انداز ِ تحریر ۔۔۔ فہد جمال

کچھ نامور ادیبوں کا انداز تحریر

( فہد جمال )

مصنفوں ، ادیبوں اور شاعروں کی ”بوالعجبیاں“ یا ”کج ادائیاں“ مشہور ہیں۔ اکثر اوقات اُنھیں اپنے تخلیقی عمل کو بروئے کار لانے کے لیے خاص فضا یا لوازمات کے اہتمام و انتظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر ایک انداز جداگانہ ہوتا ہے ، جس سے اس کی انفرادیت جھلکتی ہے۔ ان بوالعجبیوں کا کوئی منطقی یا عقلی جواز نہیں ہوتا۔ انھیں ہم فنکار کی ترنگ کا نام دے سکتے ہیں۔ جب تک لوازمات پورے نہ ہوں فنکار کے ذہن میں نہ خیالات اُبھرتے ہیں اور نہ اس کا قلم رواں ہوتا ہے۔ اس بارے میں کرشن چند لکھنے سے بیشتر چند ایک معروف ادیبوں کے بارے میں لکھنا بے جانا نہ ہوگا۔

سعادت حسن منٹو

کے گرد سیاہ حلقے چھائے ہوتے ۔ انھیں اس تخلیقی عمل میں اکثر اسی کرب سے گزرنا پڑتا تھا، جس میں کہ دردِ زہ کی سی کیفیت ہوتی ہے۔ لیکن ایک بار جب ان کے ذہن میں پورے افسانے کا خاکہ تشکیل پا جاتا تو وہ برق رفتاری سے اُسے لکھتے چلے جاتے۔ گھر میں ہوتے ، ان کے اردگرد بچے لڑتے جھگڑتے ، شورمچاتے تو وہ اطمینان سے ان کے جھگڑے نمٹاتے ۔۔۔کوئی مہمان آ جاتا تو اس کی خاطر مدارت کرتے ، ساتھ ساتھ بیوی سے بھی بات جاری رہتی ۔ لیکن قلم کی جولانیوں کا سلسلہ نہ رکتا۔ کسی ناشر کے آفس میں لکھنے بیٹھتے تو گردو پیش کا شور و غل یا لوگوں کی آمدورفت ، ان کے کام کاج میں بالکل حارج نہ ہوتی ۔۔۔گھر میں ہوں یا باہر ، جب افسانہ لکھنے بیٹھتے تو ایک ہی نشست میں ختم کرکے دم لیتے ۔ لکھ کر کبھی نظرثانی نہ کرتے ۔۔۔۔ کرسی پر ہمیشہ دونوں پاؤں اُوپر رکھ کر اُکڑوں بیٹھتے ۔ کاغذ کو اپنے گھٹنوں پر رکھتے اور لکھتے ۔ یہ کتنا عجیب و غریب اندازِ نشست تھا۔
راجندر سنگھ بیدی:۔
نامور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی اپنے معمول کے مطابق صبح تین چار بجے نیند سے بیدار ہوتے ۔ اپنے ہاتھ سے خود اپنے

لیے چائے بناتے اور لکھنے کی میز پر بیٹھ جاتے ۔ کبھی کبھی لیٹ کر بھی

راجندر سنگھ بیدی

لکھتے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو افسانہ لکھنے کے لیے کیسا ماحول درکار ہوتا ہے ، تو انھوں نے جواب دیا : ”میز پر کتابیں بکھری ہوئی ہوں اور افسانے کے لیے ایک رِ م کاغذ اور ردی کی ٹوکری۔“ ۔۔۔اپنی تحریر میں اگر انھیں کوئی جملہ پسند نہ آتا تو اس کی تصحیح کرنے کی بجائے پورا صفحہ پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے اور نئے سرے سے لکھتے ۔ جب تک افسانے کی نوک پلک ہر لحاظ سے درست ہو جاتی مطمئن نہ ہوتے اور بیقرار رہتے ۔ ان کا یہ معمول تا حیات قائم و دائم رہا۔
ارنسٹ ہیمنگوے:۔
عالمی شہرت کے مالک ارنیسٹ ہمینگوئے ہمیشہ کھڑے ہو کر لکھتے تھے اور ان کا ٹائپ رائیٹر اور پڑھنے کا بورڈ ، ان کے

ارنسٹ ہیمنگوئے

سینے کی سطح تک اونچا رہتا تھا ۔ وہ اپنی تمام تر توجہ اپنے کام پر مرکوز کر دیتے تھے ۔ اور ایک جگہ جم کر لکھتے تھے ۔ جب انھیں اپنی تحریر پسند آتی تو وہ پسینے سے شرابور ہو جاتے ۔ اور جب ان کا فنکاراور صناعانہ صلاحیتیں دم بھر کے لیے ان کی توقعات پر پوری نہ اترتیں تو وہ بہت جزبز ہوتے اور غم و غصہ سے مغلوب ہو جاتے ۔۔۔نورمن میلر صرف ایسے کمرے میں بیٹھ کر کام کرسکتے تھے جہاں سے ان کو باہر کا منظر دور تک دکھائی دیتا ۔ مثلاً سمندر ، جہاز یا کوئی ایسی جگہ جس تک لمبا راستہ جاتا ہو۔ وہ بہت نظم ضبط کے پاپند تھے ۔ ہفتہ میں صرف چار روز یعنی پیر ، منگل ، جمعرات اور جمعہ کے دن کام کرتے تھے اور کسی دن بھی پانچ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کرتے تھے۔۔۔ روبرٹ فراسٹ بین الاقوامی قدوقامت کے شاعر تھے ۔ انھیں چار بار پلٹزر پرائز ملا ۔انھو ں نے اپنے بیٹھنے اور کام کرنے کے لیے ایک مخصوص ڈیزائن کی بغیر بازو کی ، گدے دار کرسی بنو رکھی تھی ۔ زندگی بھر انھوں نے کبھی میز کا استعمال نہ کیا اور نہ تصنیفی کام کے لیے ان کا کوئی مخصوص کمرہ تھا ۔ جو چیز سامنے آئے اس پر لکھنا شروع کر دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ وقت پڑنے پر وہ اپنے جوتوں کے تلوؤں پربھی لکھ لیا کرتے تھے۔
کرشن چندر:۔
کرشن چندر کا یہ قاعدہ تھا کہ جب بھی انھیں کہانی کے لیے کوئی پلاٹ سوچھتا ، وہ فوراً اس کے بنیادی خیال کوقلم بند کرکے محفوظ کر لیتے تھے تاکہ وہ ان کے ذہن سے نہ اُتر جائے۔ اس طرح انھیں پلاٹ سوجھتے رہتے اور وہ انھیں نوٹ کرتے رہتے ۔ جس خیال کو وہ کہانی کی شکل میں ڈھال دیتے ، اُسے اپنی اس فہرست سے قلمزد کردیتے ۔ اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ۔۔۔۔اس مقصد کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک رجسٹر سا بنا رکھا تھا ۔ محمد طفیل ، مدیر ”نقوش“ لاہور نے جب اُن کا یہ رجسٹر دیکھا تو ابھی ایک سو کے قریب کہانیوں کے بنیادی خیالات کو افسانوں کی شکل دینا باقی تھا۔ ۔۔اردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں اس قدر زرخیز ادیب شاید ہی کوئی دوسرا ہوا ہو ۔۔۔اس بارے میں محمد طفیل لکھتے ہیں:


”میں نے ان سے پوچھا:آپ روز ایک سے ایک موضوع کس طرح لکھ لیتے ہیں؟ ۔۔”میرے پاس رجسٹر ہے“ ۔۔۔”رجسٹر“ ۔۔”ہاں“ ۔۔۔”کیامطلب“ ۔۔۔رجسٹر دکھا کر : ”ایسا رجسٹر۔ جب کوئی پلاٹ ذہن میں آتا ہے تو اُسے یہاں نقل کر لیتا ہوں ۔“ ۔۔ذرا دیکھوں!۔۔۔ میں نے رجسٹر دیکھا ۔ اس میں تین تین چار چار سطروں میں افسانوں کے بنیادی خیال لکھے ہوئے تھے۔ کچھ یاداشتوں کے آگے اس قسم کے(x)نشان پڑے ہوئے تھے اور کچھ یاداشتوں پر کوئی نشان نہ تھا۔ میں نے پوچھا ”یہ نشانات کیسے ہیں؟“ ۔۔۔کہنے لگے :”جن پر اس قسم کے (x)نشانات ہیں ، وہ افسانے تو لکھے جا چکے ہیں ۔ باقی لکھے جانے والے ہیں۔“ ۔۔۔۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس طرح تو وہاں بھی ایک سو کے قریب لکھے جانے والے افسانوں کی یاداشتیں موجود تھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز ایک افسانہ لکھ لیتے تھے۔“

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.