وہ ۔۔۔ بلراج مینرا

 Penslips Weekly Magazine Issue # 100

وہ

 
بلراج مینرا

جب اس کی آنکھ کھلی؛ وہ وقت سے بے خبر تھا 
اس نے دایاں ہاتھ بڑھا کر بیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ اٹھایا اور سگریٹ نکال کر لبوں میں تھام لیا –
سگریٹ کا پیکٹ پھینکےکر اس نے پھر ہاتھ بڑھایا اور ماچس تلاش کی 
ماچس خالی تھی – 
اس نے خالی ماچس کمرے میں اچھال دی – 
خالی ماچس چھت سے ٹکرائی اور فرش پر آن پڑی 
اس نے ٹیبل لمپ روشن کیا – 
بیڈ ٹیبل پر چار پانچ ماچسیں الٹی سیدھی پڑی ہوئی تھیں – 
اس نے باری باری سب کو دیکھا – 
سب خالی تھیں 
اس نے لحاف پھینکا اور کمرے کی بتی روشن کی – 
دو بجے رہے تھے-
فرش برف ہورہا تھا 
ابھی دو بجے ہیں، میں وقت سے بے خبر تھا، میں سمجھ رہا تھا صبح ہونے کو ہے!
آج یہ بے وقت نیند کیسے کھل گئی؟؟ 
اک بار آنکھ کھل جائے، پھر آنکھ نہیں لگتی! 
اس نے تمام کمرا چھان مارا – 
کتابوں کی الماری، ویسٹ پیپر، پتلون کی جیبیں__ماچس کہیں نہ ملی – 
اس نے ایک ایک کتاب الٹ دی__کوئی دیا سلائی نہ ملی 
کمرے کی بری حالت ہوگئی تھیں، 
کپڑے ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے ٹرنک کھلا ہوا تھا – 
کوئی آجائے اس سمے؟؟ 
رات کے دو بجے؟ کمرے کی یہ حالت؟ 
سگریٹ اس کے لبوں میں کانپ رہا تھا – سلگتے سگریٹ اور دھڑکتے دل میں کتنی مماثلت ہے! 
ماچس کہاں ملے گئی؟
ماچس نہ ملی تو کہیں…….. 
تو کہیں……. 
کہیں میرا ڈھرکتا دل خاموش نہ ہوجائ 
آج یہ بے وقت کیسے کھل گئی 
میں وقت سے بے خبر تھا 
اک بار آنکھ کھل جائے، پھر آنکھ نہیں لگتی
ماچس کہاں ملے گی؟ 
اس نے چادر کندھوں پر ڈالی اور کمرے سے باہر آگیا – 
دسمبر کی سرد رات تھی، سیاہی کی حکومت اور خاموشی کا پہرہ – 
کسی ایک طرف قدم اٹھانے سے پہلے وہ چند لمحے سڑک کے وسط میں کھڑا رہا – جب اس نے قدم اٹھائے، 
وہ راستے سے بے خبر تھا – 
رات کالی تھی، رات خاموش تھی اور دور دور تا حد نظر، کوئی دکھلائی نہیں دے رہا تھا لمپ پوسٹوں کی مدھم روشنی رات کی سیاہی اور خاموشی کو گہرا کررہی تھی اور چوراہے پر اس کے قدم رک گئے – یہاں تیز روشنی تھی کہ دودھیا روشنی کی کی ٹیوبیں چمک رہی تھیں لیکن خاموشی جوں کی توں تھی کہ ساری دکانیں بند تھیں – 
اس نے حلوائی کی دوکان کی جانب قدم بڑھائے – 
ممکن ہے بھٹی میں کوئی کوئلہ مل جائے، دہکتا کوئلہ، دم بہ لب کوئلہ! 
حلوائی کی دوکان کے چبوترے پر کوئی لحاف میں گٹھری بنا سورہا تھا – 
وہ بھٹی میں جھانکا ہی تھا کہ چبوترے پر بنی گٹھری کھل گئی – کون ہے؟ کیا کررہے ہو؟ 
میں بھٹی میں سلگتا ہوا کوئلہ ڈھونڈ رہا ہوں! 
پاگل ہوگیا؟ بھٹی ٹھنڈی پڑی ہے؟ 
تو پھر! 
پھر کیا! گھر جاؤ 
ماچس ہے آپ کے پاس؟ 
ماچس؟ 
ہاں مجھے سگریٹ سلگانا ہے! 
تم پاگل ہو! جاؤ میری نیند خراب مت کرو جاؤ! 
تو ماچس نہیں ہے آپ کے پاس؟ 
ماچس سیٹھ کے پاس ہوتی ہے وہ آے گا اور بھٹی گرم ہوگی – جاؤ تم! 
وہ پھر سڑک پر آگیا – 
سگریٹ اس کے لبوں میں کانپ رہا تھا – اس نے قدم بڑھائے – 
چوراہا پیچھے رہ گیا، تیز روشنی پیچھے رہ گئی؛ کیا کیا کچھ نہ پیچھے رہ گیا – 
اس کے قدم تیزی سے اٹھ رہے تھے 
لیمپ پوسٹ، لیمپ پوسٹ لیمپ پوسٹ ان گنت لمپ پوسٹ پیچھے رہ گئے دھیمی روشنیوں والے لیمپ پوسٹ جو رات کی سیاہی اور خاموشی کو گہرا کرتے ہیں – 
یکایک اس کے قدم رک گئے – 
سامنے سے کوئی آرہا تھا – 
وہ اس کے قریب آکر رک گیا – 
ماچس؟ 
مجھے سگریٹ سلگانا ہے 
نہیں، میرے پاس ماچس نہیں ہے – – میں اس علت سے بچا ہوا ہوں… 
میں سمجھا 
کیا سمجھے؟ 
شائد آپ کے پاس ماچس ہو! 
میرے پاس ماچس نہیں ہے – میں اس علت سے بچا ہوا ہوں اور اپنے گھر جارہا ہوں – تم بھی اپنے گھر جاؤ! 
اس نے قدم بڑھائے – 
سگریٹ اس کے لبوں میں کانپ رہا تھا 
وہ دھیمے دھیمے قدم اٹھا رہا تھا کہ تھک گیا تھا – 
وقت سے بے خبر، اس کے تھکے تھکے قدم اٹھ رہے تھے – 
لمپ پوسٹ مدھم روشنی پھیلی ہوئی دکھائی دیتی اور پھر سیاہی – 
پھر لمپ پوسٹ مدھم روشنی اور پھر سیاہی – 
وہ لبوں میں سگریٹ تھامے دھیمے دھیمے قدم اٹھا رہا تھا – 
اس کے پھیپھڑوں تک دھواں کھنچے کی طلب شد ید ہوگئی تھی – 
اس کا بدن ٹوٹ رہا تھا – 
شب خوابی کے لباس اور چادر میں اسے سردی لگ رہی تھی – 
وہ کانپ رہا تھا اور کانپتے قدموں سے دھیمے دھیمے بڑھ رہا تھا؛ وقت سے بے خبر؛ لمپ پوسٹوں سے بے خبر – 
اک بار پھر اس کے قدم رک گئے 
اس کی نظر وں کے سامنے خطرے کا نشان تھا 
سامنے پل تھا؛ مرمت طلب پل – 
حادثوں کی روک تھام کے لئے سرخ کپڑے سے لپٹی ہوئی لالٹین سڑک کے بیچوں بیچ اک تختے کے ساتھ لٹک رہی تھی – 
اس نے لالٹین کی بتی سے سگریٹ سلگانے کے لیے قدم اٹھایا ہی تھا کہ 
کون ہے؟ 
وہ خاموش رہا – 
سیاہی کی اک انجانی تہہ کھول کر سپاہی اس کی طرف لپکا – 
کیا کررہے تھے؟ 
کچھ نہیں! 
میں کہتا ہوں کیا کررہے تھے؟ 
آپ کے پاس ماچس ہے؟ 
میں پوچھتا ہوں کیا کررہے تھے اور تم کہتے ہو ماچس ہے – کون ہو تم….؟ 
مجھے سگریٹ سلگانا ہے، آپ کے پاس ماچس ہےہو تو…… 
تم یہاں کچھ کر رہے تھے؟ 
میں…… 
کہاں رہتے ہو؟ 
ماڈل ٹاؤن 
اور تمھیں ماچس چاہیے…. ماڈل ٹاؤن میں رہتے ہو…. ماڈل ٹاؤن کہاں ہے؟ 
ماڈل ٹاؤن 
اس نے گھوم کر اشارہ کیا – دور دور، تا حد َ نظر، سیاہی پھیلی ہوئی تھی – 
چلو میرے ساتھ تھانے تک… ماڈل ٹاؤن….؟ یہاں سے دس میل کے فاصلے پر ہے… ماچس چاہیے نا…… تھانے میں مل جائے گی! 
سپاہی نے اس کا بازو تھام لیا – 
وہ سپاہی کے ساتھ چل پڑا 
تھانہ اسی سڑک پر تھا جو ختم ہونے کو نہ آتی تھی 
وہ سپاہی کے ساتھ تھانے کے اک کمرے میں داخل ہوا 
کمرے میں کئی آدمی ایک بڑی میز کے گرد بیٹھے ہوئے تھے 
سب سگریٹ پی رہے تھے 
میز پر سگریٹ کے کئی پیکٹ اور ماچسیں پڑی ہوئی تھیں 
صاحب! یہ شخص پل کے پاس کھڑا تھا – کہتا ہے ماڈل ٹاؤن میں رہتا ہوں اور ماچس ماچس کی رٹ لگائے ہوئے ہے 
کیوں بے؟ 
اگر آپ اجازت دیں تو آپ کی ماچس استعمال کر لوں – مجھے اپنا سگریٹ سلگانا ہے؟ 
کہاں رہتے ہو؟ ماڈل ٹاؤن – کیا میں آپ کی ماچس لے سکتا ہوں؟ 
کیا کرتے ہو؟ 
میں اجنبی ہوں ! کیا میں ماچس…..
ماڈل ٹاؤن میں کب سے رہتے ہیں ہو؟ تین ماہ سے! ماچس… 
ماچس…. ماچس کا بچہ اجنبی … جاؤ اپنے گھر…. ورنہ بند کر دو ں گا… ماچس….؟ 
جب وہ تھانے سے باہر آیا، وہ بری طرح تھک چکا تھا 
اس نے اس نہ ختم ہونے والی سڑک پر دھیمے دھیمے چلنا شروع کردیا – 
اس کی ناک سوں سوں کرنے لگی تھی اور اس کا بدن ٹوٹنے لگا تھا 
سگریٹ پینا ایک علت ہے؟ 
میں نے یہ علت کیوں پال رکھی ہے؟ 
ماچس کہاں ملے گئی 
نہ ملی تو 
وہ وقت سے بے خبر تھا؛ لیمپ پوسٹوں سے بے خبر تھا، سڑک سے بے خبر تھا ، اپنے بدن سے بے خبر تھا 
وہ گر تا پڑتا بڑھ رہا تھا – 
اس کے لغزش زدہ قدموں میں نشے کی کیفیت تھی 
پو پھٹی اور وہ دم بھر کو رکا 
دم بھر کو رکا اور سنبھلا 
سنبھلا اور اس نے قدم اٹھانا ہی چاہا کہ __
سامنے سے کوئی آرہا تھا اور اس کے قدم لغزش کھا رہے تھے 
وہ اس کے قریب آکر رکا – 
اس کے لبوں میں سگریٹ کانپ رہا تھا 
آپ کے پاس ماچس ہے ؟ 
ماچس؟ 
آپ کے پاس ماچس نہیں ہے! 
ماچس کے لیے تو میں……
وہ اس کی بات سنے بنا ہی آگے بڑھ گیا – 
آگے، جدھر سے وہ خود آیا تھا – 
اس نے قدم بڑھایا – 
آگے ؛ جدھر سے وہ آیا تھا – 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.