گاڈ فادر ۔۔۔۔ عبد الحمید ظفر

گاڈ فادر

عبد الحمید ظفر

آج کل اٹلی کے ناول نگار میریوپیزو کے شہرہ آفاق ناول ’’گاڈ فادر‘‘ کا بہت چرچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ذکر پانامہ کیس کے فیصلے میں کیا گیا تھا۔ بہت سے لوگ ناول ’’گاڈ فادر‘‘ کی غلط تعبیر کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ مشہور زمانہ فقرہ کہ ’’ہر عظیم دولت کے پیچھے جرم ہوتا ہے‘‘ ناول گاڈ فادر کا حصہ ہے حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ کے شروع میں ہی مشہور فرانسیسی ناول نگار بالزاک کا یہ فقرہ نظر آتا ہے کہ
(Behind every great fortune there is a crime)
 ’’گاڈ فادر‘‘ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو انڈر ورلڈ مافیا کا چیئرمین بنا۔ اس کی ایک بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ وہ عام لوگوں کے لیے قابل نفرت ہے کہ اس کا دھندا غیر قانونی ہے وہ سمگلر بھی ہے اور اپنے کاروباری مفادات کیلئے خون کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ وہ بھی بنیادی طورپر ایک غریب اور لاچار آدمی تھا۔ غربت و افلاس سے لڑتے لڑتے وہ ایک مافیا ڈان بن جاتا ہے۔ اس کی پیشہ وارانہ رقابتیں بھی عروج پر ہیں۔ اس کے دشمن ہر وقت اس کی گھات میں رہتے ہیں۔ اس کا چھوٹا بیٹا باپ کے فلسفہ زندگی کا علمبردار ہے جبکہ بڑا بیٹا مائیکل باپ کے غیر قانونی کاروبار کو پسند نہیں کرتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مافیا ڈان کو آخر ’’گاڈ فادر‘‘ کیوں کہا گیا۔ دراصل وہ افتادگان خاک اور مفلوک الحال لوگوںکے دکھوں کامداوا کرتا ہے جس کی بنا پر یہ طبقے اسے ’’گاڈ فادر‘‘ یعنی ان داتا کے نام سے پکارتے ہیں۔ ہالی وڈ میں یہ فلم 1972ء میں ریلیز ہوئی اوراس نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کردیئے اس فلم میں مارلن برانڈو اور الچینو نے فن کے معراج کو چھو لیا تھا۔ پھر پاکستان میں 1975ء میں اس ناول پر ہدایتکار اقبال یوسف نے بھی ’’ان داتا‘‘ کے نام سے فلم بنائی۔ اس فلم میں سدھیر، محمد علی اورسلطان راہی نے مرکزی کردارادا کیے۔ اپنے وسائل کے مطابق اقبال یوسف ایک اچھی فلم بنانے میںکامیاب ہو گئے۔ پھر 1976ء میں بھارت میں فیروز خان نے ’’دھرماتما‘‘ کے نام سے فلم بنائی۔ اس فلم میں مرکزی کردار آنجہانی پریم ناتھ نے ادا کیا تھا۔ فلم کی دیگر کاسٹ میں ہیما مالنی، ڈیتی اور دیگر شامل تھے۔ اس فلم نے بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ لگتا ایسے ہے کہ شاید فیروز خان کو ناول ’’گاڈ فادر‘‘ سے عشق تھا۔ انہوں نے دوبارہ اس ناول کو ’’دیاوان‘‘ کے نام سے بنایا اور مرکزی کردار ونود کھنہ کو دیا جو ان کے بہترین دوست ہوا کرتے تھے۔ اس فلم میں بھی ونود کھنہ، فیروزخان ، امریش پوری اور ٹینو آنند نے لاجواب اداکاری کی تھی۔ اس موقع پر ہمیں سبھاش گئی کی کامیاب ترین فلم ’’ودھاتا‘‘ کا ذکر بھی کرنا پڑے گا۔ سبھاش گھئی نے اسے تھوڑی بہت تبدیلیوں کے ساتھ ’’گاڈ فادر‘‘ کے قالب میں ہی ڈھال دیا تھا۔ اس فلم میں دلیپ کمار، سنجیو کمار، سنجے دت اورامریش پوری نے باکمال اداکاری کی تھی۔ بہرحال اس ناول کا فلسفہ سمجھنے کے لیے اس کے منصف ماریو پیزو کی زندگی کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ ماریوپیزو نے خود غربت کی زندگی بسر کی تھی۔ یہ ناول لکھ کر اسے بہت رقم مل گئی۔ ماریو پیزو ایک دفتر میں کلرک تھا۔ ایک دفعہ وہ رات کے وقت ایک گڑھے میں گر گیا تھا۔ پھر وہ ذیابیطس میں مبتلا ہوگیا۔ عمر کے آخری برسوں میں اس سے چلا نہیں جاتا تھا۔ اس نے 78 برس کی عمر پائی۔ بس فلسفہ یہی ہے کہ اگر دولت کمانی ہے اور بہت زیادہ دولت کمانی ہے تو پھر جرم تو کرنا پڑے گا۔ غربت اور افلاس میں پسے ہوئے لوگ اسی حوالے سے اپنے جرم کی عمارت تعمیر کرتے ہیں۔ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اگر غور کیا جائے تو غربت و افلاس اور ناانصافیاں ہی سارے فساد کی جڑ ہیں۔ اگر معاشرے سے یہ ساری برائیاں ختم ہو جائیں تو پھر کیا کہنے۔ ’’گاڈ فادر‘‘ ناول کے مکالمے بڑے زبردست ہیں۔ ان کی دلکشی آج تک قائم ہے۔ جب تک معاشی ناانصافیاں جاری رہیں گی جرم کی ایسی عمارتیں تعمیر ہوتی رہیں گی۔ مافیا ڈان پیدا ہوتے رہیں گے۔ چاہے وہ جس روپ میں بھی ہوں۔

 

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: