شاھین کاظمی … برف کی عورت : Review

برف کی عورت

برف کی عورت

افسانوی مجموعہ از شاھین کاظمی

(تبصرہ کار : راشد جاوید احمد)

عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی تخلیق کار اپنے تخلیقی مجموعے کا نام اپنے کسی نمائندہ افسانے یا نظم و غزل پر ہی رکھتا ہے، چنانچہ میں نے بھی  اس کتاب میں ” برف کی عورت ” کو سب سے پہلے پڑھنے کے لئے منتخب کیا۔

” جبر آسمان کا شیوہ نہیں، یہ زمین کی پیداوار ہے “

” صرف عورت ہی کیوں اپنی پارسائی ثابت کرنے کے لئے گیلے ایندھن کی طرح عمر بھر سسکتی ہے “

” جسم کو پامال کیا جا سکتا ہے لیکن روح آزاد رہتی ہے “

شاہین کاظمی میرے لئے ایک نیا نام ہے۔ اس سے پہلے مجھے ان کی کسی تحریر کو پڑھنے کا کوئی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ برف کی عورت ایک خوبصورت کہانی ہے۔ ایک مشکل اور گنجلک موضوع کو بہت نفاست سے افسانے کی شکل دی گئی ہے. وہ لکھتی ہیں کہ جسم کو پامال کیا جا سکتا ہے لیکن روح آزاد رہتی ہے، سوچنے کی بات ہے کہ کیا جسم کی پامالی کے بعد روح واقعی آزاد رہ سکتی ہے یا یہ پامال ذات کے ساتھ سمجھوتہ ہے۔ میرا خیال تھا کہ مجموعے کی باقی کہانیاں بھی ایسی ہی ہوں گی اور انکو ایک ہی عنوان کے تحت پڑھا جا سکے گا یعنی برف کی عورت۔ لیکن جوں جوں میں کہانیاں پڑھتا گیا تو عنوانات اور تخیل کے کئی رنگ نظر آئے۔

ان میں سب سے زبردست کہانی ” سیندھ ” لگی جس کے ایک فقرے ” اللہ رسول کے نام پر کیے گئے گناہ کی لذت بڑی وکھری ہوتی ہے۔ ایک بار سواد منہ کو لگ جائے تو بندہ حلال کھانے کے لائق نہیں رہ جاتا ”  نے پوری کہانی کھول کر رکھ دی ہے۔ اس موضوع پرکئی اور لکھنے والوں نے  بھی جرات دکھا ئی ہے۔ واجدہ تبسم کا افسانہ ” اترن ” اس وقت مجھے یاد آ رہا ہے۔ شاہین کاظمی صاحبہ نے عقیدت اور پیر پرستی کے جعلی گھروندے میں درست سیندھ لگا ئی ہے۔ ” ایک بوسے کا گناہ ” بھی اسی جاگیردار اور رجعت پرست معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ ” نرتکی ” عورت کی ازلی مجبوریوں اور مالی نا آسودگی کی کہانی ہے۔ یاد رہے کہ جب تک عورت مالی اور معاشی طور پر خود مختار نہیں ہو گی، ” پتی ورتا” اور ” نرتکی ” جیسی کہانیوں کا موضوع بنتی رہے گی۔

شاہین کاظمی صاحبہ کی کہانیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ایک پختہ کہانی کار ہیں۔ ” کھیپ ” کو ہم مستقبل کی کہانی سے تعبیرکر سکتے ہیں۔ ” عقیدتوں کے سیاہ چولے میں مردہ عقیدے تعفن چھوڑ رہے ہیں ” ایک نئی تکنیک دیکھنے میں آئی ہے، ” کنسنٹریشن کیمپ ” کی صورت میں۔ ایک اچھا کولاج۔ ” تریاق ” میں کسی معجزے کی تلاش کی گئی ہے ، معجزے اب نہیں ہوتے۔ “برزخ” میں جس بغاوت کا اظہار کیا گیا ہے وہ آخر کب تک ایسے مسائل کا حل کرتی رہے گی۔

ان کہانیوں میں ایک تاثر بہت واضح ہے کہ افسانہ نگار نے نہ صرف بہت سی اساطیرکا مطالعہ کر رکھا ہے بلکہ ان کو افسانے میں برتنے کا اہتمام بھی کیا ہے۔

 “۔  بھوک اور خدا ” ، ” داما اور فابیا ” اور ” سلمی اور کرونس ”  میں ان اساطیر کا ذائقہ موجود ہے۔ افسانہ نگار نے جہاں کہیں بھی برف کا ذکر کیا اسکے ساتھ اداسی کو ضرور نتھی کیا ہے۔ معلوم نہیں انکا زاویہ نگاہ کیا ہے کہ برف کے ذکر کے ساتھ حادثہ بھی موجود ہے۔ جبکہ سرد ملکوں میں تو کرسمس کے موقع پر اگر سب سفید ہو جائے تو لوگوں کی کرسمس کی خوشی دوبالا ہو جاتی ہے

” پتی ورتا ”  میں افسانے کی مرکزی کردار ایک طرف تو کہتی ہے کہ اسے موہن سے نہ محبت ہے نہ نفرت، ٹھس سا بندہ ہے لیکن اسکے باوجود زندگی اسی کے ساتھ گزارنے کی خواہش رکھتی ہے لیکن بعد میں ماں کو کوستی ہے کہ اس نے بنا دیکھے بھالے پندرہ سال بڑے موہن کے پلے باندھ دیا۔ یہاں کچھ تضاد سا محسوس ہوتا ہے۔

میں بقلم خود ادب کا ایک ادنی طالبعلم ہوں اور کوئی دانشورانہ، ماہرانہ تبصرہ نہیں فرما سکتا، نہ بڑے بڑے الفاظ میری دسترس میں ہیں اور نہ ہی تنقید میرا مضمون ہے لیکن یہ کہنا بجا ہو گا کہ ان کہانیوں میں افسانے کی تکنیک عمدہ اور برجستہ ہے۔ علامت کا استعمال بھی ٹھیک ہے لیکن جہاں کہیں اسے اساطیر کے ساتھ جوڑا گیا ہے، وہاں عام قاری کو مشکل پیش آتی ہے کہ اساطیرعام نہیں ہیں۔ ۔

موضوعات کے اعتبار سے تین چار کہانیاں تو ایک ہی موضوع کے مختلف پرتو ہیں اور باقی تمام کہانیوں کے موضوع الگ الگ ہیں جسکی وجہ سے افسانوں کا کوئی مجموعی تاثر نہیں بن پایا۔ ہر کہانی کے لکھنے کےانداز(سٹائل) میں فرق ہے ۔بعض جگہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ، یہ کہانی ُاس مصنف کی نہیں جس نے ” برف کی عورت ” لکھی ہے۔ گو، ڈکشن کے اعتبار سے زیادہ تر کہانیاں اعلی ہیں، کرداروں کے منہ سے نکلے مکالمے فطری ہیں لیکن جہاں مصنفہ نے منظر کشی کی ہے یا اپنا نکتہ نظر پیش کیا ہے وہاں زبان بوجھل بلکہ بعض جگہ تو اجنبی سی بھی محسوس ہوئی ہے۔

بیرون ملک طویل عرصہ قیام کے باعث ان کے افسانوں میں جسارت اور موضوعات میں انوکھا پن نمایاں ہے۔ اسلوب دلچسپ ہے۔ فنی پختگی اور فکری ندرت سے تو یہ کسی نو آمیز کے افسانے ہر گز نہیں لگتے۔ مجھے یقین ہے کہ شاہین کاظمی کے اس پہلے افسانوی مجموعے کا ادبی حلقوں میں پر تپاک خیر مقدم ہو گا۔

Be the first to comment

Share your Thoughts: