بربریت کی کہانی کا آخری صفحہ ۔۔ علی زیرک

Ali Zeerak is a young brilliant poet from Pakistan, residing at Sharja.

بربریت کی کہانی کا آخری صفحہ

( علی زیرک )

“مصر” مجبور ہے
“شام” رنجور ہے
شُوم جاتی مسلمان کی کھال اُدھڑی تو اُجلی، دمکتی ہوئی
“گوری چمڑی “میں وہسکی چھلکنے لگی
واڈکا سے دُھلے ہونٹ مشرق میں وحشت کے پھیلاوء پر 
گہری تشویش میں ایسے سُکڑے کہ عالم پنہ کو ہنسی آگئی
“بار “میں بیٹھ کر دو “ٹکیلا “کے شارٹ 
“روز پیرس” کی باس اور
بارود کی بُو سونگھنے میں بہت فرق ہے
تُم ابھی ساحلوں کی خُنک ریت پر موسمی اور برینڈڈ 
لبادوں میں محفوظ اپنی 
بغل میں نکون اور کینن دبائے چلے جارہے ہو
حلب میں بکھرتی ہوئی راکھ میں ہم بکھرتے رہے 
روہنگیامیں بھڑکتی ہوئ آگ میں ہم نے کوڑھی مُرادوں کا نروان دیکھا
تمہیں کیا خبر کس نے کشمیر کی آنکھ میں 
اتنے آنسو جڑے کہ زمستاں کی پلکیں بھی جھڑنے لگیں
ہم نے بغداد کے “گہرے چھتنار “کو 
آریوں اور کٹاروں سے کٹتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا
ہمیں “لیبیا کا بزرگ” اپنی دانائی کے سارے اسرار کھولے جگاتا رہا 
ہم پڑے رہ گئے 
ہم مرے رہ گئے 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: