عورت کہاں غائب رہی ہے ۔۔۔۔ کشور ناہید

عورت کہاں غائب رہی ہے

(کشور ناہید)

بقول شمس الرحمٰن فاروقی ’’چونکہ ادب کی تاریخ بلکہ تمام تاریخ پر مرد حاوی رہے ہیں۔ اس لئے ادب کی دنیا سے تانیثی نقطۂ نظر اور ادبی ستون کی فہرست میں عورتوں کے ستون کا شعوری یا غیر شعوری طور پر اخراج کیا جاتا رہا ہے‘‘۔ اب جبکہ عورتوں نے خود لکھنا اور تنقید کے میدان میں تجزیہ کرنا شروع کئے تو ایک سو سال پہلے کی خاتون ز۔خ۔ش کی شاعری کو ڈاکٹر فاطمہ حسن نے دریافت کیا ہے رقیہ سخاوت حسین کو بنگالی ادب کے تجزیے کی کٹھالی سے نکالا گیا ہے۔

ڈپٹی نذیر احمد کی اکبری اور اصغری کا دور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ آج بھی تمیز دار بہو اور تیز طرار، بدتمیز اصغری کا تقابل آج کے معاشرے اور میڈیا میں مسلسل جاری ہے چونکہ عورتوں کے بارے میں اسٹیریو کردار معاشرے میں پائے جاتے ہیں ان کا تجزیہ کیا جائے مثلاً ’’عورت مامتا کی دیوی ہے اور سوتیلی ماں ظالم لو یہاں سوتیلے باپ کے سلسلے میں کچھ نہیں کہا جاتا‘‘۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عورت نرم و نازک ہوتی ہے مگر گھر کے کام کاج جسمیں 16 گھنٹے کام شامل ہوتا ہے، وہاں اس سے زیادہ جفاکش کوئی نہیں ہوتا ہے مگر عورتوں کے سوا، مردوں نے یہ نہیں لکھا۔ یہ بھی مفروضہ دیا گیا کہ مرد کا کمانا اور عورت کا گھر سنبھالنا۔ کھیت سے لیکر گھروں میں مائی یا ماسی بن کر روٹی روزی کمانا اور گھر میں حقہ پیتے یا سگریٹ سلگاتے نکھٹو شوہر کی کہانی لکھی تو ترقی پسند تحریک کے شروع ہوتے ہی ڈاکٹر رشید جہاں نے۔زمانے اور سیاست نے کروٹ بدلی۔ مجاز جو عشقیہ شاعری کیلئے مشہور تھے، انہوں نے بھی لکھا ’’ تو اس آنچل کو اک پرچم بنالیتی تو اچھا تھا۔’’یہ وہی مجاز ہیں جنہوں نے علی گڑھ کے کالے برقعوں کے پیچھے حسن کی تعریف کی تھی۔ زمانہ بدلا۔ قیام پاکستان کا دور آیا۔ یہاں ادیب چیخ اٹھے اور امرتہ پریتم نے کہا’’اج آکھاں وارث شاہ نوکدرے قبراں وجو بول۔‘‘ یہاں تک کہہ دیا ’’اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لکھ لکھ مارے دین۔ اسی زمانے میں اس بہتے خوف کی بپتا کو گندھی یا حوذیل، نیا قانون اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسی کہانیوں کی شکل میں منٹو نے ہمارے سامنے پیش کیا۔ وہ عورتیں جو ادھر پاکستان کے علاقے میں رہ گئیں اور و ہ جو ہندوستان میں رہ گئیں کہ بیشتر کے خاندانوں نے اغوا شدہ عورت کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عورتوں نے لوگوں کے گھروں میں نوکری کی، خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور نے ان کی کہانیاں لکھیں۔برصغیر میں آزادی کی جدوجہد میں خواتین نے کس قدر حصہ لیا۔ اس کا بیان خدیجہ مستور کے آنگن ’’اور نشا عزیز بٹ نے ’’نے چراغ نے گلے‘‘ میں بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔ اردو افسانے اور تنقید دونوں میں اولین نام ممتاز شیریں کا ہے۔ جمیلہ ہاشمی نے غیر منقسم پنجاب کی معاشرتی صورتحال کو بیان کیا اور اب پاکستان میں کس طرح لڑکیوں نے پڑھ لکھ کر اسکولوں اور کالجوں میں پڑھانا شروع کیا، اس کا احوال سندھ میں خیر النسا جعفری نے کے پی میں ڈاکٹر انور تاج نے، بلوچستان میں یاسمین مری نے اور پنجابی میں فرخندہ لودھی نے جبکہ اُردو میں الطاف فاطمہ نے بیان کیا، فلسفہ، مغرب اور مشرق کے ادب اور دوہری ذمہ داری اٹھانے والی عورت کو زاہدہ حنا اور خالدہ حسین نے وہ سارے پہناوے دکھائے جو 1960سے لے کر آج تک ظاہر میں کچھ اور باطنی طور پر کچھ اس مردانہ معاشرے نے عورت کو دیا ہے۔پاکستان کی سیاست نے ایسا پلٹا کھایا کہ ایک پاکستان دو ملکوں میں منقسم ہوگیا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش بننے کے سال میں بنگالی عورتوں پر کیسے ظلم و ستم ہوئے۔ اس کا بیانیہ ام عمارہ کی کہانیوں میں خون کی طرح بہتا نظر آتا ہے۔ابھی تک میں نے شاعری میں خواتین کے اسلوب کا ذکر نہیں کیا۔ ہر چند سب سے سینئر شاعرہ ادا جعفری تھیں (اللہ کرے سلامت رہیں( مگر سیاست نے آرائش خم کامل کی جگہ صحافت و ادب میں سنسر شپ کو ایسا عروج دیا کہ نظمیں چاہے فہمیدہ ریاض کی ‘‘چادر چار دیواری’’کے عنوان سے یا پھر ’’کوتوال بیٹھا ہے‘‘ کے عنوان سے نظموں نے تہلکہ مچا دیا۔ زہرہ نگاہ جو عرصے تک شاعری چھپائے بیٹھی رہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر کہ تیرہ سالہ لڑکے کو بھی کوڑے لگائے جارہے ہیں۔ ان حالات میں بھڑک اٹھیں۔ پروین شاکر، عشرت آفرین، اور فاطمہ حسن کے علاوہ نسرین انجم بھٹی نے عورت کے ساتھ ہونے والے مظالم کو شعروں میں ڈھالا۔

سیاست نے اب ایک اور شکل بدلی۔ روسی فوجوں کو افغانستان سے نکالنے کی ذمہ داری، پاکستان کی کمزور سیاست نے اپنے ذمہ لی۔ اس طرح باقاعدہ طالبان کو تربیت دینے کے عوض، امریکہ سے سرمایہ وصول کیا اور اب مذہب کے نام پر کوئی پچیس جماعتیں کھڑی ہوگئیں۔ مرد لکھنے والوں میں انتظار حسین کا اسلوب بدلا۔ لب سڑک پھانسی دئیے جانے کے قصے کو تحریر کیا۔ کراچی میں لسانی اختلاف نے جنم لیا۔ آمریت کی ایک اور شکل سامنے آئی۔ اب بوری میں بند لاشیں ملنی شروع ہوئیں۔ توصیف افضل، نور الہدیٰ شاہ، سعیدہ گزدر، خالدہ حسین اور فہمیدہ ریاض نے ان وحشیانہ حرکتوں پر قلم اٹھایا۔ ابھی قلم کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ وحشت اور وڈیرا شاہی نے عورتوں کے ساتھ زیادتی کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ اس سے بھی آگے کی منزل تھی جہاں اندھی صفیہ بی بی کو زیادتی کے الزام میں کوڑوں کی سزا ہوئی تھی۔

دنیا کا ضمیر تو کیا جاگنا تھا۔ سارے ادیبوں اور صحافیوں نے لکھ کر احتجاج کیا۔ اب ڈاکٹر اسرار کی تقریروں اور اشفاق احمد کے ڈراموں اور ضیا الحق کے پسندیدہ لطیفوں کے پروگرام نے عروج حاصل کیا۔ ’’سنسر شپ ایسی تھی کہ غزلیں نظمیں کیا قرآن شریف کی آیتیں بھی سنسر ہورہی تھیں اور منو بھائی نے لکھا‘‘ ٹی وی دی قوالیاں سن کر ، مردے جاگے قبراں وچوں‘‘ بھٹو صاحب کی پھانسی پہ جتنا ادب لکھا گیا وہ سب احتساب اور خیابان کےعلاوہ اعجاز راہی کے گواہی کے عنوان سے شائع ہوا اور رشید امجد نے خواتین لکھنے والیوں کا تجزیہ کیا۔ یہاں سب سے بڑھ کر ذکر قرۃ العین حیدر کا کہ جنہوں نے اپنے ناول گردش رنگ و چمن ’’میں ان عورتوں کی کہانی بھی سنائی جنہوں نے محلوں کو چھوڑ کر، انگریزوں کی آمد کے بعد، نیپال میں جاکر پناہ لی۔

9/11 یہ عالمی سطح پر اور پاکستان میں سب سے اچھا نیلم احمد بشیر نے ستمبر ستمگر کےعنوان سے ناول لکھا۔عراق پہ امریکی حملے کی مزاحمت تحریر کے ذریعہ طاہرہ اقبال نیلوفر اقبال اور سلمیٰ اعوان نے کی۔ عطیہ سید نے دہشت گردوں کا نفسیاتی تجزیہ کیا۔ فہمیدہ ریاض۔ عطیہ دائود، خالدہ حسین، نگہت حسن نے تیرہ تیرہ سالوں کے بچوں کو جنت کی حوروں کی نوید سناتے، دہشت گردوں کی کہانیاں تھلکھیں۔ کہیں ڈیڑھ سو بچوں کو تو کہیں ہزارہ برادری کے لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد گولیاں مارنے کی دلسوز کہانیاں لکھیں۔

پاکستان میں عورتوں اور کم سن بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے لیکن اسلامی شریعت کونسل نےDNAٹیسٹ کو اسلام کے خلاف سمجھتی ہے وہ تو شکر ہے کہ سینیٹ نےDNAکی حقیقت اور ضرورت کو تسلیم کیا ہے۔ اس طرح غیرت کے نام پر قتل کے بارے میں قانون پاس ہونے کے باوجود، باپ اور بھائی بھی اینٹیں مار کر ہائی کورٹ کے سامنے عورت کو صرف اس لئے قتل کر دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ یہ باتیں خبریں نہیں رہتیں، کہانیاں بنتی ہیں، نظموں میں لکھی جاتی ہیں اور اب تو ان موضوعات پر ڈرامے بھی نظر آنے لگے ہیں۔

ایک بہت قبیح موضوع ہے کم سنی کی شادی۔ مثالیں موجود ہیں کہ چھ سال کی بچی کی شادی کے فارم بھرتے ہوئے، مولوی صاحبان اس کی عمر 16سال لکھ دیتے ہیں۔ اس اجتماع میں تمام مرد ہوتے ہیں۔ جن میں کچھ پڑھے لکھے بھی ہوتے ہوں گے مگر کوئی بھی تو اس غلط بیانی پر اعتراض نہیں کرتا ہے۔ جب یہ نظم یا کہانی بن کر ادب میں داخل ہوتی ہے تو اسے الف لیلوی کہانی سمجھ کر پڑھ کر اور ترس کھا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔

عورت اب ترس کھانے والی مخلوق نہیں رہی۔ اس کے ہاتھ میں قلم ہے اور ذہن میں اجالا ہے۔ قانونی اور سماجی سطح پر یہ رویے اب برداشت نہیں ہوتے ہیں۔ بہت عشق ہوچکا میرے دوستو۔ اب ذرا سماج میں چھپے ناسور سامنے لائیے۔

Be the first to comment

Share your Thoughts: