مسخرہ ۔۔۔ محمود احمد قاضی

 Mahmood Ahmad Qazi is a senior brilliant fiction writer, translator and a leftist activist, he is witness to many episodes of the left movement in Pakistan He doesn’t care about self-promotion and does what he is best at: writing stories and readings books. His stories appeared in magazines like SaveraFunoonAuraq et. He was recently awarded  Life time achievement award by Anjuman Taraqi Passand Musanfeens Pakistan.

مسخرہ

( محمود احمد قاضی)

یہ نوجوان بادشاہ کی تاج پوشی کے تیسرے دن کا واقعہ ہے کہ سب درباری اپنے اس نوخیز و نوجوان بادشاہ کی کسی مضحکہ خیز بات ( اور ایسی باتیں اور حرکتیں وہ اپنی تاج پوشی کے پہلے دن ہی سے کر رہا تھا) ہنستے، قہقہے لگانے کے با لکل قریب پہنچ چکے تھے کہ ان کو اپنی ہنسی اور قہقہوں کو زبردستی روکنا پڑا کہ بادشاہ کی کسی بات، حرکت یا ادا پر ہنسنا نہ صرف نازیبا اور بے ادبی جیسا فعل تھا بلکہ قابل گردن زدنی بھی تھا اس لئے فورا” سب نے اپنا ایک ہاتھ منہ پر اور دوسرا اپنی گردنوں پر رکھا اور دم بخود سانس روکے کھڑے کے کھڑے رہ گئے اور یوں عین اسی عذاب لمحے میں ان سب نے ایک ساتھ یہ سوچا کہ ایسے مواقع پر انہیں ہنسنے ہنسانے کے حصول کے لئے اپنی جگہ ایک مستقل ہنسنے ہنسانے والے کی ضرورت ہے، تاکہ ہنسنے ہنسانے کا، دل لگی کا سامان بھی مہیا ہو اور ان کی جان بھی بچی رہے اور اسکا حل ان سب نے یہی نکالا کہ انہیں فوری طور پر ایک عدد درباری مسخرے کی ضرورت تھی۔ حالانکہ ان میں سے ہر ایک ہی اس جاب کے لئے اپنے آپ کو سو فیصد فٹ قرار دینے کو تیار تھا مگر انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے پاس اپنے آپ کو پیشہ ور مسخرہ کہلوانے کا کوئی مستند ثبوت یا سرٹیفیکیٹ نہیں تھا اس لئے کانا پھوسی کے انداز اور کھسر پھسر کے پرانے حربے کو آزماتے ہوئے انہوں نے ایک مسخرے کی شدید ضرورت کی اہمیت وزیر با تدبیر کے کان میں پھونک دی اور اسی طلب کی پھونک وزیر نے بادشاہ کے کان میں ماری تو بادشاہ کے چہرے پر پہلے تو زلزلے کی سی کیفیت طاری ہوئی پھر اس پر ہنسی کا دورہ پڑ گیا۔ وہ اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے دبائے دہرا ہوا جا رہا تھا،” دیٹس اٹ، دیٹس اٹ” اور یوں سارے ملک میں ڈھنڈیا پڑ گئی اور اعلانات ہونے لگے کہ جو شخص اپنے آپ کو بہترین مسخرہ ثابت کرے گا اور فلاں فلاں قسم کے تحریری اور زبانی امتحان پاس کر لے گا اسے ایک خاص مشاہرے پر درباری مسخرہ قرار دئے جانے کے بعد پکی ملازمت  سے نوازا جائے گا۔ اس کی ڈیوٹی چوبیس گھنٹے ہو گی۔ ہر وقت ، ہر لمحے جب بھی اسے طلب کیا جائے گا اسے بادشاہ کی مصاحبت کا حق ادا کرنا ہو گا۔

دوسری صبح بادشاہ کے محل کی ڈیوڑھی پر عجیب و غریب حلیوں والے اشخاص جنہوں نے مختلف قسم کے،آنکھوں کو اشتعال دلانے والے ڈب کھڑبے رنگ برنگے کپڑے پہنے ہوئے تھے جمع تھے۔ اپنے چہروں کو ان گنت رنگوں سے سجائے اور اپنے چہروں کو کئی زاویوں سے بگاڑنے والوں میں ضلع جگت کے ماہرین بھی موجود تھے۔ان میں سے بہت سے پہلے امتحان میں ہی فیل ہو گئے۔ کچھ جو بادشاہ کے سامنے پیش ہونے کے لئے روکے گئے وہ وزیر کے سامنے پہنچ کر ہی حواس باختہ ہو گئےاور یوں مسترد قرار پائےجانے کے بعد ایک آدھ جو وزیر کی دست برد سے بچ کر آگے بادشاہ کی طرف ہانکا گیا وہ وہاں جا کر گم سم ہو گیا۔ اس کی سٹی گم ہو گئی۔ اس طرح سے یہ انتظام خسروانہ اپنی پہلی ہی کوشش میں فلاپ ہو گیا، بادشاہ کے ہونٹوں پر مسکان لانے، اسے خوش کرنے اور درباریوں کو خود اپنی ہنسی کو مسخرے کی ہنسی کے ذریعے سننے کی خواہش دم توڑنے لگی اور بجائے خوشی کے دربار میں غم آلود خاموشی چھا گئی۔ اب بادشاہ کا غضب دیدنی تھا۔ اس کا حکم تھا کہ جیسے بھی ہو جس طرح بھی ہو ایک عدد مسخرے کا بندو بست ضروری اور دوامی ہونا لازمی تھا۔

سو، چار سُو گھوڑے دوڑائے گئے۔ پیادے ہر طرف لپکے۔ ہرکاروں نے اپنی کمریں کسیں۔ پیغام رسانوں نے پیغام گزارے۔ مگر نتیجہ صفر۔ کوئی ایک بھی معیاری مسخرہ ہاتھ نہ لگا بلکہ کئی تو ایسے بھی ملے جو چلے تو ہنسانے کو تھے مگر ان کی حرکتیں دیکھ کر دوسروں کو رونا آ گیا۔ اسی اثنا ء میں ایک قریبی ننھی سی خراج ادا کرنے والی مملکت سے ایک سرکس نے دارا لحکومت میں پڑاو کیا اور سرکس کے پہلے دن کے شو کی مشہوری کے جلوس میں موجود مسخرے کی حرکات و سکنات دیکھ کر شاہی جاسوسوں نے خبر لگائی کہ ہو نہ ہو یہی مسخرہ دربار کے مسخرے پن کو چار چاند لگانے کے لئے ضروری تھا مگر ساتھ ہی انہیں یہ فکر بھی دامن گیر ہوئی کہ اگر یہ بندہ بھی بادشاہ کے معیار پر پورا نہ اترا تو ان کی کھال بڑی آسانی سے کھنچوائی جا سکتی ہے۔ ایسے میں یہ طے پایا کہ بادشاہ کو کسی طرح آمادہ کیا جائے کہ وہ اس سرکس کے شو کو دیکھنے بہ نفس نفیس خود جائے اور خود مسخرے کے کمالات کو ملاحظہ فرما کر اس کو دربار میں پیش ہونے کے احکامات صادر فرمائے کیوں کہ قدیم انسانی تجارت کے تحت جس کو اب افرادی قوت کا نام دیا گیا ایسا کرنا کچھ مشکل نہ تھا۔

تمام درباریوں، وزیروں مشیروں کی محنت رنگ لائی اور بادشاہ سرکس دیکھنے کے لئے رضا مند ہو گیا۔ سرکس میں بنائے گئے بادشاہ کے خاص انکلوژر میں اس کے گرد سفید کپڑوں میں ملبوس خصوصی لوگ براجمان تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ گھنٹی بجی۔سرکس شروع ہوا۔ ابتدا ہی مسخرے کی آمد سے ہوئی۔ اس نے گہری نیلی دھاریوں والا ڈھیلا ڈھالا پاجامہ اور کرتا پہن رکھا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی نیلی پیلی سرخ سبز دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ اس کی ناک پر پلاسٹک کا بنا ہوا پکوڑا لٹک رہا تھا اور اس کے سر پر تماشے والے بندروں جیسی مخروطی اور پھندنے والی ٹوپی تھی۔ اس نے ناظرین کو جھک کر سلام کیا اور اپنے کئی ایک مسخرانہ آیئٹم پیش کئے۔ اس میں سے ایک آیئٹم پاجامہ اتارنے کا تھا۔ جب اس نے الاسٹک والا پاجامہ اتارنے کے لئے نیفے میں ہاتھ ڈالا تو عورتوں والے حصے میں ایک دم خوف زدہ سی سریلی چیخین بر آمد ہویئں۔ سراسیمگی تو کسی حد تک مردوں والے حصے میں بھی پھیلی لیکن خیریت رہی کہ اس پاجامے کے نیچے مسخرے نے ایک اور پاجامہ پہن رکھا تھا۔ پھر تو چل سو چل۔ اس نے پاجامے اتارنے کا عمل جاری رکھا اور درجنوں پاجاموں کے نیچے بھی کئی پاجامے نکلے تو سارا پنڈال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ پھر اس نے اپنی آستین سے مختلف رنگوں کے بے شمار رومال نکالنے شروع کئے۔ان رومالوں کی تعداد شاید سینکڑوں تک جا پہنچی۔ اسکی چہلیں، مذاق اور مضحک حرکتیں اپنے عروج پر پہنچ گیئں لیکن بادشاہ کے چہرے پر قہقہے کا پھول تو کیا کھلنا تھا مسکراہٹ کی کلی تک نہ چٹکی۔ سارے کار کنان حکومت بے چینی سے پہلو بدل رہے تھے۔سرکس کا شو جاری رہا۔ دوسرے فنکاروں نے بھی اپنے اپنے آیئٹم پیش کئے۔ جانوروں تک نے حیرت ناک کرتب پیش کئے۔ پھر چست لباس میں پینگوں کے ہلارے لیتے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی آئے۔ انہوں نے نہایت فنکارانہ انداز میں ایک پینگ سے دوسری پینگ تک پہنچنے اور راستے میں قلا بازیاں کھانے کے کرتب دکھائے۔ پھر ان میں وہ مسخرہ بھی شامل ہوا۔ اس نے پینگ کے بہانے کئی الٹی سیدھی قلابازیاں کھایئں اور پھر ہوا میں ہی ایک پینگ سے دوسری پینگ تک پہنچنے کی کوشش میں ناکام رہتے ہوئے گرنے کا مکر کیا اور یوں نیچے بچھے چمڑے کے جال پر جا گرا۔ پھر وہ اٹھا اور مسکراتا ہوا ناظرین کے سامنے کورنش بجا لایا۔ وہ ایک بار پھر رسوں کی سیڑھی پر چڑھا اور پینگ کو ہلارا دینے لگا۔ یہ آیئٹم ذرا مشکل تھا۔کہ پینگیں لینے والے اب نیچے بچھائے گئے جال کے بغیر اپنے کرتب دکھا رہے تھے۔ مسخرے نے بھی اپنے ساتھیوں کی تقلید میں پینگ کو ہلارا دے کر چھوڑتے ہوئے ہوا میں قلابازی لگائی اور پھر نیچے گرنے لگا ۔ اسکے دوسرے ساتھی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ہلارا دینے کی کوشش کی تو مسخرے کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور مسخرہ نیچے آ رہا ۔۔۔۔ فنکار مسخرہ جس وقت نیچے گرا اسی وقت بے حس و حرکت ہو گیا۔اسکی گردن ٹیڑھی  ہو گئی۔ اس کے چہرے کے نقوش بگڑ کر ایک مضحکہ خیز تصویر میں ڈھل گئے کہ سب کی سانسیں رک گیئں اور تبھی بادشاہ اپنی عبا کو جھٹکتا ہوا اٹھا اور فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے بولا

“That’s it That’s it”

 

Be the first to comment

Share your Thoughts: