کرسیاں بننے والی ۔۔۔ موپساں

Henri René Albert Guy de Maupassant. Was a French writer and is remembered as a master of short story form and as a representative of the naturalist school of writers, who depicted human lives and destinies and social forces in disillusioned and often pessimistic terms.

 

کرسیاں بننے والی

تحریر: موپاساں

ترجمہ: ڈاکٹر کوثر محمود

’بیغ تغاں ‘کے نواب صاحب کے ہاں شکار کے موسم کے آغاز پر افتتاحی ڈنر ختم ہونے کے قریب تھا۔ گیارہ شکاری، آٹھ (بھرپور) جوان خواتین اور علاقے کے ڈاکٹر صاحب ایک بڑی سی میز کے گرد بیٹھے ہوئے تھے جو روشن ( موم بتیوں ) پھلوں اور پھولوں سے بھری ہوئی تھی۔

با توں با توں میں وہ محبت کے موضوع پر آ گئے اور پھر یہ جاننے کے لئے ایک عظیم الشان اور لافانی بحث شروع ہو گئی کہ ’’کیا انسان ایک ہی مرتبہ سچی محبت کرتا ہے یا بارہا ایسا کر سکتا ہے۔ ‘‘۔۔ ۔ اُن لوگوں کی مثالیں دی گئیں کہ جنہوں نے زندگی میں صرف ایک ہی سنجیدہ محبت کی اور اُن کا بھی تذکرہ ہوا کہ جنہوں نے بڑی شدت کے ساتھ کئی مرتبہ محبت کی۔ مرد حضرات عموماً اس نکتۂ نظر کے حامی تھے کہ یہ جذبہ بھی ( مختلف) بیماریوں کی طرح ایک ہی شخص پر بارہا حملہ آور ہو سکتا ہے اور اگراس کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے تو مہلک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نکتۂ نظر ایک سنجیدہ بحث کا متقاضی تھا لیکن خواتین کہ جن کی رائے مشاہدے سے زیادہ شاعری پر مبنی تھی، بڑی شد و مد سے کہہ رہی تھیں کہ محبت، سچی محبت، عالی شان محبت ایک فانی انسان پر ایک ہی مرتبہ اُترتی ہے۔ یہ محبت آسمانی بجلی کی طرح ہے ایک بار جس دل پر گرے نہ صرف اُسے بالکل خالی اور پامال کر دیتی ہے بلکہ اُسے یوں راکھ بنا دیتی ہے کہ کوئی اور طاقتور خیال، سوچ اور حتیٰ کہ کوئی خواب بھی وہاں دوبارہ نمو نہیں پا سکتا۔

نواب صاحب جو خود محبت کا کھیل کئی مرتبہ کھیل چُکے تھے اس عقیدے کو سختی سے رد کر رہے تھے۔ گویا ہوئے،

’’میں آپ سے کہتا ہوں کہ انسان ایک سی شدت اور روح کی گہرائیوں کے ساتھ بار بار محبت کر سکتا ہے۔ آپ نے مجھے دوسری محبت کے نا ممکن ہونے کے حق میں بطورِ ثبوت اُن لوگوں کی مثالیں دیں کہ جنہوں نے عشق میں خود کشی کر کے اپنی زندگی کو ختم کر لیا تھا۔ اس کے جواب میں میں یہ کہوں گا کہ اگر وہ خود کشی کرنے کی حماقت نہ کرتے کہ جس نے اعادے کے تمام تر امکانات کو ختم کر دیا تھا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ انہوں نے اس عارضے سے بچ نکلنا تھا اور اپنی طبعی موت تک یہی کچھ کرتے رہنا تھا۔ یہ عاشق لوگ(نشے میں دھت) شرابیوں کی طرح ہوتے ہیں ؛جس نے ایک مرتبہ ( شراب) پی وہ پھر پیئے گا، جس نے ایک مرتبہ محبت کی وہ بار بار کرتا رہے گا؛ یہ ایک (انسان کے اپنے ) مزاج کا معاملہ ہے۔ ‘‘

(بحث کے طول پکڑنے پر) انہوں نے عمر رسیدہ ڈاکٹر صاحب سے جو پیرس سے ریٹائر ہو کر مضافات میں آن بسے تھے، اس قضیے میں اپنی رائے دینے کی درخواست کی۔

اُن کی کوئی واضح رائے نہ تھی لیکن وہ بولے ؛

’’جیسا کہ نواب صاحب نے کہا کہ یہ انسان کے اپنے مزاج کا معاملہ ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے ایک جذباتی رومان کا علم ہے جو پورے پچپن سال تک چلا، اس میں ایک دن بھی پچھتاوے کا نہ تھا اور یہ سلسلہ صرف موت کے ہاتھوں ختم ہوا۔ ‘‘

نواب صاحب کی بیگم نے (خوشی سے ) تالیاں بجائیں ( اور کہا) ؛

’’ واہ!۔۔ ۔ اس طرح چاہے جانا کتنا خوابناک لگتا ہے پچپن سال تک یوں جینا کہ ایک شدید تر سر خوشی اور دل میں اُتر جانے والی محبت آپ کے گرد ہالہ کیے ہوئے ہے۔۔ ۔ اِس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہو گی ! کتنی خوش (نصیب) اور مبارک ہو گئی وہ (عورت) جسے یوں چاہا جائے !‘‘

ڈاکٹر صاحب مسکرائے، ’’ در حقیقت، مادام۔ اِس بات کو مت بھولیے کہ (اِس قصے میں ) محبوب ایک مرد ہے اور آپ اُسے جانتی بھی ہیں۔۔ ۔ (وہی)۔۔ ۔ نواحی بستی کے دواساز /فارماسسٹ، ’موسیو شُو کے ‘اور آپ اُس عورت کو بھی جانتی ہیں، وہ کرسیاں بننے والی بوڑھی عورت، جو سال کے سال ( کرسیوں کی بیٹھی ہوئی گدیوں کو دوبارہ بھرنے اور مرمت وغیرہ کرنے کیلئے ) (آپکی) حویلی میں آیا کرتی تھی۔۔ ۔ میں ذرا وضاحت کرتا ہوں۔۔ ۔ ‘‘

خواتین کا جوش و خروش ماند پڑ چکا تھا اور اُن کے چہروں پر ناگواری عیاں تھی۔۔ ۔ ’’ہونہہ‘‘ گویا محبت صرف خواص اور شائستہ اطوار لوگوں کو ہو سکتی تھی اور صرف اُنہی کے شایانِ شان تھی۔ غریب غرباء کی محبت سے انہیں کوئی دلچسپی نہ تھی۔

ڈاکٹر صاحب دوبارہ گویا ہوئے، ’’ قریباً تین ماہ ہوئے مجھے اُس بوڑھی عورت کو بسترِ مرگ پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہ بڑھیا ( میرے ہاں ) ایک گھوڑا گاڑی میں آئی تھی، وہی اُس کا گھر تھا اور اُسے ایک مریل سا ٹٹو کھینچ رہا تھا۔ اُس کے ساتھ دو بڑے بڑے سیاہ رنگ کے کتے بھی تھے جو اُس کے دوست اور محافظ تھے۔ جناب پادری صاحب بھی وہاں پہلے سے موجود تھے۔ اُس(عورت)نے ہمیں حلفاً کارِ مختار مقرر کیا اور اپنی آخری وصیت کی حقیقتِ حال کو سمجھانے کے لئے اپنی ساری زندگی ہمارے سامنے کھول کر رکھ دی۔ میرے علم میں اس سے زیادہ منفرد اور دل خراش داستان کوئی اور نہیں۔ ‘‘

اُس کے ماں باپ دونوں (گھوم پھر کے ) کرسیاں بننے اور مرمت کا کام کرتے تھے سو اُن کا کوئی مستقل گھر نہ تھا۔

جب وہ چھوٹی سی تھی تو بے ترتیب(بالوں کے ساتھ)، گندے مندے چیتھڑوں میں ملبوس ادھر ادھر گھومتی رہتی۔ وہ گاؤں کے داخلی راستے پر رُکتے اور گاڑی سے گھوڑے کو کھول دیتے جو یہاں وہاں چرتا رہتا۔ کتا اپنی تھوتھنی پنجوں پر رکھے اُونگھتا رہتا اور وہ چھوٹی (سی لڑکی) لمبی لمبی گھاس میں بھاگتی پھرتی جبکہ (اُس کے ) ماں باپ راستے کے کنارے لگے دیوداروں کے سائے میں گاؤں بھر کی کرسیوں کی پرانی گدیوں کو پھر سے نیا بنانے میں مصروف رہتے وہ اپنے اس کھلے ٹھکانے میں بمشکل ہی کوئی بات کرتے۔ چند ضروری الفاظ کے تبادلے کے بعد وہ فیصلہ کرتے کہ کون گاؤں کے گھروں میں جا کر جانی پہچانی صدا لگائے گا، ’’کُرسیاں مرمت کرالو‘‘ پھر وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے یا پہلو بہ پہلو بیٹھ کر پیال کی رسیاں بٹنے لگ جاتے۔ جب وہ (کھیلتے کھیلتے ) دور چلی جاتی یا گاؤں کے کسی آوارہ لونڈے کے ساتھ ملنے جُلنے لگتی تو اُس کے باپ کی غصے بھری آواز اُسے بُلاتی، ’’ ادھر مر، واپس آ کمینی‘‘ صرف یہی ’’ نرم و ملائم‘‘ الفاظ تھے کہ جو اُس کے کانوں میں پڑتے تھے۔

جب وہ کافی بڑی ہو گئی تو اُس کے ماں باپ نے اُسے خستہ حال کرسیوں کی گدیوں کی مرمت کی اُجرت وصول کرنے کے لیے گھروں میں بھیجنا شروع کر دیا۔ یوں اُس کی گاؤں کے لڑکوں کے ساتھ جان پہچان (شروع) ہو گئی مگر اُس کے نئے دوستوں کے والدین اپنے بچوں کو غُرّا کر کہتے۔ ’’ادھر مرو بدمعاشو! تم اس پھٹیچر اور بدحال لڑکی سے باتیں کرتے ہو۔ ‘‘

اکثر چھوٹے بچے اُس پر پھتر پھینکنے سے بھی نہ چُوکتے۔

(رحمدل) عورتیں (کبھی کبھار اُجرت کے علاوہ) چند تانبے کے چھوٹے سکے بھی دے دیتی جنہیں وہ احتیاط سے علیحدہ رکھ لیتی۔

جب وہ گیارہ برس کی ہوئی تو ایک دن اُس کا سامنا گاؤں کے قبرستان کے پچھواڑے میں چھوٹے ’شُو کے ‘ سے ہو گیا جو مسلسل روئے چلا جا رہا تھا۔ اُس کے ایک دوست نے اُس کی دو چونیاں *۲ چُرا لی تھیں۔ اُس چھوٹے سے شہری بابو کے آنسو اُس سے دیکھے نہ گئے اور ایسے ہی کسی شہری بابو کا تصور اُس غریب کی کھوپڑی میں (بسا ہوا) تھا، وہ جو ہمیشہ مطمئن اور خوش رہا کرتی تھی لیکن ( اُس لڑکے کے آنسوؤں نے اُس کے دل میں ) ہلچل مچا دی۔

وہ اُس کے قریب گئی اور جب اُس کے دُکھ کا سبب معلوم ہوا تو اُس نے اپنی ساری جمع پونچی جو کَل سات آنے * ۳ تھی اُس کی ہتھیلیوں پر رکھ دی جسے شو کے نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بلا تکلف قبول کر لیا۔ اُس لڑکی نے خوشی سے پاگل ہو کر اُسے گلے لگا کر چومنے کی جرأت کر ڈالی۔ وہ چونکہ سکے گننے میں مصروف تھا سو اُس نے اُسے ایسا کرنے دیا۔ اُس کی طرف سے کوئی مزاحمت نہ پا کر اُس نے اُسے اپنے بازوؤں میں لے کر جی بھر کر پیار کیا، پھر وہ (وہاں سے ) بھاگ گئی۔

(اللہ جانے ) اُس بیچاری کے سر میں کیا سمایا؟ اُس کا دل اُس چھوکرے کے ساتھ کیوں لگ گیا؟ کیا اس لیے کہ اُس نے اپنی خانہ بدوشی کی کمی اُس کی نذر کر دی تھی یا اِس لیے کہ اُس نے اپنا پہلا مکمل بوسہ اُسے دان کیا تھا؟ یہ معاملہ چھوٹوں بڑوں کے لیے یکساں اَسرار کا حامل ہے۔

اُس لڑکی نے کئی مہینوں تک قبرستان کے پچھواڑے کی اُس نکڑ اور اُس لڑکے کو اپنے خوابوں میں بسائے رکھا۔ اُسے دوبارہ دیکھنے کی اُمید میں اپنے والدین کی اُجرت سے بھی پیسہ دو پیسہ ادھر اُدھر کرنے لگی اور گھر کا سودا سلف خریدنے میں بھی دوچار پیسے مار لیتی۔

وہ جب اُس چھوٹے فارماسسٹ سے دوبارہ ملی تو اُس کی جیب میں دو فرانک کی (غیر معمولی) رقم تھی لیکن وہ اُسے بمشکل ہی دیکھ پائی۔ وہ اُس کے والد کی دوکان کے کاؤنٹر پر رکھے ایک سرخ رنگ کے مرتبان اور ایک فیتہ نما کیڑے *۴ (والے مرتبان) کے درمیان سے دکھائی دینے والی اُس کی ایک جھلک سے ہی خوش ہو گئی۔ وہ بے حد صاف ستھرا لگ رہا تھا۔

وہ ( مرتبانوں میں ) مختلف رنگوں کی دواؤں اور دوا فروشی کے شفاف پیمانوں کی چمک دمک کے سحر میں گرفتار ہو گئی۔ اُس کے دل میں محبت کے سوتے اُبلنے لگے اور وہ اس جذبے کی شدت سے وجد میں آ گئی اور اُس کی انمٹ یاد کو دل سے لگائے رکھا۔

جب وہ اُسے اگلے برس ملی تو وہ (گاؤں کے ) سکول کے عقب میں اپنے دوستوں کے ساتھ کنچے کھیلنے میں مصروف تھا۔ اُس نے لپک کر اُسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور اُسے اِس شدت سے چومنے لگی کہ وہ ڈر کے مارے چلّانے لگا۔ پھر اُسے چپ کرانے کے لیے اپنی تمام رقم جو تین فرانک اور بیس ( سُو) تھی اُسے دے دی۔ اُس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں یہ واقعی اُس کے لیے ایک بہت بڑا ’’خزانہ‘‘ تھا اُس نے وہ رقم رکھ لی اور اُسے اپنی من مانی کرنے دیتا کہ وہ اُسے جتنا چاہے چوم سکے۔

اگلے چار سال تک وہ اپنا تمام اندوختہ اُس کے ہاتھ پر رکھتی رہی جسے وہ اپنی مرضی سے دیئے جانے والے بوسوں کا معاوضہ جان کر اپنی جیب میں ڈال لیتا۔ ایک مرتبہ تین (تانبے کے سُو تھے ایک مرتبہ دو (طلائی) فرانک اور ایک دفعہ بارہ سکے اور اُس مرتبہ تو وہ دُکھ اور مہجوری سے رو دی تھی کیونکہ وہ سال کڑکی کا تھا۔ آخری بار پانچ فرانک کا ایک بڑا گول سکہ جسے دیکھ کر وہ بڑے مطمئن انداز سے مسکرا دیا تھا۔

وہ صرف اُس کے خیال میں رہتی اور وہ بھی ایک خاص بے چینی کے ساتھ اُس کی آمد کا منتظر رہتا۔ اُسے دیکھتے ہی وہ اُس کی طرف لپک کر جاتا اور اُس بے چاری کا دل (بلیوں) اچھلنے لگتا۔

پھر وہ (اچانک ) غائب ہو گیا۔ اُس نے بڑی چالاکی سے یہ بات معلوم کر لی کہ اُسے کالج میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ اس کے بعد تو اُس نے کیا کیا جتن نہ کئے تاکہ اُس کے ماں باپ گاؤں کا (سالانہ)پھیرا اُس وقت لگائیں کہ جب (سکول، کالج) میں چھٹیاں ہوں وہ سارا سال مختلف حیلے بہانوں میں لگی رہی اور بالآخر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی لیکن پورے دو سال تک اُسے دیکھنے سے محروم رہی تھی اور جب دوسال بعد اسے دیکھا تو وہ اُسے بمشکل پہچان پائی۔ وہ بالکل تبدیل ہو چُکا تھا، (اُس کا قد) اور لمبا ہو چُکا تھا، وہ اور زیادہ خوبصورت ہو گیا تھا اور اُس کی قمیض پر سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ وہ اُس کے پاس سے تفاخرانہ گزرا یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اُس نے اُسے نہیں دیکھا۔

وہ اِس بات پر دو دن تک روتی رہی اور اُس دن سے اُسے (ایک)مسلسل روگ لگ گیا۔ وہ (یونہی) ہر سال آتی اور اُس کے سامنے سے گزرتے ہوئے اُسے سلام تک کرنے کی ہمت نہ کر پاتی اور اُسے بھی توفیق نہ ہوتی کہ وہ اُس پر از راہِ کرم ایک نظر ہی ڈال لے وہ اُسے ٹوٹ کر چاہتی رہی۔ اُس نے مجھے بتایا، ’’ یہ واحد مرد ہے جسے میں نے روئے ارض پر دیکھا ہے، جناب ڈاکٹر صاحب مجھے علم نہیں کہ اور مرد بھی اس دنیا میں موجود ہیں یا نہیں۔ ‘‘

اُس کے والدین فوت ہو گئے تو اُس نے اُن کا کام سنبھال لیا لیکن اُس نے ایک کے بجائے دو کُتے رکھ لیے، دو خوفناک کتے کہ جن کا مقابلہ کرنا مشکل تھا۔

ایک دن اُس گاؤں سے لوٹتے ہوئے کہ جہاں اُس کا دل اٹکا ہوا تھا، ایک نوجوان عورت کو دیکھا جو اُس کے محبوب ’شُو کے ‘کی بانہوں میں بانہیں ڈالے اُس کی دوکان سے نکل رہی تھی۔ وہ اُس کی بیوی تھی(اور) اُس کی شادی ہو چکی تھی۔

اُسی شام اُس نے یونین کونسل کے دفتر کے پاس ( گہرے ) تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ ایک دیر سے گھر آتے ہوئے شرابی نے اُسے ڈوبنے سے بچا لیا اور اُسے نیم بے ہوشی کی حالت میں میڈیکل سٹور تک لے گیا۔ ’شُو کے ‘ لباسِ شب خوابی میں نیچے اُترا۔ اُس نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ وہ اُسے پہچانتا ہے اُس نے ابتدائی طبی امداد کیلئے اس کے (گیلے ) کپڑے اُتارے اور (اُس کے سینے پر بام کی ) مالش کی پھر (اُسے ہوش آنے پر ) اُس نے ایک تحکمانہ آواز میں کہا، ’’ تم پاگل تو نہیں ہو گئیں ؟ اس طرح کی حماقت نہیں کیا کرتے۔ ‘‘

اُس کے زخمی دل پر مرہم رکھنے کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اُس سے مخاطب ہوا تھا۔ وہ (اسی بات سے ) بہت دنوں تک شاداں و فرحاں رہی۔

( ’شُو کے ‘) اِس علاج معالجے کا کوئی معاوضہ لینے کو تیار نہ تھا لیکن اُس نے ادائیگی پر شدت سے اصرار کیا۔

اُس کی تمام زندگی ایسے ہی گزری۔ وہ کرسیاں بنتے ہوئے ’شُو کے ‘ کے بارے میں سوچتی رہتی۔ ہر سال وہ اُسے (دوکان کے ) شیشوں کے پار بیٹھا ہوا دیکھتی۔ اُس نے ’ شُو کے ‘ کے میڈیکل سٹور سے چھوٹی موٹی دوائیں خریدنے کی عادت سی بنا لی۔ اس بہانے (نہ صرف) وہ اُسے قریب سے دیکھ سکتی تھی بلکہ بات بھی کر سکتی تھی اور ہاں، اُسے پیسے بھی دے سکتی تھی۔

جیسا کہ میں نے شروع میں آپ کو بتایا کہ وہ اس موسمِ بہار کے آغاز میں مر گئی لیکن (اِس سے پہلے ) اُس نے اپنی اُداس کر دینے والی کہانی سُنانے کے بعد مجھے سے درخواست کی کہ میں اُس کی زندگی بھر کی جمع پونچی اُس کے محبوب کے حوالے کر دوں کہ جسے اُس نے دل و جان سے چاہا تھا۔ اُس نے بتایا کہ وہ صرف اُسی کے لیے کام کرتی تھی اور زیادہ بچت کرنے کے لیے فاقے بھی کر لیتی۔ اُسے یقینِ کامل تھا کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ تو اُسے یاد کرے گا، اُسے کے مرنے کے بعد ہی سہی۔ ‘‘

اُس نے مبلغ دو ہزار تین سو ستائیس فرانک میرے حوالے کیے۔ میں نے ستائیں فرانک جناب پادری صاحب کو کفن دفن کے اخراجات کیلئے دے دیے اور باقی رقم میں نے اپنے پاس رکھ لیتا کہ اُس کے آخری سانس لینے کے بعد میں ’ شُو کے ‘ کے حوالے کر سکوں۔ اگلے دن میں ’ شُو کے ‘ کے گھر گیا۔ وہ اور اُس کی موٹی تازی بیوی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، اُنہوں نے ناشتہ ابھی ختم ہی کیا تھا۔ (اُن کے گھر میں )دواؤں کی بُو پھیلی ہوئی تھی اور وہ آسودہ اور مطمئن لگ رہے تھے۔

انہوں نے مجھے بٹھایا اور ایک جامِ کرش*۵کا عنایت کیا جسے میں نے شُکریے کے ساتھ قبول کیا پھر میں نے بھرّائی ہوئی آواز میں مدعا بیان کرنا شروع کیا مجھے یہ گمان تھا کہ شاید وہ رو پڑیں گے۔

جُونہی اُسے (یہ)معلوم ہوا کہ وہ خانہ بدوش لڑکی اُسے اپنے خوابوں میں بسائے ہوئے تھی تو ’ شُو کے ‘ غیظ و غضب سے اُچھل پڑا کہ جیسے کسی نے اُس کی ساکھ اور عزتِ نفس پر حملہ کیا ہو، وہ عزتِ نفس جو اُس کی اپنی جان سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔

اُس کی بیوی بھی اُتنی ہی مشتعل تھی جتنا کہ وہ خود تھا اور مسلسل کہے جا رہی تھی ’’وہ سؤرنی۔۔ ۔ وہ سؤرنی۔۔ ۔ وہ سؤرنی۔۔ ۔ ‘‘ (ان الفاظ کے ) علاوہ اُس کے منہ سے کچھ نہ نکلتا تھا۔

وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور میز کے گرد لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے ٹہلنے لگا۔ اُس کی یونانی ٹوپی کا چھجہ ایک کان کی طرف ڈھلکا ہوا تھا۔ وہ بُڑبڑا رہا تھا، ’’ دیکھئے ڈاکٹر صاحب! ایک (معزز) آدمی کے لیے اس طرح کی باتیں کتنی خوفناک ہیں، لیکن کیا کیا جائے ؟ اگر یہ بات مجھے اُس کی زندگی میں معلوم ہو جاتی تو میں اُسے پولیس کے ذریعے جیل میں ڈلوا دیتا جہاں سے وہ مرتے دم تک نہ نکل سکتی۔ ‘‘

میں اپنی اس نیک مہم کے نتائج پر حیران ہو رہا تھا۔ مجھے کچھ نہ سوجھ رہا تھا کہ کیا کہنا ہے اور کیا کرنا ہے لیکن مجھے اپنے کام کو بہر حال انجام تک پہچانا تھا میں دوبارہ گویا ہوا؛

’’ مرحومہ نے مجھے یہ کام سونپا ہے کہ اُس کی تمام جمع پونجی جو مبلغ دو ہزار تین سو فرانک ہے تم تک پہنچا دوں لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ یہ بات تم لوگوں کو سخت ناگوار گزری ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ یہ رقم غریب غرباء کو دے دی جائے ؟‘‘

وہ دونوں میاں بیوی مبہوت ہو کر میری طرف دیکھنے لگے میں نے اپنی جیب سے اُس خستہ حال کی (مذکورہ) رقم نکالی جو اُس نے گاؤں گاؤں گھوم کر جمع کی تھی جس میں کچھ سونے کے سکّے تھے، کچھ چاندی کے اور کچھ تانبے کے سکے ملے جُلے تھے پھر میں نے اُن سے پوچھا۔ ’’ آپ لوگوں کا کیا فیصلہ ہے ؟‘‘

شُوکے خجالت اور شرمندگی سے گول مول الفاظ میں بولا،

’’ہم اس سے اپنے بچوں کے لیے کچھ خرید سکتے ہیں۔ ‘‘

میں نے خشک لہجے میں کہا،

’’جیسی تمہاری مرضی‘‘

اُس نے پھر کہا،

’’ ٹھیک ہے اُس نے جو ذمہ داری آپ کے سپرد کی ہے آپ اُسے پورا کریں ہم کسی نیک کام کیلئے اس کا بہتر مصرف تلاش کر لیں گے۔ ‘‘

میں نے رقم اُن کے حوالے کی، سلام کیا اور واپس چلا آیا۔

اگلی صبح شُوکے مجھے تلاش کرتا ہوا آیا اور چھوٹتے ہی بولا،

’’اُس۔۔ ۔ اُس عورت کی ایک گھوڑا گاڑی بھی تھی۔ آپ نے اُس کا کیا کیا؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ (وہ) کھڑی ہے، لے جاؤ۔ ‘‘

’’ ٹھیک ہے۔ مجھے اس کی ضرورت ہے میں اِس (کی لکڑی) سے اپنے باغیچے کے لیے ایک کیبن بناؤں گا۔ ‘‘

وہ واپس جانے کے لیے مُڑا، تو میں نے اُسے (پیچھے سے ) آواز دی،

’’ اُس عورت نے ( وراثت میں ) ایک ناکارہ گھوڑا اور دو کتے بھی چھوڑے ہیں۔ کیا تم اُن کو بھی لے جانا پسند کرو گے ؟‘‘

وہ حیران ہو کر رُک گیا اور بولا، ’’نہیں تو۔۔ ۔ مثلاً آپ کیا چاہتے ہیں۔۔ ۔ میں انہیں لے کر کیا کروں گا؟ آپ جیسے چاہیں انہیں ٹھکانے لگا سکتے ہیں ‘‘ اور وہ ہنس رہا تھا پھر اُس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا میں نے اُسے سے ہاتھ ملایا۔ ’’آپ کی کیا مرضی ہے جناب! ایک ہی مقام پر ڈاکٹر اور فارمسسٹ کو آپس میں شکر رنجی نہیں رکھنی چاہئیے۔ ‘‘

میں نے ( دونوں ) کتوں کو اپنے گھر رکھ لیا ہے، پادری صاحب کا صحن کافی بڑا تھا وہ گھوڑے کو لے گئے اور گھوڑا گاڑی کا شُوکے نے کیبن بنا لیا اور اُس رقم سے اُس محکمہ ریلوے کے پانچ حصص خرید لیے۔

میری تمام زندگی میں صرف یہ ایک شدید محبت کی داستان تھی جو میرے علم میں آئی۔

ڈاکٹر صاحب خاموش ہو گئے ۔

نواب صاحب کی بیگم کی آنکھوں میں آنسو (تیر رہے ) تھے۔ انہوں نے ایک آہ بھری اور کہا، ’’ یقیناً صرف عورتیں ہی محبت کر سکتی ہیں۔ ‘‘

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.