سلطنت ( شہزادی ) ۔۔۔۔ محمود احمد قاضی

سلطنت

محمود احمد قاضی ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ،شہزادی،کنیز دربان، غلام، مسخرہ، ایلچی، مؤرخ، بہروپیا، مکینک، بازی گر وغیرہ۔


ادارہ پینسلپس کی کوشش ہے کہ، اپنے قاری کے لئے ہر شمارے میں ایک کہانی شامل کی جائے۔

2۔ شہزادی

اس شام جب شہزادی نے محل کی بالکونی کا باریک پردہ ہلکے سے سرکایا تو پہلا انکشاف اسے تب ہوا۔ اس نے دیکھا کہ جہاں نیچے نہر بہتی تھی وہاں سے دو کھیت ادھر ایک ننگ دھڑنگ بچہ اپنی ہی جیسے عمر کی ایک ادھ ڈھکی،ادھ چھپی لڑکی سے کھیل رہا تھا وہ لڑکا لڑکی دونوں ایک دوسرے کو پکڑنے کے لیے بھاگتے جب پکڑ لیتے تو پھر  ایک دوسرے سے اپنے آپ کو چھڑاتےہوئے چھوا چھوائی کا کھیل کھیلنے لگتے۔ پھر اس منظر میں پتہ نہیں کدھر سے ایک مضبوط جسم کا گندمی رنگت والا مرد اور تانبے جیسی رنگت والی دھوتی نا لباس پہنے ایک  عورت نمودار ہوئی۔ مرد نے عورت کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے کھینچتے ہوئے ادھر لے چلا جدھر وہ بچہ اور بچی کھیل رہے تھے وہ دونوں بھی دیکھتے ہی دیکھتے کھیل میں شریک ہو گئے اب وہ چاروں ہنس رہے تھے اور ان کے جسموں کے ہر مسام سے  ہنسی کے فوارے چھوٹ رہے تھے۔

مرد کا کرخت ،عورت کا نرم بچوں کا معصوم قہقہ  جب فضا میں بلبلا سا بن کر تحلیل  ہوتا تو کانوں میں عجیب سے جلترنگ کی نرمیلی گونج پیدا ہوتی۔ اس دوران مرد نے بچے اور بچی کے گالوں کو چومنے کے بعد اچانک ہی عورت کے لبوں کو چوم لیا تو اسکی عورت کی پلکیں حیا کے بوجھ سے نیچی نیچی ہونے لگیں۔  اب مرد نے باری باری بچے اور بچی کو اپنے ہاتھوں میں بھر کر فضا میں اچھالنا شروع کردیا۔ وہ بہت دیر تک ایسا کرتا رہاحتی  کہ سارا اردگرد رات سے اور آسمان ستاروں سے بھر گیا۔

اور اس وقت پیچھے محل میں رات کے کھانے کا کانگ بجایا گیا۔

شہزادی ہولے ہولے قدموں کے ساتھ واپس ہوئی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ آج جو میں نے دیکھا ہے ۔محل میں تو کبھی نہیں ہوا یہاں تو محبت کا پودا کبھی بھی پروان نہیں چڑھتے دیکھا۔ کیا یہاں محبت کوئی ممنوع چیز ہے۔ اس کا باپ اور اس کی ماں جو اس ملک کے بادشاہ اور ملکہ بھی تھے سروں کی ہلکی سی جنبش سے کھانے کی میز پر جہاں وہ آج پہلی مرتبہ محل کے آداب کے خلاف دیر سے پہنچی تھی، اس کا خیرمقدم کیا۔ وہ کھانے کی میز پر بیٹھ تو گئی مگر اس سے آج کھانا نہ کھایا گیا اور وہ کھانے کے نام پر ریت نگلتی رہی۔

ہر رات کو وہ اپنے نرم گرم بستر پر لیٹ کر ایک بے خواب اور بے کیف نیند میں ڈوب جاتی تھی مگر اس رات  اس کی نیند کی سیج رنگ رنگیلے خوابوں سے سج گئی تھی۔  اس بچے اور بچی کے قہقہوں اور اس مرد اور عورت کے بوسے سے لبریز خواب بھری نیند میں خوب جل تھل ہوتی رہی۔  وہ صبح اٹھی تو اس کا جسم بہت ہلکا پھلکااور ہر قسم کی  کسلمندی سے پاک تھا وہ خوش تھی۔ اسکی آنکھوں میں  لال ڈورے تھے اور پنڈے میں ایک اور ہی طرح کی تھرکن۔

مگر ناشتے کی میز پر جب وہ زندگی میں پہلی بار انہماک سے ناشتے سے لپٹ رہی تھی تو بادشاہ کی گونجیلی آواز نے اسکے ہاتھ سے لقمہ چھین لیا۔

“شہزاادی ہمیں اطلاع ملی ہے کہ کل شام آپ جھروکے میں جھانکتی ہوئی پائی گئی تھین۔یہ بات آپ کے مرتبے اور محل کی روایات کے خلاف ہے۔ شاھی خاندان کے زنان خانے کے کسی بھی فرد کا محل کی چاردیواری سے باہر کی چیزوں کو دیکھنا پرکھنا یا ان کے بارے میں سوچنا منع ہے۔ کیوں کہ یہ آپکی پہلی غلطی ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ نے ایسا نادانستگی میں کیا ہے، اس لئے مابدولت آپ کو اس معمولی سی سرزنش کے بعد معاف کرتے ہیں۔  لیکن اگر یہ غلطی دوبارہ کی گئی یا آپ نے  ایسا جان بوجھ کر کیا تو ہم اپنے مقدس اصولوں اور ضابطوں کے مطابق۔۔۔۔۔۔

شہزادی کی زندگی محل کی اسی پرانی روش سے بندھی نیم روشن راہداریوں اونچی اونچی دیواروں کے اندر قید باغوں سنگ مرمر کی چھت کے نیچے اور سونے کے پنجرے میں بند بلبل اور مینا وں کے سنگ بسر ہوتی تھی، ہو رہی تھی، مگر اس کے اندر کچھ تھا۔ کوئی چیز تھی جو کلبلا رہی تھی اور اسے کچھ ایسا کرنے پر اکسا رہی تھی جیسا کہ پہلے کبھی نہ ہوا ہو اور اسی دوران اسے دوسرا انکشاف ہوا اور یہ اس وقت ہوا جب اتفاق سے رات کو پہرے داروں کی نظروں سے بچ کر وہ محل کی غلام گردشوں میں آ نکلی تھی۔ جہاں بھاری زنجیروں میں جکڑے نفوس قید تھے۔ ان پر کوڑے برس رہے تھے اور وہ چیخ رہے تھے۔  ان کے جسموں میں سے خون رس رہا تھا۔

خدا کی پناہ ۔۔۔۔  یہ کون لوگ ہیں اس نے سوچا اور کانپتے جسم کے ساتھ اپنے بستر پر آگری۔ یہ دوسرا انکشاف اسکے ذہنی اور جسمانی نظام کے لئے زیادہ تباہ کن ثابت ہوا۔ وہ بیمار پڑ گئی۔۔۔۔ اس کا معمولی بخار تپ محرقہ میں تبدیل ہوگیا۔ وہ کئی مہینے صاحب فراش رہی۔ اس کی دیکھ بھال اور تیمارداری کے لیے بہت سے ڈاکٹر اور نرسیں موجود تھیں مگر وہ اپنے ماں باپ کے  بوسےکوترستی تھی۔  ۔وہ اسے دیکھنے آتے تو ضرور تھے مگر گفتگو اس سے کم کرتے تھے اور معالجوں کی ٹیم کو‏  تحکمانہ لہجے میں ہدایات زیادہ دیتے تھے۔ اور پھر یہ جا وہ جا۔

ڈاکٹروں کے پینل نے بخار اترنے کے بعد اسکی مسلسل پیلی رنگت کے باعث تجویز کیا کہ اس کے لیےباہر گھمانے پھرانے کا بندوبست کیا جانا ضروری تھا۔  بہت سوچ بچار اور ردوکد کے بعد بادشاہ کی طرف سے اسکے لئے ایک خصوصی سیر کی منظوری دی گئی۔ ایک سپیشل حفاظتی سکواڈ کے نرغے میں  شہزادی کی پالکی چلی۔ اس پالکی میں اس کے ساتھ اسکی ایک خادمہ بھی تھی۔جس کا  کام پالکی کی چلمن کی حفاظت کرنا تھا تاکہ  کہیں اس کا کوئی  کونہ ہوا کی گستاخی کے ہاتھوں مجبور ہوکر شہزادی پر باہر کا کوئی منظروا  نہ کردے اور ۔۔۔۔۔ لیکن ہونی تو ہوکر رہتی ہے اور اس طرح تیسرا انکشاف شہزادی پر اس وقت ہوا جب وہ ایک دیہی علاقے سے گزر رہے تھے اور یہاں کی ہوا زیادہ ہی گستاخ اور شریر ہوتی جا رہی تھی اور چلمن سنبھالنا خادمہ کے لئے دشوار ہورہا تھا کہ اسی اثنا میں شہزادی نے  حکم دیا

” خادمہ ۔۔۔ چلمن کو ڈھیلا چھوڑ دو۔۔۔ ہم باہر دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔”

حکم حاکم مفاجات

اور یوں ایک نیا منظر شہزادی کی زندگی میں داخل ہوا۔

یہ ایک کچی سڑک تھی اس کے کنارے کچھ کچے مکان بھی تھے اور یہیں  اپنے مکان کے باہر بیٹھا ایک شخص چاک پر گیلی مٹی کا تودہ رکھے اسے ڈنڈے سے گھمائے جا رہا تھا۔ اس نوجوان کے بال گھنگھریالے اور ماتھا چمکدار تھا اور اسکے بازووں کی مچھلیاں چاک گھماتے ہوئے پھڑک پھڑک جاتی تھیں۔

جب اس نوجوان کے ہاتھ مٹی کے تودے کو ڈھانپ لیتے تھے تو گہری سوچ کی لکیریں اسکے روشن ماتھے پرجلوہ گر ہوتی دکھائی دیتی تھیں اور پھرچشم زدن میں پیالہ نما چیز چاک کے اوپر سے جدا کرتے دکھائی دیتا تھا۔ شہزادی نے یہ منظر مڑ مڑکر اور آدھے دھڑ سے سے باہر لٹک کر کئی بار دیکھا مگر اس قافلے کی واپسی اتنی خوش آئند نہ تھی اب اسے بادشاہ کی  لال پیلی آنکھوں، ملکہ کی تیوری کے  بل اور اشرافیہ کی مشکوک نگاہوں کا سامنا تھا۔ وہ الزامات کے تیروں میں گھر گئی تھی۔ اب اس کا محل سے باہر جانا موقوف تھا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ باہر جانے اور وہاں کا سب کچھ ایکبار پھر دیکھنے کی متمنی تھی۔ بہت سوچ بچار کے بعد آخر اسنے فیصلہ کرلیا اور تبوہ شام کے جھٹ پٹے میں خادمہ کا  لباس پہن کر اپنا حلیہ تبدیل کرکےمحل کی چاردیواری سے باہر آگئی۔ اسے زندگی میں پہلی بار پیدل چلنے کا اتفاق ہوا تھا وہ تھک تور ہی تھی مگر خوش تھی۔۔۔باہر کی ہوا اور اس میں رچی بسی موتیے اور رات کی رانی کی خوشبو اس کے قدموں کو بے سمت کئے دے رہی تھی۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی چلتی رہی پھر وہ وہاں پہنچ ہی گئی۔

وہ نوجوان اس وقت بھی دیا جلائے چاک گھما  رہا تھا۔ جب وہ اس کے قریب پہنچی تو اس وقت وہ گیلی مٹی کو ایک برتن کی شکل میں ڈھال کر اپنے ہاتھوں میں پکڑے غور سے دیکھے جا رہا تھا۔

” نوجوان۔۔۔ یہ تم نے کیا چیز بنائی ہے ؟ “

اس بی بی کو یوں اپنے سر پر کھڑے پاکروہ نوجوان چونکا۔پھر زیر لب مسکرایا

” معزز خاتون۔۔۔یہ ایک کوزہ ہے۔۔۔”

نہایت نفیس بال کی طرح باریک پہلے سے تیار شدہ اصل مٹی کے کوزے کو شہزادی نے ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا

“اور تم کون ہو”

” میں۔۔۔ ایک کوزہ گر ہوں۔۔۔”

” تم یہ کوزہ کیوں بناتے ہو ؟ “

” کیونکہ یہ میرا پیشہ ہے ۔۔۔ میرے آباؤ اجداد بھی یہی کرتے تھے۔۔۔ ہمارے خاندان کے بنائے ہوئے کوزوں کی نگرنگر شہر شہر دھوم مچی رہتی ہے ۔ان نازک کوزوں میں میرے خاندان کا ہنر اور وقار  پوشیدہ ہے اور مجھے فخر ہے کہ۔۔۔”

شہزادی جوکہ اس وقت ایک خادمہ، ایک معمولی عورت کے بھیس میں تھی، اسکے قریب بیٹھ گئی

اس نے کہا، ” مجھے پیاس لگی ہے”

کوزہ گر اٹھا اور اس نے ایک مٹی کی بنی ہوئی صراحی میں سے پانی ایک نئے نکور کوزے میں بھر کر اسے پیش کیا۔ شہزادی نے پانی پیا تو اسے ایسا لگا کہ یہ  تو کوئی اور ہی طرح کا پانی تھا۔ خوشبو اس پانی سے لپٹی ہوئی تھی۔۔۔ یہ تو اسے آب حیات لگ رہا تھا۔۔۔ اب چونکہ رات بہت نیچے جھک آئی تھی اور دیے  کی مدھم لو بھی اب تیل کے ختم ہونے کا اعلان کر رہی تھی  تو کوزہ گر نے کسی قدر شک بھرے لہجے میں دریافت کیا

“خاتون۔۔۔اس وقت آپکے ادھر آنے کا مقصد میری سمجھ میں نہیں آیا اور پھر آپ اکیلی ہیں ادھر کی لگتی بھی نہیں۔۔۔”

” ہاں میں ادھر کی نہیں۔۔۔ بلکہ کہیں کی بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن اب میں ادھر کی ہونا پسند کروں گی میں یہیں رہ جاؤں تمہارے پاس تو کیا تم مجھے۔۔۔۔”

کوزہ گر لرز کر رہ گیا وہ اٹھ کر ادھر ادھر ٹہلنے لگا وہ گھبراہٹ کا شکار تھا غیر مانوس سی صورتحال تھی

“مگر خاتون۔۔۔۔  بات دراصل یہ ہے کہ۔۔۔” وہ ہکلا رہا تھا

” تم  اگر مگر چھوڑواور میرے لئے روٹی کا بندوبست کرو۔۔۔ میں بھوکی ہوں۔۔۔ ازل سے بھوکی ہوں”

کوزہ گر فورا اس جھونپڑا نما مکان کے اندر دوڑا گیا اور چنگیر میں روٹی اور گڑ لیے واپس ہوا۔

” اس  وقت تو یہی حاضر ہے اور سچی بات تو یہ ہے خاتون کہ عام طور پر یہی کچھ اور اس جیسی غذا ہی  ہم لوگوں کا مقدر ہوا کرتی ہے۔۔۔”

” تو ٹھیک ہے میں کونسی شہزادی ہوں  کہ یہ غذا میرے حلق سے نیچے نہیں اتر سکے گی۔۔۔ تم لاو”

کہنے کو تو یہ بات شہزادی نے بہت آسانی سے کہہ دی تھی مگر اس غذا کو حلق سے نیچے اتارنے میں دقت ہو رہی تھی بہرحال اس  نے گڑکے ساتھ روٹی کھائی، ایک کوزہ بھر پانی پیا اور وہیں سو گئی۔

کوزہ گرحیران تھا اور پریشان بھی تھا۔ وہ  ساری رات عالم اضطراب میں ٹہلتا رہا

صبح کو اس چھوٹی سی بستی کے بڑوں کے سامنے ان دونوں نے ایک دوسرے کو میرا مرد اور میری عورت کہہ کر قبول کرلیا۔ ادھر محل میں کوئی بھونچال تو نہیں آیا تھا مگر پراسرار قسم کی کانا پھوسیوں کا سلسلہ شروع تھا۔ شہزادی کی گمشدگی کا معاملہ اندر ہی اندر دبایا جارہا تھا لیکن ساتھ ساتھ بہت زور شور سے اس کی تلاش بھی جاری تھی۔ گھڑ سوار اور پیادے کئی بار اس کوزہ گروں کی بستی کے پاس سے گزرے لیکن وہ اپنے مرد کے قریب بیٹھی اس مٹی میں مٹی  ہوتی، گیلی مٹی میں  لتھڑی عورت کو نہ پہچان سکے جو کہ کبھی شہزادی کہلاتی تھی۔ اب وہ ایک کوزہ گر کی بیوی تھی

جلد ہی اس بستی میں ایک قسم کا ڈسپلن سا در آیا۔ ہرکام سلیقے اور منصوبے سے ہونے لگا مٹی کے ظروف تیار ہوتے مارکیٹ کی ڈیمانڈ دیکھی جاتی اور تب ان کو ایک جگہ جمع کر کے چھکڑوں کے ذریعے شہر شہر گاؤں گاؤں پہنچایا جانے لگا۔ بستی کے بازار اور گلیاں فراخ ہوگئے نالیوں کا گندا پانی ایک خاص بندوبست کے تحت زیرزمین طریقے سے بستی سے باہر نکالا گیا۔ صاف ستھرے روشن اجلے گھر اجلے لوگ اب اس بستی کی پہچان بن گئے۔ ایک خاص طرزعمل اختیار کرتے ہوئے ساری بستی میں یہاں وہاں ہر جگہ حتی کہ گھروں کے صحنوں تک میں پھول اگائے گئے تھے اور اب یہ پھولوں والی بستی کہلاتی تھی۔ گرمی سردی اور بارشوں کے سنگ زندگی بسر کرتے شہزادی کی رنگت بھی اپنے مرد کی طرح گندمی ہوگئی تھی۔ وہ اب اس  بستی کی دوسری عورتوں کی طرح کی مینڈھیاں بناتی تھی اورسر میں سرسوں کا تیل لگاتی تھی۔ کبھی کبھار وہ کسی تقریب میں جانے کے لئے دوسری بیاہتا عورتوں کی طرح اخروٹ کی چھال سے اپنے ہونٹ رنگ لیا کرتی تھی۔

ہوتے ہوتے اس بستی کے ڈسپلن کارگزاری اور نادر کوزوں کی شہرت نے بادشاہ کے محل میں بھی جا دستک دی۔ وہاں سے بلاوا آ گیا

بستی کی سرداری اب چونکہ ماضی کی شہزادی اور حال کی کمہارن کے مرد کے پاس تھی اسلئے وہ محل  جانے کی تیاری کرنے لگا وہ اپنا روایتی لباس پہنے اور بغل میں ایک نازک سا کوزہ لئے حاضر ہوا تو اس پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ یہ سب کیسے ہوا۔ تم لوگوں کی زندگیوں کا سلیبس کیوں کر بدل گیا۔

یہ سلیقہ ہنرمندی ترتیب اور حقوق کے مسائل کا فلسفہ تمہارے ہاں کہاں سے آگیا ؟

تمہاری جہالت کو تہذیب کے سانچے میں کس نے ڈھالا ؟

تمہارے جھکے ہوئے سر سیدھے کیسے ہوگئے ؟

تمہاری چال کی لڑکھڑاہٹ اور زبان کی لکنت کو کس نے یقین اور بھروسے کا سہارا دیا ؟

بتاؤ بتاؤ

کوزہ گر گھبرا گیا۔ بادشاہ کی ہیبت اور قہر اسکے سامنے تھا۔

” وہ جی ۔۔۔ ایک عورت ہے اس سب کچھ کی وہ ہی ذمہ دار ہے۔ اس نے ہی پہلے میری اور پھر ساری بستی کی تقدیر بدل کر رکھ دی ہے۔ “

وہ عورت کون ہے ؟

” وہ میری بیوی ہے جی۔۔۔”

کیا وہ تم میں سے ہی ہے ؟

” پہلے تو نہیں تھی مگر اب ہے جی۔۔۔”

حکم ہوا

اس عورت کو کل ہمارے حضور پیش کیا جائے

دوسرے دن عورت پیش ہوئی

اے عورت بتا تونے یہ سب کچھ کیوں کیا  ؟مملکت کے اندر دوسری مملکت، فلاح کے نام پر بغاوت ، تمہارے پاس اس کا کوئی جواز ہے ؟

” ہاں ہے۔۔۔  کیونکہ یہ سرزمین انسانوں کے لئے ہے اور رب عظیم کے نزدیک

تمام انسان برابر ہیں اس لئے ۔۔۔”

 تو یوں تم باغی ہونے کا اقرار کر رہی ہو۔۔۔

” اگر اس محل کے قوانین میں یہی درج ہے تو ایسا ہی سہی۔۔۔۔ مجھے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں۔

فوری طور پر اس عورت کو قید میں ڈال دیا گیا اور بوجوہ مقدمے کی کاروائی چند دنوں کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

یہ بڑے عجیب دن رات تھے مملکت میں چپ چھائی ہوئی تھی بادشاہ کرب میں تھا کیونکہ وہ اس عورت کی اصلیت کو پہچان گیا تھا ملکہ بھی جانتی تھی کہ وہ اس کی بیٹی ہے مگر اب وہ ان کے سامنے ایک کوزہ گر کی بیوی اور حکومت کی باغی کی شکل میں سامنے آئی تھی۔ ملکہ، وزراء اور مصاحب سب توقع کرتے تھے کہ بادشاہ بہرحال اپنی بیٹی ہونے کے ناطے اسے معاف کر دے گا مگربادشاہ نے اپنے نام نہاد اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے فیصلے کے  دن کہا، ” یہ عورت غدار ہے”

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.