سلطنت ( بہروپیا ) ۔۔۔ محمود احمد قاضی

سلطنت

محمود احمد قاضی ایک کہنہ مشق اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ، دربان، غلام، مسخرہ، ایلچی، مؤرخ، بہروپیا، مکینک، بازی گر وغیرہ۔


ادارہ پینسلپس کی کوشش ہے کہ، اپنے قاری کے لئے ہر شمارے میں ایک کہانی شامل کی جائے۔

بہروپیا

یہ شہر چونکہ راتوں کو دیر تک جاگتا تھا اس لئے صبح دیر سے جاگنے کا عادی تھا۔۔ آبادی دن بدن بڑھ رہی تھی ایک غیر محسوس طریقے سے سبک قدمی سے شہر کی کایا کلبپ ہو رہی تھی۔ اقدار بدل رہی تھیں۔ شہر اپنے پرانے پن سے چھٹکارا حاصل کرکے نئی حقیقتوں کو گلے لگا رہا تھا۔ شہر کو اپنے وجود کو قرار رکھنے کے لئے ایک نئے میک کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ اس تغییراتی نبات کے باوجود شہر کا کوئی کوئی حصہ اب بھی  اپنے کلاسیکل ماحول اور اپنی  اصلی والی وہی پرانی ڈگر  یا شکل کو برقرار رکھنے کی ضد کئے جا رہا تھا۔ شہر کے ایک ایسے ہی علاقے کے ماحول کا پروردہ وہ شہر کا شاید سب سے سست الوجود بندہ تھا۔ وہ بچپن سے ہی ایسا تھا۔ ماں جگاتی۔  اٹھو سکول کا وقت ہو گیا ہے۔ وہ جواب دئے بغیر آنکھیں موندے پڑا رہتا۔ جب اٹھتا تو اس وقت تک سکول کی گھنٹی بجے دیر ہو چکی ہوتی تھی۔ وہ نہ جاتا اگلے دن جلدی اٹھنے کے وعدے کے ساتھ ہی میں اپنے ہی جیسے نکمے سکولیوں ہمجولیوں کے ساتھ بلا گولی کھیلنے میں لگ جاتا۔ کتاب اور سکول سے اس کا رشتہ نہ بن سکا۔ ماں روتی بسورتی  منتیں  کرتی۔ وہ کہتا۔ ماں ماسٹروں کی باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔ وہ جو بولیاں بولتے ہیں میرے پلے نہیں پڑتی۔ ماں سر پیٹ کر رہ جاتی۔۔ اس کے ڈھیٹ پن سے تنگ آکر مان نے اسے سکول جانے کے لیے کہنا ہی چھوڑ دیا پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے وہ گول گپے بنانے لگی۔۔ وہ بازار جاتا اور بیچ آتا تھا وہ پٹھورے اور پیٹھی کے لڈو بنا کے دیتی یہ بڑی مہارت اور ہوشیاری سے بیچ آتا۔۔ پورے کے پورے پیسے لاکر ماں کی ہتھیلی پر رکھ دیتا۔ کبھی کبھی خوش ہو کر ماں اسے اک دونی یا چونی  دیتی۔ وہ سکے پر بنے چاند تارے کو غور سے دیکھتا اور پھر اسے خرچ کئے  بغیر ایک پوشیدہ جگہ پر رکھ دیتا۔ اسے پیسے خرچ کرنے کی بازار  کی چیزیں کھانے کی لت ہی نہ پڑی۔دوسروں کو مختلف اشیائے خوردونوش پر جھپٹتے دیکھ کر بھی اس کی رال نہیں ٹپکتی تھی۔ وہ زندہ رہنے کے لیے ماں کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاتا۔ خوش رہتا۔ وہ اپنے محلے اور گلی میں ہمیشہ خوش رہنے والے خوش باش بچے کے طور پر مشہور تھا۔ ماں کو باہر سے اس کی ذات کے حوالے سے کبھی کوئی شکایت نہیں ملی تھی۔ اس کو قلق تھا تو صرف اس بات کا کہ اکلوتا بچہ جس کے سر سے اس کے باپ کا سایہ صرف ایک سال کی عمر میں اٹھ چکا تھا  تعلیم حاصل نہ کر سکا تھا۔ لوگوں کے ہجوم میں چکراتے پھرتے پھراتےوہ اتنا سیانا ضرور ہو گیا تھا کہ پچاس تک کی گنتی یا اسکا حساب کر لیتا تھا اور اپنا نام لکھ اور پڑھ لیتا تھا۔ گھر میں جب وہ فارغ بیٹھا ہوتا ، کرنے کوکچھ نہ ہوتا تو ایک  دیوار سے ٹنگے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر منہ کے  مختلف قسم کے زاویے بناتا رہتا۔ کوئی چادر لیتا اور اسے پگڑی کی صورت میں سر پر باندھ لیتا۔ اوپر والے ہونٹ پر کالی روشنائی سے مونچھیں بناتا۔ کبھی لوہار بنتا اور کبھی ترکھان۔کسی دن جمعدار بن جاتا اور منہ سے کو کو کی آواز نکال کر ریلوے انجن کا روپ دھار لیتا۔

وہ سکول میں تو نہ پڑھ سکا لیکن اسے لوگوں کو پڑھنے کا شوق لاحق ہوگیا۔ وہ ان کے چہروں مہروں کے تاثرات چلنے پھرنے کے انداز۔ ان کی آوازوں کے اتارچڑھاؤ کی کامیاب نقل کرتا ذرا بڑا ہوا تو اس نے اپنے جمع کیے ہوئے پیسوں کی بدولت تھیئٹر میں جانا شروع کر دیا۔ وہ سٹیج کے اداکاروں کے لیے میک اپ کے طریقے کو گہری نظر سے دیکھتا اور گھر آ کر  ان کی اداکاری کے طربیہ ، حزنیہ  اور طنزیہ انداز سب کی خوب خوب نقل اور مشق کرتا۔ داڑھی مونچھیں آنے تک وہ ایک لحاظ سے ہر طرح کا بہروپ بھرنے کے قابل ہو چکا تھا۔ بہت سارے دنوں اور راتوں کی محنت شاقہ  کے بعد  اور استادوں کے فن سے چرائی ہوئی فنی  پختگی حاصل کرنے کے بعد ایک دن  وہ ایک ملنگ کا روپ دھار کر شہر میں نکل پڑا۔ اس کی کلائیوں میں لوہے کے کڑے تھے ہاتھ میں لمبا سا چمٹا تھا گلے میں اس نے کانچ سے بنے منکوں کی گئی مالایئں  پہن رکھی تھیں۔ اس کا جسم ایک گیروے رنگ کے لمبے چوغے سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس کے سر پر مصنوعی بالوں بلکہ لٹوں  والی وگ  تھی۔ وہ بازاروں میں پھرا اللہ ہو اللہ ہو لوگوں کے چہوں پر پھونکیں  مارتا۔۔ لوگ عقیدت سے اس کے ہاتھ چومنے لگتے تو وہ پیچھے ہٹ کر اپنی اصل آواز میں بولنے لگتا لوگ حیران ہوکر اس کے کو دیکھتے ہوئے پیسے دینے لگتے۔

اسکی پہلے دن کی پرفارمنس چونکہ اچھی رہی تھی اس لئے  یہ حوصلہ اور اعتماد پا کروہ مستقلا اپنا فن بیچنے لگا۔  روزانہ ایک نیا بھیس بدلتا۔۔ نیا حلیہ اپناتا کبھی پہچانا جاتا کبھی نہ پہچانا جاتا۔۔ جس دن لوگ اسے پہچاننے میں دیر کرتے یا نہ پہچانتے اس دن وہ بہت خوش ہوتا اسے اطمینان ہوجاتا کہ بالآخر اس کی محنت ٹھکانے لگ گئی تھی اس نے اپنی مہارت سے لوگوں کے دل یقینا جیت لیے تھے۔ لیکن وہ خود بھی اپنے فن سے پوری طرح مطمئن نہیں تھا اس کو معلوم تھا ابھی اسے اور بہت کچھ کرنا تھا۔ وہ اپنے فنی سفر پر گامزن رہا۔ اسے اس دن کا انتظار تھا جب وہ ایسا بہروپ بھرے گا کہ سارے شہر میں کوئی اسے پہچان نہ سکے گا تو تب وہ خود کو ایک پختہ کار فنکار سمجھنے کے قابل ہو سکے گا۔ برسوں بیت گئے لوگ اب اس کے اتنے عادی ہوگئے تھے کہ جب وہ کسی دن اپنی طبیعت کی خرابی یا کسی اور وجہ سے شہر میں اپنے کسی بہروپ کے ساتھ وارد نہ ہوتا تو لوگ کہتے ” اج فقیریا نہیں آیا۔ رب خیر کرے۔” وہ نت نئےروپ بدلتا اس شہر کے ایک ایسے علاقے میں جا پہنچا جسے جدھر وہ بہت کم ہی آتا تھا اس نے دیکھا کہ ایک بڑے سے منجے پر ایک پہلوان نما شخص ململ کا کرتا اور لٹھے کی دھوتی پہنے نیم دراز تھا اور چند لوگ اس کے پاس بیٹھے تاش کھیل رہے تھے۔ یہ پہلوان ایک عجیب کردار تھا۔ سردی ہو یا گرمی وہ ہمیشہ باریک ململ کے کرتے میں۔ پایا جاتا ۔ململ کے کرتے کی بائیں طرف عین دل والی جگہ پر بنی جیب میں وہ ہر وقت سو کا تہہ کیا نوٹ ڈالے رکھتا تھا۔ یہ نوٹ ہر کسی کو دور ہی سے نظر آ جاتا تھا۔ اس کے متعلق مشہور یہ تھا کہ یہ سو کا نوٹ آج تک تڑوایا نہیں جا سکا تھا۔ وہ صبح کو نکلتا دودھ دہی والے کے پاس پہنچتا۔ پیڑوں ملے دودھ کی لسی پیتا۔۔ جیب سے سو کا نوٹ نکالتا دوکاندار شرمندہ ہو کر کہتا بونی کے ٹیم میرے پاس بھان کہاں ؟ ۔ پہلوان کہنا ٹھیک ہے حساب میں لکھ لو اس کے بعد وہ پان فروش کے پاس پہنچتا پان لگواتا اور بھان نہ ہونے کی وجہ سے یہاں بھی وہ ادایئگی کئے بغیرآگے سرک جاتا۔ لون تیل دال سبزی جو چیز بھی وہ لینے جاتا ہر جگہ بھان نہ ہونے کی وجہ سے اس کا نوٹ ٹوٹنے سے بچ جاتا۔ وہ چیزوں کے دام اپنے حساب میں لکھواتا اور آجاتا پہلوان کا یہ سو کا نوٹ خود اس کے مزاج کی طرح  ایک انوکھا اور نرالا نوٹ  تھا کہ اسے بنھایا ہی نہ جا سکا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ پہلوان پانچ دس روپے کی دیہاڑی لگانے والے تقریبا ہر دکاندار کا مقروض تھا۔ نوٹ ٹوٹتا نہیں تھا اس لیے پیسے بھی ادا نہیں ہو پاتے تھے۔۔جس وقت فقیریا اسکے پاس پہنچا تب بھی وہ سو کا نوٹ تہہ شدہ حالت میں اس کی جیب میں پڑا تھا اور دور ہی سے نظر آ رہا تھا۔ فقیریے نے اس دن بلدیہ کے ایک کلرک۔ کا روپ دھار رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں رسیدبک جیسی ایک کاپی اور ایک پنسل تھی۔ اس نے آتے ہی کہا۔ پہلوان تمہارے منجے نے سڑک کنارے کی سرکار کی کافی زمین گھیر رکھی ہے تم نے چونکہ قانون توڑا ہے اس لیے قانون کے مطابق آج تمہارا چلان ہوگا۔ پہلوان نے جو تاش کی بازی میں مگن تھا اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اس نے پھر تکرار کی۔ جب تاش کھیلنے والوں میں سے ایک نے لگی ہوئی بازی کا آخری پتہ پھینک دیا پہلوان نے اس کی طرف غور سے دیکھا اور پاؤں لٹکا کر نیچے اتر آیا۔

” تم اپنے پیروں اور آنکھوں کی وجہ سے مار کھا گئے ہو۔ بلدیہ کے باو ایسی چپل ہرگز نہیں پہنتے جیسی تم نے پہنی ہوئی ہے اور یہ کہ جب تم بات کررہے ہوتے ہو تو تمھاری آنکھیں تمہارے مکر کی چغلی کھا رہی ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں تم فقیریا ہو ہمارےشہر کے مشہور بھروپیے میں نے تمہارے بارے میں کافی کچھ سن رکھا ہے تمہارے بارے میں ۔تمہیں تو شاید ایکعرصہ ہو گیا ہے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے لیکن ابھی کچے ہو۔ فقیریا پہلوان کی بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور پیسے لئے بغیر چپ چاپ پلٹنے لگا۔ میری جیب میں یہ سو کا نوٹ دیکھ رہے ہو آج تک ٹوٹ نہیں سکا۔ پتہ ہےکیوں،۔ وہ اس لیے کے سارے جہان کی کنجوسی مجھ پر آ کر ختم ہو جاتی ہے میں اپنی ہی طرح کا ایک مثالی خسیس ہوں۔ آج تک کوئی مائی کا لال میرے سوا اس نوٹ کا مالک نہیں بن سکا لیکن تمہارے لئے میری یہ پیشکش ہے پھر کسی دن کسی ایسے نئے بہروپ کے ساتھ آو کہ میں واقعی تمہیں  نہ پہچان سکوں تو میں یہ نوٹتمہیں  انعام میں دے دوں گا۔ تم سے وعدہ ہے۔

فقیریا نے پہلوان کی بات کو غور سے سنا تیز قدموں سے چلتا ہوا واپس آگیا۔ اس دن اس سے باقی کا علاقہ بھی۔ کورنہ ہوسکا وہ جلد ہی گھر آگیا۔ ماں۔ بھی نہیں رہی تھی کہ اسے دلاسا ہی دے دیتی۔ وہ گم سم کئی دنوں تک گھر میں پڑا رہا اس بظاہر بے وقوف اور احمق نظر آنے والے پہلوان نے جومات اسے دی تھی وہ بھول نہیں پا رہا تھا۔ اب اس  کی آفر اس کے لیے ایک چیلنج بن گئی تھی۔  اسے نوٹ کا لالچ نہیں تھا۔ البتہ اسے اپنی ان اور عزت بہت پیاری تھی اور وہی داؤ پر لگی تھی اس نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ ایسا روپ دھارے گا کہ پہچانا نہیں جا سکے گا اور پہچان  لیا گیا تو وہ یہ فن اور شہر دونوں چھوڑ دے گا۔ ہاں تو یہ ایک جذباتی فیصلہ لیکن بہرحال یہ اسکا فیصلہ تھا۔

تقریبا ایک مہینے کے بعد وہ شہر میں دوبارہ نمودار ہوا۔ اس وقت اس نے ایک پاگل کا بہروپ بھر رکھا تھا۔ اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے ان میں خاک بکھری نظر آتی تھی۔ ماتھے پر خون آلود پٹی بندھی تھی۔ کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک اینٹ تھی وہ جدھر جاتا سرخ انگارا آنکھوں سے لوگوں کو گھورتا لوگوں پر اینٹ سے حملہ آور ہوتا اور خوفناک آواز میں دھاڑتا، ”  او تینوں ویہڑکے یہن۔۔۔”۔ لوگوں کی سمجھ میں نہ آتا کہ وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔ وہ سے ایک پاگل کی بڑ یا اول فول قسم کی کوئی چیز سمجھتے۔ کیونکہ وہ اسے پہچان نہیں پائے تھے اسلئے اس سے ڈر رہے تھے۔ سچ مچ کا پاگل سمجھ بیٹھے تھے۔ وہ چلتا رہا اور شہر میں کہیں نہ رکااس کی منزل تو کھاڑے سے فارغ خطی حاصل کئے ہوئے اسی پہلوان کا منجا تھا۔ وہاں پہنچا۔ پہلوان اپنے ململ کے کرتے کی جیب میں سو کا وہی نوٹ لیے بیٹھا تھا۔ اس نے وہی فقرہ دوہرایا اور اینٹ لے کر پہلوان کے درپے ہوا۔پہلوان  نے اس کی طرف دیکھا۔۔ اٹھا ایک طرف بھاگا۔ یہ پیچھے وہ آگے۔اس نے اسکی دوڑ لگوا دی۔ پہلوان ہف گیا  تو یہ اپنی اصل آواز میں بول پڑا۔۔ پہلوان یہ میں ہوں فقیریا۔ پہلوان ٹھٹھکا۔ رکا۔ اپنے اوسان بحال کئے۔ اس کی طرف دیکھ کرمسکرایا ۔ شاباش دی اور وعدے کے مطابق اپنا سو کا نوٹ نکال کر اسے دیے دیا۔ اس نے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ انعام میں ملے ہوئے اس نوٹ کو اس نے فریم کروا لیا ، اب جب بھی وہ لوگوں کے سامنے پرفارم کرتا اور  اور وہ اسے پہچان نہ پاتے تو وہ یہی فریم شدہ لوٹ ا نہیں دکھاتا۔ کہ یہ اس کی فنی خدمات کا اعتراف تھا۔ اس کی عمر بھر کی مہارت کا صلہ تھا اس کی ٹرافی تھا۔۔۔

فقیریا بوڑھا ہوگیا۔۔ اب شہر میں ہر روز دکھائی نہ دیتا۔ آمدن نہ ہونے کی وجہ سے وہ فاقہ کرنے لگا۔پھراس  کی طبیعت ناساز رہنے لگی۔ دنیا میں بالکل اکیلا ہونے کی وجہ سے اس کی تیمارداری اور دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ تھا وہ دن بدن کمزور ہوتا چلا گیا اور پھر بالکل ہی چارپائی سے جا لگا۔ شہر اپنی تیز رفتاری اور اپنی زندگی کی گہماگہمی میں گم تھا اور اسے بھول رہا تھابلکہ بھول چکا تھا اس کی گلی یا  محلے کا کوئی بندہ کبھی کبھار اس کو دیکھنے آتا تو دیوار سے ٹنگے اس فریم شدہ نوٹ کی طرف اشارہ کرکے کہتا۔  “فقیریا۔ اب اسے تڑوا ہی لو۔  علاج معالجے میں سہولت رہے گی۔۔” وہ کہتا نہیں۔ میں اسے نہیں تڑواوں گا یہ نوٹ نہیں میرا مان ہے انعام ہے اور میرا تمغہ ہے۔ لوگ کہتے رہے وہ بضد رہا خوشیاں بانٹنے والا فقیریا۔ اپنے اوپر خرچ کیے بغیر مر گیا وہ شہر جو اسے بھلا بیٹھا تھا۔ اس کے مرنے کی  خبر سن کر غم زدہ ہو گیا سارا شہر اس کے جنازے پر امڈ آیا تھا۔۔ پہلوان نے سنا وہ بھی جنازے میں شامل ہوا وہ سو کا نوٹ اب دوبارہ پہلوان کے پاس پہنچ چکا ہے۔ پہلوان اب منجے پر اکیلابیٹھااس فرم شدہ نوٹ کو دیکھ دیکھ کر روتا رہتا ہے

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: