بادشاہ۔۔۔۔ (سلطنت)۔۔۔۔ محمود احمد قاضی

سلطنت

محمود احمد قاضی

ایک کہنہ مشق، سینئر اور منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کہانی ان کے خون میں رچی ہو ئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کہانی جبر کو نہیں ،صبر کو مانتی ہے۔ میں جیسی بھی کہانی لکھ رہا ہوں، اسے میں ہی لکھتا ہوں۔ کہانی مجھے ہرگز نہیں لکھتی۔‘‘ ’’سلطنت‘‘ محمود احمد قاضی کے افسانوں کامجموعہ ہے، جس میں اُن کی 18 کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔دلچسپ طور پر ہر کہانی ایک کردار کے احوال پر مشتمل ہے جیسا کہ بادشاہ، شہزادی، کنیز، دربان،غلام،جلاد،مسخرہ، خواجہ سرا، ایلچی، مورخ، مصنف، فقیر، بہروپیا، حلال خور، چور، بازی گر، مکینک، فالتو لوگ۔۔


ادارہ پینسلپس کی کوشش ہے کہ ہر شمارے میں ایک کہانی، کتاب کی ترتیب کے مطابق قاریئن کے لئے پیش کی جائے۔

 

بادشاہ

شہر کی فصیل پر شام نے جب اپنا پاؤں رکھا تو فصیل کے بڑے دروازے کی چھوٹی کھڑکی پر کھڑے محافظ نے اپنی مونچھوں کوتاودیا اور اسی وقت اپنے گھروں کو لوٹتے پرندوں کے پروں تلے اسی چھوٹی کڑکی کے نزدیک کھڑے مسافر نے اپنے کپڑوں کی مٹی کو جھاڑا۔ اس نے لمبی سانس لے کر اپنی ڈنگوری کو زور سے زمین پر مارا، کندھے پر رکھے پرنے سے اپنے دیسی جوتے کو صاف کیا گلے میں پھنسے راستے کی مٹی میں نتھڑے کنگھار کا پٹاخہ زمین پر چلایا۔ ایک ہاتھ میں پکڑے جھولے کو یونہی ہلا جلا کر دیکھا،  پھر اپنی دائیں بغل کے نیچے اپنی قمیض میں موجود لمبی جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا اور سکوں کو محفوظ با کر مسکرایا تو اسکی کالی سفید داڑھی کے بالوں میں اٹکا راستے کے کسی درخت کا پتہ نیچے گر پڑا ۔۔۔ وہ آگے بڑھ گیا-

اپنی مونچھوں کو تاو دیتا ہوا محافظ ایک لمحے کے لئے رکا ۔ پھر یوں لگا جیسے کھڑکی کے پیچھے کھلبلی سی مچ گئی ہو۔ مختلف قدموں، ہتھیاروں اور ہلکی ہلکی ہنسی کی آواز نے ایک دم اس کھڑکی پر یلغار کر دی۔

اب مسافر کا ایک پاؤں آگے اور ایک پیچھے تھا۔

 کھڑکی میں بنے چھوٹے سے سوراخ میں منہ ڈال کر پوچھا۔ ” کون۔۔۔”؟

” بند ہ بشر “

 کھڑکی کے پیچھے ہنسی کچھ اور تیز ہوگئی۔ محافظ نے بگل نما کوئی چیز اٹھا کر اس میں پھونک ماری تو سنکھ کی سی آواز چاروں طرف پھیل گئی۔ اس آواز کی گھمن گھیری میں اردگرد کے درختوں پر بیٹھے پرندوں نے اپنے پر پھڑپھڑائے اور دوسرے ہی لمحے یوں آنکھیں موند لیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

” بندہ بشر صاحب ! تم کہاں سے آئے ہو ! تمہارے یہاں آنے کا مقصد کیا ہے ؟ “

” میں بہت دور سے بہت لمبا سفر کر کے بادشاہ کو ملنے آیا ہوں۔”

” بہت دور سے۔۔۔ لمبا سفر۔۔۔ بادشاہ۔۔۔ لیکن بادشاہ کو ملنے کی وجہ ؟”

” یہ تو بادشاہ ہی کو بتاؤں گا۔”

 محافظ نے سر پیچھے کرکے کسی سے بات کی۔” لو بھائی ایک اور کیس۔”

 کھڑکی کے پیچھے ہنسی کا فوارہ ایک بار پھر چھوٹا۔ بندہ بشر کچھ گھبرا سا گیا۔ زمین پر تھوک کر وہ بٹر بٹر محافظ کی طرف دیکھنے لگا۔

” میں اندر آنا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے اندر آنے کی اجازت دو۔”

” شام ہوچکی ہے بندہ بشر جی۔ دروازہ اب صبح ہی کھلے گا۔”

“تو اس وقت تک میں کہاں جاؤں گا ؟ کیا کروں گا ؟ “

 محافظ ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے بولا۔” وہ دیکھو تمہارے جیسے کئی بندے بشر صبح تک پھاٹک کھلنے کے انتظار میں وہاں ڈیرہ ڈالےبیٹھے ہیں۔”

 مسافر نے زمین پر بکھرے ہوئے اپنی ہی طرح کے مسافروں کی طرف دیکھتے ہوے کہا۔ ” لیکن میں تو۔۔۔ میرا کام۔۔۔ مجھے تو بادشاہ سے بہت جلدی ملنا ہے۔”

محافظ بولا۔” سب سے پہلے تو تمہیں شہر کے اندر داخل ہونے کے لئے خصوصی اجازت نامہ چاہیے. پھر اس کے بعد کوتوال شہر سے بادشاہ کو ملنے کا پرمٹ تمہیں حاصل کرنا ہوگا۔۔۔بس تم یہیں انتظار کرو ۔۔۔  صبح ہونے کا انتظار۔”

مسافر کا اصرار دیکھ کر محافظ نے نہایت پراسرار انداز میں آنکھ دبا کر آہستہ سے کہا۔ ” ہاں ایک صورت ہے۔ “

وہ کیا” ؟ “

نزدیک آو ” “

مسافر نزدیک آیا محافظ نے اس کے کان میں کچھ کہا مسافرتڑپ کر پیچھے ہٹ گیا

رشوت۔۔۔؟ پر میں تو اس کے خلاف ہوں” “

بس تو پھر ٹھیک ہے پیچھے ہٹو۔ میں کھڑکی بند کرنے لگا ہوں” “

” نہیں ۔ نہیں۔ جوان ذرا ٹھہرو ۔۔۔۔ میں سوچ لون ۔۔۔ اصل میں ۔۔۔ میرا کام ۔۔۔ یہ میرا ذاتی کام نہیں۔۔۔ مجھے بھیجا گیا ہے ۔۔۔ میں تو ۔۔۔” مسافر ہکلانے لگا

” ارے بھائی ! میں تو میں تو ہی کرتے رہو گے یا کوئی کام کی بات بھی کرو گے میرا وقت ضائع مت کرو اور یہاں سے دفع جاؤ۔جاو اور دوسرے مسافروں کے ساتھ مل جاو اگر رات کو آوارہ پھرنے والے بھیڑیوں سے بچ گئے تو صبح شہر میں داخل ہو جاؤ گے۔”

“بھیڑیے  ؟ ‘بندہ بشر کو کپکپی نے آلیا۔  اس نے کچھ سوچا پھر اپنے جھولے میں ہاتھ ڈال کر بھنے ہوئے تھوڑے سے چنے نکال کر محافظ کے ہاتھ پر دھر دئے۔  محافظ ٹھٹھا مارکر ہنس دیا۔ مسافر نے اب دائیں طرف کی لمبی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک سکہ نکالا جس پر بندر کی تصویر بنی ہوئی تھی ۔محافظ نے سکہ الٹا پلٹا کر دیکھا اور جلدی سے کھڑکی کھول دی۔

آجاؤ بھائی”

مسافر اندر آگیا۔  کھڑ کی بند ہوگی۔ اب مسافر شہر کے اندر تھا۔ اندر بہت چہل پہل تھی۔ رات کی روشنیاں جل اٹھی تھیں۔   مرد عورتیں،بوڑھے، بچے سب ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔ ہوٹلوں پر اونچی آواز میں ریکارڈ بج رہے تھے۔ مختلف کھانوں کی خوشبو ہر طرف ناچ رہی تھی۔ مسافر کو بھی بھوک کا احساس ہوا۔ وہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا اور اپنے جھولے میں سے بھنے ہوئے چنے نکال کر کھانے لگا۔ چنے چبانے کے بعد اسے پیاس لگ گئی۔ وہ ایک ہوٹل کی طرف بڑھا۔ گدی پر ایک موٹا سا کالا سیاہ آدمی بیٹھا تھا۔

پانی ” مسافر نے پیا سی آواز میں کہا

پانی پینا ہے تو کتے کے سر والا سکہ  نکالو “

جوان پانی کی کبھی قیمت ہوتی ہے۔ ہماری طرف تو۔ “

تم اپنی طرف کو اپنی  طرف ہی رہنے دو پانی پینا ہے  توکتے کے سر والا سکہ نکالو۔”

اچھا اچھا ٹھیک ہے۔ ” مسافر نے جیب میں سے کتے کے سر والا سکہ نکال کرہوٹل والے کے ہاتھ پر رکھا تو اسے اسی وقت پانی سے بھرا مٹی کا پیالہ مل گیا۔

مسافر نے پانی پی کرپیالہ واپس کیا اور اپنے گیلے ہاتھ کو اپنی داڑھی سے پونچھ کر آگے بڑھ گیا۔

ایک طرف بہت سے لوگ جمع تھے اس نے دائرہ نما ہجوم میں گردن گھسیڑ کر دیکھا۔ ایک شعبدہ بازار اپنے منہ سے آگ کے شعلے نکال رہا تھا اور لوگ اسے دیکھ کر خوش ہو رہے تھے ہنس رہے تھے۔ اپنی جیبوں سے بیل کے سر والے سکے نکال کرشعبدہ باز کی طرف پھینک رہے تھے۔ وہ اس طرح کے کھیل تماشے دیکھتا لوگوں کی بھیڑ میں سے بچتا بچاتا نکلتا رہا آگے بڑھتا رہا اور اسی آگے بڑھنے کی کوشش میں ایک بندے سے ٹکراگیا۔  وہ بندہ وردی پوش تھا اس کی پیلی وردی کے کندھوں پر کالی فیتیاں تھیں۔

” ہوں۔۔۔ کدھر بھائی اس مٹرگشت کا مقصد، راجدھانی سے باہر کا بندہ اور اس وقت شہر میں آوارہ گردی ۔۔۔ شہر میں داخل ہونے کا اجازت نامہ ہے تمہارے پاس۔۔؟”

“اجازت نامہ” مسافر کو پسینہ آگیا۔وہ محافظ اجازت نامہ لینا تو بھول ہی گیا تھا

“اب پتھر کی سل کیوں بن گئے ہو؟ نکالو اجازت نامہ۔۔۔”

” جی وہ تو میں۔۔۔”

“ہوں تو غیرقانونی طورپر اندر آئے ہو۔ پوچھ لیتا ہوں اس محافظ کو بھی۔ مگر پہلے تمہارے ساتھ تو نمٹ لوں ” وردی والے نے اسے بازو سے پکڑ کر آگے کو دھکا دیا۔  مسافر کی پگڑی کھل کر اس کے گلے میں جھول گئی ۔ وہ وردی والے کے دھکے ٹھڈے اور گالیاں کھاتا ہوا اس کے ساتھ چلتا رہا پھر وہ ایک لمبی سی ڈیوڑھی میں سے گزر کر ایک بہت بڑے کمرے میں پہنچ گیا ۔میز کے پیچھے نیلی وردی پہنے ایک بڑی تو ند والا بیٹھا اونگھ رہا تھا۔ قدموں کی آواز سن کر اس نے آنکھیں کھولیں

” ہوں۔۔۔ کون ہے بھائی”؟

“جی یہ غیر قانونی ہے ۔اس کے پاس اجازت نامہ نہیں۔ یہ شام سے شہر میں مشکوک انداز میں گھوم رہا ہے”

“ہاں بھائی کیا مسئلہ ہے تیرا۔۔۔” اس نے مسافر سے سوال کرتے ہوئے پیلی وردی والے کو اشارہ کیا پیلی وردی والا اشارہ سمجھ کر وہاں سےکھسک گیا

“جی۔ میں ایک مسافر ہوں بڑی دور سے آیا ہوں۔۔۔ مجھے بادشاہ سے ملنا ہے۔”

“ایک  ہی سانس میں اتنی ساری باتیں۔ تمہارے یہاں آنے کا مقصد وغیرہ تو بعد کی بات ہے لیکن پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمہارے پاس شہر میں داخل ہونے کا اجازت نامہ کیوں نہیں ؟”

” جی۔ دراصل۔۔۔محافظ نے مجھے اجازت نامہ دیئے بغیر۔۔۔”

نیلی وردی والا ہنسا۔۔” اچھا تو مٹھی گرم کر کے آئے ہو اور ہم کہاں جائیں گے ؟ دیکھو بھائی مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں اور مجھے نیند بھی آئی ہوئی ہے۔ میں تمہارے ساتھ سیدھی بات کرنے لگا ہوں اگر تم میرے ہاتھ پر گدھ کے سر والے دو سکے رکھ سکتے ہو تو تمہیں ا سپیشل اجازت نامہ دے دوں گا نہیں تو پھر حوالات۔۔۔”

“جناب رحم کریں میں تو بڑے ضروری کام سے آیا ہوں اور مجھے ۔۔۔ میں۔۔۔”

” میں میں مت کر جو کچھ کہا گیا ہے وہ کر۔۔”

مجبوری تھی مسافر نے جیب میں ہاتھ ڈال کرچند سکوں میں سے گدھ کے سر والا ایک سکہ ڈھونڈ نکالا۔ اس کے پاس گدھ کے سر والا یہی ایک سکا تھا۔ اس نے نیلی وردی والے کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ، “جناب اس وقت تو میرے پاس ایک ہی سکہ ہے۔ “

“کوئی  بات نہیں اس کے ساتھ گدھے کے سر والے دو مزید سکے۔ حساب پورا ہو جائے گا۔ “

مسافر نے حکم کی تعمیل کی اسے شہر میں آنے کا اجازت نامہ مل گیا اب وہ کھلے بندوں شہر میں گھوم سکتا تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیا اور ایک طرف کو چل پڑا

رات کافی ہو گئی تھی اور اب وہ سونا چاہتا تھا اس نے ایک درخت کے نیچے اپنا سامان رکھا اور سونے کی تیاری کرنے لگا اسی وقت ایک تیز سیٹی بجی اور ایک سفید وردی والا اس کے سر پر آن کھڑا ہوا

” تجھے پتہ نہیں سرائے سے باہر سونا اور رات گزارنا جرم ہے۔ “

“جی مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔۔۔” اس نے جلدی سے اپنا سامان  سمیٹتے ہوئے کہا

اس کے ضروری کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی اور پھر خنزیر کے سر والا سکہ لے کر سفید وردی والے نے اسے سرائے کا پتہ بتا دیا۔

وہ سرائے میں جا پہنچا۔ یہاں اس وقت بھی دن چڑھا ہوا تھا۔ سرائے جگمگ کر رہی تھی۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ صدر دروازے کے دائیں سمت میں ایک قوس کی شکل میں نائی، دھوبی، نانبائی، لوہار، ترکھان، سنار ،کلال،حکیم، وکیل اور نہ جانے کون کون اپنی دوکان سجاۓ بیٹھے تھے۔

دوسری طرف جھروکا نما کمرے تھے جن میں مسافر مقیم تھے۔ کاؤنٹر پر پہنچ کر اس نے کمرے کا پوچھا مگر نرخ سنتے ہیں اس کے ہوش کے اونگھتے ہوئے طوطے بھی اڑنے لگے۔ یہاں ٹھہرنا تو جیب خالی کرانے والی بات تھی۔ اسے خاموش دیکھ کر ایک ملازم جس کی وردی کا رنگ لال تھا اس کی طرف بڑھا۔

“مین تمہاری مشکل حل کر سکتا ہوں ۔اصطبل کے پیچھے تھوڑی سی جگہ ہے ۔۔۔ اگر تم مجھے۔۔۔۔”

” میں  سمجھ گیا میرے بھائی ۔ تمہیں سکہ چاہیے ۔۔۔  لو تم بھی۔ “

” یہ نہیں۔ بھیڑ کے سر والا۔۔۔”

اس نے لال وردی والے کوبھیڑ کے سر والا سکہ تھمایا اور اصطبل کے پیچھے گھوڑوں کی لید کے بستر پر جا کر سو گیا۔

صبح اٹھ کر اس نے بھنے ہوئے چنوں کا ناشتہ کیا اور کوتوال کے دفتر کی طرف چل پڑا۔ بھیڑیے کے سر والے دو تین سکے مختلف آدمیوں کو دینے کے بعد کوتوال تک پہنچا۔ کوتوال نے الٹے سیدھے سوال کیے تو اسنے بتایا کے قبیلے والوں نے اسے معتبر جان کر، اچھا بندہ سمجھ کر چندہ جمع کرکے ادھر بھیجا تھا۔ بستی کا ایک کام بڑی دیر سے پھنسا ہوا تھا۔ جو درخواست یاددہانی کے لیے بھیجی جاتی وہ بھی وہیں جا کر پھنس جاتی۔ اب کوئی تین سال کے جان لیوا انتظار کے بعد لوگوں نے ذاتی طور پر بادشاہ سے مل کر اپنی عرضی پہچانے کے لیے اس کا انتخاب کیا تھا مگر یہاں آکے۔۔۔

 شکایات کا دفتر مزید کھلنے سے پہلے کوتوال نے ڈانٹ دیا ۔ “تمہیں معلوم ہے سرکار کے خلاف بات کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟”

 مسافر ایک دم سے کانپ اٹھا۔ ” وہ جی۔۔۔ وہ۔۔۔ دیکھئے ناں جی۔۔۔”

” دیکھیں ناں جی کا پتر۔۔۔میرے ساتھ سیدھی بات کرو۔ریچھ کے سر والے پانچ سکے دے کر بادشاہ سے ملنے کا پرمٹ حاصل کرو۔ ورنہ کھال کھنچوا دوں گا۔۔۔”

اس نے جلدی سے کوتوال کے سامنے ریچھ کے سر والے پانچ سکےرکھ دیئے اور پرمٹ لے کر باہر نکل آیا۔

اس وقت باہر دوپہر کی شاں شاں کرتی خاموشی تھی۔ گرمی کی وجہ سے لوگ اندر اپنے اپنے گھروں میں دبک گئے تھے وہ پسینے میں بھیگا سرائے کی اصطبل والی جگہ پر آ کر سو گیا۔ شام کو اٹھا تو اسے ہلا نہ گیا۔ اس کا سارا جسم درد کر رہا تھا ۔کل سے لے کر آج تک کی خواری نے اسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رات ہونے تک وہ وہیں پڑا کروٹیں بدلتا رہا۔ رات کو اس نے چلے بھی نہیں کھائے کیونکہ وہ ختم ہوچکے تھےاور جیب بھی سکوں سے خالی ہو چکی تھی۔ اب تو بس اس کے پاس صرف ایک سونے کا سکہ رہ گیا تھا اس پر اس کے قبیلے کا نشان یعنی شیر کا سر بنا ہوا تھا اور وہ یہ سکہ کسی کو رشوت کے طور پر دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس نے سوچا مجھے واپس چلے جانا چاہیے مگر ساتھ ہی اسے  بستی والوں کی خواہشوں، امنگوں اور ضرورتوں  کا خیال آیا وہ کمائی، وہ چندہ، وہ سکے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنے کے چکر میں ختم کر بیٹھا تھا۔

میں کیا کروں  ؟میں کیا کروں ؟

وہ سوچتا ہوا اٹھا اور ایک طرف چل پڑا۔ چلتا رہا ٹھوکریں کھاتا رہا۔ بھوکے پیٹ لڑھکتا رہا ۔ آدھی رات کے بعد وہ بے خیالی میں ایک گلی میں جا نکلا۔ یہ بند گلی اس وقت بھی جاگ رہی تھی۔ گلی میں موتیے کے ہار اور پان بک رہے تھے لوگ ایک دوسرے سے مذاق کرتے اپنی ترنگ میں چل پھر رہے تھے۔

ایک تھڑے سے آواز آئی، ” جانے والے ذرا ادھر آنا۔۔۔”

اس نے دیکھا ڈھلتی عمر کی ایک گوری چٹی عورت اسے بلا رہی تھی۔ وہ اس کے پاس گیا تو بولی

” مسافر ہو ؟ “

” ہاں بی بی، میں مسافر ہوں۔۔۔”

بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہو۔ اگر جیب  بھاری ہے تو آو، میں تمہیں بہت آرام دونگی۔۔۔”

” جیب ہی تو نہیں رہی میں اب خالی جیب اور خالی پیٹ ٹھوکریں کھا رہا ہوں۔ بس اب تو اس ظالم اور بے مروت شہر سے نکلنے کی سوچ رہا ہوں صبح ہوتے ہی اپنی بستی کو لوٹ جاؤں گا۔ اس راجدھانی کے جادو نےتو مجھے کیل دیا ہے مجھے پتھر کر دیا ہے۔ پہلے تو میں ایک بندہ بشر تھا مگر اب میں ایک پشو ہوں،  ایک بے مہار جانور۔۔۔”

“ارے تم تو مجھے بہت دکھی لگتے ہو چلو آ جاؤ آج یونہی سہی۔۔”

” پر “

“پر پر مت کرو اور میرے پیچھے آ جاؤ”

وہ اس کے پیچھے چل پڑا۔ وہ اسے ایک سجے سجائے کمرے میں لے آئی۔ موتیا کی خوشبو ہر طرف پھیلی تھی ۔ عورت نے نیم گرم پانی سے اس کا منہ دھویا داڑھی اور کپڑوں کو صاف کیا پھر گرم گرم نان کباب اس کے سامنے رکھے۔ وہ ناں ناں کرتا رہا اور کھاتا رہا۔ پیٹ میں بھوک کی آگ بھڑک رہی تھی فارغ ہوا تو عورت نے اس کی آپ بیتی سنی۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں

” دیکھو مسافر  !! ہوں تومیں ایک طوائف ہوں مگر ایک عورت بھی ہوں۔ تم حالات کے بہت ستایے ہوئے لگتے ہو۔ اب تو میں بھی مندی کا شکار رہنے لگی ہوں لیکن کوئی بات نہیں ابھی بھی تمہارے کام آ سکتی ہوں۔ میں تمہیں بادشاہ کو ملنے کے گر بتاؤں گی لیکن تمہیں میری بھی کچھ باتیں ماننی ہوگیں۔ ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کرنا ہوگا کہ جب تم وطن واپس جاؤ تو اپنے لوگوں میں جاکر مجھ  نکمی اور بے مصرف کا ذکر بھی کرنا۔اور بتانا  اس بےوفا شہر کی ناکارہ بندی تمہارے کام آئی۔۔۔ یہی میرا انعام ہوگا”

مسافر نے سر سے ہاں کا اشارہ کیا۔اور وہ مشین کی سی پھرتی کے ساتھ کام میں لگ گئی۔ اس نے اس کے لئے نئے کپڑوں کا بندوبست کیا جو کہ راجدھانی کے فیشن کے مطابق تھے۔ اس کے لیے نئے جوتے مہیا کیے۔ اس کی داڑھی مونچھ صاف کروائیں ۔داڑھی مونچھ صاف کروانے پر مسافر نے بہت واویلا کیا مگر عورت نے اس کی ایک نہ چلنے دی۔ اب وہ کلین شیو، سوٹڈ بوٹڈ  ایک نیا آدمی تھا۔ اس کے سر پر ہیٹ تھ،ا ایک ہاتھ میں چاندی کی موٹھ کی نازک چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں وہی اس کے قبیلے کا مان اور نشان شیر کے سر والا سکہ۔ عورت نے اسے بتایا کہ یہ سکہ یہاں کا بادشاہ ہی صرف اپنے پاس رکھنے کا مجاز تھا۔ اس نے دوسرے اہلکاروں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لئے لدھڑ، گیدڑ، چھچھوندر، چوہے،باگڑ بلے، نیولے اور پہاڑی کوے کے سر والے چند سکے بھی دیئے کہ ساری رکاوٹوں کو عبور کرتا بادشاہ کے پاس جا پہنچے۔ مسافر نے عورت کا شکریہ ادا کیا۔ طوائف نے جو اس وقت اس کے لیے انتہائی پاک دامنبی بی تھی اسے آنسوؤں بھری آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا ۔وہ رات کے اس پہر ہی بادشاہ سے ملنے کے لیے تیزی کے ساتھ چل پڑا۔

اس نے راستے کی ساری رکاوٹوں کو عورت کے دئے ہوئے سکوں سے عبور کیا  اور آخرکار بادشاہ کی خواب گاہ میں جا پہنچا۔

” مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے پاس شیر کے سر والا سکہ ہے اور ۔۔۔شاید تمہیں  پتہ نہیں کہ یہ سکہ اپنے پاس رکھنے کا موروثی حق صرف اور صرف بادشاہ کو ہے۔ سکہ مجھے دو اور اپنی عرضداشت پیش کرو۔”

بادشاہ کی بات سن کر مسافر نے کچھ سوچا۔ پہلے مسکرایا، پھر ر ہنس دیا۔ باد شاہ نے ہنسنے کا سبب پوچھا تو مسافر نے کہا ، “ہنسا اس لئے ہوں کہ اگر شیر کے سر والا سکہ ہی اپنے پاس رکھنے والا بادشاہ ہوسکتا ہے تو پھر۔۔۔”

” تو پھر کیا ۔۔؟”

مسافر جواب میں زہریلی ہنسی ہنسا۔اس نے چیتے کی طرح جست لگائی اور باد شاہ کی گردن دبوچ لی ۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.