ڈائل ٹون ۔۔۔ نسترن احسن فتیحی

Nastran Ahsan Fateehi is a famous and senior story writer of the sub continent. She is writing since 1991 and is a strong voice for

Feminism. She did her Phd on the poetic style of Faiz Ahmed Faiz

ڈائل ٹون

( نسترن احسن فتیحی)

اسے اچانک مایوسیوں نے آ گھیرا۔ ۔ ۔ جبکہ وہ سمجھتا تھا کہ مایوسی، تھکان۔ ۔ ۔ ، نا امیدی۔ ۔ ۔ جسیی چیزیں اس کی سرشت میں میں داخل نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن وہ غلط سمجھتا تھا۔ ۔ ۔ آخر وہ بھی تو انسان ہے اور ہر انسان کی طرح اپنا زیادہ تر وقت اس عارضی دنیا کی فانی اور لایعنی اشیاء کے لئے تگ و دو کرتے اور حرص و ہوس میں گزارتے گزارتے اچانک تھکن محسوس کرنے لگا ہے۔ ۔ ۔ اور اس تھکن کی بنیادی وجہ شاید ادھر ملنے والی مسلسل ناکامی تھی۔ ۔ ۔

اس ناکامی نے اس کے اندر عجیب سی بے بسی، کڑھن اور جھلّاہٹ بھر دی تھی۔ ۔ ۔ وہ بجھا بجھا سا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی جن سوالوں کا۔ ۔ ۔ جن منتظر نگاہوں کا اسے سامنا کرنا تھا وہ اس سے بچنا چاہتا تھا مگر۔ ۔ ۔ بے بس تھا۔

گھر پہنچ کر اس نے ایک لا تعلقی اور سنجیدگی کا انداز اپنایا اور کمرے میں جا کر ایک طرف بیگ پھینکا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ ۔ ۔ بیوی اس کی آہٹ پا کر لپکتی ہوئی آئی مگر اس کی سنجیدگی دیکھ کر چہرہ کچھ بجھ سا گیا۔ ۔ ۔ اس کی نظروں میں وہی سوال تھا جس سے وہ بچنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔ ۔ ۔ اور بیوی نے بیویانہ سمجھ بوجھ کا پتہ دیتے ہوئے کولر آن کر دیا۔ ۔ ۔ کولر کی ہوا کا ٹھنڈا اور نم جھونکا دماغ پر چڑھی گرمی کو کم کرنے میں ذرا کارگر ثابت ہوا۔ ۔ ۔

’’ سنو۰یہ شربت پی لو۔ ۔ ۔ ‘‘ بیوی کی سریلی آواز بھی سرپر ہتھوڑے کی طری بجی۔ ۔ ۔ اس نے ڈرتے ڈرتے۔ ۔ ۔ آنکھیں کھولیں ۔ ۔ ۔ واقعی پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ مسکراہٹوں کی پھوار گراتی ہاتھ

میں شربت کا گلاس لئے سامنے کھڑی بیوی اس وقت اچھی لگی۔ ۔ ۔ اس کا تناؤ ذرا کم ہوا۔ ۔ ۔ بستر پر ذرا سا اُٹھ کر تکئے کا سہارا کمر کو دیتے ہوئے اس نے گلاس پکڑ لیا۔ ۔ ۔ اب وہ سوچ رہا تھا خواہ مخواہ گھر آتے وقت وہ تناؤ میں تھا۔ ۔ ۔ اب تک اس کی بیوی پائیتانے بیٹھ چکی تھی اور وہ شربت کے ننھے ننھے گھونٹ لے کر نس نس میں دوڑتی ہوئی غصّے اور جھنجھلاہٹ کی چنگاری کو ٹھنڈا کر رہا تھا۔ ۔ ۔ تبھی بیوی نے بڑی لگاوٹ سے پوچھا۔ ۔ ۔

’’ آج گئے تھے کیا۔ ۔ ۔ ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے شاکی نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیویاں اگر اپنے بیویانہ حقوق سے باز آ جاتیں تو محبوباؤں کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی۔ ۔ ۔

’’کیا تم ٹیلی فون کے اس چکر کو بھول نہیں سکتیں ۔ ۔ ۔ ‘‘ آخر کار جھلاہٹ لفظوں سے عیاں ہوہی گئی۔ ۔ ۔

’’ میں تو صرف پوچھ رہی تھی۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے ذرا روہانسی آواز میں کہا۔ ۔ ۔ اور جھٹک کر اٹھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جیسے اپنی اوڑھی ہوئی لگاوٹ اس کے قدموں میں جھاڑ کر چلی گئی ہو۔ ۔ ۔ جیسے مرغیاں اپنے پروں سے گرد جھاڑ کر کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔

اس نے جھنجھلا کر ایک ہی سانس میں شربت کا گلاس یوں چڑھایا جیسے جلتا ہوا الکوہل حلق میں انڈیلا ہو۔ ۔ ۔ اور گلاس ایک طرف پٹک کر لیٹ گیا۔ ۔ ۔

دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز اور جوتوں کی کھٹ کھٹ سے اندازہ ہوا کہ تینوں بچے بھی اسکول سے واپس آ گئے ہیں ۔ ۔ ۔

اب وہ متوقع تھا کہ بچے باری باری سے اس کے پاس آئیں گے اور سوالات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ۔ ۔

’’ ڈائل ٹون آیا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ آج بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ پندرہ دن ہو گئے ہمارے یہاں فون انسٹالڈ (installed) ہوئے۔ ‘‘

’’ پاپا گئے تھے۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ میرے دوست کے یہاں تو تیسرے دن ہی ڈائل ٹون آ گیا تھا۔ ۔ ۔ ‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ صرف اس کا خیال نہیں تھا بلکہ کان میں اس قسم کی آوازیں پڑ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ بچے اپنی ماں کے کان اور جان کھا رہے تھے۔ ۔ ۔ کسی وقت بھی اس کی باری آ سکتی تھی۔ ۔ ۔

وہ ابھی آنے والی اس افتاد کے تناؤ میں ہی تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ ۔ ۔ کولر کے بند ہوتے ہی یہ آوازیں اور واضح اور قریب محسوس ہونے لگیں ۔ ۔ ۔ اور ماحول میں پھلی ہوئی گرمی میں حلول ہو کر اس کے دماغ کی نسوں میں ناقابلِ برداشت کھنچاؤ ڈالنے لگیں ۔ ۔ ۔ وہ بلبلا کر کھڑا ہو گیا۔ ۔ ۔ اور پہلے جوتے اور موزے اتار کر پھینکے پھر بنیان اور لنگی پہن کر کمرے سے باہر نکلا۔ ۔ ۔ بچوں پر ایک سخت سی نظر ڈالی۔ ۔ ۔

’’ اتنی دیر سے آ کر تم لوگ صرف باتیں بنا رہے ہو اب تک ڈریس چینج کیوں نہیں کیا۔ ۔ ۔ ‘‘

پھر وہ بیوی سے مخاطب ہوا۔ ۔ ۔

’’ لائیٹ آتے ہی کھانا نکالو۔ ۔ ۔ اس گرمی میں کھانا کیسے کھایا جا سکتا ہے۔ ‘‘ وہ بدبداتا۔ ۔ ۔ جھلّاتا بلا ارادہ ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ ۔ ۔ اس کی جھلّاہٹ سے بظاہر ہر طرف سانپ سونگھ گیا تھا مگر جھلّاہٹ بھرے وہ الفاظ سب کی سماعت سے ہوتے ہوئے سب کے وجود میں حلول کر گئے تھے۔ ۔ ۔ اور اب ہر چہرہ تناؤ میں نظر آ رہا تھا۔

۔ ۔ ۔ بجلی تو سسرال سے روٹھی ہوئی بہو کی طرح غائب تھی۔ ۔ ۔ جسے نہ آنا تھا نہ آئی۔ ۔ ۔ اور سب کے تناؤ میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ۔ ۔ بیوی نے اپنی جھنجھلاہٹ بچوں پر نکالی اور انہیں ڈانٹ پھٹکار کر کھانا کھلا دیا۔ ۔ ۔ دونوں بیٹے اب بنیان اور نیکر پہنے بو کھلا بوکھلا کر بات بات پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ ۔ ۔

ان کی بنیان جیسے پسینے سے نہیں بلکہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ اور کیوں نہ ہوتی بھائیوں کے بیچ کی محبت جو آج کل کے بجلی اور پانی کی طرح ناپید ہو گئی تھی۔ ۔ ۔

بڑی بیٹی البتہ ایک ہاتھ میں کھجور کا پنکھا لئے زور۔ زور سے ہلا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے فلمی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی۔ ۔ ۔ جب آس پاس آسودگی اور آسائش کے چہروں پر خراشیں پڑنے لگیں تو ایسے موقعے پر نئی نسل خوبصورت میگزین کی مردہ تصویروں کے روشن اور تابناک چہروں سے زندگی کی حرارت اور خوشی تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ ۔ ۔

’’ چار بج گئے ہیں ۔ ۔ ۔ آ کر کھانا کھالو۔ ۔ ۔ ‘‘ بیوی کی آواز میں بلاوا کم اور دھمکی زیادہ تھی۔ ۔ ۔

وہ اٹھا اور ڈائینگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ایک ایک کرسی کھسکا کر اس کی بیوی اور بیٹی بھی بیٹھ گئیں ۔ ۔ ۔ کھانا کھاتے ہوئے اسے لگا کہ آج کی ساری روداد سنا کر شاید اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔ ۔ ۔ اور سب کا تناؤ بھی۔ ۔ ۔

’’ میں گیا تھا ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ۔ ۔ ۔ مگر وہ آدمی تھا نہیں ۔ ۔ ۔ دو گھنٹے بیٹھا رہا تب جا کر آیا۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ کیا کہا اس نے۔ ۔ ۔ ‘‘ بیٹی نے بڑی بے چینی سے پوچھا۔

’’ آج ایک نیا بہانہ۔ ۔ ۔ پرسوں بلایا ہے۔ ‘‘

’’ اُف کتنی کمیونیکیشن پروبلم ہم لوگ فیس (Face)کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پاپا۔ ۔ ۔ میری کئی سہیلیوں کے یہاں تو انٹرنٹ کی سہولت بھی اب ہے۔ کئی کے پاس موبائل فون ہے۔ ۔ ۔ اور ایک ہم ہیں کہ معمولی سا فون اتنی بھاگ دوڑ کے بعد ملا بھی تو نہ اب تک نمبر ملا ہے نہ ہی ڈائل ٹون‘‘۔

’’ اوپر ساہنی صاحب کا فون بھی لگ گیا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘ بیوی نے اطلاع دی تو اسے یاد آیا اس نے اور ساہنی نے ایک ساتھ ہی فون کے لئے اپلائی کیا تھا۔ ۔ ۔

شام گہری ہوئی تو گرمی سے پریشان لوگ اپنے اپنے فلیٹ سے باہر نکلنے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ عورتیں اور بچے بھی ادھر اُدھر سے نکل کر فلیٹ کے سامنے بڑے لان میں جمع ہو رہے ہیں سب کے چہروں پر بے زاری جھلک رہی ہے۔ ۔ ۔ بجلی نہ ہونے سے نلکوں میں پانی بھی نہیں آ رہا ہے اور پانی نہ آنے سے برتن نہیں دھُلے ہیں ، تو کھانا کیسے بنے۔ ۔ ۔ بچّے البتہ نا سازگار ماحول میں بھی کھیل کود میں فوراً محو ہو جاتے ہیں اور یہاں بھی ان کا گروپ الگ طرح کے کھیلوں میں مصروف ہوتا جا رہا ہے۔

’’ ارے بھائی۔ ۔ ۔ کوئی ٹرانس فورمر جل گیا ہے۔ ۔ ۔ ابھی بجلی دفتر میں فون کیا تو معلوم ہوا۔ ۔ ۔ دو گھنٹے اور لگیں گے اسے ریپئر(repair) ہونے میں ۔ ‘‘ ساہنی نے اس کی طرف آتے ہوئے اطلاع دی۔ ۔ ۔

جب نیا نیا فون ہو تو جوش میں انسان اسے جلدی ہی کھڑکاتا ہے۔ اس نے سوچا اور روکھی سی ہوں سے ساہنی کو ٹالنا چاہا۔ ۔ ۔ مگر جس خطرے کواس نے پہلے ہی سونگھ لیا تھا وہ سامنے آیا اور ساہنی نے اگلا سوال داغا۔ ۔ ۔

’’ تمہارے فون کا کیا ہوا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ ویسا ہی ہے۔ ‘‘

’’ تم نے لائین مین کو پیسے نہیں دئے ہوں گے۔ ‘‘

’’ دئیے تھے نہ بھائی صاحب۔ ۔ ۔ پورے سو روپے۔ ‘‘ اس کی بیوی نہ جانے کب پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی۔ ۔ ۔ اور اب ساہنی کی بات کا جواب دے رہی تھی۔

’’ آپ نے کچھ زیادہ دیا تھا کیا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ آجکل تین سو کا ریٹ چل رہا ہے۔ ‘‘ ساہنی نے اپنی خاص جانکاری ذرا دھیمی آواز میں ان لوگوں تک پہنچائی۔

۔ ۔ ۔ اور اس کا خون پھر بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچنے لگا۔ اس کرپٹ سو سائٹی کا تانا بانا آخر ہم اپنے ہاتھ سے ہی تو تیار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو پھر بعد میں ہر قدم پر سر پکڑ کر روتے کیوں ہیں ۔ ۔ ۔ مگر وہ کس سے کرتا یہ سوال۔ اس لئے اپنے اس خیال کو خود تک ہی محدود رکھا۔

’’ ان سے کتنی بار کہا۔ ۔ ۔ رشوت نہیں دے سکتے تو کم سے کم ایس۔ ڈی۔ او سے ایک بار مل لیتے۔ ۔ ۔ یا کسی ایسے آدمی کو پکڑ تے جس کی پہنچ اوپر تک ہو۔ ۔ ۔ بھلا ایسا کرنے میں تو کوئی برائی نہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘۔

وہ چپ رہتا ہے۔ ۔ ۔ کچھ کہنے کا فائدہ نہیں ۔ ۔ ۔ یہاں پر کمیونیکیشن پروبلم نہیں کمیونیکیشن گیپ ہے۔ اگر وہ اپنے دل کی کہے گا تو سمجھنا تو دور کوئی سننا بھی نہیں چاہے گا۔ جیسے ابھی خود اسے اپنی بیوی کی یا ساہنی کی باتیں گراں لگ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ اس کے بیوی بچّے تو اس وقت صرف ایک ہی بات سننا چاہتے تھے کہ ایسا کیا کہا جائے کہ فون کی گھنٹی بج اٹھے۔ ۔ ۔ اور وہ سوچتا ہے کہ آخر جب اپلائی کر کے ایک سال وہ اپنی باری کا انتظار کر سکتا ہے تو ایک ماہ اور کیوں نہیں ۔ کچھ دیر اور آس پڑوس کے لوگ اسے طرح طرح کے مشورے دیتے رہے اور وہ صبر کے گھونٹ بھرتا رہا۔ ۔ ۔ وہ کسے سمجھاتا جبکہ اس کے اپنے بھی اس کی دانست میں ان نا سمجھوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئے تھے۔ اچانک بجلی آ جانے سے پوری بلڈنگ جگمگا اُٹھی۔ ۔ ۔ اور ان تمام لوگوں میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ۔ ۔

کئی دن اور معمول کے مطابق یو نہی سرک گئے۔ ۔ ۔ اس نے ہر طرف کے پریشر سے گھبرا کر اپنے مزاج کے خلاف بھی کئی کام کئے۔ ۔ ۔ کئی پاور فُل لوگوں کے دروازے پر گیا۔ ۔ ۔ مگر ہوا کیا۔ ۔ ۔ اپنی بے چینی اور کمتری کا احساس اس کی انا کو کچو کے لگا گیا۔ ۔ ۔ معاملہ جہاں تھا وہاں رکا رہا۔ ۔ ۔ وہ سوچتا ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس میں اپنی انا سے سمجھوتا کرنا پڑے۔ ۔ ۔ اسے مجروح کرنا پڑے۔ ۔ ۔ بیوی کہتی۔ ۔ ۔ یہ انا، اصول، خود داری سب ناکامیاب لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں ۔ ۔ ۔ بدلتے ہوئے وقت میں ان باتوں کی قیمت ویسے ہی گرتی جا رہی ہے جیسے ڈولر کے آگے انڈین کرنسی۔ اس لئے کبھی کبھی اپنے آور شوں کی چادر میں چھپنے کے بجائے اسے ایک طرف اٹھا کر پھینکنے کی طاقت بھی خود میں پیدا کرنی چاہئے۔ ۔ ۔ ورنہ زندگی کے یہ کھوکھلے اصول کبھی ہم سے بڑی قیمتی شے چھین لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ناکامی کی کالک قسمت پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘

مگر اتنی بھاگ دوڑ اور تگ و دو کے بعد اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے اصولوں کو پکڑ کر بیٹھا رہتا تو کم از کم آج اسے یہ تکلیف تو نہ ہوتی جو بار بار ان کے اور اُن کے آگے گڑ گڑا کر دوڑ کر بھی کچھ حاصل نہ کر پانے سے ہو رہی ہے۔

کچھ دنوں سے سب کی چبھتی نظروں کو وہ محسوس کر رہا تھا، جیسے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہو۔ ۔ ۔ یا ہر طرف ہر چیز ٹھیک ٹھیک چل رہی ہے۔ ۔ ۔ صرف اسی میں کوئی کمی ہے جو اب تک وہ ایک ادنیٰ سا کام نہیں کروا پایا۔ ۔ ۔ اس سسٹم سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ۔ ۔ ۔ جہاں پر کام یوں ہوتا ہے جیسے وہ نوکری نہیں احسان کر رہے ہوں ۔ ۔ ۔ اب تو اسے بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ فون انسٹالڈ (installed ) کرنے کے بعد بھی بیس دنوں سے اسے ڈائل ٹون اور نمبر نہیں دیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ صبر اور تحمل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ۔ ۔ اب تو بچوں نے بھی پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ ۔ ۔ بیوی کی ضد بھی ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ ۔ ۔ بس کبھی گھر میں اس طرح کا تذکرہ نکل جاتا کہ فلاں کے یہاں اتنی جلدی فون لگ گیا جبکہ ہم لوگوں نے کو اتنے دن ہو گئے۔ ۔ ۔ اور دور کیوں جایا جائے۔ ۔ ۔ آجکل تو ہر بات کے پیچھے ساہنی کی مثال دی جانے لگی تھی۔ ۔ ۔ اس طرح کے تبصرے اب اس کے اندر ایک ضد بنتے جا رہے تھے۔ ۔ ۔ اور اس نے ٹھان لیا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ اب رشوت دے کر ہر گز کامیابی کی کوشش نہیں کرے گا۔ ۔ ۔ سیدھے راستے سے ہی کوشش کرتا رہے گا اور ا نہیں ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر ڈائل ٹون دینا ہی پڑے گا۔ ۔ ۔ اور وہ ثابت کر دے گا کہ یہ ہمارے اوپر ہی منحصر ہے کہ ہم کون سا طریقہ اپنانا چاہتے ہیں ۔ کبھی کبھی اس کی بیوی اسے سمجھانے کی کوشش کرتی مگر وہ اس طرح کی باتیں سننا بھی نہیں چاہتا تھا اس لئے ہوا یہ کہ ایک سرد جنگ کا آغاز گھر میں ہو گیا۔ ۔ ۔

ادھر اس نے اپنی کوششیں تیز کر دیں ، وہ روزانہ ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر جا کر معلومات حاصل کرتا اور دیکھتا کہ وہ تنہا پریشان نہیں تھا۔ ۔ ۔ اس کے جیسے نہ جانے کتنے لوگ روزانہ اس دفتر کے چکر لگا یا کرتے۔ ۔ ۔ لیکن ایک دن ایسی ہی ایک مایوسی سے بھری تپتی دوپہر میں اس وقت اس کے حیرت کی انتہا نہ رہی جب نہ جانے کیوں اور کیسے اسے ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر میں یہ جواب ملا کہ۔ ۔ ۔

’’۔ ۔ ۔ آپ گھر جا کر فون رسیو کریں ۔ ۔ ۔ ابھی چند گھنٹوں میں ڈائل ٹون دیتا ہوں ۔ ۔ ۔

وہ حیران بھی تھا اور خوش بھی۔ ۔ ۔ آج کی یقین دہانی میں سچائی کی جھلک تھی۔ ۔ ۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ سب کے سامنے سرخ رو ہو جائے گا۔ ۔ ۔ گھر آتے ہی اس نے بیوی کو یہ خوشخبری دی مگر یہاں بھی اسے حیرت ہوئی جب اس خبر سے بجائے خوش ہونے کے ایک طنزیہ سی ہنسی اُس کے چہرے پر کمان کی طرح کھینچ گئی۔ ۔ ۔ بیوی کے چہرے کے طنزیہ خطوط کو دیکھ کر اس نے سوچا کہ شاید اسے یقین نہیں آیا ہے کہ وہ آج بالکل صحیح خبر لے کر آیا ہے۔ ۔ ۔ خیر۔ ۔ ۔ کچھ دیر میں یقین بھی آ جائے گا۔ ۔ ۔ جب تک اس گرمی اور انتظار کی کوفت سے نجات پانے کے لئے اس نے سوچا کہ وہ نہا کر آ جائے۔ ۔ ۔

ابھی وہ باتھ روم سے نکل کر تولیہ سے اپنے گیلے بالوں کو خشک کرنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑا ہی ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ ۔ ۔ اس کے ہونٹوں پر ایک آسودہ سی اطمینان بخش مسکراہٹ ابھر آئی۔ ۔ ۔ آخر کار وہ جیت گیا۔ ۔ ۔ اور بغیر رشوت کے اپنی کوششوں میں اسے کامیابی ملی تھی۔ ۔ ۔ بیوی بچے سب فون کی طرف لپک چکے تھے۔ ۔ ۔ وہ اطمینان سے اپنے بالوں میں کنگھی کرتا رہا۔ ۔ ۔ گھر میں آئی خوشی کی یہ لہر اسے عجیب سا سکون دے رہی تھی۔ ۔ ۔ بیٹی نے فون اُٹھا کر اپنا نمبر نوٹ کیا۔ تبھی بیوی نے رسیور اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بات شروع کی۔ ۔ ۔

’’تھینک یو۔ ۔ ۔ بھائی صاحب، مہربانی آپ کی۔ ۔ ۔ آگے بھی خیال رکھئے گا کبھی فون خراب ہو تو۔ ۔ ۔ آپ کو مل گیا تھا نا۔ ۔ ۔ ؟ پہلے بتا دینا چاہئے تھا۔ ۔ ۔ خواہ مخواہ اتنا انتظار کرنا پڑا۔ ۔ ۔ میں نے ساہنی صاحب سے آپ کا تحفہ بھیجا تھا۔ ۔ ۔ ٹھیک۔ ۔ ۔ ہنسی۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ ہم بھی ہمیشہ آپ کا خیال رکھیں گے۔ ۔ ۔ او۔ کے۔ تھینک یو۔ ۔ ۔ ‘‘

اب اس کی بیوی نے رسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا تھا۔ ۔ ۔ اور وہ سُن سا کھڑا تھا۔ ۔ ۔ وہ ہار گیا تھا۔ ۔ ۔ یہ باتیں تیزاب کا تاثر رکھتی تھیں ۔ ۔ ۔ جو اس کے یقین، اس کے اعتماد۔ ۔ ۔ اور اس کے اندر کے سچے انسان کو جھلسا گئی تھیں ۔ ۔ ۔ اس نے آئینے میں دیکھا تو اسے لگا جیسے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ یہ مسخ شدہ چہرہ اس کا ہے یا ایک سیدھے اور سچے انسان کا۔ ۔ ۔ ؟

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.