ہندی فلم پارچڈ : Review (Indian Movie “Parched”)

parched

ہندی فلم، پارچڈ

(PARCHED)

تبصرہ کار: راشد جاوید احمد

اس سال ستمبر (2016) میں ریلیز ہونے والی یہ بھارتی فلم راجستھان کے ایک سُوکھے گاوں میں بسنے والی چار سہیلیوں رانی (تانشتہ چیڑ جی)، بجلی (سروین چاولہ)، لجو (رادھیکا ایپٹ) اور جانکی (لہر خاں) کی کہانی ہے۔ زندگی میں مردانہ تشدد اور اذیتوں میں مبتلا یہ چاروں کردار اپنی اپنی سمجھ کے حساب سے اپنے اندر کے عفریتوں اور بد روحوں سے پنجہ آزما ہیں۔ اس دور افتادہ گاوں میں سیل فون پہنچ چکا ہے لیکن پنچایت کے ارباب بست و کشاد نے ٹیلی ویژن نہیں انے دیا۔ معاشی مسائل، تاریک روایات، زبردستی اور کم سنی کی شادیاں، گینگ ریپ اور عورتوں کو پیٹنے والے شرابی مرد اس صدی میں بھی اس گاوں میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ حاکم ہیں۔

رانی کی نصف زندگی بیوگی میں بسر ہو چکی ہے۔ اور وہ بھر پور کوشش میں ہے کہ اسکے بیٹے گلاب (ردھی سین) کی شادی ساتھ والے گاوں کی خوبصورت لڑکی جانکی سے ہو جائے۔ رانی اور اسکی دوست لجو، دونوں ہی ہنر مند ہیں اور ایک مقامی بزنس مین کے لئے غالبا کشیدہ کاری کا کام کرتی ہیں۔ لجو بے اولاد ہے اور اولاد کی خواہش اسے چین نہیں لینے دیتی۔ مزید برآن اپنے شرابی شوہر منوج (مہیش بلراج) سے بلا ناغہ پٹتی ہے۔

چوتھی سہیلی بجلی ہے جس کے انگ انگ میں بجلی بھری ہے اور وہ ایک “بولڈ” رقاصہ ہے جو گاوں کی نوٹنکی اور ہر تہوار پر ناچتی ہے۔ ہر مرد کی آنکھ کا تارا ہے اور رات کی تاریکی میں گاوں کے مردوں کو جذباتی تسکین بھی مہیا کرتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے گاوں کے پنچ ٹیلی ویژن کی مخالفت کرتے ہیں کہ نوٹنکی نہ رہی تو بجلی بھی نہیں رہے گی۔ ساتھ ہی ساتھ وہ عورتوں کے اس کمال کے ہنر سے خائف بھی ہیں کہ یہ کہیں انکو پنچوں کے تسلط سے آزاد نہ کر دے۔

فلم کی کہانی کے مطابق، یہ چاروں عورتیں جبر کے ماحول میں روایات کے ہتھوڑے تلے زندگی بتا رہی ہیں لیکن جہاں کہیں انہیں فارغ وقت ملتا ہے تو وہ محبت، جنس، اپنے خوابوں کا تذکرہ کرتی ملتی ہیں۔ اپنے جسموں اور مردوں کے سلوک کا ذکر بغیر لگی لپٹی رکھے کرتی ہیں اور ٹھٹھے مارتی ہیں۔ فلم بین بھی انکے ساتھ مسکراتا ہے یکن ساتھ ہی اسے یہ خیال بھی آتا ہے کہ اس ہنسی مخول میں بھی وہ ایک لمحے کے لئے اس اذیت اور نا آسودگی کو فراموش نہیں کر پاتیں جو ان پر روا رکھی گئی ہے۔ یہیں ، فلم بین دل ہی دل میں انکی قوت برداشت اور ہمت کو خراج پیش کرتا ہے۔

فلم کا قابل ذکر موڑ وہ ہے جہاں رانی کو علم ہوتا ہے کہ گاوں میں جانکی کی بہت بےعزتی کی گئی ہے، لجو اپنے شوہر کی مار پیٹ سے تنگ آ چکی ہے، بجلی، ایک نئی ڈانسر سے حاسد ہے کہ شاید وہ اسکی جگہ لینے آئی ہے۔ اسی بات پر وہ ایک دوسرے کی پناہ کا تصور کر کے زندگی میں نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے گاوں چھوڑ دیتی ہیں۔

فلم میں ان چار عورتوں کے مسائل پر انکی اپنی سنجیدگی کا بھی فقدان نظر آیا ہے اور فلم بین انکے ساتھ شامل ہونے کی بجائے فاصلے پر بیٹھا ایک تماشہ بین رہ جاتا ہے

رائٹر، ڈائرکٹر لین یادو نے یہ فلم اجے دیو گن کے ساتھ مل کر ڈائرکٹ کی ہے۔ یہاں یہ ذکر بے جا نہ ہوگا کہ اس سے پہلے بننے والی فلم پنک کا موضوع بھی عورتوں پر جسمانی تشدد، نفرت، امتیازی سلوک اور اسکے نتیجے میں ہونے والی بغاوت تھا۔

چاروں خواتین نے اپنا اپنا کردار بطریق احسن نبھایا ہے۔ رانی کی اپنی بہو کے لئے سخت گیری، بجلی کے اندر غم وغصے کی شدید لہریں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ عورتیں پدری تسلط کے نظام کے خلاف ہوتے ہوئے بھی، جو انہیں انسان سے غیر انسان بنا دیتا ہے، خود بھی ایسا ہی رویہ رکھتی ہیں۔ گلاب خاں اور منوج کے کردار بھی بھرپور انداز میں نبھائے گئے ہیں خاص طور پر ردھی سین یعنی گلاب بہت ہی ستائش کے لائق ہے۔ فلم کے سیٹ میں خوبصورت لینڈ سکیپ کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی عام عورتوں کے خوبصورت اور سادہ چہرے بھی تعریف کے قابل ہیں۔

تاہم مجھے یہ فلم ایک ادھوری کوشش لگی ہے۔ گھریلو تشدد، ازدواجی ریپ، کم سنی کی شادی، اور مردوں کا تسلط ۔۔۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جو ناظر کو بری طرح سے جکڑ لیتے ہیں لیکن اس فلم میں انکی گرپ اتنی مضبوط نظر نہیں آئی۔ شاید ایک وجہ اسی تھیم پر بننے والی فلم پنک ہے۔ ایک کمزوری اور بھی ہے کہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں براہ راست پیغام ہے اور ایسا ہی پنک میں بھی تھا۔ میرا خیال ہے کہ پارچڈ کو اتنی پذیرائی نہیں مل سکے گی کیونکہ اسمیں کافی دیگر مسائل سرے سے ناپید ہیں۔ فلم میں ان چار عورتوں کے مسائل پر انکی اپنی سنجیدگی کا بھی فقدان نظر آیا ہے اور فلم بین انکے ساتھ شامل ہونے کی بجائے فاصلے پر بیٹھا ایک تماشہ بین رہ جاتا ہے۔

لین یادو نے اس سے پہلے فلم  شبد اور تین پتی کی کہانیاں بھی لکھی تھیں۔ پارچڈ میں مجھے ڈائرکشن اور سکرپٹ دونوں میں جھول نظر آیا ہے۔ اس فلم میں کہانی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک نا معلوم شخص جسکا نہ نام ہے نہ پتہ، نہ شکل نظر آتی ہے،  سیل فون کے ذریعے ایک کردار سے محبت کا اظہار کئے جاتا ہے۔ رانگ نبمر ضرور ہوتے ہیں لیکن یہاں اسکا کوئی جواز نہیں ملتا۔ خوامخواہ کا اظہار محبت اور پھر اخیر میں رد کر دیا جانا، وہ بھی خوا مخواہ۔ اور یہ خوامخواہ کردار فلم میں کہیں بھی ربط میں نہیں تھا۔ فلم میں دوسہرے کے تہوار پر رامائن کے مطابق نیکی اور بدی کی جنگ کو بھی پہلو در پہلو رکھنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن فلم کے ساتھ ربط نہیں بنا۔

فلم کے آخری سین میں چاروں سہیلیوں کا فرار کا فیصلہ کوئی درست حل نہیں ۔ استحصال کا شکار لوگ اگر اسی طرح فرار کا راستہ اپنانے کا سوچ لیں تو استحصالی قوتوں سے جنگ کے لئے کون بچے گا۔ اور پھر لوگوں کی اکثریت کے لئے فرار تو ممکن بھی نہیں ہوتا۔ جینا یہاں مرنا یہاں کے مصداق وہ کئی نسلیں ایک ہی جگہ بتا دیتے ہیں۔

فلم میں ایک دھوتی پوش مرد عادل حسین، ہنر مند اور کاریگر عورتوں سے زبانی کلامی محبت کا اظہار کر کے اور کبھی کبھار چھو کر،  نہ جانے ان کو کونسی خوشی دینے کی سعی میں ہے۔ شاید کاما سوترا کی اس دھرتی پر کسی صوفی لوور کا لیبل لگانے کی کاوش کی گئی ہے کیونکہ یہ دھرتی” انٹی ریپ موومنٹ” سے پہلے کاما سوترا کی زمیں کہلاتی تھی جہاں ایک ایسا کلچر تھا جہاں عورتیں شوہر کے ہاتھوں جنسی بربریت سے بچنے کے لئے بلا روک ٹوک غیر ازدواجی جنسی تلذذ حاصل کر لیا کرتی تھیں۔

اچھی کاسٹ اور انکی محنت کے باوجود فلم میں وہ پکڑ نہیں جو اس کے موضوع کے اعتبار سے ہونا چاہئے تھی۔ فلم کے گانوں میں نیتی موہن اور ہرشدیپ کا گایا گانا ” مائی ری مائی ” اور سوار آنند کرکرے کا گایا ” بھوکم” قابل ذکر ہیں۔

اگر فلم کی امیجری کے بارے میں بات کروں تو وہ بھی کچھ خاص نہیں۔ اگرچہ یہ ایک فینٹسی ہے لیکن لگتا ہے کہ فلم کا اختتامی سین محض داد اور تالیاں حاصل کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اور اسے بھی جلدی میں لپیٹا گیا ہے، یوں یہ سین ، فلم کے باقی سینوں سے بالکل الگ ہو جاتا ہے۔

ہر فلم ، فلم بینوں کے لئے کوئی پیغام ضرور رکھتی ہے لیکن اگر کہانی کی بنت درست نہ ہو تو یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ایک سماجی کہانی کار کا پیغام آپ ہی آپ اسکی کہانی کے ذریعے ابلاغ ہو جاتا ہے اور دیکھنے والوں کے دل میں گھر کر لیتا ہے۔ پہلے پیغام کا تعین کر لینا اور پھر اس پر کہانی تیار کرنا، منجی پیڑی ٹھونکنے جیسا ہے۔ یہ فلم دیکھنے کے بعد کافی تشنگی کا احساس رہا۔

 

1 Comment

  1. PARCHED فلم پر بہت بھرپور تنصرہ کیا گیا اور اسے فلم ڈائریکٹر/فلم ساز تک بھی پہچنا چاھئے تا کہ اس کی روشنی مین آئیندہ کی فلموں مین بہتری لا سکیں

Share your Thoughts: