قاریئن کے نام آخری خط ۔۔۔ گارسیا مارکیز

Gabriel José de la Concordia García Márquez was a Colombian novelist, short-story writer, screenwriter and journalist. He is considered one of the most significant authors of the 20th century and one of the best in the Spanish language.  He was awarded the Neustadt International Prize for literature in 1972 and Nobel Prize in literature in 1982۔

 

 

افسوس میں مررہا ہوں

 

(گارسیا مارکیز)

“اے میرے خدا مجھے ایک لمحے کے لیے بے حس و حرکت گڈے سے انسان بنادے،ایک جیتا جاگتا انسان،مجھے قسم ہے تمہاری میں پھر کبھی وہ نہیں کہوں گا جو میں سوچتا ہوں،میں صر ف اور صرف سوچوں گا،اس کے بارے میں سوچوں گا جو میں کہتا رہتا ہوں یا پھر میں کہنا چاہتا ہوں۔
اے میرے خدا میں پھر چیزوں کی قیمت نہیں ان کی اہمیت دیکھوں گا،ان کی قدر کروں گا۔میں کم سوئوں گا اور زیادہ خواب دیکھوں گا کہ میں جان چکا ہوں،ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند ہوں تو ہم روشنی کے ساٹھ سکینڈ کھو دیتے ہیں۔
اے میرے خدا تو اگر مجھے ایک لمحے کے کی زندگی بخش دے تو میں اس وقت چلوں گا جب لوگ رک جائیں گے،میں اس وقت جاگوں گا جب لوگ سو جائیں گے،میں اس وقت خاموش رہوں گا جب لوگ بولیں گے،اے میرے خدا!میں چاکلیٹ کھائوں گا،آئس کریم لوں گا تو پورے لطف،پورے مزے کے ساتھ کھائوں گا۔اے میرے خدا!تو اگر مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے تو میں ہمیشہ سادہ کپڑے پہنوں گا۔اپنا جسم،اپنی روح سورج کے سامنے کھول دوں گا۔اے میرے خدا!اگر مجھے تھوڑی دیر کے لیے اپنا دل واپس مل جائے تو میں اپنی نفرت برف پر لکھ دوں گااور پھر اسے سورج کی تمازت میں پگھلتے،پگھل کر بھاپ بنتے اور بھاپ بن کر اڑتے دیکھوں گا۔
اے میرے خدا!اگر تو مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے تو میں کوئی دن ایسا نہیں گزرنے دوں گا جب میں لوگوں کو اپنی محبت کا یقین نہ دلا دوں،میں دنیا کے ہر مرد،ہر عورت کو سمجھائوں گا کہ مجھے ان سے محبت ہے،میں محبت میں محبت کے ساتھ رہوں گا اور میں لوگوں کو بتائوں گا جو لوگ سمجھتے ہیں بوڑھے ہوکر وہ محبت کے قابل نہیں رہتے وہ بڑے بیوقوف ہیں۔انسان تو بوڑھا ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ محبت ترک کر دیتا ہے۔میں بچوں کو پر دونگا لیکن انہیں اپنی اڑان خود لینے کا موقع دوں گا،میں بوڑھوں کو بتائوں گا موت بڑھاپے سے نہیں آتی،فراموشی سے آتی ہے،بے حسی سے آتی ہے اور اے انسان!اے میرے پڑھنے والے انسان یہ سب کچھ میں نے تم سے سیکھا۔میں نے تم سے سیکھا،دنیا کا ہر شخص چوٹی پر پہنچنا چاہتا ہے یہ جانے بغیر کہ چوٹی کچھ نہیں،اصل چیز تو مسافت ہے،وہ مشقت ہے جو پہاڑ سر کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔میں نے سیکھا جو بچہ باپ کی انگلی تھامے لے وہ سہاروں کا عادی ہوجاتا ہے۔میں نے سیکھا نفرت کا حق صرف اس کو حاصل ہے جس نے زندگی بھر لوگوں کو سہارا دیا ہو۔جس نے لوگوں کو کھڑا ہونے میں مدد دی ہو۔
میں نے آپ لوگوں سے اور بھی بہت کچھ سیکھا لیکن اس وقت جب موت میری پائنتی پر کھڑی ہے میرا دل اداس ہے،میں اداس ہوں کہ میں وہ سب کچھ آپ کو نہیں سونپ پایا جو مجھے سونپنا چاہیئے تھا۔افسوس میں زندگی کی اصل حقیقتیں اپنے سینے میں لے کر جارہا ہوں۔افسوس میں وہ سب کچھ نہیں کہہ پایا جو مجھے کہنا چاہیئے تھا۔
“افسوس میں مررہا ہوں”)

Farewell Letter by Gabriel Garcia Marquez

Be the first to comment

Share your Thoughts: