ہاتھ کی صفائی ۔۔۔ نجیب محفوظ

Naguib Mahfouz was an Egyptian writer who won the 1988 Nobel Prize for Literature. He is regarded as one of the first contemporary writers of Arabic literature, along with Tawfiq el-Hakim, to explore themes of existentialism.

ہاتھ کی صفائی

(نجیب محفوظ )

وقت آگیا ہے کہ تم کارآمد آدمی بنو۔ماں نے مجھ سے کہا اور ساتھ ہی اپنی جیب میں ہاتھ سرکاتے ہوئے کہنے لگی۔ یہ ’پیاسترا‘ لو اور جاکر تھوڑا سا ’لوبیا ‘لے آؤ۔ دیکھو راستے میں کھیل کود میں مت لگ جانا اور ٹریفک سے بھی بچنا۔

میں نے تھالی لی۔ کھڑاویں پہنیں اور ایک دُھن گنگناتا ہوا چل پڑا ۔لوبیا بیچنے والے کے پاس لوگوں کا ہجوم تھا۔ میں نے انتظار کیا اور تب مجھے اس سنگ مر مر کی میز تک جانے کا راستہ ملا۔

جناب مجھے ایک پیاسترا کے برابر لوبیا چائیے ‘‘ میں نے چیخنے کے اندازمیں کہا۔

اس نے فوراً پوچھا ‘‘ خالی لوبیا؟ تیل یا گھی کے ساتھ؟

میں کوئی جواب نہ دے پایا تو اس نے کے بے رخی سے کہا جاؤ کسی اور کو آنے دو۔

میں بوکھلا کر پیچھے ہٹ گیا اور شکست خوردہ گھر کو لوٹا۔

’’ہوں ۔خالی تھالی کے ساتھ لوٹ آئے ۔شریر لڑکے تم نے کیا کیا۔ لوبیا گرا دیا،’ پیاسترا ‘گم کر بیٹھے ‘‘ماں مجھ پر چلائی صرف لوبیا یہ تیل یا گھی کے ساتھ چاہیے تھا ۔۔ تم نے مجھے بتایا ہی نہیں میں نے احتجاج کیا۔

احمق ہر روز صبح کے وقت تم کیا کھاتے ہو؟

مجھے نہیں معلوم۔

نکمے آدمی اسے کہو تیل کے ساتھ لوبیا۔

میں اس شخص کے پاس پہنچا اور کہا جناب کیا ’پیاستر ‘کا لوبیا تیل کے ساتھ۔

اس نے نہایت عجلت کے انداز میں تیوری چڑھا کر پوچھا السی کا تیل، اخروٹ کا تیل ، یا زیتون کا تیل؟

میں حیران رہ گیا اور مجھ سے کوئی جواب نہ بن پایا۔ کسی اور کے لیے جگہ چھوڑو بھئی‘‘ وہ چلایا

میں غصے میں تپا ہوا ماں کے پاس پہنچا تو وہ حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بولی ’’ تم پھر خالی ہاتھ واپس آگئے ۔ نہ لوبیا نہ تیل

السی کا تیل ،اخروٹ کا تیل یا زیتون کا تیل ۔ تم نے مجھے بتایا ہی نہیں ‘‘ میں نے غصے سے کہا

تیل کے ساتھ لوبیے کا ملاپ ہوتا ہے السی کے تیل کے ساتھ۔

اب مجھے یہ کیسے معلوم ہوتا۔

تم نکمے ہو اور وہ ایک تکلیف دینے والا شخص ہے ۔ اسے کہو کہ لوبیا السی کے تیل کے ساتھ۔

اب مجھے کیا پتا تھا

میں جلدی سے واپس ہوا اور ابھی دوکان سے کچھ دوری پر ہی تھا کہ میں نے اس آدمی سے کہا جناب لوبیا السی کے تیل کے ساتھ

اس نے کرچھے کو تیل والے برتن میں داخل کرتے ہوئے کہا پیاستر کاؤنٹر پر رکھ دو۔

میں نے اپنا ہاتھ جیب میں ڈالا مگر پیاستر وہاں نہیں تھا۔ میں نے پریشانی کے عالم میں تلاش کیا۔ میں نے جیب کو باہر کی طرف الٹ دیا لیکن وہا ں کچھ نہ تھا۔ آدمی نے بے زاری کے ساتھ خالی کرچھا پیچھے ہٹا لیا‘‘ تو تم نے’ پیاستر‘ گم کردیا ۔تم قابل اعتماد لڑکے نہیں ہو‘‘

مسئلہ کھڑا مت کرو اور کسی دوسرے کے لیے جگہ خالی کرو

میں خالی تھلی کے ساتھ ماں کے پاس لوٹا

افسوس ۔تم بے وقوف لڑکے ۔ یعنی پیاستر۔ تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟‘‘

وہ میری جیب میں نہیں تھا

کیا تم نے اس کی مٹھائی خریدلی؟

میں قسم کھاتا ہوں میں نے ایسا نہیں کیا۔

تم نے کیسے اسے گم کیا؟

میں نہیں جانتا

کیا تم قرآن کی قسم کھا سکتے ہو کہ تم نے اس کے عوض کچھ نہیں خریدا

میں قسم کھاتا ہوں

کیا تمہار ی جیب میں سوراخ ہے؟

نہیں

ہو سکتا ہو تم نے پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ اسے اس شخص کو دے دیا ہو

ہو سکتا ہے

کیا تمہیں کسی بھی بات کا یقین نہیں

مجھے بھوک لگی ہے

ماں نے راضی بہ رضا ہو کر ہاتھوں کو تالی کے انداز میں جوڑا۔ چلو کوئی بات نہیں ۔ وہ بولی میں تمہیں ایک اورپیاستر دوں گی لیکن یہ میں تمہاری گولک سے نکالوں گی اور اگر اب تم خالی تھالی کے ساتھ واپس آئے تو میں تمہاری گردن توڑدوں گی

میں ایک مزیدار ناشتے کا خواب دیکھتا ہوا دوڑنے کے انداز میں روانہ ہوا۔ وہ موڑجہاں لوبیا بیچنے والا بیٹھا تھا وہا ں میں نے جشن کے انداز میں خوشی کی آوازیں نکالتے بچوں کا ایک ہجوم دیکھا۔میں نے اپنے پاؤں کو گھسیٹا کیونکہ میرا دل ان کی طرف کھنچتا تھا۔ کم از کم تھوڑی دیر کے لیے سرسری طور پر ہی مجھے ان کو دیکھ لینا چاہیے۔ میں ان میں گھس گیا اور مجھے لگاکہ ہاتھ کی صفائی دکھانے والا سیدھا میری ہی طرف دیکھ رہا تھا ۔ ایک مدہوش کردینے والی خوشی مجھ پر چھا گئی ۔ میں اپنے آپ میں بالکل نہیں رہا تھا ۔میں اپنے پورے حواس کے ساتھ خرگوشوں ،انڈوں،سانپوں اور رسوں کے کتبوں میں محو ہوگیا۔ جب وہ شخص پیسے اکٹھے کرنے کے لیے آیا تو میں بڑبڑاتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا۔’’میرے پاس تو پیسے ہیں ہی نہیں‘‘وہ وحشیانہ طریقے سے میری طرف بڑھا اور میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو بچایا ۔ میں دوڑ پڑا ۔ اس کے مکے کی ضرب سے میری کم تقریباً ٹوٹ ہی چلی تھی۔ تاہم جب میں لوبیا بیچنے والے کی طرف جارہا تھا تو بے انتہا خوش تھا۔

ایک ’پیاستر ‘کا لوبیا السی کے تیل کے ساتھ جناب ‘‘ میں نے کہا

وہ کوئی حرکت کئے بغیر میری جانب دیکھتا رہا میں نے اپنا سوال دہرایا۔

مجھے تھالی دو ‘‘ اس نے غصے سے مطالبہ کیا۔

’’تھالی‘‘۔ تھالی کہاں تھی ؟ کیا میں نے اسے دوڑتے ہوئے گرا دیا تھا؟ کہیں اس شعبدہ باز نے تو اس کے ساتھ ہاتھ کی صفائی نہیں دکھا دی تھی؟

لڑکے، تم بالکل پاگل ہو‘‘

میں واپس مڑا اور اپنے راستے پر چلتے ہوئے کھوئی ہوئی تھالی کو تلاش کرنے لگا۔ جہاں شعبدہ باز موجود تھا اس جگہ کو میں نے خالی پایا لیکن بچوں کی آوازیں مجھے ایک قریبی گلی میں اس تک لے گئیں۔ میں دائرے کے گرد گھوما ۔ جب شعبدہ باز نے مجھے دیکھا تو وہ دھمکی آمیز لہجے میں چیخا ’’پیسے دو ورنہ یہاں سے چل دو‘‘۔

وہ تھالی ‘‘ میں مایوسی سے بولا

ننھے شیطان،’’ کو ن سی تھالی؟‘‘

مجھے میری تھالی واپس کرو‘‘

یہاں دفعہ ہو جاؤ ورنہ میں تمہیں سانپوں کی غذا بنا دوں گا‘‘۔

اس نے تھالی چرالی تھی۔ بہرحال خوف کے مارے میں اس کی نظروں سے دور ہو گیا اور رونے لگا۔ جب بھی کوئی راہ گیر مجھے روتے ہوئے پاکر مجھ سے رونے کی وجہ پوچھتا تو میں کہتا ’’شعبدہ باز نے میری تھالی غائب کردی ہے‘‘ ۔ جب میں اس مصیبت میں گھرا ہوا تھا تو ایک آواز میرے کانوں میں پڑی ’’ یہاں آؤ اور نظارہ کرو‘‘

میں نے اپنے پیچھے دیکھا ایک سیر بین والے نے وہاں اپنااڈا جمایا ہوا تھا۔ میں نے درجنوں بچوں کو دیکھا جو’’ سیر بین‘‘والے ڈبے کی طرف بڑھ رہے تھے اور باری باری موکھے کے سامنے کھڑے ہوکر اندر جھانک رہے تھے اور وہ شخص ساتھ ساتھ تصاویر پر تبصرہ بھی کرتا جارہا تھا۔ ’’ آؤ، بہادر بانکا دیکھو اور عورتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت عورت زینت البنات دیکھو‘‘ اپنے آنسوؤں کو خشک کرتے ہوئے ، اور شعبدہ باز اور تھالی کو مکمل طور پر بھولتے ہوئے میں نے شوق کے ساتھ اس ڈبے کی طرف دیکھا۔ میں اپنی خواہش پر قابو نہ پاسکا ۔میں نے ’پیاستر‘ ادا کیا اور اس لڑکی سے آگے جاکر موکھے کے اندر جھانکنے لگا وہ ایک دوسرے موکھے کے آگے کھڑی تھی۔وہاں ہماری نظروں کے سامنے خوش کن تصویری کہانیاں تیر رہی تھیں۔ جب میرے ہوش و حواس بحال ہوئے تو میں نے محسوس کیا کہ میں ’پیاستر‘ اور تھالی دونوں چیزوں کو بھو چکا تھا اور شعبدہ باز کا کوئی پتہ نہیں تھا تاہم میں نے نقصان پر دھیان نہیں دیا او اس لیے کہ میں تصاویر کی شان، محبت اور جرأت کے کارناموں سے مغلوب ہوچکا تھا۔ میں اپنی بھوک بھول گیا تھا اور گھر واپس پہنچنے پر جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا تھا اسے بھی میں بھول چکا تھا۔ میں چند قدم پیچھے ہٹا اور میں نے اس قدیم دیوار کے ساتھ ٹیک لگالی جہاں کسی زمانے میں آفیسر مالیات کا دفتر اور آفس اعلیٰ کا گھرہوا کرتا تھااور پھر میں جاگتی آنکھوں سے سپنا دیکھنے لگا۔ بہت دیر تک میں شان و شوکت، زینت البنات اور غول بیابانی کے خواب دیکھتا رہا۔ اسی خواب میں اپنی حرکات و سکنات کے توسط سے میں اپنے لفظوں کو معانی دینے کے لیے اونچی آواز میں بولتا رہا۔ میں نے تصوراتی نیزے سے حملہ کرتے ہوئے کہا’’او غول بیابانی یہ تو سیدھا تمہارے دل میں ‘‘

اور اس نے اپنے گھوڑے پر اپنے پیچھے بیٹھائی ہوئی زینت البنات کو اوپر اٹھایا ‘‘ ایک ملائم آواز پیچھے سے اُبھری۔

میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا یہ وہی لڑکی تھی جو اس تفریحی پروگرام میں میرے قریب موجود رہی تھی۔ اس نے گندہ لباس پہن رکھا تھا اس کی کھڑاویں رنگ دار تھیں وہ اپنے بالوں کی ایک لمبی لٹ سے کھیل رہی تھی اس کے دوسرے ہاتھ میں سرخ اور سفید رنگ کی وہ میٹھائیاں تھیں جنھیں ، لڑکیوں کی خاص پسند کہا جاتا ہے اور جنھیں وہ اطمینان سے چوسے جارہی تھی ہماری نظریں آپس میں ملیں اور میرا دل جاتا رہا۔

’’آؤ کہیں بیٹھتے ہیں اور سستاتے ہیں ‘‘ میں نے اس سے کہا۔

اس نے میری تجویز پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ میں نے اس کا بازو تھام لیا اور ہم پرانی دیوار کے دروازے سے نکل کر باہر آگئے اور سیڑھی دار راستے کے ایک مقام پر جا بیٹھے۔ وہ سیڑھی دار راستہ اوپر کی طرف بڑھتا ہوا ایک ایسے پلیٹ فارم پر جاکر ختم ہوتا تھا کہ جس کے پیچھے سے نیلا آسمان اور مینار دیکھے جاسکتے تھے۔ ہم خاموشی سے ایک دوسرے کے قریب بیٹھ گئے ۔ میں نے اس کے ہاتھ کو دبایا ہم کو نہیں معلوم تھا کہ کیا کہا جائے اس لیے خاموش ہی بیٹھے رہے ۔

میں ایسے احساسات کے تجربے سے گزر رہا تھا جو نئے عجیب اور مبہم تھے ۔اپنا چہرہ اس کے قریب کرتے ہوئے میں نے اس کے بالوں کی فطری خوشبو کو سو نگھا جس میں مٹی کی مہک اور مٹھائیوں کی خوشبو ملی جلی تھی ۔اس کی سانسوں کی خوشبو بھی شامل تھی ۔میں نے اس کے ہونٹوں کو چوما ۔میں نے اپنے تھوک کو نگلا جس میں اسی’’ لڑکیوں کی خاص پسند ‘‘والی مٹھائیوں کی مٹھاس تحلیل ہو چکی تھی ۔میں نے اپنا بازو اس کے گرد حمائل کیا اس کی خاموشی برقرار رہی اور میں اس کے گالوں اور لبوں کے بوسے لیتا رہا۔جب میں نے اُس کے ہونتوں کو چوما تو یہ غیر متحرک ہو گئے لیکن فوراً ہی دوبارہ اُن مٹھائیوں کو چو منے میں لگ گئے۔آخر کار اُس نے فیصلہ کیا کہ اب ہم کو اُٹھ جا نا چاہیے تھا ۔میں نے بے قرار ی سے اُس کا بازو تھام لیا۔

’’بیٹھ جائے ‘‘ میں نے کہا

’’میں جا رہی ہوں ‘‘ اُس نے نہایت سادگی سے جواب دیا

کہاں ۔۔۔؟ میں نے تیز لہجے میں پو چھا

’’دائی ام علی کے ہاں ‘‘ اور نیچے کی طرف اس نے اس مکان کی جانب اشارہ کیا جس کی نچلی منزل میں لوہار کی ایک چھوٹی سی دکان بھی تھی۔

’’کیوں‘‘۔

اسے کہنے کے لیے کہ وہ جلدی سے آئے۔

’’کیوں ‘‘؟

میری والدہ گھر پر درد زے سے چلّا رہی ہے۔ اس نے مجھے کہا تھا کہ میں دائی ام علی کے پاس جاؤں اور جلدی سے اسے اپنے ساتھ لے کر آؤں‘‘

’’کیا تم اس کے بعد واپس آؤ گی؟‘‘

اس نے سر ہلا کر رضامندی کا اظہار کیا۔ اس نے جب اپنی والدہ کا حوالہ دیا تو اس نے مجھے میری ماں کی بھی یاد دلادی میرے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔ پرانے سیڑھی دار راستے سے اٹھتے ہوئے میں گھر کی طرف چل دیا۔ میں اونچی آواز سے رونے لگا یہ ایک آزمودہ نسخہ تھا جس سے میں اپنا دفاع کرسکتا تھا ۔ مجھے توقع تھی کہ وہ مجھے دیکھتے ہی میری طرف لپکے گی لیکن وہاں تو اس کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ ‘‘ میری ماں کہاں چلی گئی؟ وہ کب لوٹے گی؟ میں خالی گھر میں بور ہونے لگا ۔مجھے ایک خیال سوجھا۔ میں نے کچن سے ایک تھالی لی اپنی بچت کی رقم میں سے ایک ’پیاستر‘ لیا اور فوراً لوبیا بیچنے والے کی طرف چل پڑا ۔ میں نے اسے دکان کے باہر ایک بینچ پر اپنے بازو سے چہرے کو ڈھانپ کر سوئے ہوئے پایا۔ لوبیے والے برتن غائب تھے اور تیل کی لمبی گردن والی بوتلیں واپس الماری میں رکھی ہوئی تھیں اور سنگ مرمر سے بنے کاؤنٹر کی اوپر والی سطح کو دھو دیا گیا تھا۔

جناب‘‘ میں نے اس کے نزدیک پہنچ کر سرگوشی کی

مجھے کوئی جواب نہ ملا بس اس کے خراٹے ہی سنائی دے رہے تھے۔ اس کے کندھے کو چھوا۔ اسنے چوکنا ہوکر اپنا بازو بلند کیا اور اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے میری طرف دیکھنے لگا۔

’’جناب‘‘

اس نے میری موجودگی محسوس کرتے ہوئے اور مجھے پہچانتے ہوئے نہایت کھردرے طریقے سے پوچھا’’کیا چاہتے ہو؟‘‘

’’ایک ’پیاستر‘ کا لوبیا ۔ السی کے تیل کے ساتھ‘‘

’’ہوں‘‘

میرے پاس پیاستر بھی ہے اور تھالی بھی‘‘

’’لڑکے ، تم پاگل ہو ’’ وہ چیخا‘‘ دفع ہو جاؤ ورنہ میں مار مار کر تمہارا بھیجہ باہر نکال دوں گا‘‘۔ جب میں وہاں سے نہ ٹلا تو اس نے مجھے اتنے زور سے دھکادیا کہ میں کمر کے بل نیچے گر پڑا ۔ میں خاصی تکلیف کے ساتھ اٹھا میں اس چیخ کو روکنے کی کوشش کرنے لگا جس نے میرے ہونٹوں کو سکیڑ دیا تھا۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں ، ایک میں ’پیاستر‘ اور دوسرے میں تھالی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔میں نے اسے غصیلے انداز سے دیکھا۔ واپس ہونے پر میں اپنی امیدوں کو ختم ہوتے ہوئے محسوس کرنے لگا لیکن دلیری اور ہمت کے تصور نے میرے عملی اقدام کو بدل کے رکھ دیا۔ پورے تیقّنکے ساتھ میں نے تیز ی سے فیصلہ کیا اور تھالی کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس پر پھینکا۔ یہ ہوا میں اڑتی ہوئی گئی اوراس کے سر سے ٹکرائی جب کہ اسی دوران ہر چیز سے بے پرواہ ہو کر میں وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا مجھے پورا یقین تھا کہ میں نے اسے مار دیا تھا جیسے کہ اس بانکے نے اس غول بیابانی کو مار دیا تھا۔ میں پرانی دیوار کے قریب پہنچنے تک بھاگتا رہا۔ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ میں نے اپنے پیچھے دیکھا کوئی بھی میرا پیچھا نہیں کر رہا تھا۔ میں اپنی سانسیں بحال کرنے کے لیے رکا، تب میں نے اپنے آپ سے پوچھا اب مجھے کیا کرنا چاہیے کیونکہ اب تو میں نے دوسری تھالی بھی کھو دی تھی۔ کسی چیز نے مجھے روکا کہ میں فوری طور پر سیدھا گھر نہ جاؤں اور پھر جلد ہی میں نے اپنے آپ کو لا تعلقی کی ایک ایسی لہر کے سپرد کردیا جس نے میری اس خواہش کو مضبوط کردیا۔ گھر واپسی پر کم و بیش ایک ماں تو ضرور میری منتظر تھی اس لیے میں نے سوچا کہ تھوڑی دیر کے لیے تو ضرور اس سے جان چھڑا ہی لینی چاہیے۔ میرے ہاتھ میں ایک پیاستر تو تھا ہی اس لیے مجھے سزا پانے سے پہلے اس سے کچھ نہ کچھ تو خوشی حاصل کر ہی لینی چاہیے تھی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں یہ سوجوں کہ میں نے کوئی غلط کام کیا ہی نہیں تھا۔ لیکن وہ ہاتھ کی صفائی دکھانے والا کہاں تھا ۔ وہ سیر بین والا کدھر تھا۔ میں نے ہر طرف انہیں ڈھونڈا لیکن بے سود تھا۔

اس بے ثمرتلاش سے تھک کر میں اسی پرانے سیڑھی دار راستے کی طرف چل دیا جہاں مجھے اس سے ملنا تھا۔ میں اس ملاقات کے متعلق سوچتے ہوئے اس کا انتظار کرنے بیٹھ گیا۔ میں نے مٹھائیوں کی خوشبو سے معطر ایک اور بوسے کی آرزو کی ۔میں نے تسلیم کیا کہ اُس چھوٹی سی لڑکی نے مجھے ایسے لمس سے آشنا کیا تھا جس سے کہ میں پہلے واقف نہ تھا ۔ایسے میں جب کہ میں انتظار کر رہا تھا اور خواب دیکھ رہا تھا مجھے ذرا اور اپنے پیچھے سے ایک سر گوشیانہ آواز سنائی دی ۔میں احتیاط سے سیڑ ھیوں پر چڑھا اور اختتامی چبوترے پر کسی کی نظر میں آئے بغیر یہ دیکھنے کے لیے کہ میرے پیچھے کیا ہو رہا تھا میں منہ کے بل سیدھا لیٹ گیا ۔

میں نے ایک بہت اونچی دیوار کے گھیرے میں کچھ کھنڈرات دیکھے جو کہ مالیاتی دفتر اورافسرِ اعلیٰ کے گھر کی باقیات میں سے تھے ۔ سیڑھیوں کے بالکل نیچے ایک مرد اور ایک عورت دونوں بیٹھے ہوئے تھے اور اس سرگوشی کا باعث وہی تھے ۔ وہ مرد ایک آوارہ شخص کی طرح تھا اور عورت ان خانہ بدوشوں جیسی تھی جو کہ بھیڑوں کی رکھوالی کرتے ہیں ۔ میرے اندر سے برآمد ہوتی آواز نے مجھ سے کہا کہ ان کی ملاقات بھی بالکل اس جیسی تھی جیسی کہ میں خود کر چکا تھا ۔ ان کی آنکھوں اور ہونٹوں سے یہ سب کچھ آشکار ہو رہا تھا لیکن ان کی اس غیر معمولی سرگرمی میں ایک حیران کن مہارت کی جھلک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میرا ان کو یوں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا اصل میں تجسس ،حیرانی ،خوشی اور بہت حد تک میری بے تابی کی وجہ سے تھا۔ آخر کار وہ ایک دوسرے کے بہت قریب ہو کر بیٹھ گئے۔ دونوں ایک دوسرے سے بے خبر سے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد وہ شخص بولا ’’روپے!‘‘

’’تم کبھی مطمئن نہیں ہوتے‘‘ وہ تنک مزاجی سے بولی

زمین پر تھوکتے ہوئے وہ بولا ’’تم پاگل ہو‘‘

’’تم ایک چور ہو‘‘

مرد نے اپنے ہاتھ کی پشت سے عورت کو ایک بھا ری تھپڑ جڑ دیا۔ عورت نے جواب میں مٹھی بھر مٹی مرد کے چہرے پر پھینکی۔ مرد نے عورت پر جھپٹتے ہوئے اس کے نرخرے کو اپنی انگلیوں سے دبایا۔ عورت نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ مرد کی گرفت سے نکلنے کی بے سود کوشش کی۔ اس کی آواز میں ناکامی تھی۔ اس کی آنکھیں اس کے حلقوں سے باہر ابل پڑیں جبکہ اس کے پاؤں ہوا میں بلند ہو گئے ۔ ایک گونگی دہشت میں ڈوبے ہوئے میں نے اس منظر کو دیکھا تب میں نے عورت کی ناک سے خون کی ایک باریک دھار کو نکلتے دیکھا۔ ایک چیخ میرے منہ سے نکلتے نکلتے رہ گئی ۔ اس سے پہلے کہ وہ شخص اپنا سر اٹھاتا میں ایک ہی چھلانگ میں نیچے اترتے ہوئے پیچھے کی طرف رینگ گیا۔ جہاں تک میری ٹانگیں مجھے لے جاسکتی تھیں۔ میں نے ایک پاگل شخص کی طرح دوڑ لگا دی۔ جب تک میری سانس نہ پھول گئی میں مسلسل دوڑتا رہا سانس بحال کرنے کے لیے جب میں رکا تو میں قطعی طور پر یہ نہیں جانتا تھا کہ اس وقت میں کہاں تھا لیکن جب میں ہوش میں آیا تو میں نے اپنے آپ کو ایک چوراہے کے درمیان تعمیر کی گئی ایک محراب کے نیچے پایا۔ آج سے پہلے میرے قدم وہاں کبھی نہیں پہنچے تھے اور مجھے بالکل نہیں سوجھ رہا تھا کہ میں اپنے گھر سے کتنی دوری پر اور کدھر موجود تھا۔ دونوں اطراف میں اندھے گداگر بیٹھے ہوئے تھے اور ہر طر ف سے لوگ گزر رہے تھے۔ جو ایک دوسرے سے بے تعلق لگ رہے تھے ۔ ایک خوف کے تحت میں نے محسوس کیا کہ میں اپنا راستہ بھول چکا تھا اور اس سے پہلے کہ میں اپنے گھر کی طرف جانے والا راستہ ڈھونڈ سکوں ان گنت مشکلات میرے انتظار میں تھیں ۔ کیا مجھے کسی راہ گیر کی مدد حاصل کرنی چائیے تا کہ وہ میری راہنمائی کرسکے۔ لیکن اگر مجھے لوبیا بیچنے والے جیسا کوئی شخص ٹکر گیا، یا اس ویرانے والے جیسا کوئی آوارہ بندہ مل گیا تو کیا ہوگا؟ کیا ایسا کوئی معجزہ ہو سکتا ہے کہ میں اپنی ماں کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر اس کی طرف دیوانہ وار بڑھ سکوں ؟ کیا مجھے خود سے اپنا راستہ تلاش کرنا چاہیے تا کہ یوں ہی ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے مجھے کوئگ ایسی مانوس حد بندی مل جائے جو صحیح راستے کی نشاندہی میں میری رہنما ثابت ہوسکے۔ میں نے خود سے کہا مجھے پرعزم رہنا چاہیے اور جلد کوئی فیصلہ کرنا چاہیے ۔ دن گزرتا جارہا تھا اور پراسرار اندھیرا چھانے والا تھا۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts: