اسیر ۔۔۔ فروغ فرخ زاد

Forugh Farrokhzad (1935–1967) was an Iranian poet and filmmaker. Her published works include The CaptiveThe WallRebellion, Reborn, and Let Us believe in the Dawn of the Cold Season. She broke with many traditional conventions and thus exercised an immeasurably important influence on modern Iranian poetry. She died in a car accident just at the age of 32.

اسیر

(فروغ فرخ زاد)

(اردو ترجمہ: راشد جاوید احمد)

ترا می‌خواهم و دانم که هرگز
به کامِ دل در آغوشت نگیرم
تویی آن آسمانِ صاف و روشن
من این کنجِ قفس، مرغی اسیرم

مجھے تمہاری آرزو ہے (لیکن) میں جانتی ہوں کہ جیسا میرا دل چاہتا ہے اُس طرح تمہیں آغوش میں نہیں لے پاؤں گی۔ تم صاف اور روشن آسمان  کی مانند ہو جبکہ میں قفس میں ایک اسیر پرندہ ہوں۔

ز پشتِ میله‌های سرد و تیره
نگاهِ حسرتم حیران به رویت
در این فکرم که دستی پیش آید
و من ناگه گشایم پر به سویت

ان سرد اور تاریک جالیوں کے پیچھے سے میری پُرحسرت نگاہیں تمہارے چہرے کی جانب حیرانی سے دیکھتی ہیں۔ میں اس فکر میں ہوں کہ کوئی ہاتھ سامنے آئے اور میں اچانک تمہاری جانب پر پھیلا دوں۔

در این فکرم که در یک لحظه غفلت
از این زندانِ خامش پر بگیرم
به چشمِ مردِ زندانبان بخندم
کنارت زندگی از سر بگیرم

میں اس فکر میں ہوں کہ ایک غفلت کے لمحے میں اس خاموش زندان سے پرواز کر جاؤں اور مردِ زندان بان کی آنکھوں کے سامنے (اُس کی ناکامی ظاہر کرنے کے لیے) خندہ زن ہوں۔ پھر، تمہارے پہلو میں نئے سرے سے زندگی کا آغاز کروں۔

در این فکرم من و دانم که هرگز
مرا یارای رفتن زین قفس نیست
اگر هم مردِ زندانبان بخواهد
دگر از بهرِ پروازم نفس نیست

میں اس فکر میں تو ہوں لیکن میں جانتی ہوں کہ مجھ میں ہرگز اس قفس کو چھوڑنے کی توانائی نہیں ہے۔ اگر داروغۂ زندان بھی یہ چاہے تب بھی اب مجھ میں پرواز کے لیے سانس باقی نہیں رہی ہے۔

ز پشتِ میله‌ها، هر صبحِ روشن
نگاهِ کودکی خندد به رویم
چو من سر می‌کنم آوازِ شادی
لبش با بوسه می‌آید به سویم

ان جالیوں کے پیچھے سے ہر روشن صبح ایک بچّے کی نگاہیں میرے چہرے کے سامنے مسکراتی ہیں۔ میں جب بھی خوشی کا نغمہ شروع کرتی ہوں تو اُس کے لب بوسہ لئےمری جانب آتے ہیں۔

اگر ای آسمان خواهم که یک روز
از این زندانِ خامش پر بگیرم
به چشمِ کودکِ گریان چه گویم
ز من بگذر، که من مرغی اسیرم

اے آسمان! اگر میں چاہوں کہ ایک روز اس خاموش زندان سے پرواز کر جاؤں تو پھر میں (اُس) طفلِ گریاں کی آنکھوں سے کیا کہوں گی: (کیا یہ کہ) مجھے چھوڑ دو کہ میں ایک اسیر پرندہ ہوں؟

من آن شمعم که با سوزِ دلِ خویش
فروزان می‌کنم ویرانه‌ای را
اگر خواهم که خاموشی گزینم
پریشان می‌کنم کاشانه‌ای را

میں وہ شمع ہوں کہ اپنے دل کے سوز سے ایک ویرانے کو فروزاں کرتی ہوں۔ (لیکن) اگر میں چاہوں کہ خاموشی اختیار کر لوں تو میں ایک کاشانے کو درہم برہم کر دوں گی۔

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: