World Literature

فرانسیسی قیدی ۔۔۔ صادق ہدایت

July 13, 2019

فرانسیسی قیدی ( صادق ہدایت) میرا قیام بیزانسن میں تھا۔ ایک دن میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میرا ملازم ملگجا نیلا ایپرن باندھے جھاڑو لگا رہا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی اس نے میز پر سے ایک کتاب اٹھائی جو جنگ کے بارے میں تھی اور حال ہی میں جرمن سے ترجمہ […]

Read More

آخری مکالمہ ۔۔۔ احمد ہمیش

July 13, 2019

آخری مکالمہ ( احمد ہمیش ) لے جاؤ درختوں کو لے جاؤ میرے کس کام کے یہ درخت لے جاؤ میں تو مر رہا ہوں میرے ساتھ جانے والے کچھ ہی لوگ تو ہیں میں نے بات کی ان راستوں سے کہ جو راستے نہیں تھے پھر میں ندی میں ڈوب گیا مجھے نہیں معلوم […]

Read More

غزل ۔۔۔ انور شعور

July 13, 2019

غزل ( انور سعور ) انجمن میں تو رہا اک جشن برپا صبح تک رات بھر جلنے سے شمع انجمن کو کیا ملا کھیت میں آئی تھی کوسوں دور سے چل کر پون بالیاں تو لہلہا اٹھیں پون کو کیا ملا صاحنان ساز و ارباب سخن نامی ہوئے ساز کو کیا ہو گیا حاصل، سخن […]

Read More

لمیاں واٹاں ۔۔۔ اقبال خالد

July 13, 2019

لمیاں واٹاں ( اقبال خالد ) “سر کیمپ والے ساڈی ڈاک روک لیندے نیں۔” میں ایہہ سن کے ہس پیا، تے اوہ چڑ کے بولیا”سر کمال اے تسیں میری گل تے یقین ای نہیں کر دے سر چھ مہینے ہو گئے نیں ، تے شانی دا خط ای نہیں آیا۔ ایہہ تے ہو نہیں سکدا […]

Read More

گھر سے بھاگی لڑکیوں کے گھر ۔۔۔ انورادھااننیا

July 13, 2019

بھاگی ہوئی لڑکیوں کے گھر ( انورادھا اننیا ) ترجمہ : اسنٰی بدر جن کا گھر  چھوٹ گیا گھر نے جنھیں چھوڑ دیا وہ جنھوں نے کیا انکار  روش پر نہ چلیں ڈھونڈ لیتے ہیں انھیں فرش کی تہ سے یہ لوگ اور پھر سے انھیں کرتے ہیں زمیں دوزکہیں ہر دفعہ پیار محبت نہیں […]

Read More

One Hundred Years of Solitude … Garcia Marquez

July 6, 2019

GABRIEL GARCIA MARQUEZ was born in Aracataca, Colombia in 1928, but he lived most of his life in Mexico and Europe. He attended the University of Bogota and later worked as staff reporter and film critic for the Colombian newspaper El Espectador. In addition to ONE HUNDRED YEARS OF SOLITUDE, he has also written two […]

Read More

دیوار ۔۔۔ جین پال سارتر

July 6, 2019

دیوار ( ژاں پال سارتر ) انہوں نے ہمیں چونے سے پتے ایک سفید ہال میں دھکیل دیا۔ میری آنکھیں چندھیانے لگیں۔ وہاں کی تیز روشنی میں میری آنکھوں میں تکلیف شروع ہوگئی۔تبھی میں نے ٹیبل کے نیچے چارسویلین کو ایک کاغذ پرجھکا ہوا دیکھا۔ انہوں نے پیچھے دوسرے قیدیوں کو ایک قطار میں کھڑا […]

Read More

کاش اک بار ۔۔۔ گلزار

July 6, 2019

کاش اِک بار گلزار . رات چپ چاپ دَبے پاؤں چلی جاتی ہے صرف خاموش ہے، روتی نہیں، ہنستی بھی نہیں کانچ کا نیلا سا گنبد بھی اُڑا جاتا ہے خالی خالی کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی […]

Read More

عطیہ ۔۔۔ نثار ناسک

July 6, 2019

عطیہ ( نثار ناسک) میں جب جائوں گا  اس دنیا میں  اپنی دونوں آنکھیں چھوڑ جائوں گا کہ ڈھلتی شام میں  سڑکوں کے دو رویہ گرے سوکھے ہوئے پتوں پہ جب جوڑے چلیں  ہاتھوں میں ڈالے ہاتھ  اور سسکاریوں کے درمیاں  ہنستے ہوئے جذبوں کے گھنگرو بج اٹھیں  تو یہ آنکھیں انہیں دیکھیں  مجھے روئیں  […]

Read More

مرنے کے بعد ۔۔۔ خشونت سنگھ

July 6, 2019

مرنے کے بعد ( خشونت سنگھ ) سن انیس سو پنتالیس کی ایک شام۔ مجھے بخار ہے۔ میں بستر میں پڑا ہوں، لیکن کوئی گھبراہٹ والی بات نہیں ہے، بالکل ہی گھبرانے والی بات نہیں، کیونکہ مجھے میرے حال پر ہی چھوڑ دیا گیا ہے۔ میرے پاس میری تیمارداری کے واسطے کوئی بیٹھا بھی نہیں […]

Read More
Show Buttons
Hide Buttons
%d bloggers like this: