خدا کے ہاں دیر ہے اندھر نہیں ۔۔۔ لیو ٹالسٹائی

khuda-ke-haan-der-leo-tolstoy

Count Lev Nikolayevich Tolstoy, usually referred to in English as Leo Tolstoy, was a Russian writer who is regarded as one of the greatest authors of all time. He wrote a lot of short stories and novels. “War and Peace” and “Anna Karenina” are the most renowned. Movies were also made on these novels.

 

خدا  کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں

(لیو ٹالسٹائی)

آیوان اکسیونوف ، ولاڈیمر نام کے ایک شہر کا سوداگر تھا۔ اس کے پاس دو دکانیں اور ایک گھر تھا۔ اکسیونوف بے حد خوبصورت اور گانے کا شوق رکھنے والا تھا۔ اپنی جوانی کی شروعات سے ہی اس نے شراب پینا شروع کر دی تھی اور آدھی جوانی ہوتے ہوتے اس میں برباد ہونا شروع ہو گیا تھا ، مگر شادی ہونے کے بعد اس نے اپنی شراب پینے کی لت کو کم کیا،اورپھرصرف کبھی کبھی پیا کرتا تھا۔ ایک بارحسب معمول جب وہ گرمیوں میں اپنے گھر کو چھوڑ کے نزھنی میلے میں کام کے سلسلے سے جا رہا تھا تو اس کی بیوی نے اس سے کہا۔

“آیوان،آج مت جاو، میں نے تمہارے بارے میں ایک برا خواب دیکھا ہے۔”

“ہا ہا ، تمہیں کہیں اس بات کا ڈر تو نہیں لگ رہا کہ میں میلے میں جا کر رنگ رلیاں مناؤںگا۔” اکسیونوف نے کہا اور ہنسنے لگا۔

“مجھے نہیں پتا کہ میں نے جو برا خواب دیکھا ہے اس سے مجھے کیوں ڈر لگ رہا ہے، مجھے یہ بھی نہیں پتا کہ میں اس سے ڈر رہی ہوں یا کسی اور ڈر سے ۔ مجھے جو پتا ہے وہ یہ کہ میں نے دیکھا کہ تم نے جب واپس آکر اپنی ٹوپی اتاری تو تمہارے بال سفید ہو چکے تھے”

“وہ ایک اچھا خواب تھا ۔ دیکھنا میں ضرور جب واپس آؤں گا تو کتنے تحفے لاؤں گا”اکسیونوف نے ہنس کر کہا۔

اور پھر اس نے اپنے گھر والوں کو الوداع کہا اور اپنے سفر پر چل پڑا۔ اپنا آدھا سفر پورا کرنے کے بعد اس کی راستے میں ایک اور سوداگر سے ملاقات ہوئی جو اس کا پرانا جاننے والا تھا۔ انہوں نے ایک ہی سرائے میں کمرے لیے ، شام کی چاے ساتھ میں پی اور پھر اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے۔ اکسونوف رات میں کافی جلدی ہی سو گیا تھا اس لئے اس کی آنکھ صبح طلوع فجر کے وقت ہی کھل گئی تھی۔ اس نے اپنے گاڑی ہانکنے والے کو اٹھا کر گھوڑوں کو گاڑی سے ملانے کو کہا۔ اس کے بعد وہ سرائے کے مالک کے پاس گیااور اپنا کرایہ چکتا کر کےاس نے پھر سے اپنا سفر شروع کر دیا۔

تقریباً پچیس میل کا سفر طے کرنے کے بعد گاڑی ہانکنے والے نے گھوڑوں کو چرانے کے لئے گاڑی کو روک دیا۔ چونکہ گاڑی ایک سرائے کے پاس رکی تھی اس لئے ، اکسیونوف کو آرام کرنے میں پریشانی نہیں ہوئی ، اس نے کچھ دیر سرائے کے ہال میں بیٹھ کر آرام کیا اور پھر باہر پورچ میں نکل کر چائے کا آرڈر دیا اور ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ کر اپنا گٹار نکالا اور اس کی دھن پر گنگنانے لگا۔ٍاچانک ، ایک گاڑی جسے تین گھوڑے کھینچ رہے تھے وہاں آکر رکی اور اس میں سے دو آفیسر نکل کر اکسیونوف کی طرف بڑھے۔ انہوں نے اس کی طرف پہنچ کر اس سے پوچھ تاچھ کرنا شروع کی، جیسے کہ وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟اکسیونوف نے ہر سوال کا جواب پورے سلیقے سے دیا اور پھر ان سے پوچھا۔

“کیا آپ میرے ساتھ چائے پینا پسند کریں گے”

اکسیونوف کے اس سوال کا جواب دینے کے بجائے ان دو آفیسروں نے اس سے الٹے سوال کرنا شروع کر دیے۔ جیسے کہ تم نے کل کی رات کہاں گزاری ؟ کیا تم اکیلے تھےیا پھر کسی سوداگر کے ساتھ تھے؟کیا تم نے اس کو آج صبح دیکھاتھا؟ تم صبح ہونے سے پہلے ہی وہاں سے کیوں نکل آئے؟

اکسیونوف ان سوالوں کو سن کر سوچ میں پڑ گیا کہ اس سے اس طرح کے سوالات کن وجوہات کی بنا پر کئے جا رہے ہیں۔ مگر پھر بھی اس نے ہر ایک سوال کا جواب پوری سچائی کے ساتھ دیا اور پھر کہنے لگا۔

“آپ دونوں مجھ سے ایسے سوالات کیوں کر رہے ہیں جو کسی چور یا ڈاکو سے کئے جاتے ہیں۔ میں اپنے کام کے سلسلے میں یہاں سے گزر رہا ہوں اور مجھ یہ سوالات کرنے کا کیا تک بنتا ہے؟”

“میں اس علاقہ کا پولیس آفیسر ہوں اور میں تم سے یہ سب سوالات اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ جس سوداگر کے ساتھ تم نے پچھلی رات گزاری تھی ، اس کی لاش آج صبح اس سرائے سے برامد ہوئی ہے۔ اس کا قتل گلا کاٹ کے کیا گیا ہے ۔ ہمیں تمہارےسامان کی تلاشی لینی ہوگی۔”ان میں سے ایک آفیسر نے یہ کہنے کے بعد دوسرے افسر سے تلاشی لینے کو کہا ۔ ایک آفیسر اپنے دوسرے آئے ہوئے ساتھیوں کو لے کر سرائے میں داخل ہوا۔ان لوگوں نے اکسیونوف کا بیگ کھولا اور اس کی تلاشی لینی شروع کردی۔ اچانک ایک آفیسر نے اس بیگ میں سے ایک چاقو نکالا اور چلا کر بولا۔ “یہ کس کا چاقوہے؟”

اکسیونوف کی نظریں جب اس چاقو پر پڑی جس پر خون لگا ہوا تھا، تو اس کے حواس اڑگئے۔

“ایسا کیسے ہوا؟ اس چاقو پر خون کیسے لگا؟”

اکسیونوف نے جواب دینے کی کوشش کی مگر اس کہ منہ سے سوائے اس کے ایک لفظ بھی اور نہ نکلا کہ “مجھے نہیں معلوم”

“آج صبح اس سوداگر کی لاش برامد ہوئی جس کا گلا کٹا ہوا تھا۔ ایک تم ہی ہو جس نے یہ کیا ہوگا۔کمرا اندر سے بند تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا۔یہ رہا وہ خون سے لت پت چاقو اور تمہارا چہرا صاف صاف بتا رہا ہے کہ یہ خون کس نے کیا ہے۔بتائو مجھے کہ تم نے اسے کیسے مارا ؟کتنا پیسہ لوٹ کربھاگ رہے تھے تم؟”اس پولیس آفیسر نے اکسیونوف سے کہا جو اس کے پاس کھڑا تھا۔

اکسیونوف نے قسم کھائی کہ اس نے کچھ نہیں کیا ہے، اس نے چائے پینے کے بعد سے اس سوداگر کو دیکھا تک نہیں تھا،اس کے پاس ایک پیسہ بھی نہ تھا سوائے اپنے آٹھ ہزار روبل کے، اور یہ کہ چاقو اس کا نہیں ہے۔ مگر اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی، اس کا چہرا پیلا پڑ گیا تھا، اور وہ خوف سے اس بری طرح کانپ رہا تھا جیسے کہ وہ گنہگار ہو۔ اس پولیس آفیسر نے دوسرے چھوٹے آفیسروں کو یہ حکم دیا کہ وہ اکسیونوف کو باندھ کر گاڑی میں بٹھائیں۔ جیسے ہی ان لوگوں نے اکسیونوف کو گاڑی میں باندھ کر رکھا ، اس کے آنسوگرنے لگے۔ اس سے اس کا سارا سامان اور پیسہ ضبط کر لیا گیا اور اسے پاس کے شہر کی جیل بھیج دیا گیا۔ اس کی ساری جانچ پڑتال ولاڈیمر میں ہی ہوئی تھی۔ جانچ کے دوران دوسرے سوداگروں نے یہ بتایا کہ وہ خالی وقت میں شراب پیتا تھا مگر پھر بھی وہ ایک اچھا آدمی تھا۔لیکن تمام شواہد کی روشنی میں عدالت نے اس پر یہ جرم پکا کردیا کہ اس نے ریازن کے ایک سوداگر کا قتل کیا اور اس کے بیس ہزار روبل لوٹ لیئے۔ اس کی بیوی دکھی ہو گئی اور اس کو با لکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس پر یقین کرے۔ اس کے بچے کافی چھوٹے تھے، ایک تو ابھی ماں کے دودھ پر ہی بڑھ رہا تھا۔ ان سب کو اپنے ساتھ لے کر اس کی بیوی اس جیل میں گئی جہاں اکسیونوف قیدی تھا۔ پہلے اسے ملنے کی اجازت نہیں ملی مگر بہت گڑگڑانے کے بعد اسے اجازت مل گئی ۔ اس کی نظریں جب اپنے شوہر پر پڑیں ، جو کہ ہتکڑی میں قید چور اچکوں کے ساتھ کھڑا تھا ، وہ وہیں زمین پر گر گئی اور کافی دیر تک ہوش میں نہ آسکی۔ پھر اس نے اپنے بچوں کو اپنی طرف کھینچا اور اس کے پاس ہوکر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے گھر کے بارے میں بتایا اور پھر اس سے ان سب حالات کی وجہ پوچھنے لگی۔اس نے سب بتا دیا۔ اس کے بعد وہ بولی۔

“اب ہم کیا کر سکتے ہیں؟”

“ہمیں زار کے پاس جانا پڑے گا اور ان کے سامنے ایک معصوم آدمی کی زندگی بچانے کی عرضی پیش کرنی پڑیگی”

اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ اس نے زار کے سامنے عرضی پیش کردی تھی مگر وہ قبول نہیں کی گئی۔ اکسیونوف نے بنا کچھ کہے ، اپنی آنکھیں مایوسی سے زمین میں گاڑ لیں۔

“وہ سب کچھ بالکل غلط نہیں تھا جو میں نے تمہارے بارے میں خواب میں دیکھا تھا۔ تمیں یا د ہے؟ تمہیں اس دن باہر نہیں نکلنا چاہیئے تھا۔ “اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں سے نکالتے ہوئے اس کی بیوی نے کہا۔ “وانیا میرے پیارے، مجھے سچ بتائو، کیا وہ تم نہیں تھے جس نے یہ سب کیا ہے؟”

“تو اب تم بھی مجھ پر شک کر رہی ہو”اکسیونوف نے کہا اور اپنا چہرا اپنے ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگا۔ تبھی ایک سنتری آیا اور کہنے لگا کہ اب تمہارے بیوی بچوں کو جانا ہوگا، اور اکسیونوف نے آخری بار اپنے بیوی بچوں کو الوداع کر دیا۔ جب سب جا چکے تو اپنے آپ کو اکیلا پا کر اکسیونوف نے اپنی بیوی کا خواب اور اس پر شک کر نا یاد کیا اور یہ کہہ کر رونے لگا کہ “اب تو ایسا لگتا ہے کہ بس خدا ہی سچ جانتا ہے، اب بس ایک وہ ہی ہے جس سے میں درخواست کر سکتا ہوں، جسے عرضی دے سکتا ہوںاور ایک اسی سے رحم کی بھیک مانگ سکتا ہوں۔”

اس کے بعد اکسیونوف نے نہ تو کوئی عرضی لکھی اور نہ ہی کوئی امید رکھی۔ اس نے اپنا سارا وقت خدا کی عبادت کے نام کر دیا۔ اس کے بعد اکسیونوف کو کوڑے پڑوانے بھیجا گیا۔ اس کو ایسے کوڑوں سے مارا گیا جو موت کے بھی باعث بن سکتے تھے۔ جب کوڑوں کے زخم بھر گئے تو اس کو سایبیریا بھیج دیا گیا۔چھبیس سال تک اکسیونوف سایبیریا میں ایک مجرم کی طرح رہا۔ اس کے بال برف کی طرح سفید ہو گئے اور اس کی ڈارھی لمبی ، پتلی اور زیادہ سفید ہو گئی۔ اس کی ساری خوشی مر چکی تھی ، وہ خمیدہ کمر ہوگیا تھا، اس کے چلنے کی رفتار دھیمی ہو گئی تھی ، وہ کم بولنے لگا تھا، اس کی ہنسی غائب ہو چکی تھی، مگر وہ اب بھی عبادت کر تا تھا۔ جیل میں اکسیونوف نے جوتے بنانا سیکھا اور یہی کر کے اس نے کچھ پیسے بھی کمائے جس ایک کتاب خریدی جس کا نام تھا “ولیوں کی زندگیاں” وہ یہ کتاب جیل میں اس وقت پڑھتا تھا جب وہاں زیادہ روشنی ہوا کرتی تھی ۔ اتوار کے دن وہ اس کتاب کو چرچ کے اندر بلند آواز میں پڑھتا بھی تھا اورمڈہبی گیت بھی گاتا تھا کیونکہ اس کی آواز ابھی تک اچھی تھی۔جیل کے ادھیکاری اکسیونوف کو اس کی نیکی کی وجہ سے پسند کرتے تھے اور دوسرے قیدری اس کی بہت عزت کرتے تھے:وہ اس کو “بابا” اور “دادا” کہہ کر پکارتے تھے۔ جب بھی کسی قیدی کو اپنی عرضی جیل ادھیکاریوں کے سامنے پیش کرنی ہوتی تھی تووہ اکسیونوف کو ہی اپنا نمائندہ بناتے تھے، اور اگر کبھی کوئی جھگڑا ہوتا تھا تو وہ اسی کے پاس انصاف اور صحیح فیصلے کی غرض سے آیا کرتے تھے۔ اکسیونوف کو اپنے گھر کی ذرا بھی خبر نہیں تھی، اس کو تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ اس کے بیوی بچے زندہ بھی ہیں کہ نہیں۔

ایک دن جیل میں قیدیوں کا ایک نیا گروہ لایا گیا۔ شام میں سارے پرانے قیدیوں نے نئے قیدیوں سے ان کے گاؤں اور ان کی سراؤں کے بارے میں پوچھ تاچھ کی ۔ سب چیزیں چھوڑ کر اکسیونوف ان نئے قیدیوں کی پوچھ تاچھ کے دوران زمین پر بیٹھ کر نیچےسر کئے ان کے ہر ایک لفظ کو غور سے سن رہا تھا ۔ ان نئے قیدیوں میں سے ایک جو تقریباَ ساٹھ سال کا رہا ہوگا ، لمبا ، چوڑا ، اپنے گرفتار ہونے کی وجہ بتا رہا تھا ۔

“دوستو!”اس نے کہا”میں نے بس ایک گھوڑا ، جو کہ ایک گاڑی سے باندھ لیا تو مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا گیا ۔ میں نے کہا بھی کہ میں نے ایسا صرف گھر جلدی پہنچنے کے لئے لیا تھا اور اس کے بعد میں اس کو جانے دیتا۔ جبکہ گاڑی ہانکنے والا میرا بہت اچھا دوست تھا۔ تو جب میں نے ان سے کہا کہ ‘مجھے جانے دیجیے ‘ تو انہوں نے کہا کہ ‘نہیں ، تم نے اسے چرایا ہے ‘ مگر وہ یہ نہیں بتا سکے کہ میں نے اسے کب اور کہاں سے چرایا ہے ۔ میں نے ایک بار سچ میں ایک غلط کام کیا تھا ، اور یہاں آنے والا تھا لیکن میں نہیں پکڑا گیا ۔ اب مجھے یہاں بھیجا گیا ہے جبکہ میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔مگر یہ سب جھوٹ ہے ، میں سائبیریا پہلے بھی آچکا ہوں مگر کبھی بہت نہیں رکا۔ “

“تم کہاں سے ہو” کسی نے پوچھا۔

“ولاڈیمر ۔ میرے گھر والے وہاں کے ہیں ۔ میرا نام مکر ہے اور دوسرے لوگ مجھے سیمیونچ بھی کہتے ہیں”

اکسیونوف نے اپنا سر اٹھا یا اور بولا ” سیمیونچ کیا تم مجھے کچھ ولاڈیمرکےاس سوداگر اکسیونوف کے بارے میں کچھ بتا سکتے ہو ؟ کیا وہ اب بھی زندہ ہے ؟”

“بتا سکتے ہو ؟ بالکل بتا سکتا ہوں ۔ اکسیونوف کے گھر والے بہت امیر ہیں ۔ مگر ان کا باپ ہماری ہی طرح کہیں اس جیل میں قید ہے چونکہ وہ بھی ایک بہت بڑا گنہگار ہے ! آپ بتایئے ، بابا ، آپ یہاں کیوں آئے؟”

اکسیوننوف نے اپنی بد نصیبی کے بارے میں بتانا درست نہ سمجھا تو اس نے صرف اتنا ہی کہ دیا۔ “میں اپنے ایک گنہ کی وجہ سے اس جیل میں تقریبا َ چھبیس سال سے ہوں ۔”

“کون سا گنہ؟” مکر نے پوچھا۔

“خیر خیر ۔۔۔۔میں گنہگار تھا ۔” اکسیونوف نے تو کچھ نہیں کہا مگر اس کے ساتھیوں نے مکر کو سب بتا دیا کہ اکسیونوف سائبیریا میں کیوں آیا ہے ۔ انہوں نےبتایا کہ کیسے کسی اور نے ایک سوداگر کا قتل کیا اور اکسیونوف کو اس الزام میں قید کر دیا گیا۔ جب مکر نے یہ سب کچھ سنا تو اس کی آنکھیں اکسیونوف کو دیکھتی ہی رہ گئیں ۔ اس نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر کہا۔

“خیر یہ سب بہت عجیب ہے! کافی عجیب!مگر آپ اتنےضعیف کیسے ہو گئے بابا”

دوسروں نے مکر سے بہت پوچھا کہ وہ اس بات پر اتنا کیوں چونکا اور یہ کہ اس نے اکسیونوف کو پہلے کہاں دیکھا تھا، مگر مکر کہ منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا۔ اس نے بس اتنا ہی کہا ۔

“یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہم یہاں آکر پھر سے ملے، دوست!”

ان لفظوں کو سن کر اکسیونوف نے سوچا کہ شاید کہیں یہ آدمی اس سوداگر کے قاتل کو جانتا ہو۔ تو آخر اس نے کہا ۔ ” سیمیونچ شاید تم نے مجھے پہلے دیکھا ہو یا پھر تم اس معاملے کہ بارے میں کچھ جانتے ہو۔”

“میں صرف سن کر کیسے مدد کروں؟ یہ دنیا افواہوں سے بھری پڑی ہے اور ویسے بھی یہ بہت پرانا واقعہ ہے اور میں بہت چیزیں بھول گیا ہوں۔”

“شاید تم قاتل کو جانتے ہو؟” اکسیونوف نے پوچھا۔

“قتل تو اسی نے کیا ہوگا جس کے سامان میں چاقو ملا تھا ، اگر کسی اور نے وہاں چاقو چھپایا ہو گا، تو جیسا کہ کہا جا تا ہے ‘وہ جب تک پکڑا نہ جائے تب تک وہ چور نہیں’ کوئی آپ کے سامان میں چاقو کیسے چھپا سکتا تھا جبکہ آپ کا بستہ آپ کہ سر کے نیچے رکھا تھا ؟ وہ آپ کو ضرور اٹھا دیتا۔”

جب اکسیونوف نے یہ الفاظ سنے تو اس کو یقین ہو گیا کہ مکر ہی وہ آدمی ہے جس نے وہ قتل کیا تھا۔ اکسیونوف وہاں سے اٹھا اور چلا گیا۔ وہ رات اکسیونوف نے جاگ کر بتائی۔ اس کو بہت برا لگ رہا تھا اور وہ سارے منظر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔ اسے اپنی بیوی کا چہرہ یاد آرہا تھا جب وہ اسے چھوڑ کر میلے کی طرف روانہ ہوا تھا۔اس نے اس کو ایسے یاد کیا جیسے کہ وہ وہاں موجود ہو؛اس کی آنکھیں اور اس کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا اور اس کی ہنسی کی خوبصورت آواز اس کے کانوں میں گونجنے لگی۔پھر اس نے اپنے بچوں کو یاد کیا، جو اس وقت کافی چھوٹے تھے، ایک جس نے اپنے برابر کا چوغہ پہنا تھا اور ایک وہ جو ابھی ماں کی گود میں ہی تھا۔۔ان سب کے بعد اس نے اپنے آپ کاوہ وقت یاد کیا جب وہ ایک بھرپور نوجوان تھا –طاقت ور اور ہنس مکھ۔ اس کو وہ وقت یاد آیا جب وہ آخری بار اس پیڑ کے نیچے بیٹھے گٹار بجا رہا تھا، اور یہ کہ وہ دنیا کی پریشانیوں سے کتنا آزاد تھا۔ ۔ وہ یہ سب یاد کر کے اتنا رنجیدہ ہو گیا کہ وہ اپنے آپ کو مارنے کی نوبت تک آپہنچا۔

“اور یہ سب اس ذلیل کا کیا دھرا ہے۔”اکسیونوف نے سوچا۔ یہ سب سوچ کر مکر کے خلاف اس کاغصہ بہت بڑھ گیا تھا جبکہ وہ خود بھی جانتا تھا کہ غصہ کو دبادینا ہی سب سے اہم بات ہے۔ وہ پوری رات عبادت کرتا رہا مگر اس کو سکون نہیں ملا۔ اگلا پورا دن ، اس نے نہ تو مکر کے پاس جانا مناسب سمجھا اور نہ اس کی طرف دیکھنا۔ دو ہفتے ایسے ہی بیت گئے۔ اکسیونوف رات میں سو بھی نہیں پاتا، وہ بس دکھی ہو جاتا کیونکہ اس کو یہ نہیں سمجھ آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ ایک رات جب وہ جیل میں ٹہل رہا تھا ، اچانک اسے ایسا لگا جیسے زمین پر سے کوئی چیز ہلی اور وہاں سے کوئی قیدی نکلا۔ وہ رکا اور وہا ں غور سے دیکھنے لگا۔ وہ مکر تھا، اس کا چہرا سہما ہوا تھا۔ اکسیونوف اس کی طرف سے مڑا ہی تھا کہ مکر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو بتایا کہ اس نے ایک سرنگ بنائی ہے، جو روڈ پر نکلتی ہے۔

“تم بس چپ رہنا بڈھے ، اس طرح تم بھی باہر نکل سکوگے۔ اگر تم نے کچھ بھی کہا تو وہ مجھے مار دیں گے مگر اس سے پہلے میں تمہیں مار دوں گا۔ “

اکسیونوف غصے سے کانپنے لگا۔ اس نے اپنا ہاتھ مکر کے ہاتھ سے جھٹکا اور اس سے کہنے لگا۔

“مجھے جیل سے بھاگنے کی کوئی خواہش نہیں ہے اور تمہیں مجھے مار نے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تم نے مجھے بہت پہلے ہی مار دیا تھا۔ تمہارے بارے میں میں کچھ کروں نہ کروں ۔۔۔۔خدا ضرور کرے گا۔ “

اگلے دن جب سارے قیدی اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے تب کسی سپاہی نے یہ محسوس کیا کہ کسی ایک قیدی نے کوئی سرنگ بنائی ہے، کیونکہ اس کا پیر ایک گڈھے پر پڑا تھا۔ اس قیدی کی پورے جیل میں تلاش شروع ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ سرنگ میں بھی ۔ خود گورنر نے آکر سارے قیدیوں سےتفتیش کی۔سب نے صرف یہ ہی کہا کہ ان کو کچھ نہیں معلوم ۔ جن کو پتا تھا ، انہوں نے بھی انکار کیا کیونکہ ان کو پتا تھا کہ اگر بتا دیا گیا تومکر سیمیونچ کو موت تک مل سکتی ہے۔ آخر میں گورنر اکسیونوف کی طرف بڑھا اور چونکہ وہ اس کو ایک سچا آدمی مانتا تھا اس لیے اس سے بھی اس بارے میں پوچھا۔

مکر سیمیونچ اپنی جگہ پر بت کی طرح کھڑا تھا، اس نے اپنی آنکھیں بھی اکسیونوف کی طرف نہیں کیں۔ اکسیونف کے ہاتھ پیراور ہونٹ کانپنے لگے اور وہ کئی دیر تک کچھ نہ کہہ سکا۔ اس نے سوچا۔

“آخر میں اس آدمی کی زندگی کو کیوں بچاؤں جس نے میری پوری زندگی برباد کر دی؟اسے اپنے گناہوں کی سزا ملنی چاہیے۔لیکن اگر میں گورنر کو سب بتا دوں تو وہ اس کو موت دے دیگا ، اور پھر کیا پتہ شاید میں ہی غلط ہوں، اور پھر اس سے میرا کیا فائدہ ہوگا؟”

“تو بابا، ہمیں سچ بتاؤ ، یہ سرنگ کس نے کھودی؟” گورنر نے اکسیونوف سے پھر سوال کیا۔

اکسیونوف کی نظر مکر کی طرف گئی اور گورنر کی طرف دیکھ کر اس نے کہا۔”میں کچھ نہیں کہہ سکتا ، یورآنر۔ خدا نہیں چاہتا کہ میں کچھ کہوں ، میں آپ کے سامنے ہوں اور اس خاموشی کے بدلے میں آپ میرے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔”

خیر یہ بات تو گورنر کو بھی پتا تھی کہ وہ کتنی بھی کوشش کر لے اکسیونوف سے اصل بات نہیں معلوم کر پائے گا ، الغرض اس نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ اس رات جب اکسیونوف اپنے بستر پر لیٹ کر سونے ہی والا تھا، تبھی کوئی دبے پاؤں اس کے پاس آیا اور اس کے بستر پر بیٹھ گیا۔ اکسیونوف نے اپنی آنکھوں سے جب غور کرا تو دیکھا کہ وہ مکر تھا۔

“تمہیں مجھ سے اور کیا چاہیئے؟”اکسیونوف نے کہا”اب یہاں کیوں آئے ہو؟”

مکر سیمیونچ چپ بیٹھا رہا۔ تبھی اکسیونوف اٹھ بیٹھا اور بولا۔ “تمہیں کیا چاہیئے، جاؤ یہاں سے ورنہ میں سپاہیوں کو بلا لوں گا۔”

مکر اکسیونوف کی طرف جھکا اور اس کے کان میں بولا۔”آئیوان ، مجھے معاف کر دو۔”

“کس لئے؟” اکسیونوف نے پوچھا۔

“وہ میں ہی تھا جس نے اس سوداگر کا قتل کیا تھا اور وہ چاقو تمہارے سامان میں چھپا دیا تھا۔ میں تو تم کو بھی مارنے والا تھا، مگر پھر میں نے باہر سے کوئی آواز سنی توچاقو تمہارے سامان میں چھپا کر وہاں سے بھاگ گیا۔”

اکسیونوف خاموش تھا ، اسے بالکل سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کہے۔ مکر سیمیونچ بستر پر سے ہٹا اور زمین پر آکر اکسیونوف سے بولا۔

“مجھے معاف کر دو، خدا کے لئے مجھے معاف کردو، میں یہ بات گورنر صاحب کو بتا دونگا کہ وہ قتل میں نے کیا تھا اور پھر تم آزاد ہو گے۔ “

“تمہارے لیے یہ کہنا آسان ہے”اکسیونوف نے کہا”مگر میں نے یہاں اپنے چھبیس سال کاٹ دیے ہیں، میں اب کہاں جاؤں گا، میرے بیوی مر گئ اور میرے بچے مجھے بھول چکے ہیں،میرے پاس اب جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں بچی۔”

مکر اٹھا نہیں بلکہ اس نے اپنا سر زمین میں مارا اور پھر کہنے لگا۔

“آیئوان، مجھے معاف کر دو، ” وہ چیخا”کوڑے سے پٹنا اتنا دردناک نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے تم کو دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔ اور ابھی بھی تمہیں مجھ پر ترس ہے کہ جو تم کسی کو بتاتے نہیں۔عیسی کے نام پر مجھے معاف کر دو، میں کتنا نیچ ہوں”اس نے کہا اور رونے لگا۔

جب اکسیونوف نے اس کو روتا دیکھا تو اس کی بھی آنکھوں سے آنسو آگئے۔ “خدا تمہیں معا ف کرے، شاید میں تم سے بھی سو گنا برا تھا۔” پھر یہ الفاظ کہ کر اس کا دل ہلکا ہوا اور اس کے گھر جانے کی خواہش مری۔ اس کے دل میں اب جیل چھوڑ کر جانے کی کوئی خواہش نہیں تھی، بلکہ وہ تو اب اپنے اخری وقت کے انتظار میں تھا۔

ان سب باتوں کو دور رکھ کر مکر نے گورنر کو سب سچ بتا دیا۔ مگر جب تک اکسیونوف کی رہائی کے آرڈر آئے، وہ مر چکا تھا۔

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: