پانی ۔۔۔ ہمراز احسن

پانی

(ہمراز احسن)

 پانی کے کان ہوتے ہیں 
وہ سنتا ہی نہیں، بولتا بھی ہے
دیر کے ریسٹ ہاوس کے لان میں 
دریائے پنجکوڑہ کے پانیوں کا
پتھروں سے ٹکرا کر نیچے اُترنے کا شور
میں نے اپنے کانوں سے سنا 
اور شور میں ایک شرابا 
جیسے اُتار کے بہاٗو کا کوئی ماتم ہو
مستقل، ایک سے ردم میں
جیسے بین ڈالنے والی عورتوں کا
صدیوں پرانا آہنگ 
ایک سے پتھروں سے ٹکرانے سے 
ایک سی آواز 
میں نے اُسی لان میں بیٹھ کر 
پانی کا ماتم منایا 
اور ہنزہ واٹر پیا
جو پکی ہوئی خوبانی کی مہک لیے تھا
پانی اپنا ماضی 
میری طرح اٹھائے پھرتا ہے
ہنزہ واٹر کے اجنبی نشے میں
میں چناب کی اُس گھمن گھیری کا
شکر گذار ہوا 
جس نے مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹے
پاتال میں اُتارا
لیکن میری جان بخشی کر دی
ورنہ مجھ جیسوں کا مردہ تن کب کنارے لگتا ہے
میں نے تو بچپن میں 
اپنی ماسی چنن بی بی 
درگاہ دار، نیک و پاک 
کا دم کیا ہوا پانی 
تک نہ پیا
بن سوچے، بن سمجھے
بس روڑ دیا
وہ سوہنی کا رڑنا نہیں تھا
کہ پانی محبتوں کی ہر رمق کا امین ٹھہرا
کریم ٹھہرا، سلام ٹھہرا
جو اُس کے من میں آئے تو
یوں بہے 
کہ جمیل ٹھہرے!
دل میں جیسے کوئی جھیل ٹھہرے
جس پر تیرتا پھول 
سدا ہرا 
گذرے عشق سے بھرا 
جیسے ہنزہ واٹر میں 
پکی خوبانیوں کا نشہ

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: