نیلی نوٹ بک ۔۔۔ کزاکیو ایچ/انور سجاد

The Blue Notebook by the well-known Soviet author Emmanuil Kazakevich (1913-1962) has become one of the most popular books about Lenin. Famous writer and artist Dr. Anwar Sajjad translated it into Urdu. His translation is amazing.

نیلی نوٹ بُک

( عمانویل کزا کیویچ )  مترجم: ڈاکٹر انور سجاد

عمانویل کزا کیویچ 1913 میں یوکرین میں پیدا ہوا ۔1932 میں اسکی نظموں کا پہلا مجموعہ ” ستارہ ” کے نام سے شائع ہوا جس نے اسے پوری دنیا سے متعارف کروایا۔ بعد ازاں اس کی لکھی کتابیں ، اودر کی بہار، دل دوست، اسٹیپ میں، چوک میں ایک گھر،  اور دن کی روشنی میں، منظر عام پر آیئں ۔ ” نیلی نوٹ بک ” اسکا آخری ناولٹ تھا۔ عمانویل کے ہم عصر، فیودر دوستووسکی کے مطابق کزا کیو ایچ ایک زبردست سیاح، شکاری، پارٹی کا روح رواں، فطرتا ہنس مکھ لیکن بہت ہی جرات مند سپاھی تھا۔

ڈاکٹر انور سجاد : 1935 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کے بعد انہوں نے ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔ نور سجاد کی شخصیت پہلو دار ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ نظریاتی وابستگی انہیں سیاست تک لے آئی۔سٹیج اور ٹیلی ویژن کی قوت اظہار سے خوب واقف ہیں اور جدید اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔ رقص کے بھی ماہر ہیں۔ انکی شخصیت کے تمام پہلو ان کی افسانہ نگاری میں کسی نہ کسی طور  ظاہر ہیں۔ رگ ِ سنگ، آج، استعارے، پہلی کہانیاں، چوراہا، خوشیوں کا باغ  ان کی نمایاں تخلیقات ہیں۔

اس ترجمے کی کہانی وہ خود ہی بیان کرتے ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ نیلی نوٹ بک کا مصنف اس دنیا میں ہوتا تو آپ کے ترجمے کی بہت تعریف کرتا تو انہوں نے کہا، افسوس کہ نیلی نوٹ بک میں پائی جانے والی انور سجادیت کا خالق بھی ایک دن اس دنیا میں موجود نہیں ہوگا لیکن نیلی نوٹ بک تو زندہ رہے گی۔ انور سجاد  اب ایک عرصے سے صاحب فراش ہیں ۔

اس ترجمے کی کہانی

 

( ڈاکٹر انور سجاد )

 

۔۔۔۔۔ تو پہلے ” بلیو نوٹ بک ” کے اس ترجمے کی کہانی سن لیجئے۔

مہینہ ستمبر کا اور سن 1977 تھا کہ پاک ٹی ہاوس، لاہور میں ایک صبح زاہد ڈار نے مجھے عمانویل کزا کیو ایچ کی بلیو نوٹ بک دی اور کہا : ڈاکٹر یہ بہت اچھا، سوہنا، چھوٹا سا ناول ہے۔ اسے پڑھو۔ ۔۔۔۔۔ زاہد مجھے اکثر بہت اچھی اور سوہنی چیزیں پڑھاتا رہتا ہے۔ انگریزی ترجمے کے ایک سو ساڑھے چار صفحات میں نے رات بھر میں پڑھ دالے اور اگلی صبح زاہد سے کہا بلیو نوٹ بک واقعی ایک بہت اچھا، سوہنا اور چھوٹا سا ناول ہے۔ زاہد نے کہا اس کا ترجمہ اردو میں ہونا چاھئے۔ میں نے اس سے مکمل اتفاق کیا۔ زاہد نے چند لمحے توقف کے بعد سگریٹ کا گہرا کش لگایا اور کہا، ” اس کا ترجمہ تم کرو ” میں نے اپنی مصروفیات کے حوالے سے کہا کہ چونکہ اس کا ترجمہ فورا ہونا چاھئے اس لیے احمد مشتاق سے کیوں نہ کہیں۔ وہ بہت اچھا ترجمہ بھی کر لیتا ہے۔  ۔۔۔  زاہد ڈار نے کہا، ” نہیں، اس کا ترجمہ تم کرو۔ ” میں نے صرف اتنا کہا، ” اچھا ” زاہد نے میری طرف مشکوک نظروں سے دیکھا اور بس۔

عصری سیاست کے سیاق و سباق میں زاہد ڈار کا کہنا کہ بلیو نوٹ بک کا ترجمہ فورا ہونا چاھئے، با لکل بجا تھا۔ میری مصیبت یہ ہے کہ دنیا میں چوبیس گھنٹوں میں بٹے دن رات اگر بہتر گھنٹے کے ہوتے تو میں ” بلیو نوٹ بک” کو ترجمے کے لئے فورا اپنے قلم کی زد میں لے اتا۔ پھر بھی ہر رات سونے سے پہلے میں اسے ضرور پڑھتا۔ کزا کیو ایچ کے اسلوب ، نثر کے اختصار، خوبصورتی اور نغمگی کو خوب خوب ذہن میں سمیٹتا۔ ایک سو ساڑھے چار صفحات مجھے کئی ساڑھے چار ہزار صفحات والے ناولوں پر بھاری لگتے اور میرا یقین پختہ ہو جاتا کہ یک سوئی اور کافی وقت نہ ہونے کے باعث میں ” بلیو نوٹ بک” کا ترجمہ کبھی نہ کر سکوں گا۔

تب حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے یہ مسئلہ حل کر دیا ۔۔۔۔ نقص امن عامہ کے کسی سیکشن نمبر 3 اور اسکے دیگر لوازمات کے حوالے سے مجھے ایک خطرناک شخص گردان کر ، کہ جس کے ہاتھوں عوام کے جان و مال کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، حکومت پنجاب کی طرف سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب بہادر نے اپنے ایک حکم سے مجھے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ 17 دسمبر 1977 کو میرے کلینک سے گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند کر دیا۔ جیل مینوئل کے مطابق ہم ایسے قیدی، با مشقت نہیں ہوتے۔ جیل کی زبان میں مشقت کے لئے جانے والے قیدیوں کو ” پنجے” پر جانا کہتے ہیں۔ جیل مینوئل کے ( غالبا) اصولوں کے مطابق قیدیوں کو پانچ پانچ کی ٹکڑیون پر لگایا جانا چاھئے، پر جیل کا حاکم، جسے عرف عام میں سپر انٹدنڈنٹ جیل  کہتے ہیں، بہت کرشمہ ساز ہوتا ہے اور جو چاھے اپنی کرشمہ سازی کے بل بوتے پر کر سکتا ہے۔ یعنی جب چاھے جیل مینوئل کو ابو جہل مینوئل بھی بنا سکتا ہے۔ پنجے کو اس کام سے موسوم کرتے ہیں جو قیدی کی مشقت ہو یعنی اگر کسی قیدی کی مشقت گھاس کاٹنے کی ہے تو وہ ” بوٹی پنجا” کر رہا ہو گا۔ پہلوان مارکہ قیدیوں کی مشقت اگر کوڑے لگانے کی ریہرسل کرتا ہے تو وہ ” ہنٹر پنجا” کر رہے ہوں گے۔ وغیرہ۔ میں چونکہ بلیو نوٹ بک اپنے ساتھ لے گیا تھا اور وافر وقت کے باعث اس کے ترجمے میں لگا رہتا تھا ( کہ خدا نے زاہد ڈار کی سن لی تھی اور مجھے اب فرصت ہی فرصت تھی ) اس لئے جہانگیر بدر کو جب پتہ چلا کہ میں لینن کے بارے میں ایک ناول کا ترجمہ کر رہا ہوں اور اس کا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا تو اس نے میری اس رضا کارانہ مشقت کو ” لینن پنجے” کا نام دیا۔ میرے تمام ساتھی اپنے اپنے مشاغل میں مصروف تھے اور بعض اوقات ناراض بھی ہوتے کہ میں تھوڑی سی چہل قدمی اور طعام کے علاوہ ہر وقت بلیو نوٹ بک سے کیوں چمٹا رہتا ہوں۔ ایک یہاں احسان الحق تھے لاہور والے جو اس سلسلے میں میرے لئے چائے کافی سگریٹ اور بسکٹ کی سپلائی لائن ٹوٹنے نہیں دیتے تھے۔ دوسرے خان عبد الروف خان جو اپنی ذیا بیطس کے باعث کمزوری کے باوجود کھلنڈرے دوستوں کو مجھ سے دور رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور میرے ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ یعقوب جو اپنی کمر کی ہڈی کی شدید تکلیف کی وجہ سے بستر پر لیٹے لیٹے ہر نماز کے بعد میری صحت کے لئے دعا کیا کرتے تھے۔ قریبا انیس بیس گھنٹے روزانہ بلیو نوٹ بک کی رفاقت میں کہیں میں نیلا ہی نہ پڑ جاوں۔ البتہ سردار مظہر علی خان وقتا فوقتا بے صبری کا مظاہرہ کرتے رہتے کی ترجمہ جلدی ختم کرو ( جیسے ابھی چھاپ دیں گے )

میں نے 31 دسمبر 1977 کی شام میں پہلا مسودہ ختم کر کے ، 1978 کے پہلے لمحے پر یہ مسودہ دوستوں کو نئے سال کے تحفے کے طور پر پیش کیا۔ پھر دو روز بعد ایس۔ ایم۔ مسعود، اسلم گورداسپوری اور شمیم احمد خان بھی ہم سے جیل میں آن ملے اور چند ہی روز میں ان احباب کے پنگوں پر میں نے دوسرا ڈرافٹ بھی تیار کر لیا۔ پھر رہائی ہو گئی، معاملہ پھر کھٹائی میں پڑ گیا اور آخری مسودہ تیار نہ ہو سکا۔

دو ماہ بعد رب العزت نے زاہد ڈار کی پھر سن لی۔ حکومت پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ان ہی خدشات اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحب کے حکم کے ان ہی لوازمات کے ساتھ ایک بار پھرمیں 9 مارچ 1978 کو جیل میں تھا۔ وہاں اس وقت ساتھیوں کی تعداد دوگنی بلکہ تگنی تھی۔ ملک معراج خالد اور شیخ رفیق بھی تھے۔ ” نیلی نوٹ بک ” اور اسکا دوسرا ڈرافٹ میں نے گھر سے منگوا بھیجا۔ اب کی بار تو ملک معراج خالد کی سرپرستی، شفقت اور حوصلہ افزائی بھی تھی۔ تو یوں اب نظر بندی کے دوران میری :’لینن پنجے؛ کی مشقت کا اختتام ہوا۔

20 اپریل کو رہائی کے بعد میں نے زاہد ڈار کو خوشخبری سنائی کہ بلیو نوٹ بک کے ترجمے کا آخری مسودہ تیار ہے۔ اب تم مجھے پھر کوئی اچھا سا سوہنا سا ناول نہ دے دینا۔ جیل میں گرمیاں عذاب ہوتی ہیں۔ وہ سگریٹ کا گہرا کش لے کر مسکرا دیا۔ پھر میں نے کہا، ” چونکہ ترجمے کے لئے تم نے مجھ سے کہا تھا اس لیے اب تم اس کی نظر ثانی کر لو۔ ” زاہد ڈار نے بڑے اطمینان سے کہا، ” میں نے تم سے کب کہا تھا ؟ ” اور جب میں نے انتظار حسین، احمد مشتاق، شہرت بخاری اور شاہ عنایت کی گواہیاں پیش کیں تو اس نے کہا، ” میں ویہلا بندہ نہیں، مصروف آدمی ہوں، میرے پاس اتنا وقت نہین کہ تمہارے مسودے کو پڑھتا پھروں۔” اب میری مصیبت یہ ہے کہ میں زاہد کی رائے کو بہت اہمیت دیتا ہوں لیکن وہ وہیلا بندہ نہیں، بہت مصروف ہے۔ اسے ہر وقت کوئی نہ کوئی کتاب چمٹی رہتی ہے۔ٹی ہاوس میں بھی جانا ہوتا ہے۔ ٹی ہاوس کے باہر کسی  کھمبے کے ساتھ لگ کر اس کے ساتھ لگے مرکری بلب کو روشن بھی کرنا ہوتا ہے۔ پیدل گھر آنا جانا بھی ہوتا ہے۔ اپنے عشق میں جلنا سڑنا بھی ہوتا ہے۔ کبھی کبھار ایک آدھ نظم بھی لکھنا ہوتی ہے۔ سو وہ تو بہت مصروف آدمی ہے ۔۔۔۔۔

سو یہ نظر ثانی والا کام میں نے پروفیسر سہیل احمد خان سے کراوایا کہ یہ شخص بھی معتبر مانا جاتا ہے اور اتنا مصروف بندہ بھی نہیں۔ اس ترجمے کے جتنے محاسن ہیں ان کی تمام تر ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں اور اگر آپ کو اس ترجمے میں عیوب بھی نظر ا جائیں تو ساری ذمہ داری سہیل احمد خان پر عائد ہوتی ہے کہ اس ترجمے کو او۔ کے کا سگنل اسی نے دیا تھا۔

مجھے یہ ترجمہ بہت پسند ہے۔ میں ترجمے کے لوازمات، تکنیکات، جمالیات، باقیات الصالحات پر کوئی عالمانہ اور محققانہ مقالے کو احاطء تحریر میں نہیں لانا چاہتا کہ میں پیشہ ور مترجم نہیں ہوں۔ نہ عالم نہ ہی محقق۔ میں نے آج تک چند کہانیوں کا ترجمہ کیا ہے جو میرے دل کو لگیں۔ یہ پہلا ناول ہے جو میرے لی ایک تجربہ، ایک واردات بنا اور اس پر میں نے قلم درازی کی۔

” بلیو نوٹ بک ” کا انگریزی ترجمہ رالف پارکر اور والتسمینا سکاٹ نے بہت غضب کا کیا ہے۔ ظاہر ہے میں نے یہ ترجمہ انگریزی کے غضب ترجمے سے کیا ہے۔ جانے روسی میں اس ناول نے کیا غضب ڈھایا ہو گا ؟ اردو میں یہ ترجمہ کیا غضب ڈھائے گا ؟ ۔۔۔۔ کیا غضب ڈھائے گا ؟

میرا ملک تیسر دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں ادب تو کیا کوئی چیز بھی غضب نہیں ڈھاتی۔۔۔ ما سوائے فیض والے غضب کے ۔۔۔

                      انور سجاد

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.