پارکنگ لاٹ۔۔۔۔۔ نور العین ساحرہ

پارکنگ لاٹ

( نور العین ساحرہ )

 جہاں جھیل میں رنگ برنگی بطخیں تیر اکرتیں جنہیں کچھ ننھے بچے ڈبل روٹی کھلاتے جبکہ قریب ہی انکی مائیں بنچوں پر بیٹھی خوش گیپیوں میں مصروف ہوتیں ، قریب ہی کچھ لوگ اپنے پالتو جانوروں سمیت شام کی سیرکے مزے لیتے  اورذرا بڑی عمر کے بچے واک کے لئے بنی ٹریل پر سائیکل چلا تے یا اسکیٹنگ کرتے، وہیں  جھیل کے بالکل سامنے چھوٹی سی پہاڑی پر روزی کا گھر تھا ۔ اس کو آج اپنی جاب سے چھٹی تھی جبکہ اس کے ماما اور پاپا دونوں ہی اپنی اپنی جاب پر گئے ہوئے تھے ۔ وہ اپنی بالکونی میں کھڑی باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ اس نے ایک ہاتھ سے کافی کا کپ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور دوسرے ہاتھ سے اپنے لمبے خوبصورت سیاہ بالوں کو سمیٹ کر پشت پر ڈالا، پھر گنگناتے ہوئے باہر دیکھنے لگی۔ وہ ہمیشہ سے فطرت کی خوبصورتیوں کی دلدادہ تھی ۔ اس کا گھر ایک چھوٹی سی پہاڑی پر واقع تھا جس کے دامن میں  یہ  خوبصورت جھیل  موجود تھی ۔ یہاں بہار اور خزاں دونوں کا اپنا حسن تھا ۔ نرم خوشبودار ہوائیں جب درختوں اور پھولوں کو چھوتی، دروازوں کھڑکیوں پہ دستک دیتیں اور اگر وہ دن چھٹی کا ہوتا تو روزی کافی کا کپ تھامے درختوں پہ بیٹھے پرندوں کی آوازوں میں کھو جاتی یا لمبے لمبے خوبصورت بال شانوں پر بکھرائے وہیں پارکنگ لاٹ میں آ کر بیٹھ جاتی جہاں سب ہمسائے پہلے سے موجود اس کا انتظار  کیا کرتے۔ فطرت کی گود میں یہ کنبہ رنگ و نسل کی پرواہ کئے بغیر ایک دوسرے سے ایسے مانوس تھا جیسے صدیوں کا سفر طے کے یہاں پہنچا ہو ۔ یہاں پر ہی چھ کاروں کے برابر کمیونٹی کی ملکیت وہ خالی جگہ موجود تھی جو باقاعدہ پارکنگ لاٹ تو نہیں تھی مگر زیادہ پارکنگ کی ضرورت کے تحت لوگوں نے خود ہی بنا لی تھی۔ ہر گھرکے سامنے  چونکہ دو کاریں پارک کرنے کے لئے جگہ مخصوص کی گئی تھی جبکہ اکثر گھروں میں تین یا اس سے بھی زیادہ گاڑیاں موجود تھیں ۔ اسی وجہ سے  دو سے زیادہ  کاروں کو کافی دور مہمانوں کے لئے بنی گیسٹ پارکنگ میں لے جا کر کھڑے کرنا بھی درد سر تھا ۔ کبھی کبھی آدھی رات کو جاب سے لوٹنے والوں کے لئے سردی ، گرمی ، تیز بارش یا برف باری میں اتنی دور پارک کرنے جانا عذاب جاں بن جاتا تھا ۔ محلے والوں نے اتنی دور جانے کی بجائے جھیل کے کنارے رہنے والی مسز سمتھ سے اجازت لے کر ان کے گھر کے بالکل ساتھ خالی پڑی کمیونٹی کی خالی جگہ اپنی کاروں  کی پارکنگ بنا ڈالی تھی۔ یوں  سب لوگوں کو  کافی  سہولت ہو گئی تھی۔ کہنے کو تو یہ پیپل کے پتے کی شکل کی جگہ محض پارکنگ لاٹ تھی مگر امن اور شانتی پھیلانے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی وسیع و عریض عمارتوں اور دالانوں سے کہیں زیادہ طاقتور محسوس ہوتی تھی ۔شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ یہاں رشتے مفادات سے مشروط نہیں تھے۔ یہاں کسی اندرونی اور بیرونی دباؤ کے بغیر صرف انسانی قدروں نے مختلف دنیاؤں اور تہذییوں سے تعلق رکھنے والے جان، سمنتھا،ازابیل ، ونود،مارتھا، سیلویا، ڈورتھی اور روزی کو اکھٹا کر دیا تھا ۔ یہاں سب ایک برابر تھے اور کوئی کسی کو ویٹو نہ کر سکتا تھا ۔ سخت سردی یا طوفانی بارش کے علاوہ روزانہ صبح کے آٹھ اور شام کے چھ بجے یکے بعد دیگرے جاب پر جانے سے پہلے اور واپسی پر یہ سب لوگ یہاں اپنی اپنی کار لینے یا پارک کرنے آتے تو ان کی آپسی ملاقات بھی ہو جاتی ۔ شروع شروع میں یہ رسمی سلام دعا رہی مگر تین سال کی مدت میں یہ ہیلو ، ہائے سے بڑھتے بڑھتے گہری دوستی میں بدل گئی ۔ پارکنگ میں جو بھی پہلے آ جاتا وہ رک کر  باقی سب کا انتظار کرتا ۔ اب تو وہ لوگ وہیں کھڑے کھڑے موسم ،ملکی معیشت اور ٹریفک مسائل کے علاوہ اپنے اپنے باسز، ، ہمسفروں اور بچوں کے شکوے شکایات تک ایک دوسرے سے کر کے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے تھے اور تو اور تہواروں پر مبارکباد اور تحفوں کا تبادلہ بھی اسی جگہ ہو جاتا۔ ان کی دیکھا دیکھی سارے محلے والے شام کو وہاں جمع ہونے لگے تھے ۔ گویا روز ایک میلے کا سا سماں ہوتا اور قدم قدم پر زندگی مسکرایا کرتی تھی ۔اکثر شام کو مسز سمتھ اپنی بالکونی کا دروازہ کھول کر ان سب کے لئے کافی ،سوپ ، چاکلیٹ یا اپنے ہاتھوں سے بنائے بسکٹ لئے باہر نکل آتیں ۔ سب مزے لے لے کر کھاتے ۔ آدھے پونے گھنٹے تک خوب محفل جمتی ۔ بعد میں سب ان کا شکریہ ادا کرتے جو کسی ماں کی طرح ان سب کو بلا تخصیص چاہتی اور محبتیں لٹاتی تھیں ۔ ان کا سترہ سالہ بیٹا گریگ جسے انہوں نے پڑھائی کے لیے قریبی شہر بھیجا ہوا تھا وہ جب بھی ان سے ملنے آتا تو اس پارکنگ لاٹ پارٹی میں شامل ہو کر  لطیفے سناتا۔ سب کو خوب ہنساتا ۔ اسے روزی بہت اچھی لگتی تھی مگر چونکہ عمر میں وہ گریگ سے پانچ سال بڑی تھی اس لئے ہرملاقات میں وہ یہ شکوہ ضرور کرتا ۔ ” کتنا اچھا ہوتا روزی اگر تم  عمر کی  اتنی پرواہ نہ کرتی یا پھر مجھ سے پانچ سال بعد پیدا ہوئی ہوتیں ۔  اچھا خیر  ، اب اس کو تو نہیں بدلا جا سکتا مگر  پلیز میرے لئے کم سے کم  اپنے ہی جیسی ایسٹرن بیوٹی یا کوئی اپسرا ڈھونڈ دو ورنہ میں سچ کہتا ہوں کہ زندگی بھر شادی نہ کروں گا” یہ سن کر روزی بری طرح جھنپ جاتی، بڑی بڑی ہرنی جیسی آنکھیں جھک جاتیں اور اس کا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہو جاتا ۔ “اِسٹاپ دس نان سینس ” ۔ وہ بڑے ہونے کا فائدہ اٹھا کر اس کو ڈانٹتی تو شرمندہ ہونے کی بجائے وہ جھوٹ موٹ کا رومیو بن کر اسکے قدموں میں بیٹھ جاتا ۔ باقی سب ہنس کر گریگ کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ، نعرے لگانے لگتے، لیکن جانے کیوں ونود کے چہرے پر ایک لمحے کو سخت ناگواری کا تاثر ابھرتا جسے چھپانے میں وہ ذرا بھی تردد  نہ کرتا اور روزی بھی اس سے بے خبر نہ تھی۔ ڈورتھی فورا اسے اپنی آغوش میں بھر لیتی اور گریگ کو پیاربھرے غصے سے ڈانٹ کر کہتی ۔ ” اس معصوم بچی کو پریشان مت کیا کرو ۔ اس کے کلچر میں ایسے مذاق کو بہت بیہودہ  سمجھا جاتا ہے ” یہ سن کر وہ چونک جاتا ، پھر حیران ہو کر کہتا

 ” لیکن مذاق کون کر رہا ہے ؟ میں تو بہت سنجیدہ ہوں ۔ کیا ظاہری عمر، خواہش ، محبت ،پیار اور جذبات بھی کبھی کسی کلچر کے تابع ہو سکتے ہیں ؟ ہم سب صرف انسان ہیں اور ہمارے درمیان محبت اور انسانیت کا فروغ ہی تو سب سے اہم کلچر ہے” ۔  سب اسکی ہاں میں ہاں ملانے لگتے اور ہر بار یونہی ہنستے کھیلتے یہ پارٹی اختتام کو پہنچا کرتی۔

ان دنوں خزاں کی آمد آمد تھی اور امریکہ کے اس علاقے میں خزاں، بہار سے بھی زیادہ رنگین ہوا کرتی۔ درختوں نے پت جھڑ سے پہلے ست رنگا لباس زیب تن کر لیا تھا۔ ہر درخت کے پتے اودے ،لال ، تیز پیلے ، ہلکے، گہرے سبز اور بنفشی رنگوں میں رنگے ہوئے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے درخت نہ ہوں گویا شعلے ہوں، جو بجھنے سے ذرا پہلے پوری قوت سے بھڑک اٹھے ہوں ۔ جھیل کے قریب ہی دو ہرن خاموش کھڑے کسی تصویر کا حصہ لگ رہے تھے ۔ تبدیلی کے اس منظر میں روزی مکمل طور پر کھو چکی تھی ۔ اس کے آس پاس قدم قدم پر خوشی ، خوبصورتی اور زندگی کی امنگیں بکھری ہوئی تھی لیکن کچھ ہی دن بعد موسم اور زندگی نے ایک ساتھ کروٹ لی اور سارے ماحول میں ایک ملگجا پن روزی کو جھنجھلاہٹ میں مبتلا کرنے لگا۔ ایک دن اچانک ان دوستوں کو دو بری خبریں ایک ساتھ ملیں ۔ ایک تو انڈیا میں ونود کے بابا کی وفات ہو گئی تھی ۔ بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے اسے اپنی ماں اور تین بہنوں کے پاس ہمیشہ کے لئے فوری انڈیا واپس چلے جانا تھا۔ دوسرا مسز سمتھ اپنا گھربار بیچ کر گریگ کے ساتھ دوسرے شہر منتقل ہو رہی تھیں ۔ یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ وہ لوگ کچھ بھی نہ کر سکے بس آنکھوں میں آنسو بھرے ان دونوں کو جاتا دیکھتے رہے ۔ جاتے جاتے مسز سمتھ روزی سے لپٹ گئیں اور روتے ہوئے بولیں” کبھی بھی یہاں سے جانے کا نہ سوچتی اگر بیٹے کی پڑھائی کا مسئلہ نہ ہوتا، جس طرح تم نے اس علاقے کو ایک آنگن بنائے رکھا اس کا میں کیسے شکریہ ادا کروں، دیکھو ہمیں پتا ہی نہ چلا اور یہ دن بھی آگیا،اپنا بہت خیال رکھنا سوئیٹ ہارٹ”۔

انکو رخصت کر کے گھر پہنچنے تک روزی کا اپنا سجیلا رنگ اترنے لگا۔ بوجھل قدموں سے اس نے ڈریسنگ ٹیبل پہ اپنا بیگ رکھا، کھڑکی کھولی اور ہوا سے گرتے پتوں اور نیچی پرواز کرتے پرندوں کی اڑان دیکھنے لگی۔فضا میں ایک اداسی گھلتی جا رہی تھی۔  مسز سمتھ اور ونود کے چلے جانے تک سارے درختوں کے پتے جھڑ گئےتھے ۔ منظر وہی تھا  مگر پس منظر بدل گیا تھا ۔ ٹنڈ منڈ درخت عجیب ویرانی اور اداسی بڑھانے کا سبب بن رہے تھے ۔ زمین پر بکھرے ہزاروں خاکی بے جان پتے جیسے مختلف خواہشوں کے بے جان لاشے نظر آتے ۔ روزی کا بس چلتا تو سب کو اٹھا کر دوبارہ درختوں پر چپکا دیتی اور خوبصورت رنگوں سے پینٹ کر دیتی ۔ ہر منظر میں پھر سے خوبصورتی بھر دیتی لیکن کیسے؟ یہ سمجھ نہ پاتی تھی ۔ وہ شام کو باقی رہ جانے والے سب ہی دوستوں کو اکٹھا کرتی ، زندگی بحال کرنے کی کوشش میں رشتوں کو سہارا دیتی اور مسز سمتھ کی طرح گھر سے چیزیں تیار کر کے سب کو  بار بار پیش کرتی مگر جیسے ہی مسز سمتھ اور ونود کے خالی گھر پہ نظر پڑتی تو سبھی چہرے مرجھا جاتے۔ باقی لوگ تو اب بھی موجود ہوتے مگر پہلے کی طرح خوش نہ ہو پاتے ۔ کچھ کھونے کا احساس اور ایک ویران بنجر زمین جیسا منظر ارد گرد تیزی سے اپنے نوکیلے پنجے گاڑنے لگا ۔ روزی ان کے چہروں کو بھانپ جاتی اور اپنے علاقے کے دلچسپ واقعات اور قصے کہانیوں سے ان کا دل بہلانے کی کوشش کرتی۔ نویں کلاس کی طالبہ سیلویا سے اس کے سکول کے بارے میں باتیں کرتی،بوڑھے جان کی دواؤں کا  خاص خیال رکھتی اسکے گھر کی صفائی ستھرائی کے علاوہ گروسری بھی خود ہی لا دیا کرتی ۔ چھوٹے بچوں سے کارٹون والی کہانیاں سنتی۔ ایک دن تو مارتھا کی چھوٹی  بیٹی سوزن  ڈھلوان  سے لڑھک کر جھیل میں گر ہی گئی ہوتی اگر روزی  عین وقت پہ پہنچ کر اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسکو بچا نہ لیتی۔

اسی پت جھڑ میں چند دن اور گزر گئے۔ ایک مہینے کے بعد مسز سمتھ کے گھر میں ایک ادھیڑ عمر جوڑا اپنی تیرہ سالہ بیٹی سمیت رہنے کے لئے آ گیا ۔ وہ عجیب آدم بیزار سے لوگ معلوم ہوتے تھے ۔ سلام دعا تو درکنار، مسکرانا بھی جیسے گناہ سمجھتے ۔ یہ سب لوگ مسز سمتھ اور ونود کو یاد کر کے آہیں بھرتے اور جان اکثر نئے لوگوں کو دیکھ کر کہا کرتا۔” یہ ضرورکوئی مفرور مجرم ہیں ۔ کسی اور سٹیٹ میں فراڈ کر کے یہاں روپوش ہونے آئے ہیں۔ اسی لئے  اب چھپتے پھرتے ہیں “۔

 اسی گھر کی خاتون کو شام کے وقت ان لوگوں نے بالکونی میں کئی بار کھڑے دیکھا مگر اسکے چہرے پر ایسی ترشی اور نخوت تھپی ہوتی کہ کوئی بھی مخاطب کرنے کی جرات نہ کر پاتا تھا۔ایک دن جب وہ لوگ جاب سے واپس آئے تو دیکھا کہ اُن کی پارکنگ لاٹ کو فیتے سے گھیر کر بند کر دیا گیا تھا اور وہاں “نو پارکنگ” کا بڑا سا بورڈ انکا منہ چڑا رہا تھا ۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب اتنی اچانک  کیسے ،کیا اور کیوں ہوا؟ اب روزانہ  گیسٹ پارکنگ میں جانے کا تصور ہی ان کو دہلانے کے لئے کافی تھا۔ روزی نے اپنا سیل فون نکال کر کمیونٹی ہلپ لائن کا نمبر ملایا اور اسپیکر کھول دیا تاکہ سب لوگ بھی گفتگو سن سکیں۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ اس گھر میں نئے آنے والے لوگوں کی شکایت پر اس جگہ کو بند کر دیا گیا ہے۔ گھر کے نئے مالک چاہتے ہیں کہ ان کے گھر کے ساتھ والی جگہ کو پارکنگ لاٹ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے ۔ اس گھر کی نئی مالکن نے بتا دیا کہ ان کو اپنے گھر کے سامنے  یہ شور شرابہ بہت ناگوار گزرتا ہے اور ان کی پراؤیسی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے کمیونٹی نے اپنی جگہ واپس لے لی تھی۔ یہ سن کر وہ سب دکھی دل سے بوجھل قدموں کو گھسیٹتے  اپنی اپنی کاروں کو گیسٹ پارکنگ کی طرف لے جانے پر مجبور ہو گئے۔

 آج خود  وقت نے ان کو ویٹو کر کے اپنی اہمیت اچھی طرح جتا دی تھی۔ کوئی نہیں جان سکتا کہ اس سے کب، کہاں اورکیا چھین لیا جائے یا اس کے اختیار کی مدت کتنی طویل ہے ۔ روزی نے جاتے جاتے مڑ کر اسی منظر میں ماضی کو کھوجنا چاہا مگر سخت سردی اور اداسی کی دھند نے ان دونوں کے درمیان اجنبیت کا ایک دبیز پردہ تان دیا تھا۔ جہاں زندگی ، اپنائیت اور چہروں کی رونق تھی اب جا بجا اداسی اور خاموشی کے ڈھیر لگے ہوتے جو ان کو انسانی بے بسی کا احساس دلاتے تھے ۔ موسم کافی بدل چکا تھا اگلے ہی دن شدید برف باری شروع ہو گئی ۔ یخ بستہ ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں ۔ سردی اتنی زیادہ تھی کہ منہ سے بولے جانے والے لفظ بھی ہواؤں میں جمتے محسوس ہو رہے تھے۔ روزی نے جیسے ہی گیسٹ پارکنگ میں اپنی کار موڑی تو وہاں اس وقت صرف بوڑھا جان برف میں پھنسی اپنی چھوٹی سی کار نکالنے کی کوشش میں ہلکان نظر آیا ۔ اتنی مشقت کی وجہ سے وہ بری طرح ہانپ رہا تھا ۔ وہ جلدی سےاپنی کار سے باہر نکلی اور  جان کی  مدد کرنے لگی۔ برف کے طوفان میں تیزی آتی جا رہی تھی ۔ اب تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنا اور بات کرنا بھی ممکن نہیں رہا تھا۔ وہ دونوں کبھی کبھی اشاروں میں بات کرتے اور برف میں پھنسی کار نکالنے میں بے حال ہوتے جاتے۔ جتنی زیادہ کوشش کرتے اتنا ہی زور سے انجن گڑگڑاتا مگر پہیے وہیں کے وہیں گھوم کر رہ جاتے ۔ زیادہ زور لگانے سے گاڑی کے بے قابو ہو کر کسی بھی چیز سے ٹکرانے کا  شدید خطرہ تھا ۔ روزی اپنی کار سے برش نکال لائی اور زمین پر لیٹ کر کارکے پہیوں کے اردگرد سے برف ہٹانے لگی۔ آدھے گھنٹے کی شدید مشقت کے بعد وہ بڑی مشکل سے کار پارک کر کے گھر کی طرف چلنےکے قابل ہو سکے۔ ان کے پیر بار بار پھسل رہے تھے ۔ اگر وہ اپنی پرانی پارکنگ میں سے گزرتے تو راستہ مختصر ہو جاتا مگر ذرا ڈھلوان ہونے کی وجہ سے روزی نہیں مان رہی تھی ۔ جان کے اصرار پر اور اس کی حالت دیکھتے ہوئے رسک لے ہی لیا ۔ وہاں آج گھپ اندھیرا دیکھ کر اسے یاد آیا کہ مسز سمتھ کیسے ان کے آنے سے پہلے ہی ہمیشہ پارکنگ کی لائٹ جلا دیا کرتی تھیں تاکہ ان لوگوں کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔ آج وہی جگہ خود سے بھی چھپی ہوئی محسوس ہوتی تھی ۔ نئے مکینوں نے مکانیت کا مفہوم ہی بدل دیا تھا۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا اندھیرے کی وجہ سے جان اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور پھسل کر پیٹھ کے بل گر گیا۔ روزی نے فورا ایمرجنسی کال کر کے بہت مشکل سے اسے اسپتال پہنچایا۔ وہیں پر معلوم ہوا کہ چوٹ کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اب آتے جاتے روزی پیپل کے پتے جیسی پارکنگ میں برف کو سوتے دیکھتی تو سبھی چہرے اس کی آنکھوں میں گھومنے لگتے۔پارکنگ کیا بند ہوئی کہ انکی محفلیں بھی جیسے اجڑ گئیں۔ گیسٹ پارکنگ میں سب کو الگ الگ جگہ ملتی، پھر کوئی بھی کسی کا انتظار نہ کرتا۔کئی لوگوں کے دفتری اوقات بدل گئے۔ کبھی کبھی روزی کی بھی نائٹ شفٹ لگ جاتی۔ واپسی پر سب کو گھر جانے کی جلدی ہوتی ۔ اب تو شام ہوتے ہی لوگ اپنے گھروں میں دبک جاتے اور کھڑکی بند کر کے روزی بھی اپنے بستر پہ گر سی جاتی ۔

پھرایک دن اچانک 9/11 کا واقعہ ظہور پذیر ہوا  اور سبھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ۔ خاص کر ایشیائی باشندے ۔ بعض اوقات کسی کے کئے کی سزا کسی اور کو بھگتنی پڑتی ہے ، سو اس بار روزی  اس ستم کا نشانہ بنی ،جب ایک دن وہ اور ازابیل اپنی نائٹ ڈیوٹی کر کے ایک بجے پارکنگ سے اپنے گھر کی طرف آ رہی تھیں کہ کچھ ٹین ایجرز نے  چاقو مار کر اسے کافی زخمی کر دیا اور پرس لے کر یہ کہتے ہوئے بھاگ گئے تھے ” ِبلڈی ایشین تم اپنے ملک میں  کیوں نہیں جا کر رہتے

خبر ملنے پر وہ سب بھاگم بھاگ اسپتال پہنچے ۔ ازابیل ڈری ڈری سہمی ہوئی آواز میں  سب کو پورا واقعہ سنانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ روزی ایمرجنسی میں آنکھیں موندے کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ اس کے والدین ان دنوں  پاکستان گئے ہوئے تھے ۔ اس نے سختی سے انہیں اطلاع دینے سے منع کر دیا تھا ۔اس کے زخمی ہونے کی خبر نئے ہمسائیوں تک بھی پہنچی۔ کچھ دن اس نے ہسپتال میں گزارنے تھے سب اسکی کمی شدت سے محسوس کرتے اور اس کے واپس خیریت سے گھر لوٹنے کے لئے مختلف تیاریاں کرتے رہتے ۔ سلویا بار بار اس کو یاد کرتی ، اس نے تو روزی کو سرپرائز دینے کی خاطر اس کی تصویر کا پنسل سکیچ بھی بنانا شروع کر دیا تھا۔

باہر برف گر رہی تھی، سناٹا  اور سردی یہاں ہڈیوں کی مخ تک اتر چکے تھے  مگر وہ روزی کی تصویر میں رنگ بھرنے کا سوچ رہی تھی ۔ویسا ہی رنگ جیسے  خود روزی کا تصور رنگوں خوشیوں اور خوبصورتیوں سے جڑا تھا ۔ وہ اس کی تصویر میں یہی زندگی بھرنا چاہتی تھی ۔ ۔ کتنے ہی پتے اس نے چن چن کر سکاچ ٹیپ کے ساتھ درختوں میں واپس جڑ دیے۔ پارکنگ میں ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگنے سے جان ہمیشہ کے لئے معذور ہو گیا تھا ۔ تنہائی کا مارا کمرے کے ایک کونے میں بیٹھا  رہتا ۔اسپتال سے فارغ تو ہوگیا لیکن وہیل چئیر کے ساتھ۔ کبھی  اپنی دوائیوں کو دیکھتا تو پارکنگ لاٹ میں روزی کے مشورے یاد آتے۔مسز سمتھ ہر روز ایزابیل کو فون کر کے روزی کی خیریت دریافت کرتی۔ اس کے بیٹے گریگ نے تو روزی کو خوبصورت پھولوں کا گلدستہ بھی بھیجا تھا۔ ونود نے بھی سب کو ای میل کی اور روزی کی صحت یابی کے لئے دعاؤں بھرے پیغامات  بھیجے ۔  وہ ہمیشہ سے اپنے مستقبل کے لئے  روزی جیسی کسی لڑکی کی تلاش میں تھا مگر وقت نے انکو بے دردی سے جدا کر دیا تھا۔ ۔مارتھا کے بچے روزانہ سوتے وقت روزی کے زخمی ہونے کی کہانی  سنتے مگر اس تہذیبی برتری اور ظلم  کی وجہ سمجھنے سے قاصر یوں ہی ڈرے ڈرے سو جاتے۔ ڈورتھی، روزی کی کمی پوری کرنے کی کوشش کرتی ۔ جب بھی کافی بنا کر دوستوں کو پیش کرتی ،روزی کو یاد کرتی اور بے چین سی ہونے لگتی۔ ایک ایک کر کے سبھی کی آنکھوں میں روزی کی کمی آنسو بن کر جھلملانے لگی تھی۔

جس  دن روزی ہسپتال سے فارغ ہوئی اس  صبح  شدید دھند تھی۔ کچھ دیر بعد ہی موسم بہتر ہونے لگا۔۔” سورج کی ہلکی ہلکی کرنیں درختوں کی ٹہنیوں کو چھونے لگیں تو پرندے بھی سیٹیاں بجاتے دانا دنکا تلاش کرنے نکل پڑے ۔ سیلویاکی پینٹنگ مکمل ہو رہی تھی۔ایک مسکراہٹ اس کے چہرے سے اترتی سارے ماحول پہ پھیلنے لگی۔ کچھ پرندے تو اس جگہ سے ہجرت کر کے کہیں اور منتقل ہو چکے تھے جو اس موسم کی سختی سے آشنا تھے وہ گھنے درختوں کی ٹہنیوں میں وقفے وقفے سے آوازیں نکال کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے۔ اسپتال سے واپسی پر یادوں کی دھند پھلانگتے ،کچھ سوچتے، روزی اپنے گھر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس دن بھی ازابیل اس کے ساتھ تھی ۔ جب وہ دونوں پرانی پارکنگ لاٹ کے قریب پہنچیں اور گاڑی سے اترنے لگیں تو انہوں نے اپنے  پیچھے ایک غیر مانوس سی آواز سنی ۔ مڑ کر دیکھا تو  معلوم ہوا مسز سمتھ کے مکان میں  رہنے والی اس مغرور عورت نے انہیں بہت لجاجت سے پکارا تھا۔ روزی کو اس کی دبنگ شخصیت اور لہجے کا یہ تضاد بہت کھلا اور وہ حیرت سے اسکی شکل دیکھنے لگی۔

 “میں تم دونو ں سے کچھ کہنا چاہتی ہوں” وہ عورت جھجھکتے ہوئے بولی ۔” فرمایئے ” ایزا بیل نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہو کہا۔ وہ ان دونوں کے قریب چلی آئی ، دور آسمان سے دھند چیرتے سورج کی ایک کرن اس چھوٹی سی جگہ کو روشن کرنے لگی تھی۔ پارکنگ لاٹ کی طرف روزی نے اور اس کی طرف پارکنگ لاٹ نے دیکھا۔ پھر اس کی نظر اس عورت پہ پڑی۔ آج چہرے کی سختی موسم کی طرح پگھلی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ ان دونوں کے سامنے نظریں جھکا کر بولی ” بہت دکھ ہوا تھا روزی اس حادثے کا سن کر، تمہیں واپس آتا دیکھ کر مجھے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے ،ہم اپنے کئے پہ  بہت شرمندہ ہیں اور ہمیں اس کی سزا بھی مل چکی ہے۔ ۔ میری بیٹی روزانہ بالکونی میں آتی ہے اور تمھاری کھڑکی کے کھلنے کی شدت سے منتظر ہے۔ اسے تم بہت پسند ہو بلکہ اس کی آئیڈیل شخصیت ہو اور اس نے مجھے بتایا ہے  وہ بھی بڑی ہو کر بالکل تمھارے جیسی بننا چاہتی ہے”ـ۔ یہ سن کر روزی متانت سے مسکرا دی۔

اچھا ۔۔۔ سنو”۔ وہ عورت روزی سے کچھ کہتے کہتے جھجھک سی گئی ۔ کیا میں تم سے ایک درخواست کر سکتی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں تم ہر وقت سب کی مدد کرتی رہتی ہو؟

جی جی کہیے پلیز میں آپکی کیا خدمت کر سکتی ہوں” روزی حیرت سے اسکا منہ دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر کچھ عرصہ پہلے دنیا جہاں کی  سرد وحشت پھیلی ہوئی تھی مگر اب اس کے در و دیوار سے برف پگھلنے لگی تھی ۔

وہ ۔۔۔دراصل تم تو نہیں جانتی ہو جب تم اسپتال میں تھیں تو فالج اٹیک کی وجہ سے میرے میاں ہمیشہ کے لئے معذور ہو چکے ہیں ۔میں نے پچھلے دس سال سے کوئی جاب نہیں کی ۔ جہاں بھی جاب کے لئے جاؤں ناتجربہ کار کہہ کر ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ ساری جمع پونجی ختم ہونے کو ہے۔ کبھی سنا تھا کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ ہمارے ساتھ بھی ویسا ہی ہوا۔ بنک سے قرضہ لے کر بزنس میں لگایا تھا۔ سب کچھ ڈوب گیا۔ صدمے نے میرے خاوند کو ہمیشہ کے لئے مفلوج کردیا ہے ۔ بیٹی ابھی بہت چھوٹی ہے، پھر اپنے باپ کا خیال بھی رکھتی ہے ۔دو مہینے تک گھر کا کرایہ نہ دیا تو حکومت یہ گھر ہم سےچھین لے گی ۔ کیا تم اور تمھارے دوست میری کچھ مدد کر سکتے ہیں؟

 اکھڑے اکھڑے سانسوں کے ساتھ اس نے بہت مشکل سے اپنی بات مکمل کی۔”کیسی مدد ” اس کی مجبور شکل دیکھ کر روزی کا دل پسیج گیا اور وہ بھول گئی کہ یہ وہی عورت ہے جو کبھی ان کی تکلیف کا باعث بنی تھی۔ دور کسی درخت سے ایک پیپل کا پتا اڑتا ، لہلہاتاہوا روزی کے عین دل پہ ۤآ گرا۔ اسی لمحے وہیل چئیر گھسیٹتا جان بالکونی میں چلا آیا۔سارے محلے میں خبر ہوچکی تھی کہ روزی واپس گھر آ گئی ہے۔

ایک لمباسانس لے کر وہ عورت بولی ” پلیز، میرے لئے فوری طور پر کوئی جاب ڈھونڈنے میں مدد کر دو اور دوسرا میرے گھر کی بیسمنٹ کرائے پر دینے کے لئے اپنے اپنے آفس میں اسکا اشتہار لگا دو ۔ شاید وہاں سے کوئی کرائے پر لینے آجائے ۔ میں تو یہاں کسی کو جانتی تک نہیں ہوں۔ اگر جلدی ایسا نہ ہو سکا تو ہم بے گھر ہو جائیں گے” یہ سن کر روزی اور ازابیل  بھی افسردہ ہو گئیں اور اس سے ساری معلومات لے لیں اور ایک مقامی اخبار کے دفتر فون بھی کردیا۔ سب دوستوں کو بھی کہا ۔ وہ لوگ اپنی سی ہر ممکن کوشش کرنے لگے ۔ سمنتھا کی مدد سے اسے ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں بہت کم پیسوں پر جاب تو مل گئی مگر ان پیسوں سے گھر چلانا ممکن نہ تھا ۔ اس نے ان لوگوں سے کہ سن کر اپنے گھر کے سامنے والی دو پارکنگ میں سے ایک پارکنگ بھی دو سو ڈالر ماہانہ کرائے پر ڈورتھی کو دے دی اور خود ایک ہی پارکنگ سپیس سے  کام چلانے لگی۔ ایسی کسمپرسی کی حالت میں یہ اضافی دو سو ڈالر ایک بہت بڑی مدد تھی ۔چند دن بعد ایک بار پھر اس عورت نے روزی کو پکارا جب وہ اپنے گھرکی سیڑیاں چڑھ رہی تھی ۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی  ” میں اپنی ایک غلطی کو سدھارنا چاہتی ہوں ۔ جس کے لئے مجھے تمھاری مدد چاہیے” ۔

اس کا لہجہ اس کے چہرے کے تاثرات کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ہزاروں پچھتاؤں کے ناگ اسکے چہرے پر کنڈلی مارے بیٹھے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پیپر دبا ہوا تھا اور وہ چاہتی تھی روزی اس کے ساتھ محلے کے ہر گھر میں جا کر اس پر سائن کروائے تاکہ کمیونٹی سے وہ پارکنگ والی جگہ واپس لی جا سکے جو اسکے گھر کے ساتھ موجود تھی۔ جو اس نے پہلے خود اپنی مرضی سے بند کروائی تھی اب اسکی بہت ضرورت آن پڑی تھی ۔ جب انہوں نے کمیونیٹی کو درخواست لکھنے کا فیصلہ کیا اس دن برف پگھل رہی تھی تیز سورج کی روشنی پورے علاقے کو نرم گرم تمازت بخش رہی تھی ۔ اسی لئے کافی دن بعد وادی میں بھی چہل پہل نظر آنے لگی ، روزی کے والدین بھی لوٹ آئے تھے ۔ پارکنگ لاٹ میں بیٹھنے والے  اس دن روزی کے گھر کی طرف چلنے لگے۔ ان میں سیلویا بھی تھی جو روزی کی رنگوں اور زندگی سے بھرپور پینٹنگ فولڈ کیے اپنی ماما کے آگے آگے چل رہی تھی ۔ جھیل کے کنارے ہرن کلانچیں بھر رہے تھے ۔ بطخیں گیں گیں کرنے لگیں ۔سب کے سب ایک طرف روزی کو دیکھتے اور دوسری طرف اس عورت کو۔ روزی اور ازابیل نے سب کے سامنے اس عورت کی وہی پارکنگ لاٹ واپس لینے کی درخواست رکھی جس پہ سب نے کوئی طعنہ دیے بغیر خوشی خوشی سائن کر دیے۔  شام ڈھلے روزی نے اپنی کھڑکی کا پردہ ہٹایا اور باہر دیکھنے لگی ، بہت کچھ ویسے کا ویسا تھا اور بہت کچھ بدل بھی چکا تھا۔ کمیونٹی کا دفتر کچھ دور نہ تھا وہاں سے خبر ملی کہ اب کی بار کمیونٹی نے وہ جگہ واپس دینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ وہ چند دن بعد وہاں کمرشل استعمال کے لئے  ایک بلند  عمارت تعمیر کرنے والے تھے۔ یہ خبر سن کر اس مغرور عورت کے چہرے پر ناامیدی ایسے کھنڈ گئی جیسے کسی قیدی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہو اور وہ تھکے ہارے قدموں سے اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگی ۔ اچانک موسم کے تیور بدلنے لگے اور دوبارہ ہر طرف برفانی ہوائیں چلنے لگیں۔ آسمان سفید سفید برف کو موتیوں کی طرح برسانے لگا ۔ روزی نے اپنی کھڑکی سے جھانکا تو اس کی نظر سامنے والے گھر پر جا پڑ ی ۔ وہ مغرور عورت اپنی بالکونی میں بغیر گرم کپڑوں کے کسی بت کی طرح استادہ تھی اور سردی کے احساس سے عاری جھیل کی طرف نظریں جمائے جیسے کچھ کھوجنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ روزی کو ایک لمحے کے لئے ایسا لگا جیسے یہ ساری برف،سردی اور سرد مہری اس عورت کے جسم سے دھویں کی طرح پھوٹ رہی ہے اور پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔اسی اثناء میں ایک کار وہاں آ کر رکی جس میں سے ایک خوبصورت لڑکی اتر کر اندر چلی گئی۔ وہ عورت شاید اسی کا انتظار کر رہی تھی ۔ مکان کی قسط ادا نہ کئے دو مہینے ہونے والے تھے ۔ کل آخری تاریخ تھی۔ اگر آج پیسے جمع نہیں ہو سکے تو پرسوں ان کا گھر زبردستی خالی کروا لیا جاتا ۔ سارا سامان اٹھا کر باہر پھینک دیا جاتا۔ اس کی آخری امید آج رات کرایہ دار کی حیثیت سے آنے والی ایک یہی لڑکی بچی تھی جو اس وقت گھوم پھر کر بیسمنٹ کا جائزہ لے رہی تھی۔ ۔اس کو وہ سب بہت پسند آیا تھا ۔ مگر ایگرمینٹ سائن کرنے سے پہلے جیسے لڑکی کو اچانک کچھ یاد آیا اور وہ چونک کر بولی “ارے، سب کچھ تو طے کر لیا مگر پارکنگ  اسپیس کا تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔ مجھے اپنی کار کہاں کھڑی کرنی ہو گی روز کیونکہ آپکی  پارکنگ میں تو پہلے سے دو کاریں کھڑی ہیں؟ ” یہ وہ سوال تھا جس کا جواب دینے کے خیال سےاس عورت کو ہمیشہ اپنی جان نکلتی محسوس  ہوا کرتی تھی۔ اس کا چہرہ دھلے ہوئے لٹھے کی طرح سفید ہو گیا۔ ابھی ملنے والی ساری خوشی دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ اس نے لمبی سانس کھینچ کر سوچا کہ کاش ہر آنے والا متوقع کرایہ دار  پیپر سائن کرتے کرتے اس سے آخر میں یہ ظالم سوال نہ پوچھا کرتا تو کتنا اچھا ہوتا ۔ اس نے شدید خوف اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ کھڑکی سے باہر گھنے درختوں والے جھنڈ کے پیچھے کہیں نظر نہ آنے والی جگہ کی طرف اشارہ کیا اور بولی “وہاں، وہ دور ان درختوں کے پیچھے” ۔ “وہاں کہاں ؟ ” وہ لڑکی کچھ بھی سمجھ نہ پائی اور ہونق بنی  کھڑکی سے باہر اندھیرے میں پارکنگ لاٹ ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔ “راستے میں آتے ہوئے تم نے گیسٹ پارکنگ کا بورڈ تو دیکھا ہو گا۔ بس وہاں پر” یہ کہتے ہوئے عورت کی آواز بھر آئی اور اس کا دل امید و ناامیدی کے پنڈولم پر جھولنے لگا ۔ اس کا رواں رواں جیسے نوارد کے منہ سے ایک “ہاں” سننے کے لئے بھکاری بن گیا تھا ۔ لڑکی نے ایک لمحے کو کچھ سوچا ۔ سائن کرنے کا ارادہ ترک کیا اور پریشانی سے نفی میں سر ہلا کر بولی ” اوہ ۔۔ نو ” اتنی دور؟ میری تو اکثر نائٹ ڈیوٹی ہوتی ہے ۔ میں تو رات کو بہت دیر سے گھر آتی ہوں۔ مجھے لازمی طور پر گھر کے  بالکل سامنے  پارکنگ  چاہیے ۔ آئی ایم سو سوری میں یہ بیسمنٹ کرائے پر نہیں لے سکتی حالانکہ میں تو ۤآج  رات آنے والے طوفان کی وجہ سے بیسمنٹ پسند آ جانے کی صورت میں  شاید  رات یہیں رک  بھی جاتی ۔ مگر اب بہت معذرت چاہتی ہوں آپکا قیمتی وقت ضائع کیا مگر میں یہ  کرایہ پر نہیں لے سکتی۔” یہ کہنے کے بعد وہ لڑکی دنیا کی سب سے زیادہ مجبور اور بے بس عورت کی طرف دیکھے بنا تیزی سے باہر نکلی تو ” نو پارکنگ” والے بورڈ کے ساتھ ہی پیپل کے پتے جیسی  خالی جگہ پہ اس کی نظر پڑی جسے فیتے سے بند کیا گیا تھا، وہ حیرت اور تاسف سے اس خالی جگہ کا جائزہ لینے لگی کہ کاش یہاں روزانہ  وہ اپنی کار کھڑی کر سکتی تو ابھی یہ بیسمنٹ کرائے پر لے لیتی۔

 اسی لمحے اپنے گھر کی کھڑکی سے روزی بھی پارکنگ لاٹ کو دیکھ رہی تھی، ادھیڑ عمر مغرور عورت کی تیرہ سالہ بیٹی نے اپنی کھڑی سے روزی کو دیکھا تو  پہلے مسکرائی اور  پھر لاشعوری طور پر بالکل روزی کے انداز میں ٹوپی اور اسکارف گلے میں لپیٹ لیا ۔ نقاہت سے بھرا بوڑھا جان وہیل چئیر پر بیٹھے بیٹھے کمبل اوڑھنے لگا۔ مارتھا کے بچوں نے روزانہ کی طرح ۤ آج بھی روزی کی کہانی سنی ۔ہرنوں نے اپنے ٹھکانوں کی راہ لی اور آنکھیں موندنے لگے۔ سیلویا ، روزی کو اپنے ساتھ اسکول فنگشن پر لے جانے کا پروگرام بنانے لگی ۔

کرایہ دار لڑکی اپنی کار میں بیٹھنے سے پہلے ایک بار  پھر مڑی اور گھر کی مالکن سے حیرت بھرا سوال کیا۔  اگر میں یہ گھر کرایہ پر لے لوں تو کیا یہاں اس خالی جگہ میں اپنی کار کھڑی کر سکتی ہوں۔ یہ تو پارکنگ کے لئے بہت آئیڈیل جگہ ہے؟ ”  مالکن نے  ہزاروں حسرتیں آنکھوں میں سمیٹے  مایوسی  سے انکار کر دیا اور خود بےبسی میں ڈوبی نگاہوں سے سرد تاریک آسمان  میں  جیسے کچھ ڈھونڈنے لگی۔

وہ کرایہ دار  لڑکی  کچھ دیر  اداسی بھری خاموشی سے کھڑی مالکن کو تاسف بھری نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر

 خود سے پہلے آنے والے تمام کرایہ داروں کی طرح پھرکبھی واپس نہ پلٹنے والوں میں شامل ہو کر شہر سے باہر جانے والے اندھیرے راستے کی طرف چل پڑی۔  اس کے مڑتے ہی  مالکن چلائی ۔ ”رکو، سنو، پلیز مت جاؤ ، “۔ اسے  روکتے وقت زمانے بھر کا درد التجا بن کر اس  عورت کے لہجے میں سمٹ آیا تھا۔

دیکھو پلیز تم  یہ بیسمنٹ کرائے پر لے لو اور  اپنی کار  میری ذاتی پارکنگ میں کھڑی کر لیا کرنا۔اسکے بدلے میں خود روزانہ گیسٹ پارکنگ میں  جا کر اپنی کار  پارک کر لیا کروں گی۔

طوفان کی شدت میں تیزی آنے لگی تھی ، یخ بستہ برفیلی ہوائیں چیختی چلاتی ہوئی دروازوں اور دیواروں سے سر ٹکرا  رہی تھیں  ، رات سرد اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ گھر کی پارکنگ میں نئی کرایہ دار لڑکی  اپنی کار کھڑی کر چکی تھی  اور مالکن رات کے  اس پہر تن تنہا لڑکھڑاتے قدموں سے، گرتے پڑتے  اس خطرناک برفانی طوفان  کے تھپیڑوں سے  لڑتے ہوئے بمشکل اپنی کار تک پہنچی اور اس میں بیٹھ کر گیسٹ پارکنگ کے اندھیروں کی طرف بڑھنے لگی۔

Advertisment

Be the first to comment

Share your Thoughts:

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.