روزنامچہ ۔۔۔ کشور ناہید

روزنامچہ

( کشور ناہید )

میرے ہر آج کو گذشتہ بنانے والوں نے

اپنے نام کے سامنے اوصاف

اور میرے نام کے سامنے دشنام لکھی

میری تاریخ کو زنجیر پہنانے والوں نے

میرے گھر کے سامنے سلاخیں

اور اپنے گھر کے سامنے

عشق پیچاں کی بیل سجا لی ہے

میری گویائی کو تصویر بنانے والوں نے

اپنے لیے لونگ پلے

اور میرے لیے کنویں بنا لیے ہیں

سروں کے ڈول سے

گویائی کی رسی باندھ کر

سچائی کا پانی بھرنے

پنہارنیں کب آیئں گی

کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد

دنیا میں مرد کم ہو گئے تھے

تو عورتوں نے چمنی چمنی

دھویئں کے بادلوں سے

خوشحالی کا مینہہ برسایا تھا

امن کا میگھ

خوشحالی کا مینہہ

اندھی اور دیکھنے والی آنکھوں سے نکلتے آنسو

با لکل ایک جیسے ہوتے ہیں

ان ہاتھوں کو بلند رکھو

کہ نیچے آئے

تو بریدہ ہوں گے

ان ہونٹوں کو مصروف گفتار رلکھو

کہ خاموش ہوئے

تو سی دیے جایئں گے

سنو

آگ کو آگ نہیں بجھا سکتی

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.