ملحد کا اوور کوٹ ۔۔۔ برٹولٹ بریخت

Bertolt Brecht (10 February 1898 – 14 August 1956) was a German theatre practitioner, playwright, and poet

مُلحد کا اور کوٹ

( برٹولٹ بریخت )

 (مترجم: ڈاکٹر مبارک علی )

یہ 1600ء کی بات ہے کہ چرچ کا محکمہ انکو ئیزیشن (Inquisition) گیارڈنو برونو (Giordano Bruno)کو اس کے ملحدانہ خیالات کی وجہ سے زندہ آگ میں جلانا چاہتا تھا۔ برونو محض اس لیے عظیم انسان نہیں تھا کہ اس نے ستاروں کی گردش کو حقیقت ثابت کیا تھا۔ بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے بڑی جرأت و بہادری کے ساتھ انکوئیزیشن کی عدالت میں اپنا مقدمہ لڑا تھا اور ان سے مخاطب ہو کر یہ تاریخی الفاظ کہے تھے۔
“تم میرے خلاف یہ فیصلہ ڈر اور خوف کے ساتھ دے رہے ہو۔”
جب بھی کوئی اس کی تحریروں کو پڑھتا ہے، اور ان رپورٹوں پر نظر ڈالتا ہے جو اس کے خلاف مقدمہ کے دوران لکھی گئیں، تو اسے ایک بڑا آدمی تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے متعلق ایک اور واقعہ بھی ہے جس کی وجہ سے ہماری نظروں میں اس کی عزت اور بڑھ جاتی ہے۔ یہ واقعہ اس کے اوور کوٹ کا ہے۔
لیکن پہلے یہ دیکھنا چاہیئے کہ آخر وہ انکوئیزیشن کے ہاتھوں گرفتار کیسے ہوا؟
وینس کے ایک امیر جس کا نام موچے نیگو تھا، اسے ایک مرتبہ اپنے گھر پر بلایا تاکہ وہ اس سے طبعیات اور دوسرے علوم پر اسباق لے سکے۔ لیکن ایک ماہ میں اس نے جو کچھ اسے پڑھایا، موچے نیگو اس سے غیر مطمٔین رہا۔ کیونکہ اسے امید تھی کہ برونو اسے علم طبعیات کے بجائے کالے جادو کی تعلیم دے گا۔ اس لیے اس نے کئی بار اسے بڑے خلوص سے تنبیہہ بھی کہ وہ اسے پرسرار اور فائد ہ مند علم سکھائے، کیونکہ اسے یقین تھا کہ برونو جیسا مشہور عالم اس علم سے ضرور واقف ہوگا۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ برونو اس معاملہ میں اس کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں ،تو اس نے سوچا کہ کسی طرح اس معاوضہ ہی کو بچایا جائے جو پڑھائی کے عوض طے ہوا تھا، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے اسے انکوئیزیشن کے سامنے ملزم ٹرنایا۔ اس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس خراب اور ناشکرے انسان نے اس کی موجودگی میں حضرت عیسٰی کو برا بھلا کہا، اور راہبوں و پادریوں کے بارے میں کہا کہ وہ گدھے ہیں، اور عوام میں سب سے زیادہ احمق ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے بائبل کی تعلیمات کے خلاف پڑھایا وغیرہ وغیرہ ، اس کے ساتھ ہی موچے نیگو نے اسے ایک کمرے میں بند کردیا، اور انکوئیزیشن کے افسروں سے درخواست کی کہ وہ اسے آکر لے جائیں۔ 
اس کی رپورٹ پر انکوئیزیشن کے افسر رات کو آئے اور اسے اپنے ساتھ جیل لے گئے۔ یہ واقعہ بروز پیر، صبح تین بجے، 25 مئی 1592ء کو ہوا۔ اس دن سے جب کہ اسے 17 فروری 1600ء کو ایندھن کے ڈھیر پر زندہ جلانے کے لیے لایا گیا، وہ جیل سے باہر نہیں نکلا، ان 8 سالوں میں جب کہ وہ مقدمہ کی اذیتوں سے گزرا وہ بغیر کسی کمزوری کے اپنی زندگی کے لیے لڑتا رہا۔ لیکن ایک مہینہ جو اس نے وینس میں اپنے دفاع میں گزارا، صرف اس وقت وہ اپنا دفاع تند ہی سے نہیں کرسکا، کیونکہ اسی دوران اوورکوٹ کا واقعہ پیش آیا۔
1592ء کی سردیوں میں جب کہ کرایہ کے ایک کمرے میں رہتا تھا، اس نے شہر کے ایک درزی جس کا نام جبریل سنتو تھا، اپنے لیے ایک موٹے اوورکوٹ کا ناپ دیا تھا، کوٹ ملنے کے بعد ہی اسے گرفتار کرلیا گیا، یہ وقت تھا کہ وہ اس کی قیمت ادا نہیں کرسکا تھا۔
درزی نے جیسے ہی اس کی گرفتاری کی خبر سنی تو وہ بھاگا ہوا موچے نیگو کے مکان پر پہنچا تاکہ اپنی رقم وصول کرسکے۔ لیکن وقت گزر چکا تھا، موچے نیگو کے گھر کے ایک خادم نے اسے دروازے پر ہی روک دیا اور کہا کہ “اس دھوکہ باز کو ہم پہلے ہی بہت دے چکے ہیں۔” اس نے یہ الفاظ دروازے پر کھڑے کھڑے اتنے زور سے کہے کہ راستہ چلتے چند لوگ بھی رک گئے، “بہتر یہ ہے کہ اس ملحد کے خلاف جو کچھ کہنا ہے وہ مقدس عدالت کے سامنے جاکر کہو۔”
درزی ان الفاظ کو سن کر سکتہ میں آگیا، اور اسی حالت میں تھوڑی دیر تک وہ گلی میں کھڑا رہا۔ گلی کے چند لڑکوں نے جنہوں نے اس گفتگو کو سنا تھا، ان میں سے ایک نے اسے نشانہ بنا کر پتھر پھینکا، اگرچہ اس پر ایک پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک عورت نے اس لڑکے کے کان کھینچے، مگر اس سے سنتو کو فوراً اس بات کا احساس ہوگیا کہ شاید لوگوں کا یہ خیال ہوگا کہ اس کا بھی اس ملحد سے ضرور کوئی تعلق ہے۔ اس لیے وہ خاموشی سے تیز تیز چلتا ہوا اپنے گھر واپس ہوا۔ اس نے اپنی بیوی کو اس حادثہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اگرچہ اسے اپنے شوہر کی ہفتہ بھر کی خاموشی اور اداسی پر تعجب ضرور ہوا۔
پہلی جون کو حساب لکھتے ہوئے اسے پتہ چلا کہ ایک اوورکوٹ کی قیمت ادا نہیں کی گئی ہے اور یہ اوورکوٹ اس آدمی کے نام پر تھا جس کا نام اس وقت شہر کے بچہ بچہ کی زبان پر تھا اور اس کے بارے میں بری بری قسم کی افواہیں گردش کررہی تھیں۔ اس نے نہ صرف یہ کہ کتابیں لکھ کر اپنی عزت و آبرو مٹی میں ملائی۔ بلکہ اپنی گفتگو میں مذہب کے خلاف بھی باتیں کہیں۔ مثلاً حضرت عیسٰی کو جادوگر کہا اور احمقانہ قسم کی باتیں سورج کے بارے میں کہیں۔ اس لیے ایسے شخص سے یہ امید کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے اوورکوٹ کی قیمت ادا نہ کرے گا۔ اس نیک عورت کی بالکل بھی یہ خواہش نہیں تھی کہ وہ اس بڑے نقصان کو برداشت کرے۔ اس لیے اپنے شوہر سے لڑ جھگڑ کر یہ 70 سالہ عورت اپنے اتوار کے کپڑوں میں مقدس عدالت کی عمارت جا پیاس اور وہاں اس نے بڑی ناراضی سے اپے۔ 32 اسو ڈی (ایک قما کا سہ ) کے لے ما لہا کیا جو اس ملحد قیدی کے ذمہ تھے۔ ایک عہدے دار نے اس کے مطالبہ کو لکھا اور وعدہ کیا کہ وہ اس معاملہ کی چھان بین کرے گا۔
اس کے کچھ عرصے بعد سنتو کا مقدس عدالت سے بلاوا آگیا، اس پر وہ غریب ڈر اور خوف سے کانپتا ہوا، اس ہیبت ناک عمارت میں جاپہنچا اور اپنی آمد کی اطلاع دی۔ اور تعجب ہوا کہ اس سے کوئی سوالات نہیں پوچھے گئے اور صرف یہ کہا گیا کہ قاعدے و قوانین کی رو سے اس کے قرضہ کے بارے میں، قیدی کی مالی حالت دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، ساتھ ہی میں عہدے دار نے اس سے یہ بھی کہا کہ اسے کسی خاص کامیابی کی امید نہیں رکھنی چاہیئے۔
بوڑھا آدمی اس طرح سے سستے چھوٹ جانے پر بڑا خوش ہوا، بلکہ اس نے عہدے دار کا خوشامدانہ انداز میں شکریہ بھی ادا کیا۔ لیکن اس کی بیوی اس پر بالکل بھی خوش نہیں ہوئی اگرچہ اس نقصان کو پورا تو کیا جاسکتا تھا، مگر وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا شوہر شام کا آرام ختم کرکے رات گئے تک سلائی میں مصروف رہے۔ اس کے علاوہ وہ کپڑے والے کے بھی مقروض تھے، اور اس کا قرضہ دینا بھی ضروری تھا، اس لیے وہ گھر میں اور گھر سے باہر کہتی پھرتی تھی کہ یہ شرم کی بات ہے کہ ایک دھوکہ باز کو اس سے پہلے کہ وہ اپنا قرضہ ادا کرے، گرفتار کرکے اسے قرض خواہوں سے پناہ دے دی گئی۔ اس نے یہاں تک کہا کہ وہ اپنے 22 اسکوڈی کی خاطر روم میں مقدس باپ کے پاس تک جانے سے گریز نہیں کرے گی، اور پھر وہ آخر میں یہ کبھی کہتی تھی کہ
“اور اسے آگ کے ایندھن پر اوورکوٹ کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔”
اس سلسلہ میں وہ اپنے محلہ کے پادری کے پاس بھی گئی اور جو کچھ اس کے ساتھ پیش آیا تھا وہ بیان کیا، اس پر پادری نے اسے مشورہ دیا کہ وہ مقدس عدالت سے یہ مطالبہ کرے کہ اگر اسے پیسے نہیں دیے جاسکتے تو کم از کم اوورکوٹ ہی دیدیا جائے۔ لیکن بوڑھی عورت کا کہنا تھا کہ اوورکوٹ برونو کے ناپ کے مطابق تیار ہوا ہے، اور وہ کوٹ یقیناً اس نے پہنا بھی ہوگا، اس لیے وہ کوٹ واپس لے کر اس کا کیا کرے گی۔ اسے تو اس کی قیمت چاہیئے۔ جب اس نے زیادہ شور و غوغا کیا تو پادری نے اسے کمرے سے نکال دیا۔ اس پر وہ تھوڑا سا ڈری اور کچھ ہفتے خاموش رہی اور گرفتار ملحد کے خلاف اس نے زیادہ باتیں نہیں کیں۔
شہر میں ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ مقدمہ میں عدالت نے بہت ہی ظالمانہ اور غیر ہمدردانہ رویہ اختیار کیا ہے، بوڑھی عورت ادھر ادھر سے یہ باتیں غور سے سنتی رہتی، اس کے لیے یہ بات اذیت کا باعث تھی کہ ملحد کے خلاف سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، اس لیے اس کے آزاد ہونے کے کوئی امکانات نہیں، اور جب وہ آزاد نہیں ہوگا تو اپنا قرضہ بھی ادا نہیں کرسکے گا۔ اس خیال سے اس کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔
اگست کے مہینے میں جب کہ گرمی نے سب کے ہوش اڑا رکھے تھے، تو اس نے اپنے گاہکوں کے سامنے شکایتوں کی بھرمار شروع کردی، اور یہاں تک کہا کہ پادریوں کو سخت گناہ ہوگا، اگر انہوں نے ایک غریب دستکار کے جائز مطالبہ کو پورا نہیں کیا اور اسے ایسے ہی رہنے دیا، کیونکہ ایک تو ٹیکسوں کی بھرمار ہے، اور پھر مہنگائی، اور اس صورت حال میں مالی نقصان۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک دن صبح کے وقت ایک عہدے دار اسے مقدس دفتر لے گیا اور وہاں اسے تنبیہہ کی گئی کہ وہ آئندہ کے لیے اپنی زبان پر قابو رکھے۔ اس سے کہا گیا کہ کیا اسے شرم نہیں آتی کہ وہ چند سکوں کی خاطر ایک انتہائی مقدس اور اہم مقدمہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے؟ اس سے کہا گیا کہ وہ خود سمجھ جائے، ورنہ اسے خاموش کرنے کے لیے دوسرے طریقے اختیار کیے جائیں گے۔ 
کچھ عرصہ کے لیے تو اس تنبیہہ نے اثر کیا، لیکن جب اسے مقدس عہدے دار گے یہ الفاظ یاد آتے کہ “چند سکوں کی خاطر” تو اسے غصہ آتا، مگر صبر کرکے خاموش ہو جاتی۔ لیکن ستمبر کے مہینہ میں جب یہ خبر پھیلی کہ انکوئیز یشن کے بڑے آفس نے قیدی کو روم بلایا ہے، تو ایک بار پھر عورت کو اپنے پیسوں کی فکر پڑگئی۔
کچھ عرصہ کے لیے شہر کے لوگوں میں یہ بات موضوع بحث بن گئی کہ اسے روم کے حوالہ کیا جائے یا نہیں؟ شہر کی انتظامیہ روم کی عدالت کی برتری ماننے پر تیار نہیں تھی۔ ادھر بوڑھی عورت کو فکر تھی کہ کیا واقعی اس ملحد کو قرضہ چکائے بغیر روم جانے دیا جائے گا؟ ابھی اس نے اس خبر کی تصدیق بھی پوری طرح نہ کی تھی، کہ اس سے ضبط نہیں ہوا، اور وہ بھاگی ہوئی مقدس عدالت کی عمارت جاپہنچی۔
اس مرتبہ ایک بڑے عہدے دار نے اس سے ملاقات کی، اور تعجب کی بات یہ تھی کہ پچھلے عہدے داروں کے مقابلہ میں اس نے، اس کی بات زیادہ غور سے سنی، جب وہ اپنی شکایت کرچکی تو بوڑھے عہدے دار نے معمولی وقفہ کے بعد سوال کیا کہ کیا وہ برونو سے ملنا پسند کرے گی؟
ٍ اس نے فوراً ہی ہامی بھرلی، اور ملاقات کے لیے دوسرا دن مقرر ہوا۔
دوسرے دن صبح کے وقت، ایک چھوٹے سے کمرے میں جن کی کھڑکیوں میں سلاخیں لگی ہوئی تھیں، اس کی ملاقات ایک دبلے پتلے چھوٹے سے آدمی سے ہوئی جس کی کالی داڑھی تھی۔ اس نے بڑے مہذب انداز میں اس سے پوچھا کہ اس کا کیا مطالبہ ہے؟
اس نے قیدی کو اس وقت دیکھا تھا جب وہ ناپ دینے آیا تھا، اسی لیے اس کے ذہن میں اس کی شکل محفوظ تھی، لیکن اب وہ اسے فوراً ہی نہیں پہچان سکی مقدمہ کے دوران اس میں کافی تبدیلی آگئی تھی۔
بوڑھی عورت نے جلدی جلدی سے کہا “وہ اوورکوٹ، جس کی قیمت آپ نے ادا نہیں کی۔”
برونو نے چند لمحہ اسے تعجب سے دیکھا، اور تھوڑی دیر بعد، جب اسے کچھ یاد آیا تو اس نے آہستگی سے پوچھا “میں آپ کا کتنے کا قرض دار ہوں؟”
“32 اسکوڈی کے” اس نے کہا “اس کا بل آپ کو دیدیا جائے گا۔”
اس پر برونو نے اس موٹے عہدے دار کی طرف دیکھا، جو اس گفتگو کے دوران اس پر نگاہ رکھے ہوئے تھا، اور اس سے پوچھا کہ کیا اسے معلوم ہے کہ اس کی کتنی رقم مقدس آفس میں جمع کی گئی ہے۔ موٹے عہدے دار کو اس کا علم نہ تھا، مگر اس نے وعدہ کیا کہ وہ اسے معلوم کرکے بتائے گا۔
قیدی دوبارہ اس بوڑھی عورت کی طرف متوجہ ہوا، اور یہ سوچتے ہوئے کہ اس کا اصل مسئلہ تو ختم ہوا، اس سے پوچھا کہ “آپ کے شوہر کے مزاج کیسے ہیں؟”
بوڑھی عورت جو قیدی کے اخلاق سے پریشان ہوچکی تھی، بڑبڑائی کہ اس کا شوہر ٹھیک ہے، صرف یہ کہ تھوڑا بہت اس کے جوڑوں میں درد رہتا ہے۔
دو دن بعد وہ پھر مقدس عدالت کے آفس گئی، اور برونو سے ملنے کی خواہش کی۔ 
اس کو ایک بار پھر ملنے اور بات کرنے کی اجازت مل گئی، لیکن اس بار اسے چھوٹے سلاخوں لگی کھڑکیوں والے کمرے میں قیدی کا کوئی ایک گھنٹہ انتظار کرنا پڑا، کیونکہ وہ عدالت میں تھا، جب وہ واپس کمرے میں آیا ہے تو چہرہ سے بڑا تھکا ہوا لگ رہا تھا، کمرے میں چونکہ کوئی کرسی نہیں تھی اس لیے وہ دیوار کا سہارا لے کر کھڑا ہوگیا لیکن اس نے فوراً ہی بوڑھی عورت سے مخاطب ہو کر بہت ہی کمزور آواز میں اسے بتایا کہ، اس کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ اوورکوٹ کی قیمت ادا کرسکے، کیونکہ اس کا سامان جو مقدس عدالت میں جمع ہے اس میں نقد رقم کچھ نہیں۔ لیکن اسے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ فرینکفرٹ میں ایک پبلیشر نے اس کی کتابیں چھاپی ہیں، جس کے پیسے اس نے اسے نہیں دیے ہیں، کل صبح وہ مقدس عدالت سے درخواست کرے گا کہ اسے پبلیشر کو خط لکھنے کی اجازت دے۔ آج اسے دوبار ہ مقدمہ میں پیش ہونا ہے۔ اگرچہ وہ تھک چکا ہے اور اس کی طاقت جواب دے چکی ہے۔ مگر اسے اپنا دفاع کرنا ہے، اسے ڈر ہے کہ وہ سوالوں کا جواب شاید ٹھیک سے نہیں دے سکے۔
جب وہ بول رہا تھا تو بوڑھی عورت چھبھتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی وہ ایسے قرض داروں کو خوب جانتی تھی جو پیسے دینے میں لیت و لعل کرتے تھے اور طرح طرح کے بہانے بنایا کرتے تھے۔
“جب تمہارے پاس اوورکوٹ کے پیسے دینے کو نہیں تھے، تو تم نے اوورکوٹ کس لیے سلوایا تھا۔” اس نے پوچھا۔
قیدی نے اس کی بات سن کر گردن ہلائی، اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اس کی بات سمجھ گیا ہے۔
“اس نے جواب میں کہا۔ “میں نے ہمیشہ کتابیں لکھ کر اور لکچر دے کر پیسے کمائے ہیں اس لیے میرا خیال تھا کہ میں جلد ہی کچھ پیسے کمالوں گا، اوورکوٹ مجھے اس لیے چاہیئے تھا کہ میرا ارادہ چھٹیوں میں باہر جانے کا تھا۔” یہ اس نے بغیر کسی تلخی کے ساتھ کہا۔ بوڑھی عورت کو تو اس جواب سے آگ لگ گئی، اور وہ غصہ سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے پیسے تو اب ڈوب گئے۔
اسی رات کو سوتے وقت اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ “وہ کون بے وقوف ہوگا جو ایسے شخص کو پیسے بھیجے گا، جس پر انکوئیز یشن میں مقدمہ چل رہا ہو۔”
اس کا شوہر تو اس بات پر ہی خوش تھا کہ اسے روحانی عہدے داروں نے سستا چھوڑ دیا، اور وہ اس پر پریشان تھا کہ اس کی بیوی پیسوں کی وصولی یابی کے لیے ناحق کو شش کررہی ہے۔ اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا کہ “اب اسے دوسری باتوں کے متعلق سوچنا چاہیئے۔”
دوسرا مہینہ بھی ان ناخوش گوار مسائل میں کوئی تبدیلی لائے بغیر گزر گیا۔ جب جنوری کا مہینہ شروع ہوا تو پوپ نے جمہوریہ پر دباؤ ڈالا کہ ملحد کو مقدمہ کی کاروائی کے لیے روم بھیجا جائے۔ اسی موقعہ پر اس بوڑھی عورت کو بھی مقدس آفس میں آنے کا دعوت نامہ ملا، چونکہ دعوت نامہ میں کسی خاص وقت کی پابندی کا ذکر نہیں تھا، اس لیے وہ ایک دوپہر وہاں چلی گئی۔ اس وقت قیدی جمہوریہ کے سرکاری وکیل کا انتظار کررہا تھا، جو کہ شہری کونسل کی جانب سے اس کے روم جانے کے خلاف اپیل کرنا چاہتا تھا۔
بوڑھی عورت کا استقبال اسی عہدے دار نے کیا کہ جس نے پہلی بار اس کی ملاقات کا برونو سے انتظار کرایا تھا۔ عہدے دار نے اسے بتایا کہ قیدی کی اس سے ملنے کی خواہش ہے لیکن اس وقت وہ اپنے مقدمہ کے سلسلہ میں ایک اہم گفتگو میں مصروف ہے، لہٰذا پہلے اس سے معلوم کرلیا جائے کہ وہ تم سے ملنے پر تیار ہے یا نہیں۔
عورت نے بھی مختصراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں ہاں ضرور معلوم کرلیا جائے۔ 
اس پر ایک آدمی فوراً باہر گیا، اور جب وہ واپس آیا تو قیدی اس کے ہمراہ تھا دونوں کی گفتگو اس اعلٰی عہدے دار کے درمیان ہوئی۔ 
اس سے پہلے کہ برونو، جو دروازے سے مسکراتا ہوا آیا تھا، کچھ کہتا، بوڑھی عورت فوراً بولی اگر آپ کا ارادہ چھٹیوں میں کہیں جانے کا تھا، تو پھر آپ نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ چھوٹا آدمی تھوڑی دیر کے لیے پریشان ہوگیا، اس نے ان تین مہینوں میں اتنے سوالات کے جواب دیے تھے کہ وہ فوراً کچھ نہ کہہ سکا، اور اسے عورت کے ساتھ آخری ملاقات بھی زیادہ یاد نہ رہی تھی، اس نے اس سے مخاطب ہوکر کہا۔
“مجھے کوئی رقم نہیں مل سکی۔ میں نے اس سلسلہ میں دوبارہ لکھا، مگر کوئی جواب نہیں آیا، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ آپ اوورکوٹ واپس لے لیں۔”
“مجھے معلوم تھا کہ یہی ہونے والا ہے۔” بوڑھی عورت نے حقارت سے کہا۔ “اسے ہم نے آپ کے ناپ کا بنایا تھا، اور وہ دوسروں کے کس کام آئے گا۔”
برونو نے اندرونی اذیت محسوس کرتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ “میں نے یہ سوچا تک نہیں تھا۔” وہ مقدس عہدے دار کی جانب مڑا اور اس سے مخاطب ہو کر کہا۔
“کیا میں اپنی تمام چیزیں فروخت کرکے اس کی رقم انہیں دے سکتا ہوں۔”
“یہ ممکن نہیں۔” اس عہدے دار نے کہا جو اسے بلا کرلایا تھا۔ “اس پر تو جناب موچے نیگو کا دعوٰی ہے، کیونکہ آپ ایک عرصہ تک ان کے خرچہ پر ان کے ہاں رہے تھے۔”
“اس نے دعوت دے کر بلایا تھا۔” برونو نے تھکے ہوئے لہجہ میں کہا اس پر بوڑھے عہدے دار نے ہاتھ اٹھا کر خاموش رہنے کو کہا، اور بولا۔
“اس وقت اوورکوٹ یہاں نہیں ہے، اور میرا خیال ہے کہ اب اسے یہاں لایا جائے گا۔”
“اس کا مطلب ہے کہ اب معاملہ پھر نئے سرے سے شروع ہوگا۔” عورت غصہ سے بولی۔
بوڑھے عہدے دار کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا، اور اس نے آہستہ آہستہ بولتے ہوئے کہا:
“محترمہ! اگر آپ میں تھوڑی سی بھی عیسائیت کی روح موجود ہو تو اس بات کو سمجھیں کہ یہ ملزم اس وقت ایک ایسے مقدمہ میں ملوث ہے کہ جس میں اس کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ اس لیے آپ اس پر اصرار نہیں کرسکتیں کہ وہ صرف آپ کے اوورکوٹ میں دلچسپی لے۔”
عورت نے اسے غصہ دار جھنجھلاہٹ کے ساتھ دیکھا، مگر پھر فوراً ہی اسے خیال آیا کہ وہ کس جگہ ہے، وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور جانا چاہتی تھی کہ اس وقت قیدی نے آہستگی سے کہا کہ “میرا خیال ہے کہ وہ یہ مطالبہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔”
جب عورت اس کی طرف مڑی تو اس نے کہا۔ “مجھے امید ہے کہ آپ مجھے معاف کردیں گی۔ آپ یہ مت سوچیئے کہ آپ کو نقصان برداشت کرنے دوں گا۔ میں اس سلسلہ میں عوامی عدالت سے اپیل کروں گا۔”
اس عرصہ میں وہ موٹا عہدے دار جو باہر چلا گیا تھا واپس آیا اور کہنے لگا۔
“اوورکوٹ کسی بھی صورت میں واپس نہیں کیا جائے گا۔ جناب موچے نیگو اسے ہر حالت میں لینا چاہتے ہیں۔”
یہ سن کر برونو کو سکتہ ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ قطعی لہجہ میں بولا۔
“یہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں اس پر مقدمہ کروں گا۔”
بوڑھے عہدے دار نے اس پر اپنا سر ہلایا اور برونو سے مخاطب ہوکر بولا:
“آپ اپنی اس اپیل کو تیار کریں، جو آپ سرکاری وکیل سے مل کر کررہے ہیں۔میں آپ کو یہاں بہت زیادہ عرصہ کے لیے روکنا نہیں چاہتا کہ آپ چند اسکوڈی کی خاطر ان جھمیلوں میں پڑیں۔”
یہ سن کر بوڑھی عورت کو سخت غصہ آگیا، اور اس کے ضبط کا دامن چھوٹ گیا۔
“چند اسکوڈی” اس نے چیخ کرکہا۔ “یہ ایک مہینہ کی کمائی ہے، یہ آپ کے لیے شاید نقصان نہ ہو، اور آپ اسے برداشت کرلیں، مگر ہمارے لیے ایسا نہیں۔”
اس ایک لمحہ ایک راہب کمرے میں آیا اور زور سے بولا۔
“سرکاری وکیل آگیا ہے۔”
موٹے عہدے دار نے برونو کو بازو سے پکڑا اور اسے باہر لے لیا، اس نے جاتے جاتے آخر وقت تک بوڑھی عورت کو دیکھا۔ اس کا دبلا پتلا چہرہ بالکل پیلا ہوگیا تھا۔
بوڑھی عورت پریشانی کے عالم میں عمارت کی پتھر والی سیڑھیوں سے اتر کر باہر آئی۔ وہ اس حد تک پریشان تھی کہ اس کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ رکھا تھا۔ کچھ دن تک وہ اپنی دکا ن پر بھی نہیں گئی۔ یہاں تک کہ ایک ہفتہ بعد وہ موٹا عہدے دار اوورکوٹ لے کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا۔
آخری دنوں تک وہ صرف اوورکوٹ کی خاطر لڑتا رہا، دوبارہ اس نے عدالت سے اپیل کی۔ اس وقت بھی جب کہ اس کے مقدمہ کی کاروائی جاری تھی وہ عدالت کے اعلٰی عہدے داروں سے مقدمہ کے بجائے اوورکوٹ کے مسئلہ پر بات کرتا رہا یہاں تک کہ آخر کار وہ کامیاب ہوگیا، اور موچے نیگو کو اوورکوٹ واپس کرنا پڑا۔ ویسے میرا خیال ہے کہ اس وقت اسے اس اوورکوٹ کی سخت ضرورت محسوس ہورہی ہوگی، کیونکہ اسی ہفتہ اسے روم لے جایا جارہا ہے۔”
اور یہ سچ بھی تھا، کیونکہ یہ جنوری کے آخری دن تھے۔

 

Top of Form

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: