Dangal | Film Review

dangal review

بھارتی فلم : دنگل، کچھ سچ کچھ جھوٹ

تبصرہ کار : راشد جاوید احمد

بھارتی فلم انڈسٹری میں مسٹر پرفیکٹ کے نام سے جانے جانے والے عامر خان نے گذشتہ برس ایک اچھی فلم بنائی ہے۔ وہ سال میں صرف ایک فلم بنانے کے فارمولے پر سختی سے عمل پیرا ہیں ۔ دنگل  سال 2016 کے آخیر میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم کی کاسٹ میں عامر خان، ساکشی تنور، فاطمہ ثنا شیخ، ثانیہ ملہوترا اور اپر شکتی کھرانا قابل ذکر ہیں۔ 160 منٹ کی اس فلم کو ڈائرکٹ کیا ہے نتیش تیواری نے اور کیا خوب کیا ہے۔

فلم کی کہانی، کھرانا کی زبانی ، کچھ یوں ہے کہ ماضی کا ایک گولڈ میڈلسٹ پہلوان، مہاویر سنگھ پھوگاٹ، بڑی شدت سے آرزو کرتا ہے کہ اسکا بیٹا پہلوانی کی اس روایت کو جاری رکھے اور ایک بار پھر ملک کے لئے گولڈ میڈل حاصل کرے لیکن اوپر تلے تین بیٹیاں پیدا ہونے کی وجہ سے اسکا یہ خواب اسے اذیت میں مبتلا رکھتا ہے۔

اسکی بڑی دو بیٹیاں ایک دن گلی محلہ لڑائی میں کسی ہم عمر لڑکے کو بری طرح سے پیٹ دیتی ہیں اور یہیں مہاویر کے دماغ میں ایک کیل ٹھک جاتی ہے کہ بیٹا نہ سہی، بیٹیوں کو پہلوانی کی تربیت دی جائے تو وہ بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہیں۔ بس اس خیال کا آنا تھا کہ لڑکیوں کی شامت آجاتی ہے۔ ہر روز صبح انکو منہ اندھیرے جگا دیا جاتا ہے، ورزش کراوئی جاتی ہے، دوڑ لگوائی جاتی ہے، پہلوانوں والی خوراک کھلائی جاتی ہے اور دیگر تمام چٹ پٹی اشیا ، مثلا، گول گپے، اچار، چٹنی، چاٹ جو کہ لڑکیوں کی پسندیدہ چیزیں ہیں، ان پر حرام کر دی جاتی ہیں. اور تو اور انکے سر کے بال بھی مونڈ کر پہلوانوں کی طرز کے بنا دیئے جاتے ہیں۔

وہ کون سی خفیہ اور ظاہرا کوشش نہ ہوںگی جو لڑکیوں نے پہلوان نہ بننے کے لئے کی ہونگی لیکن انکے احتجاج کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ مہاویر سنگھ پر بس ایک ہی جنون طاری ہے کہ کسی طرح اسکی بیٹیاں پہلوانی میں بھارت کے لئے گولڈ میڈل حاصل کر سکیں۔ اسکا یہ فقرہ ” تابنے اورچاندی کے میڈل لینے والوں کو یاد رکھا جاتا ہے لیکن گولڈ میڈل لینے والے کی مثال دی جاتی ہے” اسکے مثبت جنون کا آیئنہ دار ہے۔  

یہاں فلم کے ڈائرکٹر، نتیش تیواری کو داد دینی چاھئے کہ اسنے عامر خان سے، ایک باپ اور ایک کوچ کی حیثیت سے بے پناہ عمدہ کام کروایا ہے۔ بھارتی ٹیلیویژن کی معروف اداکارہ، شاکشی تنور نے مہاویر سنگھ کی بیوی اور بچیوں کی ماں کا کردار بہت ہی احسن طور پر نبھایا ہے۔

فلم میں اپرشکتی کھرانا کا کردار بہت اہم ہے جو اس کہانی کو بیان کرنے والا ہے اور لڑکیوں کی ٹریننگ میں اسکا بھرپور حصہ ہے۔ میں اسکی تفصیل میں نہیں جانا چاھتا اور اسے فلم بینوں کے لئے چھوڑ دیتا ہوں۔

فاطمہ ثنا شیخ اور ثانیہ ملہوترا نے اسقدر بھر پور پرفارمینس دی ہے کہ فلم بین انکے ہر ایکشن، ہر ڈایئلاگ اور ہر حرکت میں انکے ساتھ سفر کرتا ہے۔ مہاویر کے ہاتھوں گیتا اور بیتا کی ٹریننگ، اہل علاقہ کی باتیں اور مخالفت، ٹھٹھا مذاق، سب کو بالائے طاق رکھ کر، ایک جنون ہے جو اس ٹریننگ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ شاید یہ واحد فلم ہے جس میں عامر خان نے سب سے کم ڈیئلاگ بولے ہوں گے لیکن اسکی اداکاری کے جوہر، اسکے چہرے پر براجمان لگن اور اسکے گیٹ اپ سے مزید نکھر کر سامنے آئے ہیں۔

جس ملک میں کرکٹ جیسی کھیل کو  مذہبی درجہ حاصل ہو وہاں پہلوانی کے موضوعؑ پر اور وہ بھی ویمن ریسلنگ پر کامیاب فلم بنانا بذات خود ایک زبردست کام ہے۔ اگر مہاویر سنگھ کی نرینہ اولاد ہوتی تو وہ یقیننا اپنے بیٹے کو ہی پہلوان بناتا لیکن حالات نے اسے مجبور کر دیا اور یوں اسکی اس کوشش میں صدیوں سے کسی نہ کسی طور پر جاری پدری نظام کے خلاف ایک جدوجہد بھی نظر آتی ہے۔

اب کچھ ذکر ہو جائے ان باتوں کا جو اس فلم میں حقیقت کے برعکس ہیں۔ مہاویر پھوگٹ کی خود نوشت اکھاڑہ کے مطابق جب مہاویر کے ہاں، شدید خواہش کے بر عکس پہلی بچی  گیتا پیدا ہوئی تو اس کی بیوی نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا تھا جبکہ دنگل میں یہ اظہار مہاویر خود کرتا ہے۔ اسی طرح دنگل میں گیتا کے کوچ کا منفی رویہ بھی درست نہیں کیونکہ گیتا اور ببیتا کے اصلی کوچ پی-آر-سوڈھی کے مطابق ایسا ہر گز نہیں ہوا تھا۔

سوڈھی ، مہاویر کو پہلے ہی سے جانتے تھے اور انکی بہت عزت کرتے تھے۔ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ سپوڑٹس اکیڈیمی جا کر گیتا کوئی گولڈ میڈل نہیں جیت پاتی لیکن حقیقت میں گیتا نے 2009 میں پہلی بار اور 2010 میں کامن ویلتھ گیمز کا دوسری بار گولڈ میڈل جیتا تھا۔ فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ فایئنل کے آغاز میں مہاویر کو ایک کمرے میں بند کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ گیتا کو کوچ کے الٹ کوئی ہدایات نہ دے سکے جبکہ حقیقت میں مہاویر مقابلہ شروع ہونے سے میڈل ملنے تک رنگ کے باہر موجود تھے۔ یہ بات بھی خود نوشت اکھاڑہ میں تحریر ہے۔

دنگل کے مطابق گیتا نے ایک مشکل مقابلے کا سامنا کیا اور آخری راونڈ کے آخری منٹ میں کامیابی حاصل کی جبکہ اصلی مقابلے میں گیتا نے دوسرے راونڈ میں یہ مقابلہ بہت ہی آسانی سے جیت لیا تھا اور مقابلہ تیسرے راونڈ تک گیا ہی نہیں تھا۔

فلم میں ریسلنگ کے مقابلے کچھ طویل بھی ہیں لیکن شاید فلم کی ضرورت بھی ہیں۔ جہاں تک فلم کی موسیقی کا تعلق ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موسیقار پریتم نے فلم کو اچھا میوزک دیا ہے۔ فلم میں آنسو بھی ہیں، دلسوزی بھی ہے، حب الوطنی بھی ہے، مایوسی اور اوازاری بھی ہے۔ دکھ، تکلیف اور خوشی بھی ہے۔ جو فلم ساز سمجھتے ہیں کہ دلفریب موسیقی کے بغیر اور نان کمرشل مسائل کو لے کر فلم کامیاب نہیں ہو سکتی، ان کی آنکھیں کھولنے کو یہ فلم کافی ہے کہ اصل زندگی اور زمین سے جڑے مسائل پر بننے والی فلم بھی کامیابی کے زینے طے کر سکتی ہے۔

 

 

ہندی فلم دنگل : Review Indian Movie “DANGAL”

Be the first to comment

Share your Thoughts: