میرا نام میں ہے۔۔۔بلراج مینرا

میرا نام میں ہے

بلراج مینرا

 میرے قدم یکایک رک گئے اور میری نظروں کے سامنے…. اور میں نے دیکھا کہ… کہ ایک نیا… کہ ایک اجنبی…… کہ… کہ … 
اجنبی زمین، اجنبی آسمان، سب کچھ اجنبی___
دل کی دھڑکن، اجنبی، تاحد َنظر بکھرے ہوئے رنگ اجنبی_____
پھول اجنبی اور بے نام؛ پیڑ بے نام اور اجنبی___
 آسمان صاف شفاف، دھلا ہوا، نیلا، گہرا اور اونچا، دور بہت دور، راکھ کی رنگت سی پہاڑی پر جھکا ہوا 
 پہاڑی، راکھ سا رنگ، جن، بھوت پریت سا انگ، سوئی ہوئی، محو َ خواب، زمین پر دراز زمین، تاحد نظر، نظروں کے ہر زاویے کی حد میں، ان گنت رنگوں کے ملبوس میں، سبز لکیریں، پیلے دائرے، گلابی تکونیں، کالے، لال، سفید، بینگنی نقطے —-پوجا کے رنگ 
ہوا، دھیمے دھیمے بہتی ہوئی سیٹاں بجاتی – باس، ناآشنا، سرور انگیز 
پھول، پیڑ اور پودے، حیراں-
تنہائی، پریشاں 
اداسی، لرزاں – 
کھوئی ہوئی پگڈنڈیاں، بھولے بھٹکے راستے – 
دھوپ پیلی اور مدھم – 
میں وہ دنیا دیکھا کیا، دیکھا کیا___جگ بیت گئے – 
 اور پھر میں نے قدم اٹھائے اور دھیمے دھیمے پگڈنڈیاں روندتے ،راستے ناپتا صدیوں بعد پہاڑی کے دامن میں پہنچا – یکایک میرے قدم رک گئے اور میں نے دیکھا….. میں نے پہاڑ ی کے دامن میں، جھکے ہوئے آسمان کے نیچے، میں نے اک 
میں نے اک لاش دیکھی – 
گول پتھر کا تکیہ، پتھریلی سطح کا بستر، ہوا کی چادر – 
 نرم، سوکھے، گھنے اور چاندی کی چند تاریں لیے سیاہ بال، ہوا کے پنکھے سے لرزاں – چوڑی، اجلی شکنوں سے بے نیاز پیشانی
تیکھی بھویں، پلکوں کے پردوں سے ڈھکی ہوئی آنکھیں – 
چہرے کی سطح سے کچھ ابھری ہوئی ناک 
گالوں کی ہڈیاں، گندمی رنگت کے گوشت کی موٹی تہ، سے ڈھکی چھپی – 
ہونت قدرے پھیلے ہوئے، مقناطیسی مسکراہٹ سمیٹے ہوئے – 
محبتوں، حسرتوں کا درپن – جانے کتنی صدیاں میں وہ درپن دیکھا کیا – 
میرے خدو خال میری نظروں کے سامنے واضح ہوگئے 
 میں ہانپتا کانپتا پہاڑی کی جیل پہاڑی کی چوٹی پر پہنچا اور پھر چند ہی لمحوں میں دوسری جانب نیچے اتر گیا – 
 درمیان میں پہاڑی تھی – میں اس طرف بھی تھا اور اس طرف بھی – اس طرف دور، چند جھونپڑیاں تھیں – 
میرے قدم بچی کچھی قوتیں سمیٹ کر تیزی سے بڑھنے لگے – 
گھاس پھونس کی اک ننگی سی جھونپڑی میری دنیا ہے اور سمے؟؟ 
 اب کہ اتنا سمے بیتےگیا ہے سمے کہ دن مہینے ، سال اور صدیاں جسے سمیٹ نہیں سکتیں – اب بھی میرے ذہن میں جھکڑ چل رہے ہیں، آوازوں کے جھکڑ – 
 تم نہ جانے کس دکھی آتما کا شراپ ہو کہ تمہارا وجود زہر ہے کہ آپ سے آپ رگ وپے میں سرایت کر جاتا ہے – جانے کتنے خوبصورت لوگ تمہاری قربت کے زہر سے( اپنے ہاتھوں )مارے گئے – 
 پہلے جییت اور موہن گئے کہ انھیں دنیا حقیر دکھائی دیتی تھی اور کیوں نہ حقیر دکھائی دے کہ تم کہتے ہو اس دنیا میں ذہانت کی کوئی جگہ نہیں – جیت اور موہن دغا کھا گے – پھر ارجن دیو گیا کہ تم نے اسے کہا تھا “ارجن دیو، اس پہاڑی پر یہ وکٹری ٹاور کیوں تعمیر کیا گیا ہے اس لیے کہ اس ٹاور سے ایک چھلانگ اور من کی شانتی نصیب – اور پھر باری آئی پگلے امر کی بیچارہ اپنی محبوبہ کو دو دو ہزار الفاظ کا ٹیلی گرام دیا کرتا اور جواب سے محروم رہتا تھا اور تم نے اسے کہا تھا کہ جواب پانا ہے تو موت کی سرحد سے ٹیلی گرام دو اور دھن راج! تم نے اس نازک اور کمزور لمحے میں اسے کہا تھا کہ ڈبل ڈیکر اس لیے سڑکوں پر دوڑتی ہے کہ کودنے کے لیے قطب نہ جانا پڑے – 
 اور ترلوچن______سنگدل محبوبہ کو رام کرنے کے لیے محبوبہ کے سامنے زہر پھانکنا پڑتا ہے اور تر لو چن کی موت پر تم نے کہا تھا کہ میرے دوستوں نے عجیب گورھ دھندا اپنا رکھا ہے کہ آئے دن خودکشی کرتے رہتے ہیں اورتم خوش ہورہے تھے کہ… اور میں نے تمہیں کہا تھا کہ نہ جانے تم کس دکھی آتما کا شراپ ہو – 
اس شراپ کو ٹال دو، اب تمہاری باری ہے، تمہاری اپنی – 
 آوازوں کے جھکڑ اتنے شدید ہیں کہ میرے درخشاں خدوخال مٹی مٹی َ ہوگئے ہیں ___دکھی آتما کا شراپ میں نے اپنی ذات تک محدود کرلیا ہے
میں کی مندرجہ بالا تحریر پیس کرنے کے بعد اب ایک روز نامے سے خبر نقل کررہا ہوں:
دھول پور میں خودکشی 
) نامہ نگار )
دھول پور : 88 دسمبر کل یہاں ایک جھونپڑی میں ایک انجان آدمی مردہ پایا گیا – پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ بھوک ہے – کہا جاتا ہے کہ اس شخص کے پیٹ میں گزشتہ بیس دن سے چاول کا ایک دانہ تک نہیں پہنچا جھونپڑی میں پانچ ہزار روپے کی کرنسی نوٹ پھلوں کی ٹوکریاں؛ دودھ کی پانچ بوتلیں اور کئی تنوری پراٹھے ملے خوردونوش کا سارا سامان گل سڑ چکا تھا آس پاس کے گاؤں میں اس خودکشی کا بہت چرچہ ہے 
 اس خبر کے پندرہ دن بعد یہاں کے ایک پندرہ روز پرچے میں سیاہ چوکٹھے میں جڑا ہوا ایک مختصر سا ماتمی نوٹ چھپا؛ جو یوں ہے :
 مرحوم میں َ یہاں کے ان َ ٹیلی جنشیا میں ممتاز تھے – آپ کو کریم آف ناردن انڈیا کہا جاتا تھا میں کی زندگی چند دوستوں اور کتابوں پر مشتمل تھی – گزشتہ تین سالوں میں ان کے تمام دوستوں نے یکے بعد دیگرے خودکشی کی – آخری دوست کی خودکشی کے بعد میں َ لاپتہ ہوگئے اور یہاں کافی ہاؤس اور پریس کلب میں ان کی گمشدگی بات چیت کا موضوع بن گی ۔
 دھول پور سے جو خبریں موصول ہوئی ہیں، ان سے صاف ظاہر ہے میں َ صاحب نے بھی اپنے دوستوں کی طرح خودکشی کی – انھوں نے گہماگہمی کی دنیا سے بہت دور، گھاس پھونس کی جھونپڑی کا انتخاب کیا – جھونپڑی میں دنیا وی عیش وآرام کا سامان مہیا کیا : پانچ ہزار روپے، پھلوں کی دو ٹوکریاں، دودھ کی پانچ بوتلیں اور تنوری پراٹھے – اور ان سب چیزوں کی موجودگی میں بھوکے پیٹ موت کے لیے تپسیا شروع کر دی اور آخر سات دسمبر کو ان کا تپ سما پت ہوا – 
میں َ کو مرنا تھا، میں مرگیا – بات صرف اتنی سی ہے. – – 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.