ ‘

” تم تو بس یہی چاہتے ہو کہ یہاں بیٹھے رہو، اور ۔۔۔۔”

جھونپڑی کے اندر سے زینیوویئف کے بستر لگانے کی چند آوازیں آیئن، پھر سکوت چھا گیا۔

” اس جگہ ایک گڑ بڑ ہے” لینن نے کہا

” مچھر ؟” یمیلیانووف نے غفت سے کندھے جھٹکائے۔، ” جی یہاں بہت مچھر ہے۔ خاص طور پر رات ۔۔۔”

” نہیں یہ بات نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں رات میں با لکل کام نہیں کیا جا سکتا”

” یہ تو بہت اچھا ہے۔ آپ آرام تو کر سکیں گے “

” تمباکو پینے والے خوش قسمت ہیں ” لینن نے ذرا توقف سے کہا، ” ایسی تاریک رات میں باہر بیٹھ کر پائپ پینا کتنا بھلا لگتا ہے۔ آدمی مصروف رہتا ہے۔”

” آپ کو پائپ چھوڑے کافی عرصہ ہو گیا ہے کیا ؟ “

” میں نے کبھی تمباکو نوشی نہیں کی۔ میرے پاس اس عیاشی کے لئے وقت ہی نہیں تھا اور پھر پیسے بھی تو ضائع ہو تے ہین۔ ہماری زندگی بڑی عسرت کی زندگی تھی۔ ایک ایک کوپک گن گن کر گزارا کیا کرتے تھے ۔۔۔۔۔  اور پھر تمباکو نوشی توجہ کو بھی برباد کر دیتی ہے۔ یہ نشہ تو نہیں پر عادت بری ہے۔ تمباکو نہ ملے تو آدمی بیکار، جلا وطنی یا روپوشی میں تمباکو اکثر نہیں ملتا سو میں نے بہت بے کیف زندگی گزاری ہے۔ میں نے کبھی تمباکو نہیں پیا، کبھی شراب نہیں پی اور لڑکیوں کے ساتھ میرا کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ۔۔۔ ” وہ ہنسا، ” بہر حال یہ زندگی بھی دلچسپ نہیں / کیا خیال ہے تمہارا ؟  ہوں ؟ اب یہ مہم جوئی کی کوئی کہانی لگتی ہے۔ جھیل سے یا جنگل کے دل میں ایک جھونپڑی، خطرناک سازش، فنتستانی گھسیاروں کے بھیس میں ، سو رہے ہو گریگوری ؟ سو گیا ہے۔ تھک گیا ہے۔ اسے واقعی آرام کی ضرورت ہے۔  ۔۔۔ “

( جاری ہے )

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.