مفت خورا ۔۔۔۔ منزہ احتشام گوندل

Munaza Ehtesham Gondal is a lecturer by profession. She is a poet as well as a short story writer.

مفت خورا 

(منزہ احتشام گوندل )

پچھلے چار مہینوں میں چالیس مرتبہ وہ یہ سن چکا تھا۔جیسے ہی صبح سویرے بابے شیرے کی آنکھ کھلتی ،نماز اور تلاوت سے فارغ ہونے کے بعدوہ اپنی بھٹی سلگانے کی چِنتا میں جُت جاتا۔اس دوران بابے کے بیٹے اور بہوئیں بھی جاگ چکی ہوتیں، مگر وہ لمبی تانے سویا ہوتا۔لوہاروں کے اس سحر خیز گھرانے میں اس کا مراثیوں کی طرح( بقول اس کی نانی کے) دوپہر تک سوئے رہنا پسند تو کسی کو بھی نہیں تھا مگر یوں کھُل کے اُس کی اِس بد عادت پہ تنقید کرنے کی مجال بھی کسی میں نہ تھی۔کیونکہ وہ اِس گھر کی اکلوتی بیٹی کا اکلوتا پُوت تھا۔مگر بابے شیرے کی زبان پہ گِرہ کون باندھتا جو اسے یوں سوتا دیکھ کے اسے ہڈ حرام،مفت خور کے اعزازی کلمات سے نوازا کرتا۔ہڈ حرام لفظ کو تو وہ بڑی سہولت سے برداشت کرجاتا مگر مفت خور لفظ کو ابھی تک اس کا دماغ ہضم نہ کر سکا تھا۔
اوئے ہڈ حرام،مفت خورے! اب اٹھ بھی جا،کوئی کام بھی کر لیا کر…انہی جملوں کی تسبیح کرتے بابا شیرا حقا تھامے اس کے پاس سے گزر کے اپنی بھٹی کی طرف چلا تو طافو کو پہلی بار اپنے نانا پہ بے تحاشا تاؤ آیا۔آنکھ تو کھل ہی گئی تھی ساتھ دِل بھی کڑواند سے بھر گیا ۔ایلمنٹری کے امتحانوں سے فراغت کے بعد وہ چھٹیاں گذارنے ننھیال آیا تھا اور یہیں کا ہورہا۔ماں دو ہفتے بعد ایک آدھ خط لکھ کے کراچی سے بھجوا دیتی ،مگر اسے ننھیال کے اس چھوٹے سے گاؤں کی ٹھنڈی چھاؤں اور ٹھنڈے پانی سے بھری کھالوں سے محبت ہو چلی تھی۔بے شک بابا شیرا اسے ہر دوسری تیسری صبح کھری کھری سناتا تھا مگر آخر تھا تو اس کانانا،بابا بھی کیا کرتا،گھر میں ڈھیر سارے چھوٹے بڑے جیو تھے۔کمانے والے ہاتھ کم تھے کھانے والے منہ زیادہ،وہ خود ستر برس کی عمر میں دھمی ویلے جا کے بھٹی سلگاتا اور سارا دن جمور میں پکڑے سرخ لوہے پہ ودان کی ضربوں کی آہٹیں سہتا۔ایسے میں جوان ہوتے ہٹے کٹے نواسے کی فراغت اسے بُری طرح چبھتی تھی۔طافو( الطاف)دن چڑھے اٹھنے کے بعد ناشتا کرتا اور پھر گھر سے باہر نکل جاتا۔پکی سڑک کے ایک طرف ان لوہاروں کا گھر تھا جب کہ سڑک کے دوسری پار کافی بڑی کچی آبادی تھی۔کچی آبادی کے گھروں کی پُشتیں سڑک کی طرف تھیں ۔اس لیے ان کے مکین چار دیواری کے اہتمام سے آزاد تھے۔سبھی نے آگے پیچھے،بے ترتیب کوٹھے اُسار لیے تھے،اور پھر ویسے بھی آبادی کے سارے مکین ایک دوسرے کے رشتہ دار تھے۔جبکہ لوہاروں کا سماجی مرتبہ بلند ہونے کی وجہ سے گھر نہ صرف سڑک کے دوسری طرف تھا بلکہ کوٹھے بھی بھٹے کی پکی اینٹوں کے تھے،ہاں اس گھر کا رُخ سڑک کی طرف ہونے کی وجہ سے چار دیواری کی ضرورت پیش آئی تھی جس کو بھُگ نڑ اور گل بانسی کی گھنی دیوار نے پورا کردیا تھا۔لوہاروں کے گھر کی اس دلچسپ دیوار کے ایرے میں نکاسی کا پانی بہتا رہتا تھا۔جو کہ اس دیوار کو ہمیشہ بنائے رکھنے کے لیے ضروری تھا۔طافو ہم سے کچھ سال بڑا تھا۔تب ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اتنی دور سے آیا ہے۔وہ عمر ہی ایسی تھی کہ جو بھی ہمارے گروپ میں آتا ہم اس سے اس کی ذات پات،اتا پتا پوچھے بنا،اس کا ناک نقشہ اس کی شکل و صورت پہ غور کیے بنا اپنے گروپ میں شامل کر لیتے۔ذات پات،مذہب فرقے،ناک نقشے کی تفریق پہ امتیاز کرنا تو ہم نے اب سیکھا ہے۔اب جبکہ عقل کشادہ ہوگئی ہے۔تب عقل کشادہ نہ تھی اور حیوانیت غالب تھی ،ہم صرف ہاتھ پاؤں اور معدے ہوا کرتے تھے۔طافو بڑا تھا اور کچھ لمبا بھی تھا۔ہم اس کے مقابل چھوٹے تھے۔صبح صبح ہم اپنے گھروں سے نکل کے بھُگ نڑ اور گل بانسی کی دیوار کے جھرنوں میں سے جھانکتے اس کو چارپائی پہ پڑا دیکھتے اور پھر حقے کی نڑی تھامے دیوار کی باہر بنی بھٹی کی طرف آتے بابے شیرے کا کھنگورا سن کے دوڑ پڑتے۔ماؤں کے ہاتھوں کے سِلے ٹخنوں تک لمبے بستوں میں موجود لکڑی کی تختیاں زور زور سے ٹخنوں پہ پڑتیں،مگر ہمیں اس کی پروا کم ہی ہوتی تھی۔طافو کو اپنے ساتھ سکول لے جانے میں ہمیں اتنی دلچسپی اس لیے بھی تھی کہ ایک تو وہ راستے میں کہانیاں بڑی مزے کی سناتا تھا۔دوسرا وہ سکول میں ہم سے بڑے لڑکوں کی پھینٹی لگاتا اور ہم خود کو اس کی موجودگی میں بے حد محفوظ محسوس کرتے تھے۔ہم ابھی تیسری اور پانچویں کے درجے میں تھے اور وہ آٹھویں کا امتحان دے چکا تھا۔ہمارے سارے گروپ پہ اس کی علمیت کا رعب تھا۔اس نے سکول جاتے ہوئے راستے میں ہم سب کو بتایا تھا کہ کیکر کے تنے پہ یہ جو اوپر سے نیچے تک ایک سیاہ رنگ کا مائع سا گِرا ہوتا ہے یہ شیطان کا مُوت ہوتا ہے۔اوہ! وہ بتاتا شیطان ہمیشہ کیکر کے تنے پہ موتتا ہے۔تب میں چشمِ تصور سے شیطان کو ٹانگیں کھولے کیکر کے تنے پہ پیشاب کرتے دیکھتا تو کافی عجیب لگتا۔
اس نے کیکر کے تنے سے چیڑ ( گوندنی)نکال کے بھی ہمیں دکھائی ،جس سے ہم اپنے سکول کی کتابوں اور کاپیوں کے پھٹے ورقے جوڑا کرتے۔اس کے پاس ہمیشہ کھُڈے استرے کا ایک چاقو ہوا کرتا تھا جس سے کیکر کی چیڑ نکالنے،سرکنڈے کاٹ کے ان کے کانے سے قلم تراشنے سے لے کر کماد سے گنے کاٹنے اور ہمیں ڈرانے تک کے کئی کام لیا کرتا۔ہم سارے کچی آبادی کے بے ترتیب کوٹھوں اور بے صحن
گھروں میں پیدا ہونے اور پلنے والے لوگ تھے۔صبح سے دوپہر اور دوپہر سے شام تک اودھم مچانے کے بعد رات کی روکھی سوکھی روٹی کھا کے بے سُدھ ہوجاتے۔ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری اس بے ہوشی کے بیچ کیا کیا ہوتا رہتا تھا۔اس کچی بستی میں،بڑی بستی میں ،یا پوری دنیا میں کیا ہورہا تھا،ہر چند دنوں بعد کسی نہ کسی کوٹھے کے آگے ایک بچہ ٹانگیں بازو ہلاتا نظر آتا،کچھ مہینوں بعد وہ کنکھجورے کی طرح رینگتا اور پھر ایک دن ہم میں سے کسی ایک کی قمیض کا پچھلا کونا پکڑ کے چلنا شروع کردیتا۔یہ ایک مسلسل عمل تھا۔طافو کو ساتھ لے جانے کی خواہش جس دن بر نہ آتی وہ دن بڑا عجیب لگتا۔اس دن ہمارا گروپ تفریح کا پروگرام بناتا ،اور ہم بستے اٹھائے چل پڑتے،جیسے ہی بستی نگاہوں سے اوجھل ہوتی ہم بستے بابے راجے کے مالٹے کے باغ میں چھپاتے اور دور دور تک لمبرداروں کے کھیتوں میں پھیل جاتے ۔
ایک دوپہر کو سکول سے واپسی پہ طافو نے ہمیں بتایا کہ اس نے بابے لمبردار کے آم کے باغ میں ایک آم پہ چُڑیل دیکھی ہے۔چُڑیل کاذکر سنتے ہی سارے گروپ کے پسینے چھوٹ گئے۔ہم جو پہلے باغ کے بیچوں سے ہوکے گھر جایا کرتے تھے،اس دوپہرکو ہم نے نیا راستہ ڈھونڈا۔یہ نیا راستہ کچھ زیادہ طویل تھا،نہ صرف طویل بلکہ لُگا اور خوفناک بھی تھا۔بڑے بڑے سیاہ جثہ کینو کے بُوٹے اور ان کے اندر سے نکلتی تنگ چھِرکیاں جو اس باغ میں کام کرنے والوں نے صرف ایک آدمی کی گزرگاہ کے لیے بنا چھوڑی تھیں۔تو اس دوپہر سفرکے دوران جب کہ ہم تھک گئے تھے طافو نے گروپ کو جامن کے ایک بڑے پیڑ کی گھنی چھاؤں میں بٹھایا اور رمضو(رمضان) کو اپنے ساتھ چلنے کا کہا۔رمضو نے اپنا بستہ ہمارے پاس رکھا اور وہ دونوں ہمیں یہ بتا کر کہ وہ مذید آگے راستہ ڈھونڈنے جارہے ہیں ایک طرف کو نکل لیے۔کافی دیر بعد جب دونوں واپس لوٹے تو ہانپ رہے تھے۔اس دن گرمی بھی اخیر تھی اور پیاس سے حلق میں سرکنڈے اُگ آئے تھے۔ہم دوبارہ عازمِ سفر ہوئے۔پہروں بعد جاکے سفر کٹا اور عصر کے وقت گھر نصیب ہوا۔اس دن مجھے بہت مار پڑی۔سکول سے آتے وقت ہم اکثر کیکر کے درختوں کے جھنڈوں میں کچھ دیر کو سستایا کرتے تھے۔ایک دفعہ کیکر کے جھنڈ کے نیچے بیٹھنے کے بعد طافو نے نزدیکی کھال میں سے چِکنی مٹی نکال کے لانے کو کہا۔ہم نے بستے وہیں طافو اور رمضو کے پاس چھوڑے اور مٹی لینے چلے گئے،جب ہم ہاتھوں میں بُک بھر بھر کے گیلی چِکنی مٹی لائے تب رمضو اور طافو ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہمیں استہزائیہ دیکھ رہے تھے،پتا نہیں لگتا تو ایسا ہی تھا،وہ دونوں بڑے تھے اور ان کی آپس کی دوستی ہمیں رشک اور حسد میں مبتلا کرتی تھی۔طافو جب کسی لڑکے کی گردن میں اپنا بازو حمائل کرتا تو وہ خود کو معتبر محسوس کرتا۔جب مٹی گندھنے کے بعد تیار ہوگئی تو سب لوگ اس سے اپنی اپنی پسند کی چیزیں بنانے لگے۔میں نے اپنے حصے کی مٹی میں کیکر کے پیلے پھول گوندھ کر چِتکبرا بیل بنایا۔جب بیل سوکھتا تھا تو پیلے پھول اس کے جسم پہ چِتیاں ڈال دیتے تھے۔امجدنے گھر کے برتن،غفور نے ٹرک بنایا۔مگر طافو نے جو چیز بنائی ہمیں نہیں دیکھائی۔اس نے بڑے انہماک کے ساتھ ہم سب کی طرف پیٹھ کرکے کوئی چیز بنائی اور پھر رمضو کو آواز دی۔رمضو اس وقت کوٹھا بنا کے اس کے ساتھ سیڑھیاں بنا رہا تھا۔جب رمضو اٹھ کے دیکھنے گیا اور اس کی نظر پڑی تو اس کا چہرہ سُرخ ہو گیا،رمضو کا چہرہ ہماری طرف تھا ،ہم دیکھ رہے تھے،تجسس غالب آرہا تھا مگر جرات مفقود تھی۔رمضو کو دیکھانے کے بعد طافو نے مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے جوڑ کے اس چیز کو کیموفلاج کردیا۔تجسس مسلسل دماغ میں ہلکورے لے رہا تھا۔ساری رات میں خواب میں ڈھیلوں کے بنے اس قلعے کے اندر عجیب عجیب چیزیں دیکھتا رہا۔جی چاہارات کو اٹھ کے جاؤں اور دیکھوں کہ طافو نے کیا چیز بنائی تھی مگر ہمت نہ ہوئی،صبح اور سکول سے واپسی پہ وہ ویسے ساتھ ہوتا تھا بھلا کہاں دیکھنے دیتا،تجسس کی بھی اپنی طاقت ہوتی ہے۔دوسرے دن سکول سے واپسی پہ جب کیکروں کے جھنڈ والا مقام ابھی دور تھا میں اچانک دونوں ہاتھ ٹانگوں کے بیچ دے کے دوہرا ہوا اور چہرے پہ شدید تشنجی کیفیت طاری کی اور دوڑ پڑا۔سب یہی سمجھے کہ مروڑ پڑ گیا ہے،میں نے جھنڈ کے نیچے آکے طافو کے قلعے کے پاس بریک لگائی ،دھڑکتے دل اور بجتی کنپٹیوں کے ساتھ میں نے ڈھلے اٹھائے اندر سے جو کچھ نکلا اس کے نظارے نے دل کے گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔میں نے ڈھیلا واپس رکھا اور گھسٹنے کے سے انداز میں کچھ کھسک کر ذرا دور ہٹ کے بیٹھ گیا۔تب تک وہ بھی سارے پہنچ گئے اور میری حالت پہ مشوش ہوئے۔اور مجھے ڈنڈا ڈولی کرکے گھر تک لائے۔
وہ دن بھی ایسا ہی تھا جس دن طافو ہمارے ساتھ نہیں آیا۔اس دن مفت خورے کا طعنہ سننے کی وجہ سے اس کا حلق کڑواند سے بھرا ہوا تھا۔ ہم نے بھُگ نڑوں اور گھل بانسی کی دیوار کے اندر سے جھانکا۔وہ چارپائی پہ پاؤں لٹکائے چہرہ دونوں ہاتھوں میں دیئے بیٹھا تھا۔اس کی بے بے (نانی) اور ممانیاں صحن میں چلتی پھرتی کام کاج کررہی تھیں۔ہم نے ایک دوبار اسے پکارا مگر اس نے نہیں سنا۔آخر بابے شیرے کے کھنگورے پہ ہم نے دوڑ لگادی۔جب خوب کھیل پھاند کر دن ڈھلے ہم تھکے ہارے گھر پہنچے اورطافو کی خبر لی تو پتا چلا کہ طافو واپس کراچی چلا گیا ہے۔ وہ اپنے نانا سے غصہ ہوکے گیا تھا۔رنجیدہ تو وہ تھا مگر ایسی بھی کیا رنجیدگی تھی کہ اس نے ہمیں بتایا تک نہیں شاید کئی دن سے اس کے دماغ میں جانے کا خیال پک رہا تھا،اور پھر ایک دن سویرے اس نے کسی کو بتائے،الوداع کیے بغیر نانا کا گھر چھوڑ دیا۔اس کے جانے کے بعد اسی دن ابھی شام پوری طرح نہیں ڈھلی تھی کہ بابے شیرے کے گھر مہمان اترنا شروع ہوگئے۔سڑک پار کی ساری کچی بستی حیران تھی کہ ادھر کیا ہورہا ہے۔ایک تانگہ سواریاں اتار کے چلتا تو دوسرا آکے رکنے لگتا۔رات گئے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔کوئی سو ڈیڑھ سو رشتہ داروں سے گھر بھراپڑا تھا۔ابھی اور آرہے تھے۔بابے شیرے کے بیٹے تنبو قناتیں اور بستر چارپائیوں کے بندوبست میں لگے تھے اور کچھ قریبی عزیزسارے علاقے میں پکانے کے لیے بکرے ڈھونڈتے اور خریدتے پھر رہے تھے۔لوہاروں کے گھر میں چہل پہل کا سماں تھا۔کچی بستی والے حیران تھے کہ کوئی شادی بیاہ بھی نہیں تو یہ سب کیا ہے۔آخر رات کو یہ بھید کھلا کہ یہ سب طافو کا کیا دھرا تھا۔کراچی کے لیے نکلتے وقت طافو نے شہر جا کے کچھ قریبی رشتہ داروں کو فون کردیا تھا کہ بابا شیرا فوت ہوگیا ہے۔رات کا مرا ہوا ہے جلدی دفن ہوگا اس لیے دیر نہ کریں اور باقی رشتہ داروں کو بھی اطلاع کردیں۔رشتہ دار چونکہ دور دور کے شہروں میں تھے اس لیے سنتے ہی بھاگے۔اس رات بابے شیرے کا جتنا خرچہ ہوا اگر طافو چار سال بھی فارغ بیٹھ کے کھاتا رہتا تو اتنا خرچہ نہ ہوتا۔بابا یہی سوچے جا رہا تھا۔اور ٹرین میں بیٹھ کے کراچی کی طرف عازمِ سفر طافو بھی یقیناًیہی سوچ رہا ہوگا

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.