بھیڑیا ۔۔۔ ہوشنگ گلشیری

Hoshing Gulshery is one of the modern Iranian writers. He is a short story writer, critic and editor of many literary magazines of Iran.He faced imprisonment for a film which was based on his novel “shazdeh Ehtijab”

 

بھیڑیا

(ہوشنگ گلشیری)

جمعرات کی دوپہر کو مجھے خبر ملی کہ ڈاکٹر لوٹ آیا ہے اور اب تک بیمار ہے۔ اس کے ساتھ مسئلہ کچھ نہ تھا۔ شفا  خانے کے دربان نے بتایا تھا کہ کل رات سے اب تک وہ متواتر سویا ہے اور جب سے اُٹھا ہے تب سے مسلسل رو رہا ہے۔ اس کا معمول تھا کہ بدھ یا جمعرات کو بعد دوپہر اپنی بیوی کے ساتھ شہر روانہ ہو جاتا۔ اس بار بھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ گیا تھا۔ لیکن جو ٹرک ڈرائیور ڈاکٹر کو لے کر آیا تھا اس نے بتایا: “گاڑی میں صرف ڈاکٹر ہی تھا۔” لگتا تھا سخت سردی سے اکڑ گیا ہے۔ وہ ڈاکٹر کو قہوہ خانے تک پہنچا کر خود آگے روانہ ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر کی گاڑی تنگ درّے کے وسط میں ملی۔ پہلے انھوں نے سوچا کہ اسے کسی گاڑی کے پیچھے باندھ کر گاؤں تک لانا ہو گا۔ اسی خیال سے وہ شفا خانے کی جیپ ساتھ لے کر گئے تھے۔ لپٹکن جب ڈرائیور گاڑی میں بیٹھا اور چند لوگوں نے دھکا لگایا تو وہ چل پڑی۔ ڈرائیور نے کہا: “یہ بھی صرف کل رات کی سردی کی وجہ سے ہے، ورنہ گاڑی میں کوئی خرابی نہیں۔” گاڑی کے برف ہٹانے والے وائپر تک درست حالت میں تھے، اس لیے جس وقت ڈاکٹر نے کہا: “اختر؟ اختر کہاں ہے؟” تب تک کسی کو اس کی بیوی کا خیال نہ آیا۔

            ڈاکٹر کی بیوی کوتاہ قد اور لاغر تھی، اس قدر لاغر اور رنگ پریدہ کہ گویا ابھی نڈھال ہو کر گر پڑے گی۔ وہ دونوں شفا خانے ہی کی عمارت میں بنے دو کمروں میں رہتے تھے۔ شفا خانہ قبرستان کے اُس طرف ہے، یعنی آبادی سے ایک میدان کے فاصلے پر۔ اس کی بیوی انّیس سال سے زیادہ کی نہ تھی۔ کبھی کبھی وہ شفا خانے کی راہداری میں یا کھڑکی کے شیشوں کے پیچھے نمودار ہوتی۔ صرف جب دھوپ نکلی ہوتی، وہ قبرستان کے کنارے سے نکل کر آتی اور گاؤں کا چکر لگاتی۔ اکثر اس کے ہاتھ میں کوئی کتاب ہوتی یا کبھی کبھی میٹھی گولیاں یا چاکلیٹ بھی اس کے سفید بلاؤز کی جیب یا ہینڈ بیگ میں ہوتے۔ اسے بچوں سے بہت لگاؤ تھا۔ اُنھیں کی خاطر وہ اکثر مدرسے کی طرف نکل آتی۔ ایک بار میں نے اُس کو تجویز پیش کی کہ اگر وہ چاہے تو ایک کلاس اس کے حوالے کی جا سکتی ہے، لیکن اس نے کہا کہ اس میں بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کا حوصلہ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ اس سے پہلے ڈاکٹر نے بھی یہی تجویز پیش کی تھی، تاکہ وہ خود کو مصروف رکھ سکے۔ کبھی کبھار وہ عورتوں کے ساتھ نہر کے کنارے بھی چلی جاتی۔

            جب پہلی برف پڑی تب سے وہ غائب ہو گئی۔ عورتوں نے اسے بخاری کے قریب بیٹھے کتاب پڑھتے یا اپنے لیے چائے بناتے دیکھا تھا۔ جب ڈاکٹر مریضوں کو دیکھنے کسی دوسرے دیہات میں گیا ہوتا تو ڈرائیور کی بیوی یا دربان خانم کے پاس رہتے۔ غالباً سب سے پہلے صدیقہ، ڈرائیور کی بیوی، کی سمجھ میں آیا۔ اس نے عورتوں سے کہا: “پہلے میں نے سوچا کہ اسے اپنے شوہر کی فکر ہے کہ اچانک اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاتی ہے اور پردے کھول دیتی ہے۔” وہ کھڑکی کے پاس کھڑی ہو جاتی اور سفید اور روشن صحرا کو دیکھنے لگتی۔ صدیقہ کا کہنا تھا: “جب بھیڑیوں کے غرّانے کی آواز آتی ہے تو وہ کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوتی ہے۔”

            خیر، سردیوں میں جب برف پڑتی تو بھیڑیے آبادی کی طرف آ جاتے تھے۔ ہر سال اسی طرح ہوتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی کتّا، بھیڑ بلکہ بچّہ بھی گم ہو جاتا، اور بعد میں گاؤں والوں کو ٹولی بنا کر جانا پڑتا کہ کتّے کا پٹّا یا بچے کا جوتا یا کوئی اور نشان مل سکے۔ لیکن صدیقہ بھیڑیے کی برّاق آنکھوں کو دیکھ چکی تھی اور یہ بھی دیکھ چکی تھی کہ ڈاکٹر کی بیوی کس طرح خیرہ ہو کر بھیڑیے کی آنکھوں کو دیکھتی رہ جاتی تھی۔ ایک بار تو اسے صدیقہ کے خود کو پکارنے تک کی آواز سنائی نہ دی تھی۔

            دوسری تیسری برف پڑنے کے بعد ڈاکٹر کے لیے اردگرد کے علاقوں میں مریضوں کو دیکھنے کے لیے جانا ممکن نہ رہتا۔ جب اسے محسوس ہوتا کہ ہفتے میں چار یا پانچ راتیں اسے گھر ہی میں گزارنی پڑیں گی تو وہ ہماری محفلوں میں شریک ہونے چلا آتا۔ ہماری محفل عورتوں کے لیے نہ تھی، لیکن خیر، اگر ڈاکٹر کی بیوی آتی تو وہ عورتوں کے پاس جا سکتی تھی۔ مگر اس نے کہہ دیا تھا: “میں گھر ہی میں رہوں گی۔” کسی شب اگر محفل ڈاکٹر کے گھر پر جمتی تو اس کی بیوی بخاری کے قریب بیٹھی کتاب پڑھا کرتی یا کھڑکی کے پاس کھڑی بیابان کو دیکھا کرتی یا قبرستان کی طرف والی کھڑکی سے غالباً گاؤں کی روشنیوں کو دیکھتی رہتی۔ ایک رات شاید ہمارے گھر پر تھے کہ ڈاکٹر نے کہا: “آج مجھے جلدی جانا ہے۔” کچھ ایسا تھا کہ اس نے سڑک پر ایک بڑا سا بھیڑیا دیکھ لیا تھا۔

            مرتضوی نے کہا: “شاید کتّا ہو۔”

            مگر میں نے خود ڈاکٹر سے کہا: “اس طرف بھیڑیے بہت دکھائی دیتے ہیں۔ احتیاط کرنی چاہیے۔ اور گاڑی سے باہر تو ہرگز نہیں نکلنا چاہیے۔”

            پھر شاید میری بیوی نے کہا: “ڈاکٹر صاحب، آپ کی خانم کہاں ہیں؟ اُسی گھر میں، قبرستان کے پاس؟”

            ڈاکٹر بولا: “اسی لیے تو مجھے جلدی چلا جانا چاہیے۔”

            پھر اس نے بتایا کہ اس کی بیوی بہت نڈر ہے۔ اور بیان کیا کہ ایک رات، نصف شب کو، اس کی آنکھ کھلی تو اسے کھڑکی کے پاس ایک کرسی پر بیٹھے دیکھا۔ جب ڈاکٹر نے اسے آواز دی تو بیوی نے کہا: “پتا نہیں کیوں یہ بھیڑیا ہمیشہ اس کھڑکی کے پاس آ جاتا ہے۔”

            ڈاکٹر نے دیکھا کہ وہ بھیڑیا کھڑکی کی سلاخوں کے ٹھیک باہر چاند کی دھندلی روشنی میں بیٹھا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد چاند کی طرف منھ کر کے غرّا رہا تھا۔

            خیر، کون سوچ سکتا تھا کہ ایک بڑے اور تنہا بھیڑیے کا یوں کھڑکی کے پاس بیٹھنا اور خیرہ ہونا ہوتے ہوتے ڈاکٹر کے لیے ایک مسئلہ بن جائے گا، بلکہ ہم سب کے لیے بھی۔ ایک شب وہ ہماری محفل میں شریک ہونے نہیں آیا۔ پہلے ہمیں خیال ہوا کہ ڈاکٹر کی بیوی بیمار ہو گئی ہو گی، یا شاید ڈاکٹر خود، لیکن اگلے روز اس کی بیوی خود سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر مدرسے آئی اور کہنے لگی کہ اگر اسے بچوں کی نقاشی کی کلاس دے دی جائے تو وہ مدد کرنے کو تیار ہے۔

            دراصل شاگرد اتنے کم ہو گئے تھے کہ اب اُس کی مدد کی ضرورت نہ رہی تھی۔ جب ہم ان سب کو ایک کلاس میں جمع کر لیتے تو ان کے لیے آقائے مرتضوی ہی کافی تھے۔ مگر خیر، نقاشی نہ میری اچھی تھی نہ مرتضوی کی۔ ہم نے اس کے لیے بدھ کی صبح کا وقت طے کیا۔ پھر میں نے بھیڑیے کی بات چھیڑی اور کہا کہ اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں، کہ اگر دروازہ کھلا نہ چھوڑا جائے اور باہر نہ نکلا جائے تو کوئی خطرہ نہیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ چاہیں تو گاؤں میں مکان لے کر رہ سکتے ہیں۔

            کہنے لگی: “نہیں، شکریہ۔ کوئی مشکل نہیں ہے۔”

            اس کے بعد بتانے لگی کہ شروع شروع میں اسے ڈر لگتا تھا، یعنی ایک رات کو جب اس نے بھیڑیے کے غرانے کی آواز سنی تو اسے محسوس ہوا کہ وہ جنگلا پھلانگ کر اِس طرف آ گیا ہے اور مثلاً کھڑکی یا دروازے کے بالکل ساتھ لگا بیٹھا ہے۔ جب اس نے بتی جلائی تو اسے جنگلا پھلانگتے دیکھا اور پھر اس کی چمکتی ہوئی آنکھوں کو دیکھا۔ وہ بولی: “اس کی آنکھیں بالکل ایسی تھیں جیسے دو جلتے ہوے انگارے۔” پھر کہنے لگی: “میں خود بھی نہیں جانتی کہ جس وقت میں اُسے دیکھتی ہوں، اس کی آنکھوں کو، یا اس کے پُر سکون انداز کو… آپ کو پتا ہے وہ بالکل شکاری کتے کی طرح اپنی اگلی ٹانگوں پر بیٹھا گھنٹوں ہمارے کمرے کی کھڑکی پر نظریں جمائے رہتا ہے۔”

            میں نے پوچھا: “تو پھر آخر آپ کیوں…؟”

            وہ سمجھ گئی، بولی: “بتایا تو ہے، میں نہیں جانتی کیوں۔ یقین کیجیے، جب میں اسے دیکھتی ہوں، خاص طور پر اس کی آنکھوں کو، تو میرے لیے کھڑکی کے پاس سے ہٹنا ممکن ہی نہیں رہتا۔”

            پھر ہم شاید بھیڑیوں کے بارے میں باتیں کرنے لگے اور میں اسے بتانے لگا کہ کبھی جب بھیڑیے بھوکے ہو جاتے ہیں تو حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگتے ہیں، ایک گھنٹا، دو گھنٹے، یعنی اس وقت تک جب ان میں سے کوئی ایک ضعف سے مغلوب ہو کر گر پڑے۔ تب وہ اس پر حملہ کر کے اسے کھا جاتے ہیں۔ پھر ان کتوں کا ذکر ہوا جو کبھی کبھار گم ہو جاتے ہیں اور بعد میں ان کا پٹّا کہیں پڑا ملتا ہے۔ ڈاکٹر کی خانم نے بھی باتیں کیں۔ لگتا تھا کہ وہ جیک لنڈن کی کتابیں پڑھ چکی ہے۔ کہتی تھی: “اب میں بھیڑیوں سے خوب واقف ہو گئی ہوں۔”

            اگلے ہفتے جب وہ آئی تو اس نے بچوں کے لیے پھول یا پتّے کی ڈرائنگ بنائی تھی۔ میں نے دیکھی نہیں، فقط اس کے بارے میں سنا تھا۔

            ایک سنیچر کے دن میں نے بچوں سے سنا کہ قبرستان میں شکنجہ لگایا گیا ہے۔ تیسری گھنٹی پر میں خود ایک بچے کے ساتھ گیا اور دیکھا۔ بڑا سا شکنجہ تھا۔ ڈاکٹر خود شہر سے خرید کر لایا تھا اور اس کے اندر گوشت کا پارچہ رکھا تھا۔ اس سہ پہر کو میری بیوی نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر کی بیوی سے ملنے گئی تھی۔ کہنے لگی: “اُس کی حالت اچھی نہیں ہے۔” کہنے لگی، ڈاکٹر کی بیوی بتا رہی تھی کہ اسے ڈر ہے اس کے بچہ نہیں ہو گا۔

            میری بیوی نے اُسے دلاسا دیا تھا۔ ان کی شادی کو سال بھر ہوا تھا۔ پھر میری بیوی شکنجے کی بات کرنے لگی اور اس سے بولی: “عموماً کھال یہیں اتار لیتے ہیں اور پھر شہر لے جاتے ہیں۔” میری بیوی نے بتایا: “یقین کرو، ایک بار تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور کپکپی طاری ہو گئی۔ بولی: سنتی ہو؟ یہ اُسی کی آواز ہے۔ میں نے کہا: خانم، اِس وقت؟ دن میں؟”

            پھر جیسے ڈاکٹر کی بیوی دوڑ کر کھڑکی کے پاس گئی۔ باہر برف پڑ رہی تھی۔ میری بیوی نے بتایا: “اس نے پردے کھول دیے اور کھڑکی سے لگ کر کھڑی ہو گئی۔ اسے خیال تک نہ رہا کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہوا ہے۔”

            اگلی صبح ڈرائیور اور گاؤں کے چند لوگ شکنجے کے پاس گئے۔ اسے کسی نے نہ چھوا تھا۔ صَفر نے ڈاکٹر سے کہا: “یقیناً وہ رات میں نہیں آیا۔”

            ڈاکٹر نے کہا: “نہیں۔ آیا تھا۔ میں نے خود اس کی آواز سنی تھی۔”

            مجھ سے اس نے کہا: “یہ عورت پاگل ہوتی جا رہی ہے۔ رات کو پل بھر نہیں سوئی۔ تمام رات کھڑکی کے پاس بیٹھی بیابان کو تکتی رہی۔ آدھی رات کو جب بھیڑیے کی آواز سے میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ وہ دروازے کی چٹخنی کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے چیخ کر کہا: کیا کر رہی ہے، عورت؟”

            ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی بیوی کے ہاتھ میں فلیش لائٹ تھی، وہ بھی روشن۔ ڈاکٹر کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور ہاتھ لرز رہے تھے۔ ہم دونوں ساتھ شکنجے کے پاس گئے۔ وہ سالم تھا۔ گوشت کا پارچہ بھی جوں کا توں رکھا تھا۔ پیروں کے نشان بتاتے تھے کہ بھیڑیا شکنجے کے پاس آیا تھا، یہاں تک کہ اس کے پاس بیٹھا بھی تھا۔ اس کے بعد بھیڑیے کے پیروں کے نشان سیدھے شفا خانے کے احاطے کے جنگلے کی طرف جاتے تھے۔ عورت کی شکل مجھے کھڑکی کے پاس دکھائی دی۔ وہ ہماری ہی طرف دیکھ رہی تھی۔ ڈاکٹر بولا: “میری سمجھ میں نہیں آتا۔ تم کم از کم کچھ تو اس عورت سے کہو۔”

            عورت کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کی زرد رنگت اَور بھی زرد ہو گئی تھی۔ اپنے سیاہ بال اس نے اکٹھے کر کے سینے پر ڈال رکھے تھے۔ صرف آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا تھا۔ کاش وہ اپنے لبوں پر سرخی یا کوئی چیز لگا لیتی کہ اس قدر سفید نظر نہ آتے۔ میں نے کہا: “میں نے کبھی نہیں سنا کہ بھوکا بھیڑیا گوشت کے پاس سے یوں نکل جائے۔”

            میں نے اسے بھیڑیے کے پیروں کے نشانوں کے بارے میں بتایا۔ کہنے لگی: “ڈرائیور کہتا تھا کہ وہ بھوکا نہیں تھا۔ میں نہیں جانتی۔ شاید بہت ہوشیار ہے۔”

            اگلے روز خبر ملی کہ شکنجہ کھنچ گیا ہے۔ لوگ شکنجے کے گھسٹنے کے نشان کے ساتھ ساتھ گئے اور اُس تک پہنچ گئے۔ نیم جان تھا۔ پھاؤڑے کے پھل کے دو تین وار پڑے تو ٹھنڈا ہو گیا۔ ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر کہا: “الحمد لله۔” مگر اس کی بیوی نے صدیقہ سے کہا: “صبح سویرے میں نے اُسے جنگلے کے اُس طرف بیٹھے دیکھا تھا۔ یہ جو پکڑا گیا ہے ضرور کوئی کتا یا گیدڑ یا کچھ اور ہو گا۔”

            شاید۔ بعید نہیں کہ یہی باتیں اس نے ڈاکٹر سے بھی کی ہوں، کہ ڈاکٹر کو ناچار پولیس کے پاس جانا پڑا۔ اس کے بعد دو ایک رات پولیس والے ڈاکٹر کے گھر میں ٹھہرے۔ تیسری رات تھی کہ ہمیں گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اگلے دن پولیس والے اور گاؤں کے کچھ لوگ شفا خانے کے ڈرائیور کے ساتھ خون کے نشانوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوے آبادی کے دوسری طرف کی پہاڑی پر گئے۔ پہاڑی کے پیچھے وادی میں انھیں بھیڑیے کے پیروں کے نشان اور اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی برف نظر آئی۔ لیکن انھیں سفید ہڈی کا ٹکڑا تک نہ ملا۔ ڈرائیور بولا: “بد مذہب کہیں کے، اس کی ہڈیاں تک کھا گئے۔”

            مجھے یقین نہ آیا۔ میں نے نے صَفر آقا کو بھی بتایا۔ صفر نے کہا: “خانم نے بھی جب سنا تو فقط مسکرا دی۔ ڈاکٹر نے خود مجھ سے جا کر اسے خبر دینے کو کہا تھا۔ خانم بخاری کے پاس بیٹھی کوئی ڈرائنگ بنا رہی تھی۔ اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی نہ دی۔ جب مجھے دیکھا تو کاغذوں کو الٹ دیا۔”

            خانم کی ڈرائنگوں میں کوئی خاص بات نہ تھی۔ فقط اُسی بھیڑیے کے خاکے بنائے تھے۔ سیاہ صفحے کے بیچ چمکتی ہوئی دو سُرخ آنکھیں، بیٹھے ہوے بھیڑیے کا سیاہ قلم سے بنایا ہوا خاکہ، اور ایک نقش میں بھیڑیا منھ اٹھا کر چاند پر غرّاتا ہوا۔ بھیڑیے کا سایہ بہت مبالغے کے ساتھ پھیلا ہوا تھا، اس طرح کہ اس نے تمام شفا خانے اور قبرستان کو چھپا لیا تھا۔ دو ایک خاکے بھیڑیے کی تھوتھنی کے تھے، جو زیادہ تر کتّے کی تھوتھنی معلوم ہوتی تھی، خاص طور پر اس کے دانت۔

            بدھ کی سہ پہر کو ڈاکٹر شہر چلا گیا۔ صدیقہ نے بتایا کہ اس کی بیوی کی طبیعت خراب تھی۔ ڈاکٹر نے خود اسے بتایا تھا۔ مجھے یقین نہ آیا۔ میں نے خود اسے بدھ کی صبح کو دیکھا تھا۔ وہ ٹھیک وقت پر بچوں کو نقاشی سکھانے پہنچی تھی۔ اس نے ویسی ہی ایک ڈرائنگ تختۂ سیاہ پر بنائی تھی۔ اس نے مجھے خود بتایا تھا۔

            جب میں نے اس سے پوچھا: “آخر بھیڑیا کیوں؟” تو کہنے لگی: “بہت چاہتی ہوں کہ کچھ اور بناؤں، مگر مجھ سے بنتا ہی نہیں۔ جیسے ہی چاک کو بورڈ پر رکھتی ہوں، خودبخود بھیڑیے کی ڈرائنگ بننے لگتی ہے۔”

            افسوس کہ بچوں نے کھیل کے گھنٹے میں اس ڈرائنگ کو مٹا دیا۔ بعد دوپہر جب میں نے ان میں سے ایک دو کی ڈرائنگ دیکھی تو سوچا کہ شاید بچے اسے ٹھیک طرح نہ بنا سکیں۔ لیکن بچوں کے بنائے ہوے سب خاکے بالکل ٹھیک شکاری کتے کی طرح تھے، کان لٹکے ہوے اور دُم پچھلے حصے کے گرد لپٹی ہوئی۔

            جمعرات کی دوپہر کو جب خبر ملی کہ ڈاکٹر واپس آ گیا ہے تو میں نے سوچا کہ یقیناً وہ اپنی بیوی کو رات بھر کے لیے شہر میں چھوڑ کر اپنے کام کی غرض سے لوٹ آیا ہے۔ مریض کوئی نہ تھا، یعنی اردگرد کے دیہاتوں سے کوئی نہ آیا تھا۔ مگر خیر، ڈاکٹر آدمی فرض شناس ہے۔ بعد میں جب وہ اختر کی تلاش میں نکلا تو سب لوگ ڈاکٹر کی گاڑی اور شفا خانے کی جیپ میں سوار ہو کر گئے۔ پولیس والے بھی ساتھ گئے۔ مگر انھیں کوئی پتا نشان نہ ملا۔

            مگر ڈاکٹر نے کوئی بات نہ کی۔ جب اسے ہوش آتا تو یا رونے لگتا یا ایک ٹک ہم سب کو باری باری دیکھتا رہتا، اور اس کی آنکھیں اس کی بیوی کی طرح پھیلی ہوئی ہوتیں۔ ناچار میں نے اسے عرق کے دو ایک گلاس پلائے تاکہ وہ بات کر سکے۔ شاید ایسا ہو کہ سب کے سامنے بات نہ کرنا چاہتا ہو۔ میرا خیال نہیں تھا کہ ان کا آپس میں کوئی جھگڑا ہوا ہو گا۔ مگر نہ جانے کیوں ڈاکٹر مسلسل یہی کہتا رہا: “یقین کرو، میرا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔”

            میں نے اپنی بیوی سے، بلکہ صدیقہ اور صَفر سے بھی پوچھا، کسی کو بھی یاد نہیں تھا کہ ان میاں بیوی نے کبھی ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کی ہو۔ مگر میں نے ڈاکٹر سے جانے کو منع کیا تھا۔ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ درّے میں برف بہت زیادہ ہے۔ شاید ڈاکٹر ہی کی بات درست تھی، پتا نہیں۔ آخر بولا: “اس کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ شاید یہاں رہنا برداشت نہ کر سکے۔ مگر یہ سب ڈرائنگیں کیوں؟”

            بعد میں میں نے ان خاکوں کو دیکھا۔ اس نے بھیڑیے کے پنجوں کی کئی ڈرائنگیں بنائی تھیں، ایک دو اس کے لٹکے ہوے کانوں کی بھی۔ میں نے کہا: “شاید…”

            ڈاکٹر ٹھیک طرح بات نہیں کر پا رہا تھا۔ لیکن میں نے اندازہ لگایا کہ درّے کے وسط میں برف شاید بہت زیادہ تھی، اتنی کہ گاڑی کے شیشے ڈھک گئے تھے۔ تب ڈاکٹر کو احساس ہوا کہ برف ہٹانے والے وائپر خراب ہو گئے ہیں۔ ناچار اسے گاڑی روکنی پڑی۔  کہنے لگا: “یقین کرو، میں نے خود دیکھا، اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ سڑک کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔”

            اختر نے کہا: “کچھ کرو۔ یہاں تو ہم سردی سے اکڑ جائیں گے۔”

            ڈاکٹر نے کہا: “تم اسے نہیں دیکھتیں؟”

            ڈاکٹر نے ہاتھ باہر نکالا تاکہ ہاتھ شیشے پر پھیر کر برف صاف کرے، لیکن جان گیا کہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔  کہنے لگا: “تم جانتی ہو کہ یہاں سے واپس بھی نہیں لوٹ سکتے۔”

            وہ ٹھیک کہتا تھا۔ اس کے بعد گاڑی کا انجن بھی بند ہو گیا۔ جب اختر نے فلیش لائٹ جلائی تو دیکھا کہ بھیڑیا بالکل سڑک کے کنارے بیٹھا ہے۔ بولی: “وہی ہے۔ یقین کرو بالکل بے ضرر ہے۔ شاید اصل میں بھیڑیا نہ ہو، شکاری کتا یا کسی اور قسم کا کتا ہو۔ باہر جا کر دیکھو، شاید برف ہٹا سکو۔”

            ڈاکٹر نے کہا: “باہر جا کر؟ مگر تمھیں یہ نظر نہیں آتا؟”

            یہ کہتے ہوے بھی اس کے دانت بج رہے تھے۔ رنگ سفید پڑ گیا تھا، بالکل اُسی طرح جیسے اختر کی رنگت کھڑکی سے لگ کر بیابان کو یا کتے کو دیکھتے ہوے زرد پڑ جاتی تھی۔ اختر نے کہا: “اگر میں اس کے سامنے اپنا ہینڈ بیگ پھینک دوں تو؟”

            ڈاکٹر بولا: “اس سے کیا فائدہ ہو گا؟”

            بولی: “چمڑے کا ہے۔ ذرا دیر کو وہ اپنا سر اس میں ڈالے گا، اور اتنے میں تم اسے ٹھیک کر لو گے۔”

            ہینڈ بیگ کو باہر پھینکنے سے پہلے اس نے ڈاکٹر نے کہا: “کاش میں اپنا فر کا کوٹ ساتھ لے آئی ہوتی۔”

            ڈاکٹر نے مجھ سے کہا: “تم نے خود ہی تو بتایا تھا کہ دروازہ نہیں کھولنا چاہیے اور نہ باہر نکلنا چاہیے؟”

            اختر نے بیگ باہر پھینکا تب بھی ڈاکٹر باہر نہ نکلا۔ بولا: “بخدا، میں نے اس کی سیاہ پرچھائیں کو دیکھا۔ وہ سڑک کے کنارے بالکل بے حرکت بیٹھا تھا۔ نہ ہلتا تھا اور نہ غراتا تھا۔”

            پھر اختر نے فلیش لائٹ جلا کر اپنا بیگ ڈھونڈنا چاہا تو وہ اسے نظر نہ آیا۔ وہ بولی: “اچھا میں خود باہر جاتی ہوں۔”

            ڈاکٹر نے کہا: “تمھیں کیا پتا؟” یا شاید یہ کہ “تم سے ٹھیک نہیں ہو گا۔” مگر اسے اتنا یاد تھا کہ اس کو خبر ہونے سے پہلے ہی اختر باہر جا چکی تھی۔ ڈاکٹر نے اسے نہیں دیکھا، یعنی برف نے اسے باہر نہ دیکھنے دیا۔ اس نے اس کے چیخنے کی آواز بھی نہ سنی۔ پھر اس نے خوف کے مارے گاڑی کا دروازہ بند کر لیا، یا شاید اختر نے بند کیا۔ یہ اس نے نہیں بتایا۔

            جمعے کی صبح ہم گاؤں والے دوبارہ نکلے۔ ڈاکٹر نہیں آیا۔ وہ آ نہیں سکتا تھا۔ برف اب بھی پڑ رہی تھی۔ کسی کو توقع نہ تھی کہ کوئی سراغ ملے گا۔ ہر طرف سفیدی چھائی ہوئی تھی۔ ہم نے ہر اس جگہ جا کر دیکھا جو ہمارے گمان میں آئی۔ فقط ہمیں چمڑے کا وہ بیگ مل سکا۔ راستے میں میں نے صفر سے پوچھا تو اس نے کہا: “وائپر تو بالکل ٹھیک ہیں۔”

            میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ اس کے بعد جب صدیقہ مجھے وہ ڈرائنگیں دکھانے لائی تو میرا ذہن اور اُلجھ گیا۔ ان خاکوں کے ساتھ جلدی میں لکھا ہوا ایک نوٹ تھا کہ “اپنے اسکول کے لیے۔” جاتے وقت اس نے یہ چیزیں صدیقہ کو دی تھیں اور کہا تھا کہ اگر اس کی طبیعت ٹھیک نہ ہو سکے یا وہ بدھ کو نہ آ سکے تو یہ ڈرائنگیں مجھے پہنچا دے تاکہ میں انھیں ماڈل بنا کر استعمال کروں۔ میں صدیقہ کو نہ بتا سکا، اور نہ ڈاکٹر کو، کہ آخر کتوں کی، معمولی کتوں کی ان تصویروں سے گاؤں کے بچوں کو کیا دل چسپی ہو سکتی ہے؟

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: