بھیڑیا ۔۔۔ ہرمن ہیسے

Hermann Karl Hesse was a German-born poet, novelist, and painter. His best-known works include Demian, Steppenwolf, Siddhartha, and The Glass Bead Game, each of which explores an individual’s search for authenticity, self-knowledge and spirituality. In 1946, he received the Nobel Prize in Literature.

بھیڑیا

( ہرمن ہیسے )

 ترجمہ: نجم الدّین احمد

اُس سے پہلے کبھی فرانسیسی پہاڑوں پر اِتنی شدّید سردی نہیں پڑی تھی اورموسمِ سرما بھی اِتنا طویل نہیں ہؤا تھا۔ ہفتوں تک ہَوا صاف ، تِیکھی اور سرد رہی تھی۔ دِن کے وقت عظیم الشّان ڈھلوانی برفانی میدان مٹیالے سفید اور تا حدِّ نگاہ پھیلے نظر آتے تھے۔ رات کو اُن پر سے چھوٹا، شفاف، ناراض اور سرد مہر چاند گزرتا تھا۔ برف پر اُس کی پِیلگوں روشنی مدہم نیلی ہو کر چمکتی تھی جو بذاتِ خُود سردی کا جوہر لیے ہوتی تھی۔ خاص طور پر پہاڑوں کو جانے والی اُونچی سڑکیں اور پگڈنڈیاں سُنسان ہو گئی تھیں۔ لوگ بستیوں میں اپنے اپنے گھروںمیں کاہلی سے پڑے بُڑبُڑاتے رہتے تھے۔ رات کو کھڑکیاں نیلی چاندنی میں دُھواں نُما سُرخ ہو کر چمکتیں اور جلد ہی اندھیرے میں ڈُوب جاتیں۔
علاقے کے جانوروں کے لیے کڑا وقت تھا۔ بہت سے چھوٹے جانور اور پرندے ٹھٹھر کر مر چکے تھے اور اُن کی نحیف و نزار لاشیں عقابوں اور بھیڑیوں کی خوراک بن چکی تھیں۔ لیکن وہ بھی بُری طرح ٹھنڈ اور بھُوک کے مارے ہوے تھے۔ اُس علاقے میں بھیڑیوں کے صرف چند خاندان بستے تھے اور مصیبت نے اُنھیں اِکٹھّا رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ دِن میں اُن میں سے کوئی ایک باہر نکلتا۔ وہ برف میں مارا مارا پھِرتا۔ وہ کمزور، بھُوکا، چوکنّا اور کسی بھُوت کی طرح غصّیلا ہو رہا ہوتا۔ اُس کا سایہ اُس کے قریب ہی برف کی سفیدی میں چمکتا ہوتا۔ وہ اپنی نوکیلی تھوتھنی ہَوا میں گھُماتا اور سُونگھتا ۔ وہ وقتاً فوقتاً خشک اور زخمی انداز میں کراہتا۔ لیکن رات کو وہ سب اِکٹھّے باہر نکلتے اور بستیاں اُن کی دردناک غرّاہٹوں میں گھِر جاتیں۔ مویشیوں اور مُرغیوں کو احتیاط سے بند کیا ہوتا تھا اور قوی ہیکل کندھوں پر بندوقیں تیار ہوتی تھیں۔ شاذونادر ہی بھیڑیے کُتّے یا کسی دُوسرے چھوٹے جانور کا شکار کر پاتے جب کہ بھیڑیوں میں سے دو کو پہلے ہی گولی سے مارا جا چکا تھا۔
سردی کا موسم جاری رہا۔ اکثر بھیڑیے گرمی حاصل کرنے کے لیے ایک دُوسرے میں گھُسڑ جاتے اور انڈے سِینے والی مُرغی کی طرح پڑے اپنے اردگرد پھیلے مُردہ علاقے کے سنّاٹے کو خوف میں ڈُوبے اُس وقت تک سُنتے رہتے جب تک کہ اُن میں سے کوئی بھُوک سے بِلبِلا کر اچانک ہی اُوپر کونہ اُچھلتا اور دہشت ناک انداز میں دہاڑنے لگتا۔ تب وہ سارے اپنی تھوتھنیاں اُس کی طرف موڑتے ، خوف سے کانپنے لگتے اور پھر سب مل کر وحشت ناک، ڈرا دینے والی اور اُداسی بھری چیخیں مارنے لگتے۔
بالآخر اُن میں سے ایک چھوٹے گروہ نے وہاں سے کوچ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی الصبح اُنھوں نے اپنے بھَٹ چھوڑ دیے اور جمع ہو کرتشویش اور بَرانگیختگی سے منجمد ہَوا میں سُونگھنے لگے۔ پھر وہ تیز تیز اورقدرے اُچھلتے ہوے چلنے لگے۔ پیچھے رہ جانے والوں نے اُن کو عقب سے اپنی چمکتی ہوئی کھُلی آنکھوں سے دیکھا۔ اُن کے پیچھے چند قدم چلے، رُکے اور کچھ دیر ہچکچاہٹ کے عالم میں کھڑے رہے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوے اپنے خالی بھَٹّوں میں چلے گئے۔
دوپہر کے وقت مسافروں کا گروہ دو میں تقسیم ہو گیا۔ تین بھیڑیوں نے سوِس جیورا کی طرف جانے والی مشرقی سمت پکڑ لی جب کہ دُوسروں نے جنوبی سمت میں سفر جاری رکھا۔ وہ تینوں مضبوط کاٹھی کے لیکن خوفناک حد تک لاغر تھے۔ اُن کے ہلکے رنگ کے اندر کو دھنسے ہوے پیٹ فِیتوں کی طرح کم چوڑے تھے۔ اُن کی پسلیاں ترّحم کی حد تک اُن کے سِینوں پر نُمایاں تھیں۔ اُن کے مُنہ خشک اور آنکھیں باہر کو اُبلی ہوئیں اور مایوسی کا مظہر تھیں۔ وہ جیورا میں دُور تک چلے گئے۔ اگلے روز اُنھوں نے ایک بھیڑ اور اُس سے اگلے روز ایک کُتّے اور پھر اگلے روز ایک بچھیری کو مار ڈالا۔ اشتعال میں آئے ہوے دیہاتیوں نے اُن کا شکار شُرُوع کر دیا۔ علاقے کے دیہاتوں اور قصبوں میں نامعلوم مداخلت کاروں کا خوف پھیل گیا۔ برف گاڑیاں مسلّح ہو کر چلنے لگیں۔ ایک گاؤں سے دُوسرے کو جانے والے اپنے ساتھ بندوقیں رکھنے لگے۔ ایسی احتیاطوں کے بعد تینوں بھیڑیوں نے فوراً ہی اُس اجنبی علاقے میں مقابلے اور غیر یقینی کے ماحول کو محسوس کر لیا۔ جتنی اپنے علاقے میں وہ جان خطرے میں ڈالتے تھے اُنھوں نے اُس سے زیادہ خطرہ مول لیتے ہوے مویشیوں کے ایک باڑے کو دِن دیہاڑے توڑ ڈالا۔ چھوٹی سی گرم عمارت گائیوں کے ڈکرانے، لکڑی کی پھٹّیوں کے ٹُوٹنے، پیروں کے پٹخے جانے اور بھیڑیوں کی گرم اور بھُوکی سانسوں کی آوازوں سے بھر گئی تھی۔ لیکن اِس بار لوگ پہنچ گئے۔ بھیڑیوں کو مزہ چکھایا گیا جس سے کسانوں کے حوصلے دو گنے ہو گئے۔ اُنھوں نے ایک کو گردن میں گولی مار کر ہلاک کیا اور دُوسرے کو کلہاڑے سے ذبح کردیا۔ تیسرا بھاگ نکلا اور اُس وقت تک دوڑتا رہا جب تک کہ اَدھ مؤا ہو کر برف پرنہ گر پڑا۔ وہ بھیڑیوں میں نوجوان اور سب سے زیادہ خُوب صُورت تھا۔ اُسکا سِینہ قابلِ فخر، مضبوط اور دِیدہ زیب تھا۔ وہ بہت دیر پڑا ہانپتا رہا۔ خُون جیسے سُرخ دائرے اُس کی نظروں کے سامنے چکرا رہے تھے۔ کبھی کبھار اُس کے مُنہ سے دردناک اور تکلیف بھری کراہ نکل جاتی تھی۔ تاک کر زور سے نشانہ لگایا ہؤا ایک کلہاڑا اُس کی کمر سے ٹکرایا تھا۔ لیکن وہ اپنے آپ کو سنبھال کر اُٹھ کھڑا ہؤا تھا۔ صرف اُسی وقت اُس نے دیکھا کہ وہ کتنی دُور تک دوڑا تھا۔ بہت دُور تک کہ جہاں بندہ نہ بندے کی ذات تھی۔ اُس کے سامنے برف سے ڈھکا ہؤا عظیم الشّان چیسرل کا پہاڑ تھا۔ اُس نے اُس کے گرد سے گھُوم کر جانے کا فیصلہ کیا۔ سخت پیاس کے عالم میں اُس نے سخت جمی ہوئی برف کی سطح پر چند مُنہ مارے۔
پہاڑ کی دُوسری طرف اُس نے ایک گاؤں دیکھا۔ رات ہو رہی تھی۔ وہ انتظار کرنے کے لیے صنوبر کے درختوں کے جھُنڈ میں ٹھیر گیا۔ پھر اُس نے چوکنّے پن سے باغ کے جنگلوں کے پاس سے ہوتے ہوے مویشیوں کے گرم باڑوں کی بُو کا تعاقب کیا۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے خوفزدہ انداز میں ندیدے پن سے گھروں کے بیچ جھانکا۔ گولی داغی گئی۔ اُس نے اپنا سر واپس کھینچا اور بھاگنے کو ہی تھا کہ دُوسری گولی چلائی گئی جو اُسے لگ گئی۔ اُس کے سفید پیٹ کی ایک سمت خُون سے لت پت ہو گئی۔ خُون بڑے قطروں کی صُورت میں نیچے گرنے لگا۔ زخمی ہونے کے باوجود وہ جیسے اُڑتا ہؤا جنگل سے بھرے پہاڑ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہاں ٹھیر کر وہ ایک لمحے کے لیے سماعت بر گوش ہؤا۔ اُس نے دُور سے آتی ہوئی آوازیں اور قدموں کی چاپیں سُنیں۔ اُس کے اندر خوف بھر گیا۔ اُس نے پہاڑ کے اُوپر کی جانب دیکھا۔ راستہ ڈھلوانی، درختوں سے اَٹا ہؤا اور چڑھائی مشکل تھی۔ لیکن اُس کے پاس کوئی دُوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔ ہانپتے ہوے اُس نے ڈھلوان سطح پر چڑھنا شُرُوع کیا۔ اُس کے پیچھے نیچے سے آتا ہؤا لعن طعن کا طوفان، احکامات اور لالٹینوں کی روشنیاں پہاڑ سے ٹکرا رہی تھیں۔ خوف سے کانپتے ہوے زخمی بھیڑیا نیم روشنی میں درختوں میں سے ہوتا ہؤا اُوپر چڑھتا گیا اور کتھئی خُون اُس کے پہلو سے آہستہ آہستہ ٹپکتا رہا۔سردی بڑھ گئی تھی۔ مغرب میں آسمان کُہر آلود ہو کر برف گرنے کا اشارہ دے رہا تھا۔
آخر کار نکلتی ہوئی جان کے ساتھ وہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ ہی گیا۔ وہ بڑے اور قدرے نیچے کی طرف ترچھے برف کے میدان کے کنارے پر تھا جو مونٹ کروسِن سے زیادہ دُور نہیں تھا اور اُس گاؤں سے بہت اُونچا تھا جہاں سے وہ جان بچا کر بھاگا تھا۔ اُسے بھُوک محسوس نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کے زخم میں مسلسل تکلیف دہ درد ہو رہا تھا۔ اُس کے مضمحل جبڑوں سے کمزور اور بیمار کراہ نکلی۔ اُس کے دِل کی دھڑکن بھاری اور درد انگیز ہو رہی تھی اور دِل پر موت کا ہاتھ وزنی شے کی طرح رکھا ہؤا تھا۔ شاخیں پھیلائے ہوے صنوبر کے ایک تنہا درخت نے اُسے پناہ دی۔ وہ اُس کے نیچے بیٹھ گیا اور لاچاری سے برفیلی اندھیری رات میں گھُورنے لگا۔ یُونہی آدھ گھنٹا گزر گیا۔ پھر سُرخ رنگ کی عجیب سی مدہم روشنی برف پر گری۔ کراہتے ہوے وہ کھڑا ہؤا اور اُس نے اپنا خُوب صُورت سر روشنی کی طرف گھُمایا۔ بڑا اور لہو جیسا سُرخ چاند جنوب مشرق سے طلوع ہو کر آہستہ آہستہ کُہر زدہ آسمان پر اُوپر کی سمت سفر کر رہا تھا۔ بہت سے ہفتوں سے تو چاند اتنا بڑا اور سُرخ نہیں تھا۔ مرتے ہوے بھیڑیے کی آنکھیں افسوس ناک انداز میں دُھندلی ٹِکیا سے چمٹ کر رہ گئیں۔ ایک بار پھر ہلکی سی غرّاہٹ دردناکی لیے رات کے سنّاٹے میں گُونجی۔
تب وہاں قدموں کی آوازیں اور روشنیاں آنے لگیں۔ موٹے کوٹوں میں کسان ، فر کی ٹوپیوں اور بے ڈول پاجاموں میں شکاری اور لڑکے برف پر گھِسٹتے ہوے پہنچ گئے۔ فاتحانہ چیخ اُبھری۔ اُنھوں نے مرتے ہوے بھیڑیے کو دیکھ لیا تھا۔ فوراً ہی دو گولیاں چلیں۔ دونوں نشانے پر نہ بیٹھیں۔ اُنھوں نے دیکھا کہ وہ تو پہلے ہی سے مر رہا تھا۔ وہ اُس پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے جُت گئے۔ اُس کے بعد وہ احساس سے ماورا ہو گیا۔
اُس کی ہڈّیاں توڑ کر وہ اُسے گھسیٹتے ہوے سینٹ اِمّر (Saint Immer) لے گئے۔ اُنھوں نے قہقہے لگائے، شیخیاں بگھاریں، گیت گائے، لعنتیں برسائیں اور برانڈی اور کافی کے حقدار ٹھہرے۔ اُن میں سے کسی نے بھی جنگل کو ڈھانپنے والی برف کے حسن کو یا بلند سطح مرتفع کی تابانی کو یا چیسرل پر لٹکے سُرخ چاند کو نہیں دیکھا جس کی مدہم چاندنی اُن کی بندوقوں کی نالیوں پر، شفاف برف میں اور مردہ بھیڑیے کی دُھندلائی ہوئی آنکھوں میں ٹمٹا رہی تھی۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: