ہندی فلم رئیس : Review Indian Movie “Raees”

Raees

ہندی فلم : رئیس

راشد جاوید احمد

کچھ روزقبل بھارت فلم ریئس دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ” Raees “
 ’رئیس میں شاہ رخ خان ، ماہرہ خان اور نواز الدین صدیقی نے مرکزی کردارادا کیا ہے جبکہ اس کی ہدایت کاری کے فرائض ’ راہول ڈھولاکیا ‘ نے انجام دئیے ہیں ۔ اس کی کہانی ، سکرپٹ اور مکالمے راہول ڈھولاکیا کے علاوہ ہرت مہتا ، اشیش واشی اور نیراج شکلا کی مشترکہ کاوش ہے ۔ گیت کاری میں جاوید اختر کے علاوہ امیتابھ بھٹاچاریہ ، مایور پوری ، منوج یادیو ، ہیرل برہم بھاٹ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اندیور کے ایک گیت اورایک لوک گیت کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ رئیس 65 کروڑ ہندوستانی روپوں کی لاگت سے بنی اور میرے اس تبصرے  کے وقت تک یہ سو کروڑ روپے سے زیادہ کا بزنس کر چکی ہے ۔
 

انڈیا میں ’ شراب ‘ پر پابندی کی تاریخ کافی پرانی ہے اور انڈیا کے آئین کے تحت صوبے/ ریاستیں ایسے اقدامات کرنے کی پابند ہیں جن سے طبی مقاصد کے علاوہ نشہ آور مائع جات اور ادویات جو مضر صحت ہوں ، کی روک تھام کی جا سکے ۔ ۔

اس پس منظر میں گجرات میں شراب کا دھندہ کرنے والا ایک نامی شخص بھی گزرا ہے ۔ اس کا نام عبد اللطیف تھا اور سال 1951 کی بات ہے ۔فلم میں  شاہ رخ کے کردار سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی اسی لطیف نامی شخص کی زندگی سے متعلق ہے لیکن شاہ رخ نے اسکی تردید کر رکھی ہے۔ آپ فلم دیکھیں گے تو اس پس منظر کو دھیان میں رکھئے گا۔

فلم کی کہانی کے مطابق ریئس ایک غریب بیوہ کا بچہ ہے اور اسکی نظر بھی کمزور ہے اور ماں غربت کے باعث اسکے لئے چشمہ تک نہیں خرید سکتی ۔ وہ ریئس جو کلاس روم میں ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پاتا بعد ازاں شراب کا دھندہ کرنے والے ایک شخص جے راج کا آلہ کار بن جاتا ہے اور شراب کی ترسیل کا ہر موقع اسے بغیر عینک کے بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔یہاں تک کہ وہ سکول کے بستے میں بوتلوں کی ترسیل کرتا ہے۔ اسی دھندے میں وہ پلتا بڑھتا اور جوان ہوتا ہے۔ ریئس کا یہ کردار شاہ رخ نے نبھایا ہے اور پولیس کی ناک کے عین نیچے وہ اپنے جگری اور پر اعتماد دوست صادق کے ساتھ مل کر یہ دھندہ اتنی کامیابی سے چلاتا ہے کہ نظر تو کیا کسی قسم کی کوئی کمزوری راہ میں نہیں آتی۔ وہ اس کاروبار میں اتنا مشاق ہوجاتا ہے کہ جے راج کا مزید آلہ کار بنے رہنے کی بجائے خود سے یہ دھندہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

جیسے پرانے زمانوں میں ہمیں ایک رحمدل ڈاکو کی کہانی سنائی جاتی تھی کہ وہ کیسے امیروں کو لوٹتا تھا اور غریبوں کی مدد کرتا تھا با لکل ایسے ہی ریئس اس غیر قانونی دھندے میں تابڑ توڑ کامیابی کے باعث اپنے علاقے کے غریب لوگوں کا غریب پرور بن جاتاہے۔ فرق غالبا صرف یہ ہے کہ پرانی کہانی میں رحمدل ڈاکو صرف امیروں کو لوٹتا تھا لیکن خود کوئی غلط کام نہیں کرتا تھا لیکن اس فلم میں ریئس تو اس غیر قانونی کام کو انجام دینے کے لئے سفاکانہ قتل و غارت گری بھی روا رکھتا ہے۔ فلم میں سیاسی لوگوں کی ہمیشہ کی طرح جرائم کی دنیا کی پشت پناہی ایسا فارمولا بڑی شدو مد سے استعمال کیا گیا ہے۔

ریئس کی بودو باش کے علاقے میں گلی محلہ کرکٹ کے دوران گیند ماہرہ خان کی چھت پر آ گرتی ہے اور جب ریئس اسے لینے جاتا ہے تو ماہرہ خان ریئس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے نہ معلوم کیوں۔ محبت اس فلم کا موضوع تو نہیں لیکن پھر بھی اس محبت کا کوئی جواز کوئی گنجائش تلاش کرنا پڑے گی کیونکہ پوری فلم میں آگے جا کر اسکا کوئی ذکر نہیں۔ بلکہ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ پوری فلم میں ماہرہ خان کا کردار ایک بھرتی کا کردار محسوس ہوتا ہے اور مزید یہ کہ جن فلم بینوں کو ماہرہ خاں سے جس فنکاری کی توقع تھی وہ کہیں نظر نہیں ائی۔ چند سیریلز اور ڈراموں میں ایک جیسے کردار نبھانے کے بعد یہ توقع کر لینا کہ فلم میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑ لئے جایئں گے، ایک ناممکن سی بات ہے۔ میری رائے میں تو یہ ایک فالتو کردار تھا، نہ بھی ہوتا تو فلم میں کوئی کمی نہ ہوتی۔ فلم میں معمول کے رقص سے بھی ظاہر ہوا کہ ماہرہ خاں کو  رقص کی ابھی طویل مشق درکار ہے۔

مجھے اس حوالے سے راج کپور کی فلم شری 420 یاد آ رہی ہے لیکن وہ فلم ہر اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور زبردست فلم تھی اور پھر اس فلم میں ہے ہی کیا، بچپن سے لے کر موت تک ریئس اور پولیس کے درمیان آنکھ مچولی اور وہ بھی اتنے تواتر سے کہ بندہ عاجز آ جاتا ہے۔ اگر شاہ رخ کے ذہن میں دیگر بھارتی اداکاروں جیسا ایکشن ہیرو بننے کا کوئی خیال تھا تو وہ اس فلم میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ اب آنکھوں میں سرمہ ڈال کر تو کوئی امیتابھ کی فلم کالا پتھر جیسا تاثر نہیں دے سکتا۔ دوسرے سفاک قاتل کا درد مند دل کا مالک ہونا، یہ فلموں میں ہوتا ہے لیکن شاہ رخ اپنے کردار کی اس وضع کو بھی درست طور پر نبھا نہیں پائے۔ پوری فلم میں سرف ایک جاندار کردار ہے اور وہ اے سی پی کا جسے نواز الدین صدیقی نے بدرجہ اتم نبھایا ہے۔ اسکے لئے یا تو مکالمے ہی زبردست لکھے گئے یا پھر اس نے خود وضع کئے لیکن کیا پرفارمینس ہے۔

 لال مرچی انٹرٹینمنٹ کی پیش کردہ ’ رئیس‘ کا بڑی محنت اور باریک بینی سے مطالعہ کریں تو کہیں گہرائی میں جے پی جی‘ اور ہندو انتہا پسندی کے تعصب  کی جھلک دکھائی دیتی ہے اور کچھ نہیں ۔ فلم بننے سے پہلے جتنی اسکی شہرت تھی اور فلم کے بعد جتنی تیزی سے اس فلم نے کڑوڑوں کمائے، اس لحاظ سے تو دیکھنے کے بعد مایوسی ہی ہوئی ہے۔

Be the first to comment

Share your Thoughts: