ایسے ہی کسی دن ۔۔۔ گارسیا مارکیز

Gabriel José de la Concordia García Márquez was a Colombian novelist, short-story writer, screenwriter and journalist. He is considered one of the most significant authors of the 20th century and one of the best in the Spanish language.  He was awarded the Neustadt International Prize for literature in 1972 and Nobel Prize in literature in 1982

ایسے ہی کسی دن

( گارسیا مارکیز )

مترجم: عامر صدیقی

اس پیر کی صبح، گرم اور بنا بارش کے نمودار ہوئی۔ صبح سویرے جاگنے والے او لیور ایسکوار نے، جو دانتوں کا ایک بغیر ڈگری والا ڈاکٹر تھا، اپنا کلینک چھ بجے ہی کھول دیا۔ اس نے شیشے کی الماری سے نقلی دانت نکالے، جو اب بھی بھربھری مٹی کے سانچے میں جڑے ہوئے تھے، اورپھر مٹھی بھر اوزاروں کو، ان کے سائز کے حساب سے میز پر یوں سجا کے رکھا، جیسے ان کی نمائش کی جا رہی ہو۔ اس نے بغیر کالر والی ایک دھاری دار قمیض پہن رکھی تھی، جس کے بند گلے پر سنہری بٹن تھا اور اس کی پتلون گیل لس سے بندھی ہوئی تھی۔ وہ دبلا پتلا سا انسان تھا، جس کی نگاہ کبھی کبھار ہی حالات کے مطابق ہو پاتی تھی، جیسا کہ بہرے لوگوں کی نگاہوں کے معاملے میں ہوتا ہے۔

اوزاروں کو میز پر ترتیب دینے کے بعد، وہ ڈرل کو کرسی کے پاس کھینچ لایا اور نقلی دانتوں کو چمکانے بیٹھ گیا۔ وہ اپنے کام کے بارے میں دھیان دیتا، دکھائی نہیں دے رہا تھا، بلکہ ڈرل کو اپنے پاؤں کی مدد سے چلاتے ہوئے، وہ مسلسل اسے چلائے جا رہا تھا،اس وقت بھی جبکہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔

آٹھ بجے کے بعد کھڑکی سے آسمان کو دیکھنے کے ارادے سے، وہ تھوڑی دیر کے لئے رکا اور اس نے دیکھا کہ دو وچار بے فکرے ،پاس کے مکان کے شہتیر پر دھوپ سینک رہے تھے۔ وہ اس خیال کے ساتھ دوبارہ کام میں لگ گیا کہ دوپہر کے کھانے سے پہلے دوبارہ بارش ہوگی۔پھر اچانک اپنے گیارہ سالہ بیٹے کی تیز آواز سے اس کادھیان بھٹکا۔

”پاپا۔”

”کیا ہے؟”

”میئر پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ ان کا دانت نکال دیں گے۔”

”اسکو بتا دو کہ میں یہاں نہیں ہوں۔”

وہ ایک سونے کا دانت چمکا رہا تھا۔ ہاتھ بھر کی دوری پر لے جاکر اس نے آنکھیں بھینچ کر دانت کوپرکھا۔ مختصرسے ویٹنگ روم سے پھر اس کا بیٹا چلایا۔

”وہ کہہ رہے ہیں کہ آپ یہیں ہیں اور یہ بھی کہ وہ آپ کی آواز سن سکتے ہیں۔”

ڈاکٹر نے دانت کی جانچ پڑتال جاری رکھی۔ پھراس دانت کو میز پر چمکائے جا چکے باقی دانتوں کے ساتھ رکھنے کے بعد ہی وہ بولا ”اچھا ہے،سننے دو اسے۔”

وہ پھر سے ڈرل چلانے لگا۔ اس نے گتے کے ڈبے سے، جس میں وہ ایسی چیزیں رکھتا تھا ،جن پر کام کرنا ابھی باقی ہوتاتھا، کچھ مزید دانت نکالے اور اسکے سونے کو چمکانے میں لگ گیا۔

”پاپا۔”

”کیا ہے؟”

اس نے اب بھی اپنا انداز نہیں بدلا تھا۔

”وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ان کا دانت نہیں نکالیں گے، تو وہ آپ کو گولی مار دیں گے۔”

بغیر کسی گھبراہٹ کے ، بہت ہی مستحکم رفتار سے اس نے ڈرل کو پیڈل مارنا بند کیا، اسے کرسی سے پرے دھکیلا اور میز کی نچلی دراز کو کھینچ کراسے پورا باہر نکالا۔ اس میں ایک ریوالور پڑا تھا۔

”ٹھیک ہے” اس نے کہا۔

”اس سے کہو کہ آکر مجھے گولی مار دے۔”

اس نے کرسی گھما کر دروازے کے سامنے کر لی، اس کا ہاتھ دراز کے سرے پر ٹکا ہوا تھا۔ میئر دروازے پر نظر آیا۔ اس نے اپنے چہرے کے بائیں طرف تو شیو بنائی ہوئی تھی، لیکن دوسری طرف، سوجن اور درد کی وجہ سے پانچ دن کی بڑھی ہوئی شیو موجود تھی۔ ڈاکٹر نے اس کی مایوس آنکھوں میں کئی راتوں کی ناامیدی دیکھی۔ اس نے اپنی انگلی کے پوروں سے دراز کو بند کرکے آہستہ سے کہا۔

”بیٹھ جاؤ۔”

”گڈ مارننگ” میئر نے کہا۔

”مارننگ ” اس نے جواب دیا۔

جس دوران اوزار ابل رہے تھے، میئر نے اپنا سر کرسی کے سرہانے پر ٹکا دیا اور کچھ بہتر سا محسوس کرنے لگا۔ اس کی سانسیں سرد تھیں۔ یہ ایک انتہائی گھٹیا کلینک تھا۔ ایک پرانی لکڑی کی کرسی، پاؤں سے چلنے والی ایک ڈرل، مٹی کی شیشیوں سے بھری ایک شیشے کی الماری۔ کرسی کے سامنے ایک کھڑکی تھی جس پر کندھوں کی اونچائی تک کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ جب اس نے دانتوں کے ڈاکٹرکو آتا ہوا محسوس کیا، تو اس نے اپنی ایڑی کو زمین میں گڑا کر اپنے منہ کو کھول دیا۔

او لیور ایسکوار نے اپنا سر روشنی کی سمت میں گھما لیا۔ متاثرہ دانت کے معائنے کے بعد اس نے نرم انگلیوں کے دباؤ سے میئر کا جبڑا بند کر دیا۔

”یہ کام بنا دیر کئے بغیر ہی کرنا پڑے گا” اس نے کہا۔

”کیوں؟”

”کیونکہ اندر ایک زخم ہے۔”

میئر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ”ٹھیک ہے” اس نے کہا اور مسکرانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر جواب میں نہیں مسکرایا۔

اب بھی بغیر کسی عجلت کے وہ  اس عمل میں درکار بنیادی اوزاروں کو  کام کرنے کی میز تک لے آیا اور ان کو ایک ٹھنڈی چمٹی کی مدد سے پانی سے باہر نکالا۔ پھر اس نے پیکدان کو جوتے کی نوک سے دھکیلا اور واش بیسن میں ہاتھ دھونے کے لئے گیا۔ یہ سب اس نے میئر کی طرف دیکھے بغیر ہی کیا۔ لیکن میئر نے اس پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹائیں۔

زخم عقل داڑھ کے نچلے حصے میں تھا۔ ڈاکٹر نے اپنے پاؤں پھیلا کر گرم پلاس سے دانت کو پکڑ لیا۔ میئر نے کرسی کے ہتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا، اپنی پوری طاقت سے پیروں کو سخت کر لیا اور اپنے گردوں میں ایک برفیلا خالی پن محسوس کیا ،مگر کوئی آواز نہیں نکالی۔ڈاکٹر نے صرف اپنی کلائی کو حرکت دی۔ بغیر کسی سمجھوتے کے، بلکہ ایک تلخ نرمی کے ساتھ، اس نے کہا۔

”اب تم ہمارے بیس مارے گئے لوگوں کی قیمت ادا کرو گے۔”

میئر نے اپنے جبڑے میں ہڈیوں کی چرمراہٹ محسوس کی، اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ لیکن اس نے اس وقت تک سانس نہیں لی، جب تک کہ اسے دانت نکلنے کا احساس نہ ہو گیا۔ پھر اس نے اپنے آنسوؤں کے درمیان سے اسے دیکھا۔ اس کے درد کی وجہ سے وہ اتنا پرایا نظر آ رہا تھا کہ وہ اپنی پچھلی پانچ راتوں کا تشدد سمجھنے میں ناکام رہا۔

پیکدان پر جھکے، پسینے سے تر، ہانپتے ہوئے اس نے اپنی جیکٹ کے بٹن کھولے اور پتلون کی جیب سے رومال نکا لنا چاہا۔ ڈاکٹر نے اسے ایک صاف کپڑا دیا۔

”اپنے آنسو پونچھ لو” اس نے کہا۔

میئر نے ایسا ہی کیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ جب ڈاکٹراپنے ہاتھ دھو رہا تھا، اس نے ٹوٹی پھوٹی چھت اور دھول سے اٹے، مکڑی کے انڈوں اور مردہ کیڑے مکوڑوں سے بھرے مکڑی کے جالوں کی طرف دیکھا۔ اپنے ہاتھ پونچھتے ہوئے ڈاکٹر واپس لوٹا۔

”جاکر سو جاؤ” اس نے کہا ”اور نمک کے پانی سے غرارہ کر لینا۔”

میئر اٹھ کھڑا ہوا اور ایک غیر رسمی فوجی سلامی کے ساتھ رخصت لے کر، جیکٹ کے  بٹن بند کئے بغیر ہی، اپنے پاؤں پھیلاتے، دروازے کی طرف بڑھ چلا۔

”بل بھیج دینا” اس نے کہا۔

” تمہیں یا شہر کے نام؟”

میئر نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔ اس نے دروازہ بند کر دیا اور پردے کے پیچھے سے کہا۔

”ایک ہی بات ہے۔”

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.