چی گویرا ۔۔۔ ایلن ووڈز

che-guevara-alan-woods

Alan Woods is a Trotskyite political theorist and author. He is one of the leading members of the International Marxist Tendency (IMT),.He was born into a working-class family.. At the age of 16 he became a Marxist, becoming a supporter of the Trotskyism.

چی گویرا

(ایلن ووڈز)

کیوبا میں امر بیتسشیا کی حکمرانی کا ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا تھا۔ اور اس کی جگہ ایک نئی طرز حکمرانی قائم کر دی گئی۔ گوریلا فوج نے کمزور جگہوں کا کنٹرول سنبھال کر ان کو بہتر کرنا شروع کردیا۔ طاقت اب گوریلا فوج کے ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی۔ دنیا بھر میں مارکسسٹوں نے کیوبا انقلاب کا بھرپور خیر مقدم کیا اور جشن منایا۔ یہ سامراج، سرمایہ داری اور جاگیرداری کیلئے حقیقتاً ایک بہت بڑا جھٹکا تھا اور پھر سامراج کو یہ شکست انسانی تاریخ کی سب سے بڑی سامراجی طاقت امریکہ کے عین ناک کے نیچے واقع ایک ملک میں ہوئی تھی۔ اس انقلاب نے دنیا بھر میں ہر جگہ محروموں مظلوموں کی آنکھیں ایک بار پھر امید سے روشن کر دیں۔ ہر چند اس انقلاب کا طریقہ 1917ء کے بالشویک انقلاب سے مختلف تھا، تاہم اس انقلاب کو پھر حتمی فیصلہ کن کامیابی محنت کشوں کی عام ہڑتال نے بخشی تھی۔ چی گویرا انقلابی حکومت میں کئی اہم عہدوں پر فائز ہوا۔ زرعی اصلاحات کے نیشنل کمیشن کے ساتھ ساتھ وہ نیشنل بینک آف کیوبا کا سربراہ بنا۔اسی بینک کی سربراہی کے دوران ہی اس نے دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے’ ’چی‘‘(che) کا نام استعمال کیا۔ چی نے اس دوران جو بھی خدمات سرانجام دیں، اس کا اس نے سرکاری طور پر معاوضہ یا اجرت لینے سے انکار کردیا۔ اس نے صرف وہی معمولی اجرت لی جو وہ اس سے پہلے کمانڈر کے طور پر لیتا آرہا تھا۔ یہی مختصر سی تفصیل ہی ہمیں اس نابغہ انسان کے بارے میں بہت کچھ بتانے کیلئے کافی ہے۔ چی گویرا نہ صرف نظریاتی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی انقلابی اصولوں کا سچا پیروکار تھا
اس نے یہ سب اس ارادے سے کیا کہ وہ ایک انقلابی مثال قائم کرنا چاہتا تھا۔ وہ لینن کی کتاب ’’ریاست اور انقلاب‘‘ میں بیان کئے گئے اس انقلابی اصول کی پیروی کر رہا تھا کہ جس کے مطابق کسی بھی سوویت ریاست کے افسر کو ایک ہنرمند مزدور کی اجرت سے زیادہ تنخواہ نہیں ملنی چاہئے۔ یہ ایک افسر شاہی مخالف اقدام تھا۔ 
چی گویرا شروع سے ہی ایک انقلابی تھا۔ ذاتی طورپراسے نہ تو بدعنوان کیا جا سکتا تھا نہ ہی اس میں افسرانہ نخوت و نخرہ تھا۔ وہ اپنی انقلابی اخلاقیات میں سخت جان اور سخت کوش تھا۔ اسی لئے اسے انقلاب کی فتح کے بعد افسر شاہی اور اس قسم کے رحجانات سے بری طرح نبرد آزما ہونا پڑا۔ چی اکثر اوقات روس کی کمیونسٹ پارٹی کی سرکاری پالیسیوں سے اختلافات کا اظہار کرتا تھا جس کی قیادت اس وقت خروشیف کر رہا تھا۔ ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ کے نکتہ نظر سے اسے شدید اختلاف تھا۔ اسے کیوباکے اپنے کچھ ساتھیوں کی طرف سے ماسکو اور اس کے نظریے کی غلامانہ پاسداری سے سخت کوفت ہوتی تھی۔ سب سے بڑھ کر اسے افسر شاہی، کیریر ازم اور مراعات یافتگی سے انتہائی تکلیف تھی۔روس اور مشرقی یورپ کے دورے نے اسے اندر سے ہلا کے رکھ دیا اور وہ سٹالنزم سے انتہائی دلبرداشتہ ہو گیا۔ افسر شاہی، ان کی مراعات یافتگی اور اکھڑپن نے اس کی روح کو گھائل کر کے رکھ دیا۔ روسی افسرشاہی پر اس کی تنقید اور تحفظات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اسی ایک وجہ سے ہی روس چین تنازعے کے دوران اس نے خروشیف کے روس کی بجائے ماؤ کے چین کا ساتھ دینا مناسب سمجھا۔ چین کی طرف اس کے جھکاؤ کا سبب وہ واقعہ بنا جب چین نے روس کی طرف سے کیوبا سے اپنے میزائل ہٹانے کو غلط قراردیا۔چی نے اس روسی فیصلے کو ’’غداری‘‘ تصور کیا۔
چی کی شخصیت کا مکمل جائزہ اور تجزیہ انتہائی مشکل امر ہے۔ وہ بلا شبہ ایک ذہن رسا کا مالک تھا لیکن ساتھ ہی وہ بہت پیچیدہ انسان بھی تھا۔ اسے ہر دم سچ کی جستجو اور دھن لگی رہتی تھی۔ سٹالنزم کا عنصر اور عہد جس سے اس کا پالا پڑا، اس کے ذہن قلب اور مزاج کے بالکل برعکس اور مختلف تھا۔ افسر شاہانہ رعونت، سخت گیری نے اسے دہلا کے رکھ دیا تھا اور مراعات یافتگی نے تو اس کی کھوپڑی تک ہلا کے رکھ دی۔ اس کے نتیجے میں کیوبا کا دورہ کرنے والے یورپی کمیونسٹ لیڈرز اور سوویت بلاک کے افسران بالا کو وہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور انہوں نے اسے ایک پیٹی بورژوا مہم جو قرار دے کر اس کی تضحیک کا سلسلہ شروع کردیا۔ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اس کام میں خاص طور پر پیش پیش تھی۔
چی کو بعد میں کیوبا کا وزیر صنعت بنادیاگیا،جس کے دوران اسے معیشت کو منصوبہ بند کرنے کے انتہائی سخت مشکل عمل سے پالا پڑا۔اس کی وجہ وہ ناموافق حالات تھے جس کا کیوبا کے انقلاب کو سامنا کرناپڑگیا تھا۔ (راقم الحروف کے بہترین دوست اور ) کیوبا کے معروف ٹراٹسکائیٹ لیون فیریرا کو چی گویرا کے ساتھ زارعت اورصنعت میں کام کرنے کا موقع ملا ہے، وہ بتاتا ہے کہ اس کی چی کے ساتھ ٹراٹسکی اور اس کے نظریات پر بہت طویل بحثیں ہوا کرتی تھیں۔چی کو ٹراٹسکی کی کتابیں بھی پڑھنے کو ملیں اور وہ انتہائی دلچسپی سے ان کو پڑھتا تھا۔ لیکن ایک نکتے پر اس کی سوئی اٹکی رہتی تھی’’ٹراٹسکی نے کثرت سے بیوروکریسی کا ذکر کیا ہے۔۔کیا مطلب ہے ٹراٹسکی کا اس سے؟ ‘‘لیون کہتا ہے کہ میں اپنے تئیں اسے جتنا سمجھا سکتا تھا، کوشش کی اور وہ یہی کہتا کہ مجھے بات سمجھ آرہی ہے۔ اگلے دن میں اور چی گنا کاٹنے کیلئے کھیتوں میں گئے۔ جب وہ اپنی پیٹھ پر گنا لاد رہے تھے تو لیون نے ایک بڑی سیاہ رنگ کی کار کو آتے دیکھا،جس پر لیون نے چی سے کہا، کمانڈر لگتا ہے تمہارا کوئی مہمان آیا ہے۔ چی نے حیرانی سے سرموڑ کر اپنی طرف آتی سیاہ لیموزین کو ایک نظر دیکھا، اس کے لبوں پر ہنسی آگئی اور اس نے مجھے کہا۔ لیون اب میں تمہیں کچھ دکھاتا ہوں۔ گاڑی رکی تو اس میں سے ایک نفیس دمکتے ٹائی سوٹ میں ملبوس ایک صاحب چی کی طرف بڑھے۔ اس سے پہلے کہ وہ افسر چی سے اپنی بات کیلئے منہ کھولتا، چی نے اس سے پوچھا کہ تم یہاں کیا کرنے آگئے ہو؟ چلو یہاں سے تم، تمہارا کیا کام ہے یہاں؟شرمسار افسر یہ سنتے ہی واپس مڑا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ چی نے میری طرف دیکھ کر ایک فاتح لیکن طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا ’’دیکھا لیون!‘‘۔
جب کیوبا میں ٹراٹسکی کے ساتھیوں کو گرفتار کرنا شروع کیا گیا تو چی نے ان کی رہائی کیلئے ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے میں بھرپور مداخلت کی۔ (بعد میں اس نے اسے شدیدغلطی بھی قراردیاتھا)۔ چی ٹراٹسکی کی تحریروں کو قدر و قیمت سے دیکھتا اور پڑھتا تھا اور ساتھیوں سے ان کا مطالعہ کرنے کو کہتا تھا۔وہ ٹراٹسکی کو ایک سچا مارکسی سمجھتا تھا۔ اس کی یہ پوزیشن ماؤزے تنگ کے ان چاہنے والوں سے قطعی مختلف اور متضاد ہے جو ٹراٹسکی کو ردانقلابی اور سوشلزم کا دشمن سمجھتے تھے اور ہیں۔
چی کے یہ خیالات اس کے اپنے ایک دوست ارمانڈو ہارٹ ڈیولاسکو لکھے گئے اس کے خط میں واضح طورپر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کا یہ خط کیوبا میں Contracorriente, N0.9 میں شائع ہواتھا۔ یہ خط دارالسلام (تنزانیہ کا دارالحکومت) سے 4 دسمبر 1965ء کو لکھا گیا تھا جب چی افریقہ میں اپنے مشن پہ نکلا ہوا تھا۔ اس خط میں اس نے سوویت فلاسفی اور کچھ کیوبن دوستوں کی اس کی غلامانہ تقلید پر انتہائی سخت تنقید کی تھی۔
’’اپنی تعطیلات کے اس وقفے میں، میں نے اس فلاسفی کو ڈوب کر پڑھا اور اس پر غور وخوص کیا ہے، وہ جس کیلئے میں اتنے عرصے سے جڑا اور لگا ہوا تھا۔ مجھے سب سے پہلی الجھن کاسامنا کیوبا میں کرناپڑا۔ جہاں ہمیں صرف وہی پڑھنے کو ملتا ہے اور اسی کو ہی پڑھنے کا کہا جاتا ہے جو روس سے چھپ کر آتا ہے۔ ان کو پڑھنے کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ آپ ان کو پڑھنے کے بعد ان پر نہ بات کر سکتے ہو نہ کوئی سوال۔ بس پارٹی نے یہ آپ کیلئے چھاپ دیا ہے اور بس آپ نے اس سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں کرنا۔ اپنی طرز اپنے طریقے میں یہ سراسر غیر مارکسی عمل ہے۔ نہ صرف یہ عمل برا ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جو مواد ان تحریروں میں شامل ہے وہ بھی برا ہی ہے‘‘۔
اگر آپ کیوبا میں چھپنے والے مواد کو دیکھیں توپتہ چلتاہے کہ یہ یا تو روس یا پھر فرانس کے مصنفین کی ہی تحریریں ہیں۔ (چی کا اشارہ سخت گیر فرانسیسی سٹالنسٹ گراؤدے کی جانب ہے)۔انتہائی آسان ہے کہ ترجمہ کرلیاجاتا ہے اور پھر اس کی نظریاتی تقلید شروع کر دی جاتی ہے۔اس سے تو آپ کسی طرح بھی حقیقی مارکسی کلچر عوام تک نہیں لے جارہے۔اسے آپ محض مارکسی پروپیگنڈا تو قرار دے سکتے ہیں لیکن کچھ اور نہیں! ااس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی ایک لازمی عمل ہوتا ہے لیکن محض یہی ناکافی ہوتا ہے۔یہ معیار میں جتنا بھی اچھا ہو (جو اس وقت نہیں ہے) لیکن بہرطور ناکافی ہوتا ہے‘‘۔
چی اپنی تحریر میں ایک ایسے منصوبے کو عمل میں لانے کی تجویز دیتا ہے جس کے تحت ’’مارکس اینگلز لینن سٹالن اور ’’دیگر‘‘ عظیم مارکسیوں کی کتابوں کا منظم مطالعہ عام کیا جاسکے۔مثال کے طور پر، روزا لگسمبرگ جس کا ایک لفظ بھی آج تک کسی نے نہیں پڑھا،جس نے مارکس پر تنقید کے عمل میں کئی غلطیاں کیں لیکن جس کی جدوجہد جس کی ہلاکت اور شہادت، اور سامراج کے خلاف اس کی جدوجہد کئی نامی گرامی انقلابیوں سے بھی محترم ہے۔اسی طرح اور بھی کئی ایسے مارکسی ہیں جن کو بعد میں نظرانداز کردیا گیا، ان میں کاٹسکی، ہلفرنگ شامل ہیں جنہوں نے مارکسزم میں کافی کنٹریبیوشن کی ہیں۔ اسی طرح کچھ اور مصنف جو غیر فلسفیانہ انداز تحریر کے حامل ہیں، بھی مطالعے کے قابل ہیں‘‘۔
پھر چی خوشی سے ٹراٹسکی کا ذکر کرتا ہے ’’اور ہاں تمہارے دوست ٹراٹسکی کو تو ہر حال میں پڑھا جانا چاہئے ‘‘ ٹراٹسکی کی طرف اس کا رحجان اتنا ہی بڑھتا چلا گیا جتنا جتنا وہ روس اور مشرقی یورپ کی سٹالنسٹ افسر شاہی کی روش اور طور طریقوں سے متعارف اور پھر مایوس ہوتا گیا۔ چی گویرا کتابوں اور ان کے مطالعے کا انتہائی رسیا تھا، بولیویا میں اپنے آخری مشن تک کتابیں اس کے ساتھ تھیں۔ اس آخری مشن پر جو کتابیں اس کے پاس تھیں اور جو وہ پڑھ رہا تھا ان میں ٹراٹسکی کی ’’نظریہ مسلسل انقلاب‘‘ اور’’ انقلاب روس کی تاریخ‘‘ شامل تھیں۔
بلند وبالا، یخ پہاڑوں پر، مشکل ترین حالات میں ایک گوریلا جنگ میں مصروف ایک انقلابی انسان اپنے پاس صرف وہی سامان رکھتا ہے جو اس کے لئے انتہائی لازمی اور اسے انتہائی عزیز ہو۔اس موقع پر ٹراٹسکی کی کتابوں کا اس کے پاس ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ انقلابی اپنے آخری لمحات میں کیا پڑھ رہا تھا‘ کیا سوچ رہا تھا؟ ہمیں اس پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اگر چی گویرا زندہ رہتا تو یہ عظیم انقلابی ٹراٹسکی ازم کی طرف نہ صرف قائل بلکہ مائل ہو چکا ہوتا۔ سچ یہ ہے کہ وہ ٹراٹسکائیٹ بن بھی چکا تھا لیکن اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔

Be the first to comment

Share your Thoughts: